وہ باتیں جو کرداروں نے ٹھوکر کھا کر سیکھیں۔ یہ کہاوتیں نہیں جو نسل در نسل چلی آ رہی ہوں — یہ وہ نتیجے ہیں جن تک کوئی کہانی کے بیچ میں پہنچا، اکثر ایک غلطی کے بعد۔
“نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔”

“اندھیری رات میں پہاڑی علاقے میں جیپ ڈرائیو کرنے کا مجھے بلکل بھی تجربہ نہ تھا لہٰذا راستے میں موڑ کاٹتے ہوئے میری جیپ نیچے کھائی کی جانب لڑکھڑا گئی تھی۔”

“تم نے عقل سے کام لیا اور زاروک کو اس کے منتر سے ہی مات دی اور اب کی بار وہ کسی تاریک غار میں قید کردیا گیا ہے۔”

“میں اِن سے دور ہوں جس کی وجہ سے یہ میری زیادہ عزت کرتے ہیں اور اسی لیے حیدر، ہادی، زونی، عنایہ، عادل سب مجھے بڑےپاپا سمجھتے ہیں۔”

“اس نام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس کی وہی بنیاد ہے جو کہ ہر سننے والے کو سمجھ آتی ہے یعنی خود جل کے دوسروں کی رہنمائی کرنا۔”

“اسی عمر میں بڑ ے سمجھداری سے کام لیں تو بچوں کی معصو میت برقرار رہتی ہے اور میں بحثیت ماں، میں سلطان کی ماں تھی یا باپ۔”

“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”

“مجھے بخوبی علم تھا کہ صحیح قسم کی بیوی ایک قانون دان کے پیشہ ورانہ زندگی کو آگے بڑھانے میں کس حد تک اہم ہو سکتی ہے۔”

“مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔”

“ایسی حکمت عملی ممکن ہے ، جس سے زندگی کی تلخیوں کی شدت کم سے کم ہوجائے اور مسرتوں کارنگ زیادہ سے زیادہ نمایا ں ہوجائے ۔”

“(آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ زہرہ گردیزی کے مقبوضہ وادی کے لیے تحریر کیے گے سچے جذبات) اگست کی ایک صبح آنکھ کھلی تو اپنی عارت کے مطابق ٹیلی ویژن کا دیدار فرض عین سمجھا۔”

“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”

“دونوں ماں باپ خاموشی میں اتنا بھول گئے تھے کہ اس چاکلیٹ دودھ کے خوف میں اور اس کی سمجھ آنے میں وہ معصوم نہ مکمل کھا پاتی تھی اور نہ سو پاتی تھی۔”

“جانتے ہیں جب کسی زینب کے سا تھ زیادتی ہوتی ہے تو میں زیادتی کرنے والے سے زیادہ ان والدین کو ظالم سمجھتا ہوں جنہوں نے ان درندوں کے سامنے اپنی اولادیں پھینک رکھی ہیں۔”

“اس کی عقل کو شیطان دلیلیں دینے لگا تھاکہ وہ اس مقابلے کی دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے، ناکام ہو رہا ہے اورپرانے دور میں جا رہا ہے جبکہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔”

“میرے ہاتھوں ہوا خالی گھر بہت اچھی طرح مجھے زندگی کے بارے میں یہ حقیقت سمجھا گیا کہ کوئی چیز بھی دنیا میں دائمی نہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail
Interview with Syed Husain Momin Zaidi on Poetry Volume 1 Reflections discussing writing journey and working with Daastan.
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.