ہاں وہاں ایک بڑا نِیم کا درخت بھی تھا جو کہ بڑی خوشی سے ہَوا میں جُھوم رہا تھا. — Faisal Khattak, آئینہ چار سو کا Copy Share WhatsApp
by Faisal Khattak
Fiction
“میں پھر اُس بلب کی طرف دیکھنے لگا....وہ سنہرا بلب جو کہ اپنی پوری جفاکشی کے ساتھ اپنے اِرد گِرد کی سیاہی کو مِٹانے میں مصروف تھا.”
“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”
“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”
i am a student of english literature.
“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”
“اس کی کلائیوں میں پھول دیکھ کر ایک پھولوں کی خوشبو کا ریلا اس کو خود کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا ۔”
“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”
“دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.