آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی. — Faisal Khattak, آئینہ چار سو کا Copy Share WhatsApp
by Faisal Khattak
Fiction
“ایسا سمندر جو کبھی چین نہیں پاتا، جس میں ہمیشہ لہریں مدھوشی اور رنج کا ساز گنگناتی رہتی ہیں.”
“میں پھر اُس بلب کی طرف دیکھنے لگا....وہ سنہرا بلب جو کہ اپنی پوری جفاکشی کے ساتھ اپنے اِرد گِرد کی سیاہی کو مِٹانے میں مصروف تھا.”
“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”
i am a student of english literature.
“"مسز عمیر "سکینہ رات مجھے اندازہ ہوا کی تمہاری بیٹی یقیناًکسی مشکل وقت سے گزری ہے۔”
“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”
“انھیں ابا نے بھیجا تھا کہ وہ مجھے منا لیں، انھوں نے یقین دلایا تھا وہ شرمندہ ہیں۔”
“"تو کیا وہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ محض خواب تھا؟" شاہ زیب گھر آنے تک خود سے سینکڑوں بار سوال کر چکا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.