بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔ — Diya Khan, Jang-e-belma O Roman / جنگ بیلما ورومان Copy Share WhatsApp
by Diya Khan
Fiction · 38 pages
“اس نام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس کی وہی بنیاد ہے جو کہ ہر سننے والے کو سمجھ آتی ہے یعنی خود جل کے دوسروں کی رہنمائی کرنا۔”
“اس سے پہلے کے ارغوان کچھ سمجھتا رومی روشی کو پکارتا ہوا اس حصار سے باہر نکل گیا۔”
“اس رات کے بعد کچھ دن تک گاؤں میں خوف اور اداسی کی چادر تنی رہی لیکن جب پھر سے کوئی ایسی ناگہانی نہ ہوئی تو سب کچھ اپنے معمول کے مطابق ہونے لگا تھا۔”
“ہر محبت کا انجام ایک جیسا ہو،ملن ہو تو ہی وہ محبت امر ہوتی ہے ورنہ محبت ہوتی نہیں، ایسا نہیں۔”
“محبت کی اس داستان کو سمجھنے کے لیے بھی ایک گداز دل کا ہونا ضروری ہے، یا وہ جس نے کبھی محبت کو چھوا بھی ہو۔”
“شاید مجھے اس سے محبت ہو چلی تھی، لیکن بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا؟ میں ایک خیال سے، ایک احساس سے محبت کیسےکرسکتا تھا ؟ میں ایک انسان تھا۔”
“محبت اذیت دیتی ہے، جلاتی ہے تڑپاتی ہے، پر اب خود پر بیتی تو پتا چلا کہ محبت بدلہ بھی لیتی ہے، انتقام لیتی ہے،بس روپ کوئی اور ہوتا ہے۔”
“لوگ کچرا صرف کچرا دان میں پھینکتے ہیں اور اگر کوڑادان نہ ہو تو اپنا کچرا وہ جیب میں رکھتے ہیں۔”
“آپ وزیرِ داخلہ ہیں، پولیس فورس کی کشتی کے نا کدا، قانون اور نظم کے آقائے نامدار، میں ایک مظلوم اُردو شاعر ہوں، ایک فریادی بن کر آیا ہوں آپ کو میری فریاد سُننی پڑے گی!”
“نطفہ اس چھوٹی سی چیز کو کہتے ہیں جو مرد اور عورت کے ملنے کے بعد عورت کے اندر بنتا ہے۔”
“اب کچھ لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں وہ تو یہ بات سمجھ جاتے ہیں لیکن جنھوں نے بس قرآن کو پڑھا ہوتا ہے انھیں سمجھانا نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.