ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“کہنے لگا چاچا پر ایک بات ہےدونوں میں ہر وقت ٹھنی رہتی ہے، جلتی بہت ہیں ایک دوسرے سے، کوئی بھی اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہے.”

“کبریٰ کی ماں کپڑے کی کان نکال لیتیں‘ کلف توڑتیں، کبھی تکون بناتیں کبھی چوکھونٹا کرتیں اور دل ہی دل میں قینچی چلا کر انکھیوں سے ناپ تول کر مسکرا پڑتیں۔”

“چند دن ہوئے میں نے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ کراچی میں فنون لطیفہ کی ایک انجمن قائم ہوئی ہے جو وقتاً فوقتاً تصویروں کی نمائشوں کا اہتمام کیا کرے گی۔”

“عالیہ نے بھی حیرانی سے پہلے مانو کو یوں مڑتے دیکھا اور پِھر پیچھے دیکھا كہ وہ کس کو دیکھنا چاہ رہی ہے، مانو دل ہی دل میں خود پر ہنسی۔”

“اسے دیکھ کر فرح نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی تاکہ اسے محسوس نہیں ہو وہ کیا سوچ رہی ہے کیا کرنا چاہتی ہے۔”

“بلکہ اردو غزل اب تو ساری دنیا میں روشن خیالی، انسان دوستی، فکری آزادی، ہم آہنگی، حسن وعشق اور بین الاقوامی روابط و آشنائی کی ایک دلنواز علامت بن گئی ہے۔”

“شاعری سے شروعات ہوئی جو کہ آ ج بھی دل کے سب سے زیادہ قریب ہے ، پھر اس کے بعد کب افسانوں اور سفرناموں تک رسائی ہو گئی پتا ہی نہیں چلا۔”

“شیر دل نے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور مجھے جواب دیا کہ ہاں ہے اور کس کا اس عشق پر یقین نہیں ہوتاہے۔”

“میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا کے لیے رحمت بن کر آنے والے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے اور میری ہر کوتاہی اور تقصیر معاف کر دی گئی ہے۔”

“سامنے صوفے پہ دلہا دلہن بیٹھے تھے ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے وہ دلہن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا دیکھتا رہا دیکھتا رہا۔”

“’کم بخت، میرا مذاق اڑا رہا ہے!الله کرے، تیرا پیراشوٹ نہ کھلے اور میں گنتی کر سکوں کہ زمین پر گرنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔”

“صبر ؟ کیا یہ فقرہ کافی ہے کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لیے ، بکھری روح کو سمیٹنے کے لیے ؟ اور پھر اِس بات کا جواب ملتا ہے کہ وقت سب بھر دیتا ہے ۔”

“اسی طرح ، میں نے پوری دنیا میں امن ، محبت اور عاجزی کا پیغام دینے کے لیے شاعری کو بطور میڈیم استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔”

“مجھے اردو شاعری کا شوق اپنے کالج دور کے استادمحترم جناب تحسین فراقی صاحب کی عنایت اور محبت سے پیدا ہوا۔”

“”جھوٹے!کب بلایا تھا ماما نے مجھے؟“ماشاء جو اِس وقت صوفے پر بیٹھ رہی تھی رک کر اسے دیکھنے لگی اور پھر نوریح کو دیکھ کر طنزیہ مسکرائی۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail