بڑی نہیں، چھوٹی اور مخصوص خوشی — صحیح وقت پر ملی چائے، وہ فون کال جو آ گئی۔ جن لکھنے والوں نے غیر یقینی سال دیکھے ہوں، وہ خوشی کو اسی پیمانے پر پہچانتے ہیں۔
“مگر ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”

“ان سب کا اشتعال بجا تھا مگر وہ اپنے نیک دل بادشاہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور ان کی خوشی کو خاک میں نہیں ملانا چاہتے تھے۔”

“کتنی چاہ تھی کہ تمہارے کاندھے پر سر رکھ کر ڈھیر ساری باتیں کروں اور آج کے دن یعنی تمھاری سالگرہ پر دنیا جہاں کی خوشیاں تمہارے قدموں میں لا رکھوں کہ تمھاری یہ زندگی بخش مسکراہٹ ہمیشہ سلامت رہے۔”

“سب لوگوں نے جس طرح ہمارے ڈرامے اور سیٹ کو سراہا تھا، وہ خوشی آج بھی دل و ذہن کے کسی کونے میں پڑی مسکراتی ہے اور زندگی میں کئی دفعہ تقویت کا باعث بنی ہے۔”

“اگر انکو پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ انکے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”

“ساری عمر جس محبت کی کھوج میں لگی رہی، آج جب ملی تو اُسے اپنی بے حسی کی بھینٹ چڑھا کرآپ اپنا سکون تیاگ کر لیا۔”

“اُس کی کُشادہ پیشانی پر کامیابی کی لکیروں کا ایک جال سا بُنا ہوا تھا جسے وہ آنکھیں مِیچ کر مزید نمایاں کرنے کی جستجو میں لگا رہتا۔”

“" "دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے،مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے۔”

“شادی کے بعد زویا اپنے والدین کو اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی کیونکہ ارمغان کے والدین امریکہ میں رہتے تھے اور زویا ارمغان یہاں اکیلے۔”

“مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے .”

“مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں اس تصویر پر بَرملا خوشی کا اظہار کروں یا اس کے پیغام پر دُکھ کا مَلال کروں ....میں نے اپنے جذبات کا دَم گھوٹتے ہوئے اُس سے پُوچھا۔”

“دونوں اسکول کے بعد ساتھ کام کرنے لگے ،اور جعفر اس ہوٹل کی نوکری سے کہیں زیادہ کمانے لگاجس سے اسکے گھر میں بھی خوشحالی آ گئی .”

“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”

“اُسے زاہد اور ظہیر کی اپنی کمپنی میں شمولیت کی زیادہ خوشی نہیں تھی کیونکہ اُسے اپنے گھر کے افراد کی کمزوری کا پہلے سے اندازہ تھا۔”

“میری شادی پر اس کا بنایا ہوا ایک ایمبرائڈری والا فریم بھی جو مجھے تحفے میں ملا تھا، آج تک میرے گھر کے لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
Artist: Art of Healing and Power of Love, is written by Zainab Manzoor who is a researcher by profession, however, practices writing and painting as a hobby. This book is a creative amalgamation of both of her hobbies, which educates the readers both visually and linguistically. She can be found playing with words and colors […]
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
Read an in-depth blog on Hamood Butt, trader and market analyst, sharing real trading strategies, insights, & market psychology.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.