بہت سے لوگ مُسافر بن کر آتے ہیں اور پھر دل میں گھر کر جاتے ہیں۔ — Saira Iqbal, Tum door nazar aae - Urdu Romance Novel Copy Share WhatsApp
by Saira Iqbal
Romance · 103 pages
“نہیں سمجھ آ رہا تھا کے اُسے کس طرح بتاؤں کہ میں اُس سے کئی گُنا زیادہ پیار کرتا ہوں جتنا وہ ریان سے کرتی ہے۔”
“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”
“زوال ہی زوال ہے اور لاکھ کوششوں اور جستجو کے باوجود عروج تک پہنچنا بس ایک خواب کی مانند ہی ستاتا ہے۔”
“باجی کہہ رہی ہیں چھ ساتھ اچھے سے بڑھیا والے پان بناکراوپر بھیج دینا ۔”
“اس کی کلائیوں میں پھول دیکھ کر ایک پھولوں کی خوشبو کا ریلا اس کو خود کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا ۔”
“ردا کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں ، ردا نے اس کا شعر مکمل کیا۔”
Saira is a contemporary Urdu fiction and current affair's writer who habitually picks up stories from her surroundings and weaves them into literary masterpieces. She has three (03) novels to her n…
“اگر ساری دنیا ہی ہماری ہوتی تو کون ہمیں تنگ کرتا ؟ کون ہم سے نفرت کرتا؟ ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔”
“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”
“بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔”
“متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.