زیادہ تر واقعے کے قریب سے لکھا گیا۔ یہ محفوظ فاصلے سے کیے گئے تبصرے نہیں — ان میں کئی کتابیں وہ راستہ تھیں جس سے ان کے مصنفین نے وہ سال گزارا جو وہ بیان کر رہے ہیں۔
“بہار بیگم کی موت کے بعد کوٹھے اور محفلوں کی باگ دوڑ شنایہ نے سنبھال لی تھی، اور رخسار نے شنایہ کی خود سری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔”

“کیونکہ دونوں تاروں کو ایک ہی وقت میں چھونے کے باعث سرکٹ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ پرندوں کی موت کی وجہ بن جاتا ہے۔”

“خواتین و حضرات سانحہ قصور ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس ملک کےہر اس شہری کو ہلا کر رکھ دیا جو اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتا ہے۔”

“مزید یہ کہ ان کا اس شہر میں اپنا ایک ایسا ٹھکانہ بھی تھا جہاں یہ جادو کیا کرتے تھے، جو ان کی موت کے ساتھ ہی فنا ہوگیا۔”

“اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔”

“’کیتھرین میں اپنی ماں کی موت پر نہیں پہنچ سکا تھا،نہیں چاہتا کہ اپنے باپ کی بھی صورت دیکھنے کو ترسوں .”

“1) صافی(ہمدرددواخانہ ،کراچی): یہ خون صاف کرنے والی قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیارشدہ شربت ہے جوخون سے خراب مادوں کو خارج کرکے دانوں، کیلوں اورمہاسوں سے نجات دلاتاہے۔”

“ہانیہ کو یقین تھا کہ بچے کی پیدائش پراس کے گھر والوں کا دل ضرور پگھلے گا لیکن اس کے میکے والوں نے اس موقع پر بھی کوئی خاص گرم جوشی نہ دکھائی۔”

“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”

“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”

“غرض کے باتوں کے دوران وہ آپ کو جتا دے گا کہ اس سے زیادہ مظلوم اور دکھی آدمی اس دنیا میں ہے ہی نہیں.”

Our authors, in their own words and in the press.
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
Read an in-depth blog on Hamood Butt, trader and market analyst, sharing real trading strategies, insights, & market psychology.
Maria Maqsood shares her journey as a first-time author, the magic of Phantusia, and what inspired Whispers of the Valley's Phoenix Series.
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]