یہ نعرے نہیں۔ یہ اُن کرداروں کی باتیں ہیں جو بغیر کسی ضمانت کے چلتے رہے — اور یہی وہ حوصلہ ہے جو ایک اصل ہفتے کا سامنا کر سکتا ہے۔
“والدین سے ملی وراثت کہہ لیں یا پھر خود کی شخصیت میں اِک چُھپا جنون کہ انھوں نے صرف خود کو یا تو خطاطی، مصوری یا پھر اپنی عمر سے بڑے درجے کی کتابیں پڑھنے کی کوشش میں پایا۔”

“چھ سال کی زرمینہ آنکھیں ملتی ہوئی ُاٹھی اور بستر سے ُاتر کے سیدھا باپ کے پاس آئی اور باپ کے دائیں کندھے سے لپٹ گئی۔”

“جیز، زوبی کا چہرہ زینب حسین جیسا کرنے میں جُت گیا اور ہر شے کی پروا کیئے بغیر دن رات زینب حسین کو اپنے طور پر نئی زندگی دینے کی کوششوں میں تھا۔”

“جس میں انھوں نے اپنی والدہ کی بے مثال زندگی اور لازوال موت کےناقابل یقین حقائق سےپردہ اٹھایا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔”

“اب اسلام آباد میں سمیر کو بے سکونی ہونے لگی بار بار وہی حادثہ والا دن یاد آنے لگتا اور جب بھی سوتا تو اچانک ڈر کر اٹھ جاتا۔”

“کیسے بھری دنیا میں ہم اکیلے ہو جاتے ہیں،بیٹیوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو وہ کیسے غیر محفوظ ہو جاتی ہیں، بوجھ بن جاتی ہیں۔”

“جہاں دن کے وقت قدرتی روشنی پورے کمپلیکس کو منور کر دیتی ہے، وہیں رات کے وقت جا بجا نصب لائٹ فکسچرز سے حیدر علی کلچرل سینٹر جگمگا اٹھتا ہے۔”

“ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔”

“گھر والوں کو شدت سے احساس دلانے کی کوشش کرے کہ وہ جسم بے شک کوئی اور رکھتا /رکھتی ہے مگر روح سے مخالف جنس کی ہے۔”

“میرے لئیے اس مُسکراتے ہوئے چہرے کے برعکس اسکے دل کی کیفیت کا اندازہ لگانا بے حد مشکل تھا ....میں مسلسل حیرانگی کی دلدل میں ڈُوبا جا رہا تھا۔”

“خوش قسمت طلبہ جو اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ زندگی کو زیادہ واضح طور پر سمجھتے ہیں اور وقار اور اعتماد کے ساتھ مختلف انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔”

“قیدِ حیات میں مصنّف نے اپنی والدہ مرحومہ کی بے مثال زندگی اور لازوال موت کے ناقابلِ یقین اور تلخ حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے۔”

“اب عالیہ اسلام آباد کی خوبصورتی دیکھ کے بہت خوش ہوئی اب ان دونوں کی کوشش تھی کے لوگ ان کو کم ہی پہچانیں کہ زیادہ مسئلہ نہ ہو۔”

“اگر فلائٹ پکڑنے میں زیادہ وقت باقی ہو تو ہوٹل انتظامیہ ایک یا دو گھنٹے کا اضافی وقت عنایت کر دیتی ہے، لیکن اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی انتظامیہ کو بروقت اطلاع دینی ہوتی ہے۔”

“میری زندگی کی رونق میرے بچے ایمان فاطمہ، شافع حیدر، محمد رافع اور ایک پیاری سی سہیلی کے نام؛جن کی مسلسل حوصلہ افزائی نےمیری اتنی ہمت بڑھائی کہ میں نےیہ کتاب لکھی۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
یہ کتاب ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی زندگی اور اس سے وابستہ یادوں کے ساتھ ساتھ ان کے قلمی سرمائے کی امین ہے۔اِس کتاب کا پہلا حصہ ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی بچپن کی یادوں، ہجرت کے سفر اور اُس کے دکھوں کی داستان کو پیش کرتا ہے۔ اِس میں اُن کی ملازمت اور اعلیٰ تعیم کا ذکر بھی موجود ہے اور ازواجی زندگی بھی تحریر ہے۔ عزیز رشتے، ان سے وابستہ جذبات و احساسات اور انمول یادوں کا خزانہ بھی یہ کتاب خود میں سموئے رکھتی ہے۔ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کا اندازِ تحریر سادہ، دل چسپ اور رواں ہے۔ وہ سادگی سے خود سے وابستہ لوگوں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے جذبات و احساسات بھی لکھتے نظر آتے ہیں۔اس کتاب کا اگلا حصہ شاعری پر مشتمل ہ
In this Daastan interview, Khalid Salamat shares his journey, decades in consumer marketing, and how life shapes his writing.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so