اس رات میں واقعی یہ سمجھی تھی کہ اب سب بدل گیا ہے، ماموں کو ابا نے بھیجا ہے اور ابا مجھے شادی ہال میں بلا رہے ہیں۔
— Afraz Jabeen, چاکلیٹ / Chocolate- Book About Childhood Trauma
“اسے ادھیڑ عمر آدمی کی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ 'یہ دونوں چیزیں تمھاری مدد کریں گی اور باقی معاملات اپنی بصیرت سے طے کرو گے۔”

“لال پری نے روبا، نوبا کو کاہلی، سستی اور مقررہ وقت پر کام نہ کرنے کی ایسی سزا دی کہ پورا غار خون کے آنسوؤں سے ڈوب گیا۔”

“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”

“میرے ہاتھوں ہوا خالی گھر بہت اچھی طرح مجھے زندگی کے بارے میں یہ حقیقت سمجھا گیا کہ کوئی چیز بھی دنیا میں دائمی نہیں۔”
