“''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔”
“اوہ تو اس دنیا میں اتنی آسانی بھی مہیا ہوسکتی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی بے عزتی بھی۔”
“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
kafi arsy baad kuch acha parhany ko mila. Well written book. I appreciate the writer. And the line which touched my heart was "dunya ko apni nazar se dekho, apne ap ko dunya ki nazar se na dekho". It was amazing.