جیسے ہی میں کیبن نمبر ۸ کے قریب پہنچا تو دروازے پر لکھا ۸ کا ہندسہ دیکھ کر میں مسکرایا اور اطمینان کے ساتھ دروازہ کھولا۔ — Zindan زندان, Nagufta/ناگفتہ Copy Share WhatsApp
by Zindan زندان
Contemporary Fiction · 64 pages
“'' اس کے بعد دونوں کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی اور ساتھ ہی ایک بار پھر سیٹھ کی آوا زسنائی دی ''تم اس خوبصورت سفید ساڑھی میں انتہائی دلکش اور حسین لگ رہی ہو۔”
“انہی چہروں پر مشتمل 'ناگفتہ' افسانوں اور شاعری کا ايک ایسا مجموعہ ہے جو انسان کے اس چھپے چہرے کو مختلف حالات اور واقعات میں ظاہر کرتا ہے۔”
“جس میں دھوکا، وفا، غداری، احسان فراموشی، بھروسہ، قربانی اور بے لوث جذبہ جيسی انسانی خصوصیات شامل ہیں۔”
زندان اردو زبان کے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصل نام عادل محمود ہے۔ ان کی پیدائش اور پرورش پاکستان میں ہوئی، لیکن وہ 2002 سے یورپ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے برطانیہ سے گریجویشن کیا۔ ان کی پہلی کتاب نا گفت…
“’کم بخت، میرا مذاق اڑا رہا ہے!الله کرے، تیرا پیراشوٹ نہ کھلے اور میں گنتی کر سکوں کہ زمین پر گرنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔”
“اسے دیکھ کر فرح نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی تاکہ اسے محسوس نہیں ہو وہ کیا سوچ رہی ہے کیا کرنا چاہتی ہے۔”
“”?What are friends for“ہانیہ دل سے مسکراتے ہوئے وہ اس کے گلے لگ گئی۔”
“مسکراتے ہوئے ماہِ نو نے آنکھیں بند کر لیں جس پر ہماء نے اسے دوبارہ ہلایا اور یقین دلایا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.