ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“کائنات کے اثباتی پہلوؤں میں سب سے بڑا سچ محبت ہے جو ہستی اس کی اسیر ہو جاتی ہے وہ زمانے کو مسخر کر لیتی ہے۔”

“ایسے ہی جب کوئی اپنی ناکام محبت کا غم مناتا ہے تو دراصل وہ غم نہیں اس محبت سے منسلک سہانی یادوں سے دل بہلانا چاہتا ہے۔”

“(آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ زہرہ گردیزی کے مقبوضہ وادی کے لیے تحریر کیے گے سچے جذبات) اگست کی ایک صبح آنکھ کھلی تو اپنی عارت کے مطابق ٹیلی ویژن کا دیدار فرض عین سمجھا۔”

“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”

“ڈسٹرکٹ کمانڈر بڈگام رہ چکے ہیں اور اس وقت وہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمانڈر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں, بھارتی فوج نے ان کے مکان کو بھی بارود سے اڑا دیا ہے۔”

“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”

“ایک تو شمالی علاقہ جات کی ساری وادیاں انتہائی حسین اوپر سے ہر وادی کا ذاتی پالتو دریا ان وادیوں کے حسن کو چار چاند تو لگا ہی دیتا ہے ساتھ میں سیّاحوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے ۔”

“میری بیداری تک تیرا ساتھ اچھا ہےمجھے نیند میں رہنے دو، سب اچھا ہےزندگی تکمیل پذیر بس تیری آغوش میںخوف و فکر نہیں خرؔم!”

“اِرم اپنے خاوند کے ساتھ جا چکی تھی اور ماں باپ اپنے رشتہ داروں اور محلے والوں سے بے حد شرمندگی کے مارے ملنے جلنے سے قاصر ہو چکے تھے۔”

“مختلف عالمی مجّلوں میں سیاسی و بین الاقوامی تعلقات پر تحقیقی مقالے لکھنے کے علاوہ گاہے گاہے نثر و نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔”

“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگئے ہیں۔”

“جب مجھے ان سے کوئی مسئلہ نہیں تو آپ کو کیوں ہے ؟ جب میں ان کی ذمہ داری سے نہیں ڈر رہی تو آپ نے کون سا انھیں جہیز دینا ہے ؟ ذرا سوچیں!”

“بہار بیگم کا خدشہ جلد سچ ثابت ہوا جب ایک دن ماہ نور نے انہیں یہ کہہ کر گھنگرو واپس کر دیے کہ وہ اپنے کوٹھے پر واپس جانا چاہتی ہے اور اسے اس فن سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔”

“ان کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح ان کا بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنے جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
In this Daastan interview, the teen author Noor Fatima shares the inspiration and psychological themes behind her gripping debut.
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.