ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“’’یہاں مختلف سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں، یہاں سیاح تھائی طرز کے روایتی گھروں کے علاوہ کھیل اور فنون لطیفہ سے لطف اندوز ہونے بھی آتے ہیں۔”

“مجھے اس سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں کہ بچھڑا محبوب ملتاہے یا نہیں، مگر مجھے اپنی اس کردارکشی پر سخت اعتراض ہے۔”

“اس کے بعد اگر وہ خدا کے وجود پر کچھ منطقی دلائل بھی سوچتاہے تو یہ محض عقل کے مزید اطمینان کیلئے ہوتاہے۔”

“اس کے بعد دوستوں کی محفل میں جاپہنچتا ہےجہاں کسی صاحب کی تعریفیں ہورہی ہیں جو بہت ہی کم وقت میں ایک انتہائی کامیاب ڈاکٹر بن چکے ہیں۔”

“جب تک آپا دکھتی رہیں وہ بھی گاڑی کی کھڑکی میں منہ رکھ کر بیٹھا رہا، پھر ڈرائیور کے کہنے پر منہ اندر کر کے کھڑکی بند کرلی۔”

“اگر اُسے پتا چل جائے کہ وہاں بھیا دوسری برانچ چلا رہے ہیں تو شاید خوشی سے بے ہوش ہو جائے مگر اس کی خوشی ہمیں بھاری پڑ سکتی ہے۔”

“میں خود اِک شاعرہ ہوں،کس پائے کی اِس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتی ہوں، لہذا لفظوں سے ایک تعلق ایک ناطہ ایک رشتہ بچپن سے لے کر اب تک میرے ساتھ بڑا ہوتا رہا ہے۔”

“خیر وقت کے ساتھ ساتھ یقیناً حالات کچھ بہتر ہوئے لیکن پھر بھی دنیا کی تمام تفریحات سے ابھی تک لطف اندوز ہونا میں ختم نہیں کر سکی۔”

“اگر پانی اور گولی ، دونوں سے بچ گئے اور یونان کے کسی سرحدی قصبے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے پھر کنٹینر یا چھوٹی گاڑیوں میں بیٹھا کر اوپر سامان لوڈ کر دیا جاتا تھا۔”

“’’میری دعاؤں کا اثرنہیں تھا اجمل شاہ تو بددعا میں کیا اثر ہوگا؟‘‘بدریکا جمال نے میسج کیا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے لرز کر گالوں کو تر کر گئے۔”

“ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ریاستی انتخابات کے ذریعے نہیں چنا گیا بلکہ دہلی میں بیٹھ کر ان کا انتخاب کیا گیا ہے، انتخابات کا ڈرامہ صرف دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے رچایا گیا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
کومل بھٹی لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک باصلاحیت خاتون ہیں۔ وہ ایک لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب سائیکالوجسٹ بھی ہیں اور ایک نامور ادارے میں بطور ری سورس ٹیچر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ کومل نے اپنے آس پاس موجود حقیقی کہانیوں کو موضوعِ سخن بنایا ہے اور انھیں الفاظ کی […]