پاکستانی مزاح عموماً خشک ہوتا ہے اور عموماً کسی سنجیدہ بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں لطیفے نہیں — یہ وہ باتیں ہیں جو لوگ شکایت کرنے کے بجائے کہہ دیتے ہیں۔
Read these in English 50 humour quotes
“مختلف اٹیندنٹس ایک دوسرے کو جانچتی نظروں سے " تعلقات کیسے رکھنے ہیں؟" کے طور پر پرکھ رہے ہیں اور میں مسکرا کردوبارہ اپنے نوٹس میں گم ہوگئی۔”

“ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔”

“کبریٰ کی ماں کپڑے کی کان نکال لیتیں‘ کلف توڑتیں، کبھی تکون بناتیں کبھی چوکھونٹا کرتیں اور دل ہی دل میں قینچی چلا کر انکھیوں سے ناپ تول کر مسکرا پڑتیں۔”

“چند دن ہوئے میں نے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ کراچی میں فنون لطیفہ کی ایک انجمن قائم ہوئی ہے جو وقتاً فوقتاً تصویروں کی نمائشوں کا اہتمام کیا کرے گی۔”

“عالیہ نے بھی حیرانی سے پہلے مانو کو یوں مڑتے دیکھا اور پِھر پیچھے دیکھا كہ وہ کس کو دیکھنا چاہ رہی ہے، مانو دل ہی دل میں خود پر ہنسی۔”

“اسے دیکھ کر فرح نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی تاکہ اسے محسوس نہیں ہو وہ کیا سوچ رہی ہے کیا کرنا چاہتی ہے۔”

“شیر دل نے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور مجھے جواب دیا کہ ہاں ہے اور کس کا اس عشق پر یقین نہیں ہوتاہے۔”

“میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا کے لیے رحمت بن کر آنے والے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے اور میری ہر کوتاہی اور تقصیر معاف کر دی گئی ہے۔”

“سامنے صوفے پہ دلہا دلہن بیٹھے تھے ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے وہ دلہن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا دیکھتا رہا دیکھتا رہا۔”

“’کم بخت، میرا مذاق اڑا رہا ہے!الله کرے، تیرا پیراشوٹ نہ کھلے اور میں گنتی کر سکوں کہ زمین پر گرنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔”

“”جھوٹے!کب بلایا تھا ماما نے مجھے؟“ماشاء جو اِس وقت صوفے پر بیٹھ رہی تھی رک کر اسے دیکھنے لگی اور پھر نوریح کو دیکھ کر طنزیہ مسکرائی۔”

“عمران نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے اسٹورروم کے دروازے پر دباؤ ڈالا اور دروازہ کھول کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوگیا۔”

“کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیئے”دُم دار ستارہ“بن جاؤ!(دُمدار ستارے کی جو بھی توضیح ہو)وہ لمحے بھر کے لیئے وارفتگی، استعجاب، اُمید اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔”

“نثر کی محفل میں ان کی شرکت یقینی ہوتی ہے تاہم مشاعرے میں غزل یا مزاحیہ نظم سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔”

“زمین گدلی، نرم اور گیلی، گلگلے بادلوں کے بیچ سے کہیں کہیں سورج چاچو منہ ڈال کر مسکرا رہے تھے لیکن سردی سے جمتی ہوئی انگلیوں کا کچھ نہیں کر پائے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
ہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی خوش و خرم زندگی میں اچانک ہی سماعت سے محرومی داخل ہو جاتی ہے اور مشکلات اور آزمائشیں اس کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ سماعت کی محرومی کا ہمت و حوصلے سے مقابلہ کرنے کی کہانی آپ میں بھی امید کی ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس باہمت لڑکی کی کہانی کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اپنے اندر سماعت کے نقائص اور اس کے علاج سے متعلق بھی بیش بہا معلومات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماعت کے نقائص سے متعلق لوگوں کی کئی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے۔
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
An insightful interview with Aqleem Fatimah on Ishq Ilhaam Hai, discussing love, her writing inspiration, and her journey with daastan.