زندگی کے بارے میں وہ سطریں جو پاکستان میں شائع ہونے والے ناولوں، یادداشتوں اور افسانوں سے لی گئی ہیں۔ یہ اقوال بننے کے لیے نہیں لکھی گئیں — یہ کہانی کے بیچ میں کہی گئی باتیں ہیں جو بعد میں سب پر صادق آئیں۔
“لکھنا ان کے لیے محض شوق نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے لوگوں کی زندگی میں کچھ بدلاؤ لانے کا کیونکہ الفاظ ہی جذبات کو آواز دیتےہیں۔”

“اوہ تو اس دنیا میں اتنی آسانی بھی مہیا ہوسکتی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی بے عزتی بھی۔”

“زمین پر زندگی اس کے لیے بہت زیادہ موافق تو نہیں تھی لیکن اب اسے جینے کا ایک مقصد ضرور مل گیا تھا۔”

“" وہ مسکرائی- " تو مایوسی کے کھنڈر میں دب کر مرنے سے بہتر نہیں کہ ہم امید کا دیا جلا کر دوسروں کو بھی روشنی فراہم کریں اور خود بھی روشن ماحول میں زندگی گزاریں؟ .”

“کچھ عرصہ قبل اس کا انتقال ہوگیامگر اس کی زندگی میں بھی سکینہ کو کبھی سلائی کرکے تو کبھی کیاس چن کر گھر میں زندگی کا دیپ جلانا پڑتا تھا۔”

“اسی عمر میں بڑ ے سمجھداری سے کام لیں تو بچوں کی معصو میت برقرار رہتی ہے اور میں بحثیت ماں، میں سلطان کی ماں تھی یا باپ۔”

“اپنے بچوں کو ذہنی، جسمانی اور جذباتی ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے نہ صرف باہر کی دنیا سے بلکہ ان کے اندر کی دنیا سے بھی جو زیادہ خطرناک ہے۔”

“زندگی میں کچھ پل آپ کو منجمند کر دیتے ہیں کوئی ایک لمحہ آپ کی پوری زندگی کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔”

“جلال نے تانے بانوں کو جوڑنا شروع کیا کہ جہاں عام انسانوں کے لیے جنگل ختم ہوتا تھا، وہاں ایک نئی دنیا آباد ہے۔”

“کیا میں بھی الله اور اس کے رسول ﷺ سے ایسی سچی محبت کا دعویٰ کرسکتی ہوں؟ میری تو ساری دنیا ہی جھوٹ پر مبنی ہے۔”

“اس کی یہ خواہش کہ اپنی ماں کو آرام دہ اور سکون بھری زندگی دیتا، اب حسرت بن کر دل میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔”

“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”

“مجھے بخوبی علم تھا کہ صحیح قسم کی بیوی ایک قانون دان کے پیشہ ورانہ زندگی کو آگے بڑھانے میں کس حد تک اہم ہو سکتی ہے۔”

“میری امی جان فوزیہ ناہید ، والد ظہور احمد (مرحوم) ، میرے شریک حیات احمد نواز اور میری بیٹی ماہ نور خان کے نام جن کا ہونا میری زندگی میں باعثِ فخر ہے۔”

“مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔”

“دو وقت کی روٹی مل جائے گی تجھے اس سے زیادہ کوئی ادھیکار نہیں تیرا زندگی پر پورے ایک سال بعد کچھ سوچنا اگر زندہ بچ گئی .”

Our authors, in their own words and in the press.
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
یہ کتاب ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی زندگی اور اس سے وابستہ یادوں کے ساتھ ساتھ ان کے قلمی سرمائے کی امین ہے۔اِس کتاب کا پہلا حصہ ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی بچپن کی یادوں، ہجرت کے سفر اور اُس کے دکھوں کی داستان کو پیش کرتا ہے۔ اِس میں اُن کی ملازمت اور اعلیٰ تعیم کا ذکر بھی موجود ہے اور ازواجی زندگی بھی تحریر ہے۔ عزیز رشتے، ان سے وابستہ جذبات و احساسات اور انمول یادوں کا خزانہ بھی یہ کتاب خود میں سموئے رکھتی ہے۔ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کا اندازِ تحریر سادہ، دل چسپ اور رواں ہے۔ وہ سادگی سے خود سے وابستہ لوگوں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے جذبات و احساسات بھی لکھتے نظر آتے ہیں۔اس کتاب کا اگلا حصہ شاعری پر مشتمل ہ