ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“حیرت ، خوشی،غیر یقینی اور اسی طرح کے کئی اور جذبات سے اپنی ذات کے لامحدود تقسیم شدہ ذرّات کو کسی نا کسی طرح دوبارہ مجسم کرتے ہوۓ اس کے لبوں سے محض یہی نکل سکا۔”

“ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔”

“اسی لمحےشاید میری کشمکش سے با خبر رانو کہیں سے آ گئی تھی کیونکہ پیچھے سے کندھے پر ایک ریشمی ہاتھ کا لمس مجھے احساس دلا رہا تھا کہ رانو مجھے حوصلہ دے رہی ہے۔”

“کیا میں بھی الله اور اس کے رسول ﷺ سے ایسی سچی محبت کا دعویٰ کرسکتی ہوں؟ میری تو ساری دنیا ہی جھوٹ پر مبنی ہے۔”

“اس کی یہ خواہش کہ اپنی ماں کو آرام دہ اور سکون بھری زندگی دیتا، اب حسرت بن کر دل میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔”

“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”

“محبت اذیت دیتی ہے، جلاتی ہے تڑپاتی ہے، پر اب خود پر بیتی تو پتا چلا کہ محبت بدلہ بھی لیتی ہے، انتقام لیتی ہے،بس روپ کوئی اور ہوتا ہے۔”

“ہم اس کی بنائی گئی کسی شے میں تبدیلی نہیں کرسکتے اور دوسرا ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے، کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہر ذی روح کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”

“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”

“اس طرح کم از کم وہ ایک دوسرے کے حال سے باخبر تو رہتے ہیں اور یقین کرو یہ با خبری میں چھپی محبت ہی اصل جادو ہے۔”

“' جب اس لڑکی کے باپ کو پتا چلا تو اسے بہت دکھ ہوایہ جان کر کہ اس کی بیٹی کو اس کی محبت پر یقین نہیں۔”

“بادشاہ نے شہزادے کی محبت میں یہ بات بالکل نظر انداز کر دی کہ شہزادہ ریاست کے امور سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کرتا تھا بلکہ ہر وقت اپنے باغیچے میں تنہا وقت گزارتا۔”

“کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔”

“مجھے بخوبی علم تھا کہ صحیح قسم کی بیوی ایک قانون دان کے پیشہ ورانہ زندگی کو آگے بڑھانے میں کس حد تک اہم ہو سکتی ہے۔”

“جبکہ سکندر کے گھر صرف وہ تھا ، جو اردو سے والہانہ محبت رکھتا، اس کے بہن بھائی اور امی ابو سب ہی اردو سے نفرت نہ سہی ، البتہ چڑ ضرور رکھتے تھے۔”

“''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔”

“اس کی ماں بھی ایسی ہی تھی اس کے لئے خدا کے حضور دعاؤں کی گڑگڑاہٹ جاری رکھتی، اور وہ ماں کو اکثر دیکھ کر رہ جاتا۔”

Our authors, in their own words and in the press.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
In this interview, Bisma Jatoi, a CSS officer and writer, shares her passion for writing and her experience publishing with Daastan.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.