ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر مال حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے۔”

“مجھے معلوم ہےکہ بعض لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں کہ میں تمھارے ساتھ محبت کا محض ڈھونگ رچا رہاہوں اور میری نظر دراصل تمھارے ڈیڈی کی دولت پر ہے۔”

“بھلا زندگی جیسے شعوری اورجذباتی تجربے کےبعد انسان اس سے پہلے جیسی کیفیت میں واپس کیسے جاسکتاہے؟ حتی ٰ کہ اگرموت کے بعد عدم بھی ہے تو یہ عدم زندگی سے پہلے کے عدم سے کچھ مختلف ہی ہوگا۔”

“حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے لیڈرز یہاں اتنے مشہور ہیں کے ايک عام شہری بھی ان کے ناموں سے واقف ہے۔”

“اگر کسی بات کا خوف یا اندیشہ لاحق ہے توفرار کی بجائے اس کازیادہ سے زیادہ وقت کے لئے سامنا کریں تاوقتیکہ ان جذبات کی ساری توانائی خرچ ہوجائے اور آپ پرسکون ہو جائیں۔”

“پہلے سمیسٹر میں ہی اس نے خود سے عہد کرلیا تھاکہ اب کوئی ایک دوست نہیں بنائےگی، بلکہ کوشش کرے گی کہ سب کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے۔”

“حالیہ سالوں میں، ارشد کے چند گیت(’ہم چرسی بھنگی ہیں‘،’میرے دیس میں ہیں امکان بہت‘، اور، ’سب پیسے کی گیم‘، اور ’میری قوم بڑی جزباتی‘) کافی مقبول ہوئے ہیں۔”

“سالہا سال سے مرد نے یمن کی طرح خاموش جهاد کر رہے ہیں میں محنت کی اور جذبے کے ساتھ وہ خاص نمبر شائع کرتے رہے ہیں ۔”

“آپ وزیرِ داخلہ ہیں، پولیس فورس کی کشتی کے نا کدا، قانون اور نظم کے آقائے نامدار، میں ایک مظلوم اُردو شاعر ہوں، ایک فریادی بن کر آیا ہوں آپ کو میری فریاد سُننی پڑے گی!”

“اُسے زاہد اور ظہیر کی اپنی کمپنی میں شمولیت کی زیادہ خوشی نہیں تھی کیونکہ اُسے اپنے گھر کے افراد کی کمزوری کا پہلے سے اندازہ تھا۔”

“رات کے تقریباً ۲ بجے اُن کی آنکھ کھلی تو وہ اتنے ترو تازہ ہو کر اٹھے کہ انھیں گمان گزرا کہ وہ مر چکے ہیں اور یہ ان کی روح ہے جو بستر پر بیٹھی ہے۔”

“میری شادی پر اس کا بنایا ہوا ایک ایمبرائڈری والا فریم بھی جو مجھے تحفے میں ملا تھا، آج تک میرے گھر کے لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ہے۔”

“اس میں اتنی جرات تھی ہی نہیں کہ یہ بتا پاتی کہ اس نے کال کیوں کی وہ کون سا وہم تھا یاڈر تھا جس نے ان کے دل و دماغ کو گھیر رکھا تھا۔”

“میں یہاں چھہ وقت کی نماز ادا کرتا ہوں آپ بھی تہجد کی نماز ادا کیا کریں اس سے دنیا وآخرت میں سکون ملتا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Discover the journey of Naveed Ahmad, an educator and poet . His debut book, Bay Nateeja, published by Daastan, explores deep human emotions.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Interview with Syed Husain Momin Zaidi on Poetry Volume 1 Reflections discussing writing journey and working with Daastan.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.
Read Hamza Khaskheli’s interview and written reflections as he shares his journey with Daastan & the thoughts that shape his storytelling.