Check out our most recent publications

تم مٹ نہیں سکتے

Tum Mit Nahin Saktay

by Syed Bilal Pasha

★★★★★ (2 reviews) Add yours
Contemporary Fiction

About تم مٹ نہیں سکتے

ایک ایسے پاکستانی نوجوان کی کہانی، جو اپنا سب کچھ چھوڑکر ترقی کی تلاش میں سرگرداں تھا۔جو معیارِ کامیابی کو چمٹائےآگے بڑھ رہا تھا۔ لیکن وہ رازِ جاویدگی بھی پیچھے تو نہ ترک کر آیا تھا؟جس کا وہ دوسروں سے سوالی  تھا، کہیں خود ہی اس راز کا نگہبان تو نہ تھا؟ا

آخر وہ دوڑکس کے پیچھے رہا تھا؟ ایک سراب...یا شاید ایک دہکتا انگارہ جسے وہ تجلی سمجھ بیٹھا تھا۔ کیاجوان جل کر خاکستر ہوگیا؟وہ رہتے رہتے مٹ گیا یا مٹتے مٹتے رہ گیا؟

کبھی انسان ہر حربہ آزما کر بھی بے بس رہ جاتا ہے۔۔۔ کبھی خود پر بھروسہ اور اقدار پر اعتماد ، اوج و اقبال کو قدموں میں لاڈالتا ہے۔آخر جوان نے کیا فیصلہ کیا؟ اور کیوں؟ ڈوب کر پڑھنے پر خود اعتمادی کا گوہر بخشتی ایک داستان۔

Quotes from تم مٹ نہیں سکتے

“ویسے یہ دادی کی رفاقت اور ان کے ساتھ بول چال کا اثر تھا کہ مجھ جیساآٹھ سال کا شہری بچہ، دہلیز جیسے الفاظ بے تکلف اپنے جملوں میں استعمال کرتا ۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔”
Browse all quotes

Reviews (2)

Rate this book Tap a star — no account needed to start
★★★★★ By Sadaf Zehra 27 June, 2020

What a wonderful story. Truly inspiring. Unfortunately, we have become a part of this rat race where we kind of hide our identities and try to cover up our selves with an artificial coating of language and culture.

★★★★ By Ali Muhammad 24 January, 2017

A well spent 20 mins. It's rare these days to come across something which makes you feel proud of your identity, your 'own' language.