Check out our most recent publications
پہلی کوشش - Pehli Koshish- Urdu Poetry Book on Reality of Life
Free sample · no sign-up

پہلی کوشش - Pehli Koshish- Urdu Poetry Book on Reality of Life

by Khurram Sheikh Ali

You are reading the first 17% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

17% of the book — free to read

 

 

پہلی کوشش

خرمؔ شیخ علی

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

*

مدیران

نرمین سرھیو

فریال زہرا

 

ـــــ

سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

یہ میری دیرینہ پہلی کوشش، میری اہلیہ کے نام!

 

فہرست

دیباچہ.. 12

اُجالے.... 16

محبت..... 18

مٹی... 19

دولت.... 20

بیگم.... 21

بھائی.. 23

بھائی کے نام. 24

بیٹیاں.. 25

رمضان.. 27

عید.... 28

عادت... 29

زندگی.. 30

اِسلام. 32

نفس..... 34

بستی.... 36

ماں.. 37

بےچاری ماں.. 39

دور. 43

گفتگو..... 44

میرے نبیﷺ...... 45

حیاتی.. 47

داستان.. 48

شادی.. 51

عنایت فاونڈیشن.... 53

زینت بیٹی... 55

پردیسی... 56

دل وجاں.. 58

بچہ... 60

منافق... 61

میں لڑکی ہوں.. 63

وقت.... 66

دھواں.. 67

خوشی... 68

عورت... 70

عمران خان.. 71

گزر جائیں گے.... 73

میرا وطن.... 74

چاہتا ہوں میں.... 75

کر جانا. 76

کرلیں.... 77

چھوڑ جائیں گے.... 79

سجدے میں.... 80

اپنا دیس.... 82

آرہا ہوں.. 84

جیسے..... 86

لالچ.. 87

مر جاتے.... 88

ملنے آنا. 89

دھوکا. 90

سوال.. 91

گڑیا. 92

معافی.. 93

کشکول.. 94

اپنے.... 96

درد. 97

جاتی.. 98

محبت کی حد... 99

ہو چکا... 101

دل آزاری.. 102

سلیم.... 103

سہرا 104

محبت..... 106

اجالا. 107

کچھ بھی نہیں..... 108

چاہیے.... 109

تعارفِ شاعر... 113

داستان کیا ہے؟. 114

 

دیباچہ

میں ایک عام انسان ہوں، پردیس میں رہتا ہوں۔ کچھ دہایوں سے ناروے میں مقیم ہوں۔ تاریخ اورثقافت کا طالب علم ہوں۔ سیکھنے کا عمل تو تاحیات جاری رہتا ہے۔ میں اسلام کی تاریخ کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی تجربات کا بھی مداح ہوں۔

میرے والد، دادا مرحوم، نانا مرحوم اور خاندان کے بیشتر افراد پنجاب سے ہیں۔ گجرات اور گجرانوالہ سرِ فہرست ہے۔

میرے دادا مرحوم اور ان کے اکثر رشتہ دار سرکاری محکموں میں اعلی عہدوں پر فائض تھے۔ مجھے فخر ہے کہ میرے تمام بزرگ ایماندار اور فرض شناس تھے۔ جس کی وجہ سے آج، ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگ انھیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔

میں پنجابی ہوں، گو کہ کراچی میں رہنے کی وجہ سے پنجابی پر مہارت حاصل نہ کر سکا۔ لیکن گزارا کر لیتا ہوں۔ یہ ضیا الحق کادور تھا جسے آمریت کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ جب میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ، جو مجھے سے صرف سوا سال ہی چھوٹا ہےکراچی میں اپنے ننھیال میں رہتا تھا۔ جمعہ اور ہفتے کی چھٹی ہوا کرتی تھی۔ جمعہ کی نماز کے بعد دسترخوان سجایا جاتا تھا۔ بریانی، آلوگوشت اور تندور کی روٹیاں ہوا کرتی تھیں۔ تمام اہلِ خانہ کے ساتھ کھانا کھایا جاتا تھا۔ کھانے کے بعد ہم بچے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ شروع کا دور نہایت پر سکون تھا۔ جمعہ اور ہفتے کو گلی میں کرکٹ کا اہتمام ہوا کرتا اور رات گئے گلیوں کی ٹیموں کا آپس میں مقابلہ ہوتا تھا۔ ہم دونوں بھائی تانگے پرروز سکول جایا کرتے تھے۔ ہمارا سکول صدر میں ہی واقعہ تھا جبکہ ہم بندر روڈ پہ رہتےتھے۔ کبھی ہم دونوں پیدل بھی سکول سے گھر جایا کرتے تھے۔ تب بھی ٹریفک تھی پر آج کی طرح نہیں۔

والد صاحب ناروے میں رہائش پذیر تھے اس لیے بقیہ اہلِ خانہ کو بھی ناروے بلوا لیا گیا۔ اوسلو ناروے ایک الگ ہی دنیا تھی۔ ویسے تو بچپن میں کئی بار اوسلو آئے تھے موسمِ گرما کی چھٹیاں گزارنے کے سلسلہ میں۔ جب میں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہا تھا، ۱۹۹۰ء میں، ہم مستقل رہائش اختیار کرنے کی نیت سے اوسلو آگئے۔

پہلے سکول کالج پھر یونیورسٹی میں معاشرے کو سمجھنے کا سفر شروع کیا، اور وہ اب تک جاری ہے۔ آہستہ آہستہ دونوں معاشروں کی قدروں کی پہچان ہونا شروع ہوئی۔

پہلے تو صرف کراچی کا علم تھا یا پاکستان کا۔ اب دونوں معاشروں کو آمنے سامنے رکھ کر سمجھنے کا موقع ملا۔

کراچی میں سڑک پر خالی پلاٹ پر کچرا پھینکنا کوئی معیوب کام نہیں تھا۔ پر اوسلو میں دیکھا کہ یہاں اپنا گھر ہی نہیں بلکہ اپنی سڑک، اپنامحلہ اور اپنا شہر بھی صاف رکھتے ہیں، گندا ہی نہیں کرتے۔ کسی نے ایک نارویجن سے پوچھا آپ کے شہروں کی صفائی کیا روز ہوتی ہے۔ تو اُس نے جواب دیا نہیں کوئی نہیں ہوتی۔ لوگ کچرا صرف کچرا دان میں پھینکتے ہیں اور اگر کوڑادان نہ ہو تو اپنا کچرا وہ جیب میں رکھتے ہیں۔ کیا بات ہے۔ مسلمان ہم ہیں صفائی نصف ایمان ہے۔ یہ ہماری تعلیمات ہیں پر افسوس ہم اس پہ عمل نہیں کرتے۔ انسانیت، برابری، جو ہمارے اقدار ہیں وہی ان کی ہیں فرق یہ ہے کہ نارویجن قوم اس پہ عمل پیرا ہیں اور ہم پاکستانی نہیں۔

ایک اور چیز جس نےمجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ ناروے میں انگریزی تو سب سمجھتے ہیں پر بولتا کوئی بھی نہیں ہے۔ کوئی اشتہار دیکھ لیں یاکوئی تختی ہر جگہ صرف ناروے کی قومی زبان نظر آئے گی، نارویجن۔ یہ زبان دنیا میں صرف تقریباً ۵۰ لاکھ لوگ بولتے اور سمجھتےہیں۔ ناروے کی آبادی قریب اتنی ہی ہے۔ مطلب نارویجن صرف ناروے میں ہی بولی جاتی ہے۔ اور اردو بولنے والے دنیا میں کئی سو ملین لوگ ہیں۔ ناروے کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں صرف نارویجن بولی اور لکھی جاتی ہے۔ زبان قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ زبان تمام شہریوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہ قوم اور ملک کا فخر ہوتی ہے۔

ہماری اردو زبان کی ایک لازوال تاریخ ہے۔ ہماری خوب صورت زبان ایک زمانے میں ہندوستان کی شان تھی۔ تمام کتب اور علم سے محبت کرنے والے اردو میں لکھا پڑھا کرتے تھے۔

یہ انگلستان والے خود تو چلے گئے انگریزی چھوڑ گئے۔

یہاں رہ کر دونوں معاشروں کو نزدیک سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ عمل اب تک جاری ہے اور جاری رہے گا۔ نئی نئی چیزیں سیکھنےکو روز ملتی ہیں۔ واقعات اور رویے انسان کو بہت کچھ سکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔ میں بھی اسی کشمکش میں قلم اٹھاتا اور کاغذ میں کچھ اُلٹاسیدھا لکھ لیتا۔ اپنے جذبات و احساسات کو قلم بند کرتا رہتا اور کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا۔ میں کوئی شاعر نہیں اور نہ ہی مجھے شعر کہنا آتا ہے۔ بس جو بھی کہنا چاہتا ہوں وہ تحریر کر لیتا ہوں۔ وزن، ردیف اور قافیہ اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ اپنی بات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور کبھی کامیابی بھی ہوتی ہے۔

میری اہلیہ کے بہت اصرار کرنے کے بعد میں اپنی تحریریں یکجا کرنے لگا اور اسے کتابچہ کی شکل دینے لگا۔ اس ضمن میں نرمین سرھیو، اردو مدیر اعلیٰ داستان، کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی پروفیشنل مدد کے بغیر اس کتاب کی تشکیل ممکن نہ تھی۔ آپ کی رہنمائی کا بہت شکریہ۔

میرے تمام دوست احباب کا بھی شکریہ جن کی مثبت رہنمائی نے اس کتاب کو مرتب کرنے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ یہ میری "پہلی کوشش" میرے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں، ہر وہ پہلو جو اس کتاب میں درج ہے میرے احساسات کا عکاس ہے۔ اُمید ہے آپ میری اس کوشش کوسراہیں گے اور پڑھ کے محظوظ ہوں گے۔

آپ کا بہت شکریہ!

خرم شیخ

khurram.urdu.oslo@gmail.com

 

اُجالے

رات میں اجالے کی کھوج کروں
تیری محبت میں خود کو رُسوا کروں

تُو ہو گر پاس تو یہ دوری کیسی
پروانہ ہوں، شمع سے دُوری کیسی

ہوتا جو تُو دُور، ملاقات کی آرزو رکھتا
آنکھوں سےہوتےہوئےدل تک سفر کرتا

عجب کرشمہ ہے خالق خود کی تخلیق سے اوجھل
کہنے کو ہیں جیون ساتھی پر جیون سے اوجھل

دل کو تو دل سے راہ ہوتی ہے
پاس رہ کے بھی کہاں بات ہوتی ہے

خرؔم زندگی بیت گئی، پلک جھپکانے میں
غم نہ کر، باقی ہیں صفحے تیرے فسانے میں

 

محبت

دل سے جو صدا نکلے وہ محبت ہے
جو ہیر نے رانجھےسے کی، وہ محبت ہے

کوئی اَنا نہیں جہاں خالص محبت ہے
کون، کب، کہاں، سمجھا، کیا محبت ہے

آرزوئیں جہاں قربان ہوں، وہاں محبت ہے
دل کی گہرائیوں سے آواز آئے، وہ محبت ہے

That’s the end of the free sample

You have read 17% of پہلی کوشش - Pehli Koshish- Urdu Poetry Book on Reality of Life. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Khurram Sheikh Ali earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 450

See all editions, reviews and details

پہلی کوشش - Pehli Koshish- Urdu Poetry Book on Reality of Life Buy — Rs 450