پاکستانی مزاح عموماً خشک ہوتا ہے اور عموماً کسی سنجیدہ بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں لطیفے نہیں — یہ وہ باتیں ہیں جو لوگ شکایت کرنے کے بجائے کہہ دیتے ہیں۔
Read these in English 50 humour quotes
“لبوں پہ ہر چہرے کو روشن کر دے ایسی مسکراہٹ سجا کے ، آنکھوں میں قد کاٹھ ، شہرت ، امارت اور صورت دیکھے بغیر عقیدت اور عزت بسا کے اور دل میں محبت کے جذبے کو محترم بنا کے۔”

““وہ زیرِ لب مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں، ”ایسے ہی الفاظ بولنے والوں سے یہ اندرونِ قُرصِ ارض بھرا پڑا ہے، یہ سب ہی بڑے مصروف لوگ تھے۔”

“اس وقت تو پڑھ رہے ہو گے، امتحاں کی تیاری کر رہے ہو یا تفریح ہو رہی ہے؟ میری دعا ہے کہ تم سارا وقت پڑھتے رہو۔”

“اب وہ سوچ رہا تھا کہ آپا کو سچ میں اس سے کتنی محبت ہے،کہ اس کے لیے دیر تک کالج کے گیٹ پر کھڑی رہیں اور اس کے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک مسکرا کر الوداع کہتی رہیں۔”

“مسکراتے ہوئے ماہِ نو نے آنکھیں بند کر لیں جس پر ہماء نے اسے دوبارہ ہلایا اور یقین دلایا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”

“جنّت، سلمان کے خیال کے لطف و سرور اور فراق کے خوف اور وسوسوں کے درمیان ہچکولے کھا رہی تھی کہ اسی اثناء میں سلمان کا مسکراتا چہرہ گلی والے دروازے سے نمودار ہوتا نظر آیا۔”

“"صرف پانچ ملاقاتوں کی بُنیاد پر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟"میں مُسرت کے ساتھ اندر ہی اندر مسکرایا۔”

“غزل کی فکری آزادی اور مذہبی دنیاداروں سے نوک جھونک اور لطف ومذاق کا سلسلہ سوداؔ کے ہاں بھی موجود ہے۔”

“ماشاء یہ جملہ کہہ کر، مسکرا کر ماں کے جواب کا انتظار کر رہی تھی لیکن سعیدہ بیگم نےایک گہری سانس لی اور کمرے سے نکل گئی۔”

“اس دوران مزاح کے موضوعات تو آتے رہتے تھے، مگر بعض دوسری مصروفیات کی وجہ سے میں انھیں تحریر میں نہ لاسکا۔”

“'' اس کے بعد دونوں کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی اور ساتھ ہی ایک بار پھر سیٹھ کی آوا زسنائی دی ''تم اس خوبصورت سفید ساڑھی میں انتہائی دلکش اور حسین لگ رہی ہو۔”

“اگرچہ میری چھاتی میں جذبات کا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا تھالیکن جب میں علی کے نزدیک پہنچا تو اس طوفانِ عظیم کا، جس نے میرے وجود کو تھرا دیا تھا، حتمی اظہار ایک مسکین سی مسکراہٹ میں ہوا۔”

“”جہیز میں کیا ماں کو لے کر جاؤ گی؟“سعیدہ بیگم کا اگلا جملہ ادا ہونے سے پہلے ماشاء نے ان کا جملہ(روایتی جملہ)دہرایا، یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔”

““بیگ صاحب نے سوچا، ”یہ ماہرینِ نفسیات بھی یونہی اپنی اہمیت جتانے کے لیے کچھ بھی چھوڑ دیتے ہیں، بھلا انٹر نیٹ جیسی تفریحی اور سماجی رابطے فراہم کرنے والی چیز کس طرح ڈپریشن پیداکرسکتی ہے!”

Our authors, in their own words and in the press.
یہ کتاب ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی زندگی اور اس سے وابستہ یادوں کے ساتھ ساتھ ان کے قلمی سرمائے کی امین ہے۔اِس کتاب کا پہلا حصہ ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی بچپن کی یادوں، ہجرت کے سفر اور اُس کے دکھوں کی داستان کو پیش کرتا ہے۔ اِس میں اُن کی ملازمت اور اعلیٰ تعیم کا ذکر بھی موجود ہے اور ازواجی زندگی بھی تحریر ہے۔ عزیز رشتے، ان سے وابستہ جذبات و احساسات اور انمول یادوں کا خزانہ بھی یہ کتاب خود میں سموئے رکھتی ہے۔ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کا اندازِ تحریر سادہ، دل چسپ اور رواں ہے۔ وہ سادگی سے خود سے وابستہ لوگوں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے جذبات و احساسات بھی لکھتے نظر آتے ہیں۔اس کتاب کا اگلا حصہ شاعری پر مشتمل ہ
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.