وہ کردار جو کمرے میں موجود سب کی جانی ہوئی بات کہہ دیتے ہیں۔ اس مجموعے کا بیشتر حصہ سچ سے زیادہ سچ بولنے کی قیمت کے بارے میں ہے۔
“میرے ہاتھوں ہوا خالی گھر بہت اچھی طرح مجھے زندگی کے بارے میں یہ حقیقت سمجھا گیا کہ کوئی چیز بھی دنیا میں دائمی نہیں۔”

“دراصل اس کا دل ہمیشہ سے میوزیم و تاریخی جگہوں کی نسبت مالز اور amusement parks میں زیادہ لگتا ہے۔”

“’’ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے دردناک سزا ہے۔”

“2) مروجہ نظریہ ارتقاء کے نزدیک جینوم دراصل ایک Read-only memory = ROMسسٹم کی طرح ہوتاہے جس میں تبدیلی کی صورت صرف نقل کی غلطی(Copying Error) ہے۔”

“جہاں دن کے وقت قدرتی روشنی پورے کمپلیکس کو منور کر دیتی ہے، وہیں رات کے وقت جا بجا نصب لائٹ فکسچرز سے حیدر علی کلچرل سینٹر جگمگا اٹھتا ہے۔”

“اسی خصوصیت کی وجہ سے بیدارخوابی کاعمل بہت مؤثر ہواکرتاہے اور اس عمل سے انسان خوشی اور سکون کی مطلوبہ کیفیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔”

“آپ کی سیرت مبارکہ دنیا کا آئینہ خانہ ہے جس میں آداب و رسوم، ظاہر و باطن، جسم اور روح، قول وفعل، زبان و دل اور طور و اطوار کی اصلاح موجود ہیں۔”

“ماضی کی پرچھائی میں جینے والے زندہ دفن ہو جاتے ہیں لیکن یادیں ہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جہاں انسان بالکل نہیں بدلتے، جذبات اَن کہے ضرور رہ جاتے ہیں مگر کہیں نہ کہیں سچے ضرور ہوتے ہیں.”

“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”

“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”

“کیا میں بھی الله اور اس کے رسول ﷺ سے ایسی سچی محبت کا دعویٰ کرسکتی ہوں؟ میری تو ساری دنیا ہی جھوٹ پر مبنی ہے۔”

“”پیار کا تیسرا شہر“ پڑھتے ہوئے شاید بہت سے لوگوں کو کرداروں کے الجھے رہنے سے گلہ ہوگا، مگر یہ سچ ہے کہ دکھوں، نوحوں اور ناانصافیوں کو لفظوں میں ڈھال کر۔۔”

“اب وہ سوچ رہا تھا کہ آپا کو سچ میں اس سے کتنی محبت ہے،کہ اس کے لیے دیر تک کالج کے گیٹ پر کھڑی رہیں اور اس کے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک مسکرا کر الوداع کہتی رہیں۔”

“اگر ڈاکٹر اکبر نیدری اپنے درندے پر قائم رہتے تو ایک دن میں اس نایاب اسنے کو پہلی بار اپنے کامشن ادارة النقوش کو ہی حاصل ہوتا ۔”

“گجرانوالا میں پلے بڑھے، ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول گوجرانوالا سے حاصل کی، میٹرک محبوب عالم ہائی سکول گوجرانوالا سے ہی پاس کیا۔”

“مسکراتے ہوئے ماہِ نو نے آنکھیں بند کر لیں جس پر ہماء نے اسے دوبارہ ہلایا اور یقین دلایا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.