ان کتابوں کے کرداروں نے کامیابی کو آخر کیا سمجھا — اکثر وہاں پہنچنے کے بعد جسے وہ پہلے کامیابی سمجھتے تھے۔ اس میں جیت سے زیادہ صبر کا ذکر ہے۔
Read these in English 50 success quotes
“اگرچہ ہم اب بھی اس کائنات کے اندھیروں میں زندگی کے حقائق جاننے کے لئے سرگرداں ہیں، انہوں نےنظام زندگی میں ہی اختیار حاصل کرلیا ہے۔”

“اُردو کے جوہر شناس شاعر اسرؔار جامعی ہیں جنہیں وزیرِاعظم اور ان کےوزیروں کی اَنا کے حد سے زیادہ پھولے ہوئے غباروں کو پنکچر کرنے میں مہارت ِ تامہ حاصل ہے۔”

“جس نے آپ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور جب آپ نے مزید اس کی بات ماننے سے انکار کردیا، تو اس نے بدلہ لیا ہے۔”

“سب سے پہلا اصول اس نے یہ سیکھا تھا کہ انسان کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے، جس نے اپنے وقت کو کامیابی سے استعمال کیا وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ گیا۔”

“بھوکا، پیاسا انسان جس کی منزل صرف موت ہے اور انسان کو لگتا ہے ابھی بہت سارا وقت پڑا ہے پر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ زندگی کے صحرا میں منزل کےنام پر دھوکے زیادہ ہوتے ہیں۔”

“زندگی میں پیسہ کمانے سے زیادہ اہم اپنی زندگی کے مقصد کو تلاش کرنا اور اس کے راستے پر جتنی جلدی ہو سکے روانہ ہوناہے۔”

“اسی خصوصیت کی وجہ سے بیدارخوابی کاعمل بہت مؤثر ہواکرتاہے اور اس عمل سے انسان خوشی اور سکون کی مطلوبہ کیفیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔”

“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”

“وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے پروجیکٹ مینجمنٹ میں مہارت حاصل کر لی تھی اور ہر گزرتے لمحے میں وہ اپنے آپ کو کامیاب دیکھ رہا تھا۔”

“نماز ہم میں ایک ایسی خوبصورت عادت کو پروان چڑھاتی ہے جس سےہم وقت کو زیادہ سے زیادہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔”

“اگر ڈاکٹر اکبر نیدری اپنے درندے پر قائم رہتے تو ایک دن میں اس نایاب اسنے کو پہلی بار اپنے کامشن ادارة النقوش کو ہی حاصل ہوتا ۔”

“گجرانوالا میں پلے بڑھے، ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول گوجرانوالا سے حاصل کی، میٹرک محبوب عالم ہائی سکول گوجرانوالا سے ہی پاس کیا۔”

“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”

“اس فانی اور موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اختیار حاصل کرنا صرف تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنی روحانی اور جسمانی خواہشات پر قفل لگائیں، اس لئے ہمیشہ قرآنی تعلیمات کی پیرو ی کریں۔”

“ہمیشہ دوسروں کو دیکھ کر زیادہ کی خواہش مت کرنا ہاں اپنے مقصد میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کو حاصل کرتے رہنا جو آپ کو منزل تک لے جانے میں مددگار رہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
Discover Wajahat Ali’s "Finding My Roots," an inspiring biography that captures the strength of a mother’s love and sacrifices.
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
Discover the journey of Naveed Ahmad, an educator and poet . His debut book, Bay Nateeja, published by Daastan, explores deep human emotions.
یہ کتاب ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی زندگی اور اس سے وابستہ یادوں کے ساتھ ساتھ ان کے قلمی سرمائے کی امین ہے۔اِس کتاب کا پہلا حصہ ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی بچپن کی یادوں، ہجرت کے سفر اور اُس کے دکھوں کی داستان کو پیش کرتا ہے۔ اِس میں اُن کی ملازمت اور اعلیٰ تعیم کا ذکر بھی موجود ہے اور ازواجی زندگی بھی تحریر ہے۔ عزیز رشتے، ان سے وابستہ جذبات و احساسات اور انمول یادوں کا خزانہ بھی یہ کتاب خود میں سموئے رکھتی ہے۔ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کا اندازِ تحریر سادہ، دل چسپ اور رواں ہے۔ وہ سادگی سے خود سے وابستہ لوگوں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے جذبات و احساسات بھی لکھتے نظر آتے ہیں۔اس کتاب کا اگلا حصہ شاعری پر مشتمل ہ
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔