زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ — Aiman Riaz, Iradat / اِرادت - Moral Philosophy Book Copy Share WhatsApp
by Aiman Riaz
Non-Fiction · 53 pages
“"کوئی بتا ئے گاکیسے؟" نجف نے سوالیہ انداز میں سب کی طرف دیکھا مگر اِس مرتبہ کسی کی جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی مباداً غلط نکلا توسُبکی ہو گی۔”
“قلم اٹھاتے وقت یہ گمان نہ تھا کہ لکھت نگر میں قدم رنجه ہو کر نئى نئى کئى دنیائیں دریافت کروں گى۔”
“اِس سے پہلے کہ والی کاکا صورتحال سمجھتا، ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اوراُس کے پیچھے کھڑا بندہ بھی کٹے شہتیر کی مانند گر کر ڈھیر ہو گیا۔”
“اگر میں تم پر ایک جملے میں محبت کی شناخت ظاہر کروں تو یہی کہوں گی کہ حقیقی محبت وہ ہے جو ہم رب سے کرتے ہیں۔”
“طمانیت فقط اِک جسم نہ تھا، ایک جذبہ تھاجو ہمیشہ ایک دوست کے روپ میں میرے ساتھ رہا، سدا میری شناخت رہا اچھی یا بُری ، یہ طے کرنا ضروری نہیں۔”
“اُس کی محبت یاد آئی اور پھر اُس کی رب سے محبت کے قصے یاد آئے۔”
“ساری عمر جس محبت کی کھوج میں لگی رہی، آج جب ملی تو اُسے اپنی بے حسی کی بھینٹ چڑھا کرآپ اپنا سکون تیاگ کر لیا۔”
I am AIM of someone's life And I am the most powerful weakness of a common man...
“" کیا وہ سب سچ میں میرا خواب تھا؟" وہ اسی شش و پنج میں تھا جب اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھ میں بندھی سنہری ڈوری پر پڑی، تو وہ چونک گیا۔”
“’یہاں آکر جیتنا میرے لئے خواب ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں، میرا ہر دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے۔”
“ایک روز اس نے خواب دیکھا کہ ایک خوبصورت شاہی سواری میں اس کا ولی عہد پوری شان و شوکت کے ساتھ وطن واپس آ رہا ہے۔”
“معروض کے تجزیے اور متبادل مستقبل کی تشکیل کے لیے سہیل کا ''علتی تہوں کے تجزیے کا نظریہ'' ایک بہت دلچسپ طریقہ کار ہے جو اپنے معروض کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.