اردو کے پاس اس کے لیے انگریزی سے زیادہ باریک الفاظ ہیں۔ جدائی اور دل ٹوٹنا ایک نہیں، فراق اور نقصان ایک نہیں۔ نیچے دی گئی سطریں یہ فرق جانتی ہیں۔
Read these in English 50 heartbreak quotes
“انعامات کا لفظ سننا تھا کہ میاں نے فرحان اور اس کے ابو کو اکیلا چھوڑا اور منڈیر پر کھڑے ہو کر فہرست سننے لگے۔”

“اسے سب سے پہلے سروے کا کام یاد تھا جب اس کی کمپنی کے سروئیر نے ٹوٹل سٹیشن سے مکمل سروے کر کے اسے سی ایس وی فائل میں دیا تھا۔”

“مگر ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”

“صبر ؟ کیا یہ فقرہ کافی ہے کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لیے ، بکھری روح کو سمیٹنے کے لیے ؟ اور پھر اِس بات کا جواب ملتا ہے کہ وقت سب بھر دیتا ہے ۔”

“مجھے اردو شاعری کا شوق اپنے کالج دور کے استادمحترم جناب تحسین فراقی صاحب کی عنایت اور محبت سے پیدا ہوا۔”

“اس کتاب میں آپ کو ہر رنگ کے کردار سے واقفیت ہوگی جیسےبے تحاشہ محبت اورقربانیاں دینے والے لوگوں سے لے کر اپنی اولاد کو زمانے کی ٹھوکروں پر چھوڑنے والے۔”

“جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔”

“بھلا کوئی اُس شخص کے بارے میں ایسی رائے کیسے رکھ سکتا تھا جس کے دن کا آغاذ ہی ٹوٹے دلوں کا دکھ بانٹنے سے ہوتا تھا۔”

“اِک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ وبا کے ان دنوں نے مجھ پر آگہی کے نئے در وا کیے ہیں۔”

“جب کسی دل سے محبت بھرے جذبات کے سارے رنگ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ دل اس بھری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس تنہائی کے بعد کی دنیا تو اور بھی بھیانک ہے۔”

“ڈھیر سی دعاؤں کے ساتھ یہ شب بھی رخصت طلب ہے پر اس شبِ ہجراں کی مانند جو تنہائی اور درد کے لمحے بن گئی ہے۔”

“جب دل ٹوٹے تو انسان کسی نہ کسی طرح خود کو سنبھال ہی لیتا ہے، پر جب روح تار تار ہو جائے تو ایک بار تو انسان مر ہی جاتا ہے۔”

“کچھ پڑھ جاتی تو اس کی ماں کو بھی سکھ نصیب ہوتا لیکن کوئی درندہ کسی کو چیرنے پھاڑنے سے پہلے پوچھتا تھوڑی ہے کہ تم لواحقین میں کسے چھوڑے جا رہے ہو؟ ایک بے بس بیوہ ماں کو۔”

“دھوکا پتہ نہیں کس کو دے رہا ہوں میں؟ گھر پر بھی تو میں اکیلا ہی ہوں- تو اس پگڈنڈی پر ہر شام سیر کرنے کیوں آتا ہوں؟ گھر میں تنہائی چھوڑکے اکیلاپن ڈھونڈنے؟ یہ بھی کیا اداس واڈامبنا!”

“بادشاہ نے شہزادے کی محبت میں یہ بات بالکل نظر انداز کر دی کہ شہزادہ ریاست کے امور سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کرتا تھا بلکہ ہر وقت اپنے باغیچے میں تنہا وقت گزارتا۔”

“رات گئے تک نیند نہیں آتی تھی، سوچتی کہ کیاجاوید کو آ جاتی ہوگی؟ عورت کی تنہائی صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
In this interview, Bisma Jatoi, a CSS officer and writer, shares her passion for writing and her experience publishing with Daastan.
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
Explore Sana Ahmed Alvi’s writing journey, inspirations, and the mystery behind The Night She Drowned in this engaging author interview.
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
Read Hamza Khaskheli’s interview and written reflections as he shares his journey with Daastan & the thoughts that shape his storytelling.