وہ باتیں جو کرداروں نے ٹھوکر کھا کر سیکھیں۔ یہ کہاوتیں نہیں جو نسل در نسل چلی آ رہی ہوں — یہ وہ نتیجے ہیں جن تک کوئی کہانی کے بیچ میں پہنچا، اکثر ایک غلطی کے بعد۔
“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”

“اسے سمجھ نہیں آتاتھا کہ نوماہ کے اندر ماں کے پیٹ میں بچہ کیسے بن جاتا ہے، اس لیے وہ استقرارِ حمل کو خدائی امر مان لیتاتھا۔”

“گھر کی کوئی بھی لڑکی اس سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتی تھی تو اس نے بھی اپنا زیادہ وقت امی اور دادی جان کے ساتھ صرف کرنا بہتر سمجھا۔”

“ایک اور چیز جس نےمجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ ناروے میں انگریزی تو سب سمجھتے ہیں پر بولتا کوئی بھی نہیں ہے۔”

“انسان اپنی عقل اور تدبیر پربھروسہ کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ایک تدبیر کرنے والا اوپر بھی ہے جو سب سے بہتر تدبیر کرتا ہے۔”

“اب کچھ لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں وہ تو یہ بات سمجھ جاتے ہیں لیکن جنھوں نے بس قرآن کو پڑھا ہوتا ہے انھیں سمجھانا نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔”

“میرے ذہن میں اس پابندی کا کوئی عقلی جواز نہ تھا لیکن لاشعور میں یہ احساس موجود تھا کہ اس طرح کی پابندیوں کی خلاف ورزی سے "دنیا" بدل جاتی ہے۔”

“ہر انسان کی زندگی ایک رسک(risk) پر ہوتی ہے تو کیوں ہم کینسر کے مریض جینا چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں ہم یہ نہیں سمجھتے کہ موت تو آنی ہی آنی ہے.”

“مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں اس تصویر پر بَرملا خوشی کا اظہار کروں یا اس کے پیغام پر دُکھ کا مَلال کروں ....میں نے اپنے جذبات کا دَم گھوٹتے ہوئے اُس سے پُوچھا۔”

“نہیں سمجھ آ رہا تھا کے اُسے کس طرح بتاؤں کہ میں اُس سے کئی گُنا زیادہ پیار کرتا ہوں جتنا وہ ریان سے کرتی ہے۔”

“اماں نے وہاں سے جانے کا قصد کیا تو مامی اسے سمجھانے بیٹھ گئیں اور ایسی ایسی دلیلیں دی کہ اماں ابا کو قائل کر کے ہی چھوڑا۔”

“جب جبرائیل گھر پہنچا، تو آج اس کی ماں اور بہن کی جگہ اس کا باپ اس کا انتظار کر رہا تھا،کیونکہ وہ ایک بگڑے بچے کو سبق سکھانے کے لیے تنہائی چاہتا تھا۔”

“میرا مشاہدہ تھا کہ کامیاب قانون دان ، بلا کسی استثنا کے خوبصورت، باوقار، سمجھدار خواتین کے ساتھ بیاہے ہوئے ہیں۔”

“بھلا زندگی جیسے شعوری اورجذباتی تجربے کےبعد انسان اس سے پہلے جیسی کیفیت میں واپس کیسے جاسکتاہے؟ حتی ٰ کہ اگرموت کے بعد عدم بھی ہے تو یہ عدم زندگی سے پہلے کے عدم سے کچھ مختلف ہی ہوگا۔”

“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”

“معروض کے تجزیے اور متبادل مستقبل کی تشکیل کے لیے سہیل کا ''علتی تہوں کے تجزیے کا نظریہ'' ایک بہت دلچسپ طریقہ کار ہے جو اپنے معروض کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
In this Daastan interview, Khalid Salamat shares his journey, decades in consumer marketing, and how life shapes his writing.
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
Artist: Art of Healing and Power of Love, is written by Zainab Manzoor who is a researcher by profession, however, practices writing and painting as a hobby. This book is a creative amalgamation of both of her hobbies, which educates the readers both visually and linguistically. She can be found playing with words and colors […]
Read an in-depth blog on Hamood Butt, trader and market analyst, sharing real trading strategies, insights, & market psychology.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
Read Hamza Khaskheli’s interview and written reflections as he shares his journey with Daastan & the thoughts that shape his storytelling.