ایسا سمندر جو کبھی چین نہیں پاتا، جس میں ہمیشہ لہریں مدھوشی اور رنج کا ساز گنگناتی رہتی ہیں. — Faisal Khattak, آئینہ چار سو کا Copy Share WhatsApp
by Faisal Khattak
Fiction
“میں پھر اُس بلب کی طرف دیکھنے لگا....وہ سنہرا بلب جو کہ اپنی پوری جفاکشی کے ساتھ اپنے اِرد گِرد کی سیاہی کو مِٹانے میں مصروف تھا.”
“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”
“ویسے اجنبی شخص کسی جیت یا ہار سے کم نہیں ہوتا، جیت جائو تو بھی اور اگر ہار جائو تو بھی فائدہ.”
i am a student of english literature.
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“مگر ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”
“اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری!”
“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.