ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔”

“شنایہ آنکھیں موندے سونے کی کوشش کر رہی تھی، ڈرائیور گاڑی چلانے میں مصروف تھا اور رخسار خالی آنکھوں سے اب بھی آسمان کو دیکھے جا رہی تھی۔”

“نجمہ اور سالار احمد شیری کو اپنے ساتھ کہیں باہر نہیں لے جاتے تھے تو وہ بھی ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے گھر پر ہی رک جاتی۔”

“"اچھا مگر کس کے ساتھ؟ رنگ کدھر ہیں؟" وہ مذاق سمجھ کے ہنسا پر اگلے ہی لمحے ایمان کے ہاتھ میں رائفل دیکھ کر اُس کا چہرہ تن گیا ۔”

“بلاشبہ آج کا پاکستانی معا شرہ ایک سماجی، معاشی اور فکری بحران کا شکار ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ بحران شد ّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔”

“خدا سے محبت کرنے والا شخص اُس کے بندوں کے معاملات کو پیار، محبت سے سلجھائے گا اور اُن سے غلطی ہو جائے تو وہ معاف کر دینے کا رویہ اختیار کرے گا۔”

“"کوئی بتا ئے گاکیسے؟" نجف نے سوالیہ انداز میں سب کی طرف دیکھا مگر اِس مرتبہ کسی کی جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی مباداً غلط نکلا توسُبکی ہو گی۔”

“پٹھان ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مہر کی رقم نہیں دیتے ، یہ اللہ پاک کا حکم ہے،اس کا پٹھان ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

“اس دم کروانے سے اتنا فرق ضرور پڑا تھا کہ جس طرح وہ نازو کے غم میں مبتلا تھی اور بچیوں کے لیے فکرمند تھی وہ فکر کافی حد تک ختم ہو گئی تھی۔”

“پس ہمارے سانس لینے کا بنیادی مقصد اسی آکسیجن نامی گیس کو جسم کے اندر لے جانا ہوتا ہے تا کہ جسمانی خلیات بہتر انداز میں کام کر سکیں۔”

“کیا ایسا ہی ہے؟ ہمارا اور اللہ کا تعلق بس مالک اور نوکر والا ہے؟ ہمیں ہمیشہ یہی بات ہی تو بتائی گئی ہے کے اللہ کا ہر حکم ماننا ہے کیوں کے وہ مالک ہے۔۔”

“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
Discover Wajahat Ali’s "Finding My Roots," an inspiring biography that captures the strength of a mother’s love and sacrifices.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
یہ کتاب ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی زندگی اور اس سے وابستہ یادوں کے ساتھ ساتھ ان کے قلمی سرمائے کی امین ہے۔اِس کتاب کا پہلا حصہ ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی بچپن کی یادوں، ہجرت کے سفر اور اُس کے دکھوں کی داستان کو پیش کرتا ہے۔ اِس میں اُن کی ملازمت اور اعلیٰ تعیم کا ذکر بھی موجود ہے اور ازواجی زندگی بھی تحریر ہے۔ عزیز رشتے، ان سے وابستہ جذبات و احساسات اور انمول یادوں کا خزانہ بھی یہ کتاب خود میں سموئے رکھتی ہے۔ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کا اندازِ تحریر سادہ، دل چسپ اور رواں ہے۔ وہ سادگی سے خود سے وابستہ لوگوں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے جذبات و احساسات بھی لکھتے نظر آتے ہیں۔اس کتاب کا اگلا حصہ شاعری پر مشتمل ہ
Discover the power of Palestinian Poetry a voice of struggle, resilience, and compassion in You, The Witness by Meem Ayien.
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail