بڑی نہیں، چھوٹی اور مخصوص خوشی — صحیح وقت پر ملی چائے، وہ فون کال جو آ گئی۔ جن لکھنے والوں نے غیر یقینی سال دیکھے ہوں، وہ خوشی کو اسی پیمانے پر پہچانتے ہیں۔
“اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔”

“دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔”

“ایسا سمندر جو کبھی چین نہیں پاتا، جس میں ہمیشہ لہریں مدھوشی اور رنج کا ساز گنگناتی رہتی ہیں.”

“اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری!”

“ایک بے حد اچھی اور بہت پیاری دوست کی طرف سے محبت کی یہ چھوٹی سی نشانی پا کر جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔”

“اگر انھیں پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ ان کے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”

“انکو شادی سے پہلے نہیں پتا تھا کہ ڈاکٹر سے شادی کریں گے تو وہ گھر تو نا بیٹھے گی؟ جس نوکری کی اجازت کا احسان جتا رہے ہیں اسی کی وجہ سے بچے ٹاپ کے سکول میں پڑھتے ہیں۔”

“انکا جذبہ دیکھ کر محلے کے بچے بھی انکے ساتھ ہاتھ بٹانے لگے .محسن ایک جگاکھڑا ہو کر یہ سب دیکھ رہا تھا .اسکو دل ہی دل میں بہت خوشی ہورہی تھی .”

“بشریٰ کے جاتے ہی میں سامنے والے بیڈ پر متوجہ ہوئی وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی دو گھنٹے میں ہی انہیں یہاں سے چلے جانا تھا۔”

“حیرت ، خوشی،غیر یقینی اور اسی طرح کے کئی اور جذبات سے اپنی ذات کے لامحدود تقسیم شدہ ذرّات کو کسی نا کسی طرح دوبارہ مجسم کرتے ہوۓ اس کے لبوں سے محض یہی نکل سکا۔”

“اے‘‘ کی حد تک یاد رکھے ہوئے ہیں لیکن اگر عملی زندگی میں دیکھیں تو دونوں آج ترقی اور خوش حالی کے جس مقام پر ہیں میرے خیال میں آپ مجھ سے زیادہ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔”

“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”

“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”

“میں لکھنا تو اور بھی بہت کچھ چاہتا تھا ....لیکن دل میں بے چینی کا یہ عالم تھا کہ ....دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں ....”

“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”

Our authors, in their own words and in the press.
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Read Hamza Khaskheli’s interview and written reflections as he shares his journey with Daastan & the thoughts that shape his storytelling.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Maria Maqsood shares her journey as a first-time author, the magic of Phantusia, and what inspired Whispers of the Valley's Phoenix Series.
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]