اس دم کروانے سے اتنا فرق ضرور پڑا تھا کہ جس طرح وہ نازو کے غم میں مبتلا تھی اور بچیوں کے لیے فکرمند تھی وہ فکر کافی حد تک ختم ہو گئی تھی۔ — Sarah Omer, Aik thi Zoya / ایک تھی زویا Copy Share WhatsApp
by Sarah Omer
Mystery · 39 pages
“علاقہ مکین بھی اس پراسرار روح کو پسند کرنے لگے تھے جو ان کے بچوں کی حفاظت کر رہی تھی۔”
“اسے لگتا تھا اس انگوٹھی کی وجہ سے وہ اس عورت کو دیکھ رہی ہے جو سب مظلوموں کی دادرسی کررہی ہے۔”
“کچھ پڑھ جاتی تو اس کی ماں کو بھی سکھ نصیب ہوتا لیکن کوئی درندہ کسی کو چیرنے پھاڑنے سے پہلے پوچھتا تھوڑی ہے کہ تم لواحقین میں کسے چھوڑے جا رہے ہو؟ ایک بے بس بیوہ ماں کو۔”
“میری پہلی کتاب کا انتساب میرے عظیم والدین کے نام جن کی دعائیں ہمیشہ میرا پیچھا کرتی ہیں۔”
“اللہ تعالی زویا اور اس جیسے درد دل رکھنے والے لوگوں کو اپنے مقصد میں کامیاب کرے(آمین)۔”
Holds a masters degree in special education from Punjab University Lahore. I am passionate about writing Urdu short stories and novels on social issues.
“’’میری دعاؤں کا اثرنہیں تھا اجمل شاہ تو بددعا میں کیا اثر ہوگا؟‘‘بدریکا جمال نے میسج کیا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے لرز کر گالوں کو تر کر گئے۔”
“کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔”
“اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بالکل اسی طرح جیسے مجھے کبھی موت نہیں آسکتی۔”
“خواتین و حضرات سانحہ قصور ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس ملک کےہر اس شہری کو ہلا کر رکھ دیا جو اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.