ان لکھنے والوں نے اپنے ملک کے بارے میں کیا دیکھا — طبقہ، خاندان، کس کی بات سنی جاتی ہے۔ یہ یہیں شائع ہوا ہے، باہر نہیں، اور یہ بدل دیتا ہے کہ مصنف کیا کہنے کو تیار ہے۔
Read these in English 50 society quotes
“قومی بیانیے کو اسکے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔”

“بچے ہوئے لوگوں کو ترکی کے علاقے ازمیر سے سمندر میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آگے جانا ہوتا تھا۔”

“(یہ نظم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ماں اور بچے کی صحت پر مبنی ملک گیر مہم ’امید سے آگے‘ کے لیے میری جانب سے وقف کردی گئی ہے۔)”

“انکا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح انکی بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنی جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“اگر ساری دنیا ہی ہماری ہوتی تو کون ہمیں تنگ کرتا ؟ کون ہم سے نفرت کرتا؟ ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔”

“اپنے رب کی تخلیق کو کیسے الزام دے سکتے ہیں، وہ بھی صرف لوگوں کے ڈر سے؟ اگر ڈرنا ہے تو اس رب سے ڈریں جس کی نعمت کی آپ نے ناشکری کی۔”

“دروازے سے چھد کے باہر آتی روشنی نہ اپنا عقیدہ بتا سکتی تھی اور نہ یہ کہ وہ ایک غریب غیر مسلح دیہاتی کے گھر کے دیے کی روشنی ہے۔”

“ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔”

“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”

“جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔”

“پسِ نوشت : ۱۹۹۵ء میں ٹاڈا قانون ختم ہونے کے بعد وزیرِ اعظم شری نر سمہا راؤ نے اظہارِ خوشی میں پرائم منسٹر ہاؤس ، دلی میں اخباروں کے مدیروں کو ڈنر دیا۔”

“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”

“ان کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح ان کا بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنے جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“اس سے متعلقہ ایک بہت سنگین اور دلخراش سچائی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر 4 میں سے 2 بچے جبکہ ہر 5 میں دو بچیاں کسی نہ کسی طریقے سے sexual harassment کا شکار ہوتی ہیں۔”

“لکھنؤ میں بھی پاکستانی تہذیب کی اندھی تقلید کی جاتی تھی جہاں جہیز یہ کہہ کر قانونی بنا دیا جاتا تھا کہ ماں باپ جو بھی دے رہے ہیں اپنی خوشی سے ہی تو دے رہے ہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
ہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی خوش و خرم زندگی میں اچانک ہی سماعت سے محرومی داخل ہو جاتی ہے اور مشکلات اور آزمائشیں اس کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ سماعت کی محرومی کا ہمت و حوصلے سے مقابلہ کرنے کی کہانی آپ میں بھی امید کی ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس باہمت لڑکی کی کہانی کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اپنے اندر سماعت کے نقائص اور اس کے علاج سے متعلق بھی بیش بہا معلومات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماعت کے نقائص سے متعلق لوگوں کی کئی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے۔
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
Artist: Art of Healing and Power of Love, is written by Zainab Manzoor who is a researcher by profession, however, practices writing and painting as a hobby. This book is a creative amalgamation of both of her hobbies, which educates the readers both visually and linguistically. She can be found playing with words and colors […]
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
Discover the power of Palestinian Poetry a voice of struggle, resilience, and compassion in You, The Witness by Meem Ayien.
Explore Sana Ahmed Alvi’s writing journey, inspirations, and the mystery behind The Night She Drowned in this engaging author interview.