معاشرتی جبرو استحصال اور طبقاتی نظام نے انسانی زندگی کو مفلوج بنا رکھا ہے۔ صدیوں سال پرانی فرسودہ روایات پر چلتے رہنا،آنے والی نسلوں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیے جا رہا ہے۔ ایسی اپاہج سوچ رکھنے والے حاکمِ بااختیار لوگوں نےغربت کو سولی پر چڑھا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔طبقات اور اونچ نیچ کے درمیان قائم کی گئی حدِّ فاصل معاشرے کو بے راہروی اورگمراہی کی جانب دھکیلتی ہے۔"دلت اور برہمن " جیسے الفاظ کو جنم دینے والے،انسانی وقار و عظمت کی دھجیاں اڑاتے رہتے ہیں ۔ جہاں مظلومیت خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر سوئی رہے،وہاں باطل سر اٹھا کر جیتا رہتا ہے۔ظلم و ستم سہنا اور چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے بلکتے رہنا،زندگی اور خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔اربابِ با اختیار کے مثت فیصلے کس طرح سے معاشرے پر اثر انداز ہو کر امید کی کرن دکھاتے ہیں ؟ معاشرتی نطام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی روایات کا گلا دبایا جا سکتا ہے یا پھر انہی شرائط پر زندگی گزارتے رہنا، بہترین فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے؟