ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“اسے ادھیڑ عمر آدمی کی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ 'یہ دونوں چیزیں تمھاری مدد کریں گی اور باقی معاملات اپنی بصیرت سے طے کرو گے۔”

“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”

“"کیا تمھیں بھی مجھ سے محبت ہے رانو؟" یہ وہ سوال تھا جو میرے دل و دماغ میں اکثر سر اٹھاتا تھا اور میرے واہمے اس سوال کا سر کچل دیتے تھے۔”

“ان کی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک اپنے اور اپنے مدرسے کے بچوں کی تربیت اللہ کے احکامات کے مطابق کرنا اور اپنے گھر کو اللہ کی راہ میں وقف کرنا ہے۔”

“اُس دن دستور قبیلے کے بچوں کو کھیلتا دیکھ کر اسے کتاب کی پہیلی کا راز مل گیا تھا کہ "ہر آنکھ دوسری آنکھ کی روشنی" سے مراد "انسانیت" ہے۔”

“مزید یہ کہ ان کا اس شہر میں اپنا ایک ایسا ٹھکانہ بھی تھا جہاں یہ جادو کیا کرتے تھے، جو ان کی موت کے ساتھ ہی فنا ہوگیا۔”

“اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔”

“'محبت میں اگر رقیب آ جائے تو زندگی عذاب ہو جاتی ہے' کا مفہوم اسے آج سمجھ آیا تھا اور وہ حیدر کے اس منصوبے پر اس سے سخت خفا تھی۔”

“میں جب سے اسے جانتا ہوں تب سے اسے صرف ایک نرم دل روح پایا ہے، پر ٤ سال پہلے ہسپتال رہنے کے بعد تو وہ مزید جھک گیا ہے۔”

“ان سب کا اشتعال بجا تھا مگر وہ اپنے نیک دل بادشاہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور ان کی خوشی کو خاک میں نہیں ملانا چاہتے تھے۔”

“کچھ دوست شکوہ کرتے ہیں کہ میں سوچتا بہت ہوں لیکن میں اُن سے یہی کہہ کر معذرت کرلیتا ہوں کہ یہ میرے اختیار میں نہیں۔”

“اس کے گھر مرد اپنی عورتوں کے چونچلے نہیں اٹھاتے تھے لیکن ان کی بے عزتی بھی نہیں کرتے تھے یہ ہنر صرف عرفان اصغر بریانی والے کو آتا تھا ۔”

“’کیتھرین میں اپنی ماں کی موت پر نہیں پہنچ سکا تھا،نہیں چاہتا کہ اپنے باپ کی بھی صورت دیکھنے کو ترسوں .”

“ناچارہ وہ خود ہی آگے بڑھا اور اس کا منہ اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
Explore Sana Ahmed Alvi’s writing journey, inspirations, and the mystery behind The Night She Drowned in this engaging author interview.
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“