زیادہ تر واقعے کے قریب سے لکھا گیا۔ یہ محفوظ فاصلے سے کیے گئے تبصرے نہیں — ان میں کئی کتابیں وہ راستہ تھیں جس سے ان کے مصنفین نے وہ سال گزارا جو وہ بیان کر رہے ہیں۔
“قیدِ حیات میں مصنّف نے اپنی والدہ مرحومہ کی بے مثال زندگی اور لازوال موت کے ناقابلِ یقین اور تلخ حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے۔”

“میں تو اب تک درد سے آنکھیں میچے اماں کے کندھے سے چپکا رو رہا تھا - ہماری گلی میں تقریباََ سبھی گھر ہمارے قرابت داروں کے تھے۔”

“بھلا زندگی جیسے شعوری اورجذباتی تجربے کےبعد انسان اس سے پہلے جیسی کیفیت میں واپس کیسے جاسکتاہے؟ حتی ٰ کہ اگرموت کے بعد عدم بھی ہے تو یہ عدم زندگی سے پہلے کے عدم سے کچھ مختلف ہی ہوگا۔”

“جس میں انھوں نے اپنی والدہ کی بے مثال زندگی اور لازوال موت کےناقابل یقین حقائق سےپردہ اٹھایا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔”

“بے ذوق بھی اس طرح سے کہ خود ہی خود کے ہاتھوں لکھے جانے کا بے ذوق سفر ، وہی جو سب کاٹ لیا ہے اُسی کو لفظوں میں پِرونا ہے اُنڈیلنا ہے ایک کتاب میں ۔”

“’’ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے دردناک سزا ہے۔”

“انسانوں کو مجھ سے یہ بھی شکایت ہے کہ جب میں ان کے گھروں کی چھت پر بیٹھ کرنغمہ سرا ہوتاہوں تو ان کے گھروں میں مہمانوں کی مصیبت نازل ہوجاتی ہے۔”

“میں کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں میرے پاس تو الفاظ بھی نہیں ہیں میری خدا سے دعا ہے کہ مجھے آپ جیسا ہمدرد دل عطا کرے جو دوسروں کی مدد کے لیے ہر وقت بے تاب رہتا ہے۔”

“اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری!”

“اماں کے پیٹ درد کا ان دونوں کے سامنے بھی یقیناً تذکرہ کیاگیا ہوگا، مگر کسی نے بھی کوئی ایسی تجویزنہ دی کہ انھیں ہاسپٹل لے جانے کی ضرورت ہے۔”

“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”

“ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔”

“ہم اس کی بنائی گئی کسی شے میں تبدیلی نہیں کرسکتے اور دوسرا ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے، کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہر ذی روح کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”

“کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔”

“ان کی شاعری میں باطل کی نبض کاٹنے والی سیف اللہ کی للکار بھی سنائی دیتی ہے اور انتہائی عاجز انسان کی انسانیت کی رشد و ہدایت کی تڑپ بھی دکھائی دیتی ہے۔”

“”پیار کا تیسرا شہر“ پڑھتے ہوئے شاید بہت سے لوگوں کو کرداروں کے الجھے رہنے سے گلہ ہوگا، مگر یہ سچ ہے کہ دکھوں، نوحوں اور ناانصافیوں کو لفظوں میں ڈھال کر۔۔”

“ایسے ہی جب کوئی اپنی ناکام محبت کا غم مناتا ہے تو دراصل وہ غم نہیں اس محبت سے منسلک سہانی یادوں سے دل بہلانا چاہتا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
Maria Maqsood shares her journey as a first-time author, the magic of Phantusia, and what inspired Whispers of the Valley's Phoenix Series.
An insightful interview with Aqleem Fatimah on Ishq Ilhaam Hai, discussing love, her writing inspiration, and her journey with daastan.