اس نام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس کی وہی بنیاد ہے جو کہ ہر سننے والے کو سمجھ آتی ہے یعنی خود جل کے دوسروں کی رہنمائی کرنا۔ — Diya Khan, Jang-e-belma O Roman / جنگ بیلما ورومان Copy Share WhatsApp
by Diya Khan
Fiction · 38 pages
“اس سے پہلے کے ارغوان کچھ سمجھتا رومی روشی کو پکارتا ہوا اس حصار سے باہر نکل گیا۔”
“بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔”
“جب سے ان واقعات کی خبر رومی کو ہوئی تھی اس نے اپنے ساتھیوں کو بلالیا تھا۔”
“ہر محبت کا انجام ایک جیسا ہو،ملن ہو تو ہی وہ محبت امر ہوتی ہے ورنہ محبت ہوتی نہیں، ایسا نہیں۔”
“محبت اذیت دیتی ہے، جلاتی ہے تڑپاتی ہے، پر اب خود پر بیتی تو پتا چلا کہ محبت بدلہ بھی لیتی ہے، انتقام لیتی ہے،بس روپ کوئی اور ہوتا ہے۔”
“شاید مجھے اس سے محبت ہو چلی تھی، لیکن بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا؟ میں ایک خیال سے، ایک احساس سے محبت کیسےکرسکتا تھا ؟ میں ایک انسان تھا۔”
“زمرد سے محبت میں وہ اتنی آگے آگئی تھی کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ میں نے اسے سچے دل سے چاہا ہے۔”
“اِس سے پہلے کہ والی کاکا صورتحال سمجھتا، ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اوراُس کے پیچھے کھڑا بندہ بھی کٹے شہتیر کی مانند گر کر ڈھیر ہو گیا۔”
“۱۹۸۸ء میں مذہبی شدت پسندی اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہوگئی تو امی نے مجھے سمجھایا کہ زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی ضروری ہے۔”
“پہلے سکول کالج پھر یونیورسٹی میں معاشرے کو سمجھنے کا سفر شروع کیا، اور وہ اب تک جاری ہے۔”
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.