Check out our most recent publications

اُفق کے اُس پار

Ufaq Ke Us Paar

by Asma Hassan

★★★★★ (2 reviews) Add yours
Drama

About اُفق کے اُس پار

 قیمت : 600 روپے بمع ڈاک

 

 معاشرتی جبرو استحصال اور طبقاتی نظام نے انسانی زندگی کو مفلوج بنا رکھا ہے۔ صدیوں سال پرانی فرسودہ روایات پر چلتے رہنا،آنے والی نسلوں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیے جا رہا ہے۔ ایسی اپاہج سوچ رکھنے والے حاکمِ بااختیار لوگوں نےغربت کو سولی پر چڑھا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔طبقات اور اونچ نیچ کے درمیان قائم کی گئی حدِّ فاصل معاشرے کو بے راہروی اورگمراہی کی جانب دھکیلتی ہے۔"دلت اور برہمن " جیسے الفاظ کو جنم دینے والے،انسانی وقار و عظمت کی دھجیاں اڑاتے رہتے ہیں ۔ جہاں مظلومیت خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر سوئی رہے،وہاں باطل سر اٹھا کر جیتا رہتا ہے۔ظلم و ستم سہنا اور چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے بلکتے رہنا،زندگی اور خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔اربابِ با اختیار کے مثت فیصلے کس طرح  سے معاشرے پر اثر انداز ہو کر امید کی کرن دکھاتے ہیں ؟ معاشرتی نطام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی روایات کا گلا دبایا جا سکتا ہے یا پھر انہی شرائط پر زندگی گزارتے رہنا، بہترین فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے؟

 

Quotes from اُفق کے اُس پار

“تذلیل گوارا کر لینے کے عوض دو وقت کی روکھی سوکھی توان تینوں کو آسانی سے دستیاب ہوجاتی مگر عزت نام کی کوئی چیزان کے آس پاس بھی نہ پھٹکتی ۔”
“کبھی کبھار بستے میں جھانک کر یوں دیکھتا ،جیسے کوئی اپنی نئی نویلی دلہن کو محبت بھری نگاہوں سے پیار کے سندیسے سناتاہے ۔”
“جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔”
Browse all quotes

Reviews (2)

Rate this book Tap a star — no account needed to start
★★★★ By Syeda Aleena Bukhari 11 January, 2018

Bht umdah likhti hain ap, lafz hai ya haqiqat, zamana bht agy ja chuka hai magar is Naam Nehad perhy likhy muashery main ajj bhi kuch jagahain esi hain jahan naam nehad wadaeray zulm o barbariyat ki daastanain raqam krty hain or sehny waly sehty rehty hn, laakhoun main koi aik hta hai jo zulm k khelaaf awazz uthata hai or uski awaaz main sb ki awaaz shaamil hujati hai. Kuch jumly perh k bht maza aya or unko baar baar perhny ko jee chaha, apki kitab ki shuruaat k chand jumly neechy darj krti hn, kitab ki ibtada hi itni mutasir'kun hu tu kitab apna asar zaror chorti hai.
طلب کوئی بھی ہو وقت کے دھارے پر بہہ نکلے تو انسان کو ننگے پاؤں سفر کرواتی ہے ۔خواہشات کا گھوڑا بھی  تو ننگی پیٹھ  والا ہوتا ہے جس کی کاٹھی ہوتی
ہے نہ لگام، بس منہ زور دوڑتا ہی چلا جاتا ہے۔زندگی کے  قرض اتارتے اتارتے  انسان کی کمر دونی ہو جاتی ہے. ماہ و سال صدیوں پر محیط ہو جاتے ہیں۔ افراط و تفریط کی زد میں آئے ہوئے معصوم لوگ، چند ساعتوں کی آسودگی کے عوض لگان  ادا کرتے کرتے  ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ لاحاصل کا خوف  رگ و پے میں سرایت
کر کے ان کی  زندگی کو دیمک  کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔

khush rahiye.

★★★★★ By Sobia Athar 12 March, 2017

بہت عمدہ تحریر ہے اسماء جی ویلڈن اور شکریہ ٹیم داستان اور قصہ کا جن کی بدولت عمدہ تحریریں پڑھن ک ملیں۔