بیلما غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھی،اسی لمحے رومی نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ،جس سے وہ تہہ خانے کی چھت سے جا ٹکرائی اگلے پل وہ درد سے تڑپ رہی تھی۔ — Diya Khan, Jang-e-belma O Roman / جنگ بیلما ورومان Copy Share WhatsApp
by Diya Khan
Fiction · 38 pages
“بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔”
“اس سے پہلے کے ارغوان کچھ سمجھتا رومی روشی کو پکارتا ہوا اس حصار سے باہر نکل گیا۔”
“جب سے ان واقعات کی خبر رومی کو ہوئی تھی اس نے اپنے ساتھیوں کو بلالیا تھا۔”
“ہر محبت کا انجام ایک جیسا ہو،ملن ہو تو ہی وہ محبت امر ہوتی ہے ورنہ محبت ہوتی نہیں، ایسا نہیں۔”
“محبت کی اس داستان کو سمجھنے کے لیے بھی ایک گداز دل کا ہونا ضروری ہے، یا وہ جس نے کبھی محبت کو چھوا بھی ہو۔”
“انھیں زندگی کے سارے رنگوں کو صفحہِ قرطاس پر بکھیرنا اچھا لگتا ہے،زندگی کے تلخ و شیریں لمحات و احساسات ان کے زیر قلم رہے ہیں۔”
“زمرد سے محبت میں وہ اتنی آگے آگئی تھی کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ میں نے اسے سچے دل سے چاہا ہے۔”
“کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔”
“بہار بیگم کی موت کے بعد کوٹھے اور محفلوں کی باگ دوڑ شنایہ نے سنبھال لی تھی، اور رخسار نے شنایہ کی خود سری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔”
“میری شاعری تھوڑی درد بھری ہے، پر میں اللّہ کے فضل سے ہر قسم کی طبیعت کا مالک ہوں۔”
“باپ کی بروقت مداخلت سے بہن کی عزت تو بچ گئی پر صدمہ باپ کی جان لے گیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.