ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“ملکائیں کسی پہ منحصر نہیں ہوتیں، ان کا جدھر جدھر دل چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے وہ جاتی ہیں جو دل کرتا ہے کرتی ہیں۔”

“رات بھر جاگ کر یہ خلش مٹانے کی کوشش کیے، خود کو یقین دلایا کہ لوکل مال کی تو کوئی وقعت نہیں ہوتی ہے یہ تو امپورٹڈ چیز ہے چند سال تو نکالے گی ہی.”

“کیونکہ دونوں تاروں کو ایک ہی وقت میں چھونے کے باعث سرکٹ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ پرندوں کی موت کی وجہ بن جاتا ہے۔”

“پر کچھ خاص بات ضرور ہے کہ اللہ نے مجھے اتنی توفیق دی ہے کے اُسکے محبوب ﷺ کا نام لے سکوں اُنکا ﷺ ذکر کر سکوں یا اُنسے محبت کر سکوں۔۔”

“'' اس کے بعد دونوں کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی اور ساتھ ہی ایک بار پھر سیٹھ کی آوا زسنائی دی ''تم اس خوبصورت سفید ساڑھی میں انتہائی دلکش اور حسین لگ رہی ہو۔”

“میں پھر اُس بلب کی طرف دیکھنے لگا....وہ سنہرا بلب جو کہ اپنی پوری جفاکشی کے ساتھ اپنے اِرد گِرد کی سیاہی کو مِٹانے میں مصروف تھا.”

“معلوم ہوا کہ امارات والے عرب بھلے مانس لوگ ہیں کسی کا بھی دل بُرا نہیں کرتے چنانچہ ساحل کو مختلف حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔”

“"کیسے ہیں آپ سب؟ اور کس کس نے مجھے یاد کیا؟ " سر روحان نے ابھی ابھی ایم فل کیا تھا اور ساتھ ہی پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن لیا تھا.”

“اگر وہ کسی کارواں سے الگ ہو بھی جاۓ تو بھی اس میں محبت اور ایمان کی ایسی regenerative power ہوتی ہے کہ پھر سے ایک کارواں بنا لیتا ہے۔”

“....اور جس دن تم نے اپنی محبت حاصل کر لی ....اس دن کسی شے کی طلب باقی نہیں رہے گی ....حتٰی کہ اس سگریٹ کی بھی نہیں۔”

“چھ سال کی زرمینہ آنکھیں ملتی ہوئی ُاٹھی اور بستر سے ُاتر کے سیدھا باپ کے پاس آئی اور باپ کے دائیں کندھے سے لپٹ گئی۔”

“پورا گھر ڈرا سہما ایک دوسرے کو ایسے تک رہا تھا جیسے ابھی کوئی اس ننھی سی جان کو جسے ماں کے تن سے جدا ہوئے چند گھنٹے ہی ہو ئے تھے اپنا گناہ کہہ کر قبول کر لے گا۔”

“خواتین و حضرات سانحہ قصور ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس ملک کےہر اس شہری کو ہلا کر رکھ دیا جو اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتا ہے۔”

“اندھیری رات میں پہاڑی علاقے میں جیپ ڈرائیو کرنے کا مجھے بلکل بھی تجربہ نہ تھا لہٰذا راستے میں موڑ کاٹتے ہوئے میری جیپ نیچے کھائی کی جانب لڑکھڑا گئی تھی۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے
In this Daastan interview, Khalid Salamat shares his journey, decades in consumer marketing, and how life shapes his writing.
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.