ملکائیں کسی پہ منحصر نہیں ہوتیں، ان کا جدھر جدھر دل چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے وہ جاتی ہیں جو دل کرتا ہے کرتی ہیں۔ — Tehreem Arshad, Safar Mei Hamsafar Copy Share WhatsApp
by Tehreem Arshad
Contemporary Fiction · 700 pages
“اللہ اور قرآن کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوتا ہے وہ ہمارے لیے نہیں بدلتے ہم ان کے لیے بدلتے ہیں۔”
“زندگی تو ہر کسی کے پاس ہوتی ہے لیکن اگر اس زندگی میں عزت نہیں تو اس زندگی سے موت اچھی ہے۔”
“اس پار قدرت کے جو حسین و جمیل نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں تب ہی اصل طور پر ان ٹیڑھی سڑکوں کا لطف معلوم پڑتا ہے۔”
“اس کے گھر مرد اپنی عورتوں کے چونچلے نہیں اٹھاتے تھے لیکن ان کی بے عزتی بھی نہیں کرتے تھے یہ ہنر صرف عرفان اصغر بریانی والے کو آتا تھا ۔”
“بچے ہوئے لوگوں کو ترکی کے علاقے ازمیر سے سمندر میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آگے جانا ہوتا تھا۔”
“انسانیت، برابری، جو ہمارے اقدار ہیں وہی ان کی ہیں فرق یہ ہے کہ نارویجن قوم اس پہ عمل پیرا ہیں اور ہم پاکستانی نہیں۔”
“(یہ نظم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ماں اور بچے کی صحت پر مبنی ملک گیر مہم ’امید سے آگے‘ کے لیے میری جانب سے وقف کردی گئی ہے۔)”
Enter your account email and we'll send you a reset link.