Check out our most recent publications
خار/Khaar - Realistic Fiction Book
Free sample · no sign-up

خار/Khaar - Realistic Fiction Book

by Maemuna Sadaf

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

خار

از قلم

میمونہ صدف

 

داستان پبلشرز

کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ ء

 

ISBN Digital : 978-969-696-412-4

ISBN Print : 978-969-696-411-7


ناشر: داستان پبلشرز

پاکستان

www.daastan.com

 

٭٭٭

 

مدیرہ

نرمین سرھیو

 

سرورق کے جملہ حقوق روبینہ ملک کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

ابو جی کے نام۔جن کی ذات ہمیشہ میری راہنما بنی رہی، جو اس دنیا میں نہیں لیکن وہ مجھ سے کبھی دور بھی نہیں رہے !

مسرت جبین ہاشمی کے نام۔ جو میری دوست، میری ماں اور میرا سہارا بنی رہیں!

ہر اس دوست کے نام جس نے میرا حوصلہ بڑھایا۔

ہر اس شخص کے نام جس کی تنقید نے مجھے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا سیکھایا ہے۔

 

عکسِ تخیل

لکھاری کبھی کبھار خود لکھتا ہے جبکہ کبھی کبھار الفاظ اور جذبات لکھاری کا ہاتھ پکڑ کر لکھوایا کرتے ہیں۔ اس ناول میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

 بلاشبہ بھیڑیے کا کردار آج کے انسانی کردار سے کہیں زیادہ بہتر محسوس ہوا۔بھیڑیے اور انسان کے سماجی کردار کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے مجھے بحیثیت انسان، آج کے انسان کے رویوں پر سخت شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔

باقی قارئین ! آپ کی رائے اس ناولٹ کو پڑھنے کے بعد کیا قائم ہوتی ہے یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں۔

میمونہ صدف

Maemuna.sadaf@gmail.com

Twitter@maemunasadaf

 

ایک بھیٹریے کی انسان سے گزارش

 

اے حضرت انسان

مجھے بدنام نہ کر

عیاری میرے نام نہ کر

نہ ڈال میری جھولی میں الزامِ ظلم

تو کیا ہے ذرا یہ بھی کر خیال

اپنے گریبان میں بھی نظر ڈال

تُو طاقت کے نشے میں چُور

اپنی ہی نسل کا خوں بہاتا ہے

سدا کا بے وفا، دغا باز بھی ہے

ہاں مگر کہ میں

بقا کی جدوجہد تو کرتا ہوں

بے وفا نہیں، دغا باز نہیں

میں اپنی نسل کا محافظ

چالاک سہی عیار نہیں

ہاں میں بھیڑیا ہوں

آج کا انسان نہیں!

 

دیباچہ

 

میمونہ صدف کا نیا آنے والا ناول ’خار‘ جس انھوں نے دو طرح کی حیات کو احاطۂ قلم میں لانے کی بھر پور کوشش کی اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہیں۔

ناول کا پلاٹ حیوان اور انسان دو طرح کے کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ جس میں حیوان کی سرشت اور انسانی سرشت کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہےکہ اگر انسان میں وہ خوبی ہو تو اس کی زندگی جنت نظیر کا نظارہ پیش کرے۔ جب کہ دوسری طرف وہی خوبی ایک جانور کو وفاداری کی معراج پر پہنچا رہی ہے۔اس ناول کے کرداروں کو لکھتے ہوئے میمونہ صدف نے بہت دِل نشین انداز میں اسے پورٹرے کیا ہے۔ میرا پسندیدہ کردار بدریکا جمال ہے اور اس کی والدہ کے مکالمے مجھے بہت پسند آئے جب کہ دوسری طرف اجمل شاہ کو اس خوبصورتی سے اس کے کردار کے مطابق لکھا کہ اس کردار کے منفی پہلو سے شدید نفرت سی محسوس ہونے لگی۔ایک مصنف یا لکھاری کی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ قاری ان کرداروں کو اپنے اردگرد چلتے پھرتے سانس لیتا محسوس کرتے ہیں۔ افسانوی مجموعے کے بعد میمونہ صدف کا یہ ناول انھیں ایک اچھا ناول نگار بنانے کے لیے سنگِ بنیاد کی حیثیت سے ان کے فنی سفر میں بطور یادگار شامل رہے گا۔

 میمونہ صدف میں ایک بہترین ادیب موجود ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید خوبصورت کرداروں اور کہانیوں کو ہم سب کی نذرکرنے میں یقیناً کامیاب ہوں گی۔ میمونہ کے لیے ڈھیروں نیک تمنائیں اور دعائیں!

نبیلہ خان

Nabilakhan2323@gmail.com

 

نوجوان بھیڑیے نے شکار کیا ہوا جانور بوڑھے اور ناتواں بھیڑیے کے آگے ڈال دیا اور خود ایک جانب ہو کے بیٹھ گیا۔

بوڑھے اور ناتواں بھیڑیے نے نوجوان بھیڑیے کی جانب دیکھا۔

نوجوان بھیڑیے نے مسکراتے ہوئے اسے شکار کھانے کی دعوت دی جسے اس نے قبول کر لیا اور ایک جانب سے شکار کیا ہوئے جانور کو کھانے لگا۔

نوجوان مادہ بھیڑیا اور دو بچے بھی بوڑھے بھیڑیے کے پیٹ بھر لینے کے انتظار میں بیٹھ گئے تھے۔

کسی نے بھوک مٹانے کے لیے تیزی نہ دیکھائی نہ ہی کسی نے چھینا چھپٹی کی۔ شکار کرنے والے بھیڑیے سستانے لگے تھے۔

نیک اولاد۔۔۔بھیڑے کو عربی میں اس کی خصوصیات کے عوض یہ لقب دیا گیا ہے۔

شکار ایک نوجوان مگر صحت مند بھیڑ تھی جو اس پورے گروہ کے لیے کافی تھی۔

بوڑھے بھیڑیے نے تھوڑا سا گوشت کھایا۔ اس کا پیٹ بھرنے اور زندہ رہنے کے لیے یہ کافی تھا۔

جانور چاہے کوئی بھی ہو اپنی بھوک سے زیادہ نہیں کھاتا۔

بوڑھا بھیڑیا اپنا پیٹ بھر کے ایک جانب ہو کر بیٹھ گیا۔

نوجوان بھیڑیا اور مادہ بھیڑیا اس کے دو بچے اب شکار کھانے لگے تھے۔ پیٹ بھر جانے کے بعد شکار کی صرف ہڈیاں ہی بچی تھیں جنھیں لگڑ بھگڑ کے کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔

بھیڑیا سب جانوروں میں ذہین ترین اور خطرناک ترین جانور سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ذہانت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ یہ اپنے شکار کو کبھی ہاتھوں سے نہیں نکلنے دیتا۔

یہ اپنے خاندان کے اندر وہ واحد جانور ہے جو نہ تو اپنی آزادی پر سمجھوتا کرتا ہے اور نہ ہی اپنی مادہ سے کبھی بے وفائی۔یہاں تک کہ یہ اپنی مادہ کے علاوہ کسی اور بھیڑیے کی مادہ پر نظر تک ڈالنا پسند نہیں کرتا۔بھیڑیا بزرگ بھیڑیوں کا بھی بے حد خیال رکھتا ہے خصوصاًاپنے ماں باپ کا!

اگر وہ دیگر جانوروں کا شکار کرتا تو صرف اپنی بقا کی خاطر کہ اگر وہ شکار نہ کرتے تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے بھوک سے مر جائے۔

بقا۔۔۔ ایک ایسی جنگ جس کے لیے ہر مخلوق لڑ رہی ہے۔ اس کے لیے دوسروں کو اگر جان سے بھی مارنا پڑے تومارنا ہی پڑتا ہے۔صرف انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جو اپنی نسل کو بقاکی خاطر نہیں بلکہ حکومت اور غلبے کے لیے مارتا اور جنگ کرتا ہے۔

✧✧

سید ابصار حیدر پلنگ پر پڑے کراہ رہے تھے سیدہ زہرا ان کے پاؤں کی جانب بیٹھی ان کے پاؤں دبا رہی تھیں۔

’’شاہ جی۔۔۔ڈاکٹر کہہ رہا ہے کہ آج یا کل وہ آپ کی دوائیں بدل دے گا۔‘‘سیدہ کے لہجے میں تشویش اور سکون کی ملی جلی کیفیت تھی۔سیدابصار حیدر نے اٹھنے کی کو شش کی۔

’’شاہ جی لیٹے رہیں۔۔۔ لیٹے رہیے۔‘‘ سیدہ نے تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔

’’سیدہ اس لڑکی کو تلاش کیجیے۔۔۔ورنہ میں جان بھی نہ دے پاؤں گا۔ ہم سب بھگتیں گے۔‘‘ سید ابصار نے تکلیف سے کراہتے ہوئے کہا۔

’’وہ لڑکی کہاں سے ڈھونڈیں شاہ جی۔۔۔ اب تو وقت بھی بہت بیت گیا۔ پہلے ہم کچھ نہیں کر پائے۔ اب کہاں اور کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔‘‘سیدہ نے قدرے مایوسی سے کہا۔

’’سیدہ ہماری نہ ختم ہونے والی تکلیفوں کی وجہ یا تو اس لڑکی کی آہ ہے یا پھر اس کا صبر۔ اجمل شاہ نے بڑا ظلم کیا خود پر بھی اور ہم پر بھی۔‘‘ سید ابصار شاہ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔

’’شاہ جی ایسا نہ سوچیں۔ ہم نے کبھی کوئی زیادتی نہیں کی کسی سے۔ہم تو کسی سے زیادتی کا سوچ تک نہیں سکتے۔‘‘سیدہ زہرا نے سمجھایا۔

’’اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی کہ ہم نے اپنے بیٹے کو ایک لڑکی کی زندگی تباہ کرنے سے روکا نہیں جبکہ ہم سب کچھ جانتے بھی تھے۔‘‘سید ابصار شاہ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔

سید ابصار شاہ نے اپنی ساری زندگی پارسائی سے گزاری تھی لیکن اجمل شاہ ان کے برعکس عورتوں کو پٹانے اور استعمال کی شے سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا تھا۔

’’شاہ جی آپ دل و دماغ پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں۔آپ کے لیے یہ صحیح نہیں ہے۔‘‘سیدہ زہرا نے سمجھایا۔

’’آہ! سیدہ جو میں جانتا ہوں کاش آپ بھی جان پاتی۔‘‘ سید ابصار شاہ نے آنکھیں موند لیں۔اسی لمحے سید اجمل شاہ کمرے میں داخل ہوا۔

’’السلام علیکم! امی۔‘‘اس نے انتہائی آہستہ آواز میں کہا گویا اپنے باپ کی نیند میں خلل نہ ڈالنا چاہتا ہو۔

’’وعلیکم السلام! آگیا میرا بیٹا۔‘‘سیدہ کے لہجے میں التفات تھا۔

’’جی امی بس ابھی پہنچا ہوں۔سوچا ابو کا حال پوچھ لوں۔‘‘سید اجمل شاہ نے تابعداری سے کہا۔

’’بیٹا ! ڈاکٹر نے کہا ہے کہ دوائیاں بدلنا ہوں گی۔تمھارے ابو کی کمر کا زخم بڑھ رہا ہے۔‘‘سیدہ زہرا نے کہا۔

’’امی ! میں ائیر بیڈ لے آیا ہوں۔ آج شام ابو کو اس پر منتقل کر دیتے ہیں۔‘‘اجمل شاہ نے کہا۔ وہ بڑا بیٹا ہونے کا پورا پورا حق ادا کر رہا تھا۔

’’دیکھ لو بیٹے! ڈاکٹر سے بات بھی کر لو تو بہتر ہے۔‘‘سیدہ نے کہا۔

’’جی امی! ابھی فریش ہو کر کرتا ہوں بات۔‘‘سید اجمل شاہ نے کہا تو سیدہ نے سر ہلا دیا۔

سید ابصار آنکھیں موندے سونے کی اداکاری کرتے رہے۔ وہ دونوں ماں بیٹا کمرے سے باہر نکل گئے۔

سید ابصار شاہ ااور سیدہ زہرا کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ وہ حکومتی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے تھے۔ تمام بچوں کی تربیت انھوں نے حتٰی الامکان اچھی اور مذہب کے مطابق کرنے کی کوشش کی تھی۔سید ابصار شاہ اس معاملے میں سیدہ زہرا کی نسبت بے حد سخت تھے۔

ان کے بچوں میں سید اجمل شاہ سب سے بڑا اس کے بعد سید عمران شاہ، سید عفان شاہ اور سب سے چھوٹی ان کی بیٹی سیدہ سائرہ تھی۔

سیدہ زہرا کو اپنے نصب پر بے انتہافخر تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو بخشا بخشایاہوا سمجھتی تھی۔ یہی سوچ انھوں نے اجمل شاہ کے ذہن میں ڈالی۔

ماں کے بے جا لاڈ پیار نے اسے بگاڑ رکھا تھا۔سید ابصار شاہ کی تمام اولاد میں سے صرف اجمل شاہ تھا جو زمانے کے رنگوں میں رنگا ہوا تھا۔ اجمل شاہ ایک ذہین و فطین اور خوبصورت چہرے، جسامت کا مالک تھا۔اس کی ذات میں کشش تھی جو لڑکیوں کو اس کی جانب متوجہ کرتی تھی اور وہ اس کشش کو استعمال کرنا بھی خوب جانتا تھا۔

سید ہ زہرا کے برعکس سید ابصارشاہ کے مطابق جنت صرف نیکوکاروں کا پھل تھی۔

انھوں نے بچوں کو دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دلوائی تھی۔ یہاں تک کہ خود ریٹائر ہوکر بستر سے آن لگے تھے۔

✧✧

بھیڑیوں کا گروہ جنگل میں سفر کر رہا تھا۔ سب سے آگے وہ بھیڑیے تھے۔ جو کمزور اور ناتواں تھے اور کسی کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔

ان بھیڑیوں کے پیچھے کم عمر،مادہ، اور ایسے بھیڑیے تھے جو کسی دشمن سے مڈبھیڑ کی صورت میں صرف ڈھال کا کام دے سکتے تھے۔

سب سے پیچھے مضبوط ترین اور نوجوان بھیڑیے تھے جو کسی بھی دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

گروہ کے بالکل آخر میں اس گروہ کا سردار تھا جو ہر طرف سے جنگل پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

یہ گروہ جنگل کے محفوظ حصے کی جانب بڑھ رہا تھا۔جنگل کا یہ حصہ ابھی تک بارش اور طوفان کی تباہ کاریوں سے محفوظ تھا۔اس سال مون سون کی بارشوں نے جنگل کو اس طرح جل تھل کیا تھا جیسے گویا سبھی مخلوقات کو بہا لے جانا چاہتی ہوں۔

بارش اور سیلاب سے کم و بیش تمام جانور متاثر ہوئے تھے۔ سبھی جانور جنگل کے بیچوں بیچ بہتے دریا سے دور سے ہو جانا چاہتے تھے۔

بھیڑیوں کے کوچ کرنے کی بھی یہی وجہ تھی کہ اب جنگل کے اس حصہ میں شکار معدوم ہوتا جا رہا تھا۔

بھیڑیے ایک جھنڈ کی صورت آگے بڑھ رہے تھے۔

بھیڑیا واحد جانور ہے جسے بلاشبہ پارسا کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے جوڑے کا مکمل طور پر وفادار ہوتا ہے۔کسی طور دوسرے کے جیون ساتھی پر نگاہ نہیں ڈالتا۔اس کے علاوہ یہ بوڑھے اور بیمار ساتھیوں کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑتا اور نہ ہی اپنے بچوں پر کسی دشمن کی نگاہ پڑنے دیتا ہے۔

بھیٹریے کا خاندانی نظام تمام جانوروں کی نسبت زیادہ مربوط ہوتا ہے۔

بھیڑیوں کا جھنڈ مسلسل چل رہا تھا یہاں تک کہ بوڑھے بھیڑیے تھکنے لگے۔ ان کے لیے اب آگے بڑھنا قدرے مشکل تھا۔ سردار نے بوڑھے بھیڑیوں کی تھکن کو محسوس کیا اور سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سبھی بیٹھ گئے۔

’’کھانے کا انتظام کیا جانا چاہیے۔‘‘ سردار نے چند ثانیے انتظار کرنے کے بعد کہا۔سردار کے حکم کی تعمیل میں پانچ بھیڑیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ دیگربھیڑیے گروہ میں موجود دوسروں کی حفاظت کے لیے موجود تھے۔

شکار کرنے والے جنگل میں ایک جانب کو چلے اس طرف نیل گائے کا ایک جھنڈ سفر کر رہا تھا۔ یہ بالکل ایک ہجوم کی مانند سفر کر رہے تھے۔ جنگل کا اونچا نیچا حصہ تھا۔ ایک نر نیل گائے اپنے جھنڈ سے قدرے پیچھے رہ گیا تھا۔

بھیڑیے اس پر جھپٹے ایک بھیڑیے نے آگے بڑھ کر نیل گائے کی ٹانگ پر کاٹا دوسرے نے کمر پر جبکہ سردار نے ایک جست لگائی اور شہ رگ کے قریب نیل گائے کو کاٹا۔

نر نیل گائے جوا ن تھی اس لیے اس نے بھرپور مزاحمت کی لیکن بہتے خون نے بالآخراس کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔

بھیڑیے نے اس کی شہ رگ کاٹی اور نیل گائے نے جان دے دی۔

اب بھیڑیے مردہ نیل گائے کو اپنے گروہ تک کھینچ لائے۔

یہاں سب ان کے منتظر تھے۔

بھیڑیوں نے شکار کو دیکھا توٹولیوں میں بٹ گئے۔بوڑھے ایک ٹولی میں بیٹھ گئے، بچے اور مادہ دوسری ٹولی میں، شکاری بھیڑیے ایک جانب بیٹھ کر سستانے لگے۔ سردار سب سے الگ بیٹھ گیا۔ تمام بھیڑیے ایک نظم و ضبط کے ساتھ اپنا اپنا پیٹ بھرنے لگے۔

✧✧

سید اجمل شاہ کی خوبصورتی تمام خاندان کی ہم عمر لڑکیوں کے دلوں کو دھڑکاتی تھی۔انھی میں ایک صبیحہ بھی تھی۔

نازک اندام، دنیا کی بہت سی برائیوں سے محفوظ لڑکی صبیحہ۔ سید اجمل شاہ نے اسے پہلی بار دیکھا تو حسبِ عادت اس کا دل اس لڑکی کی جانب مائل ہوا۔

صبیحہ اس کی پھوپھو زاد تھی۔

اس کی اکلوتی پھوپھو کی بیٹی جسے سیدہ زہرا سخت نا پسند کرتی تھیں۔خاندان کی ایک شادی میں اجمل شاہ نے صبیحہ کو دیکھا تو اس کی جانب لپکا۔

’’اے لڑکی! ‘‘اجمل شاہ نے پکارا۔ صبیحہ نے سنی ان سنی کر دی۔ اس نے تیزی سے قدم اٹھائے اور اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔

’’میں نے آپ کو پکارا ہے محترمہ۔‘‘ اجمل شاہ کی آواز میں اپنائیت تھی۔

’’مجھے نہیں تو۔آپ نے کسی لڑکی کو پکارا ہے۔‘‘ صبیحہ طرح دارلڑکی تھی اور آسانی سے کسی سے متاثر نہ ہوتی تھی۔

’’کزن! آپ بھی غالباً لڑکی ہی ہوا کرتی ہیں۔‘‘ اجمل شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

اس کی مسکراہٹ کتنی خوبصورت ہے وہ خوب جانتا تھا۔ صبیحہ نے دیکھا اور ایک لمحے کے لیے سٹپٹائی۔

’’جی کوئی کام تھا آپ کو؟‘‘اس نے اگلے ہی لمحے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

’’کام تو تھا ہی لیکن اس کے لیے وقت درکار ہے۔اب یوں سرِ راہ میں آپ کو کیا کہوں؟‘‘ اجمل شاہ نے کہا۔

صبیحہ ایک لمحے کو خاموش ہو گئی اس قدر بے باکی۔

’’میرے خیال میں میَں آپ کا نمبر سائرہ سے لے لوں اور بات ہو جائے اگر۔‘‘اجمل شاہ نے خود ہی سوال کیا اور خود ہی فیصلہ سنا دیا۔

صبیحہ کے لیے بات یہ حیران کن تھی۔وہ خاموش رہی، وہ پھر سے مسکرا دیا۔

’’صبیحہ تم یہاں ہو؟ جلدی کرو۔۔۔ مہندی کا سامان لاؤ۔‘‘ یہ صبیحہ کی ماں سیدہ راحیلہ خاتون تھیں۔

وہ خود بھی پڑھی لکھی تھیں اور ان کی شادی سید ابصار شاہ نے روحیل خان سے کروائی تھی۔

روحیل خان ذات کے اورکزئی پٹھان تھے سید نہ تھے۔ لیکن تعلیم یافتہ تھے اس لیے ان کا مستقبل روشن تھا۔

سید ابصار شاہ کے لیے یہ کافی تھا کہ ان کی بہن محفوظ ہاتھوں میں ہے اور روحیل خان اپنی ذمہ داریوں سے خوب واقف ہیں لیکن یہی بات سیدہ زہرا کو بے حد چبھتی تھی۔

ایک تو یہ کہ سیدہ راحیلہ خاتون ان کے شوہر کی لاڈلی بہن تھی جو کہ ان سے کم و بیش دس برس چھوٹی تھیں۔ دوسرا یہ کہ سیدہ زہراچاہتی تھیں کہ راحیلہ خاتون کی شادی ان کے بھائی سے ہو اور وہ ہمیشہ ان سے دب کے رہے۔

✧✧

جب سیدہ زہرا بیاہ کر سید ابصار شاہ کے گھر آئیں تو پہلی بات سید ابصار نے یہی کہی تھی کہ ان کی بہن کو اپنی بہن بیٹی سمجھیں۔

سیدہ راحیلہ انھیں بھابھی کی بجائے باجی کہنے لگی تھی جو کہ انھیں بالکل پسند نہ تھا۔

سیدہ راحیلہ خاتون کے جب ایم اے میں یونیورسٹی میں داخلے کی بات چھڑی تو وہ ان کے پاس جھولی پھیلائے آن پہنچی۔

’’باجی آپ بھائی جان کو سمجھا سکتی ہیں۔۔۔اور کوئی نہیں۔‘‘ راحیلہ نے ان کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔

’’راحیلہ یہ ہمارے ریت رواج میں کہاں ہے کہ لڑکیوں کو یونیورسٹی اور وہ بھی مردوں کے ساتھ پڑھنے بھیجا جائے۔‘‘ سیدہ زہرا نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

’’باجی اگر آپ ہیں تو مجھے ریت رواج کے بارے کچھ نہیں سننا۔بھائی جان کو بھی تو مجھ پر اعتماد ہو ہی گا نا۔‘‘سیدہ راحیلہ نے ہٹ دھرمی سے کہا۔

سید ابصار شاہ جو نا جانے کس وقت کمرے سے باہر آن کھڑے ہوئے تھے۔وہ سوچنے لگے تھے کہ ایسا کیا تھا کہ راحیلہ سیدہ زہرا سے بات کر رہی تھی۔ اسے تو ان سے بات کرنا چاہیے تھی۔ سید ابصار شاہ آہستگی سے کمرے میں چلے آئے۔

’’راحیلہ آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘سید ابصار شاہ نے اس سے پوچھا۔

’’بھائی جان وہ۔۔۔میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔‘‘ سیدہ راحیلہ نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

’’ہمیں آپ پر اعتبار ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ یہ اعتبار نہیں توڑیں گی۔‘‘ سید ابصار نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔ سیدہ زہرا دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئی۔

’’شاہ جی۔۔آپ خاندان کی روایات کو توڑیں گے۔ کیا جواب دیں گے برادری والوں کو۔‘‘ سیدہ زہرا کو سید ابصار کا یہ فیصلہ بالکل پسند نہیں آیا تھا۔

’’میرے خیال میں تو آپ کو سیدہ کو اپنے گھر کا کر دینا چاہیے۔کون سا ہم نے ان سے نوکریاں کروانی ہیں نہ ہمیں ضرورت ہے۔‘‘ سیدہ زہرا نے بحث کی۔ راحیلہ کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کو اور دوسرے کو اور ہو رہا تھا۔وہ کبھی بھائی تو کبھی بھابھی کو دیکھ رہی تھی۔

’’راحیلہ آپ کو کچھ اور سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ جائیں اور ٹیسٹ کی تیاری کریں۔‘‘سید ابصار نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

سیدہ راحیلہ ان سے لپٹ گئی۔ سیدہ زہرا کو یہ منظر بالکل نہ بھایا۔بظاہر وہ خوش دلی کا مظاہرہ کرتی تھیں لیکن دل ہی دل میں راحیلہ کو سخت نا پسند کرتیں۔

سیدہ راحیلہ یونیورسٹی جانے لگی۔سیدہ زہرا کی ہزار کوششوں کے باوجودسید ابصار نے سیدہ راحیلہ کی شادی یا منگنی کہیں نہ کی تھی۔

ماں باپ کی وفات کے بعدوہ خود ہی سیدہ راحیلہ اور سید عبید کے باپ بن گئے تھےاور چاہتے تھے کہ سیدہ زہرا بھی ان کی ماں بن جائیں۔ سید عبید کو انھوں نے پڑھنے کے لیے امریکہ بھیجا تو وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے۔

سید عبید روپیہ پیسہ تو بھیجتے رہے لیکن ایک طویل عرصہ تک پاکستان نہ لوٹے۔ جب ملاقات کے لیے آئے تو ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی ساتھ تھی۔

سید ابصار کے لیے یہ ایک صدمہ تھا جبکہ سیدہ زہرا کے دل میں پلتے زہر کے لیے آبیاری۔

سید عبید کی بیوی خوش اخلاق تھی۔ نو مسلم ہونے کی وجہ سے وہ سیدہ زہرا سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرتی اور انھیں افضل درجہ دیتی۔

اس طرح سیدہ زہرا کی راجھدانی پر کوئی قبضہ نہ جما سکتا تھا اور اس کی انھیں خوشی تھی۔انھوں نے بھی اسے قبول کر لیا تھا۔سید عبید کی بیوی نے دھیرے دھیرے سید ہاؤس میں جگہ بنا ہی لی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی اولاد سے نوازا تھا۔جب بچے جوان ہونے لگے تو سیدعبید نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔سبھی اس فیصلے سے خوش تھے خصوصاً سیدہ زہرا کیونکہ سید عبید شاہ نے فیصلہ یہ کیا تھا کہ وہ الگ گھر لیں گے۔ آبائی حویلی کے مالک سید ابصار شاہ ہی ہوں گے کیونکہ انھوں نے سب کو باپ بن کر پالا تھا۔ یہ ان کا حق بھی تھا۔

’’میں کہتی ہوں راحیلہ خاتون کی زندگی کا بھی فیصلہ کر لیں۔ یہ نہ ہوکہ وہ بھی ایک دن اپنا دولہا لے آئے۔‘‘ سیدہ زہرا کو تو زہر اگلنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔

سید ابصار شاہ خاموشی سے سن رہے تھے۔ ان کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔

راحیلہ سب سن رہی تھی اور دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اگر ایسا وقت آیا تو وہ کبھی بھائی کا سر نیچا نہ کرے گی۔

وقت گزرتا گیا۔

راحیلہ کی پڑھائی ختم ہونے کو تھی۔ اس کا جو بھی رشتہ آتا وہ تعلیم میں اس سے کہیں کم ہوتا تھا۔ سید ابصار چاہتے تھے کہ سیدہ راحیلہ کی شادی اس سے ہوجو تعلیم میں اس کے ہم پلہ ہو۔

سیدہ زہرا نے دن رات باتیں سنا سنا کر ان کا جینا حرام کر رکھا تھا لیکن سید ابصار ٹس سے مس نہ ہوئے۔

انھی دنوں روحیل خان بزنس کے معاملہ میں سید ابصار سے ملا۔

روحیل خان خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایم بی اے بھی تھا اور اپنے والد کا بزنس بڑی ذمہ داری سے سنبھال رکھا تھا۔

روحیل خان نے راحیلہ کو یونیورسٹی ہی کے کسی فنکشن میں دیکھا تھا۔وہ سر پر دوپٹہ جمائے،برقع پہنے ہلکے سے میک اپ میں ملبوس اس کے دل کو بھا گئی تھی۔

روحیل خان نے اس کے بارے میں پتا کروا کر سیدھا سید ابصار شاہ سے بات کی۔روحیل خان نے راحیلہ خاتون سے بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی کیونکہ وہ اسے عزت کے ساتھ اپنے گھر کی زینت بنانا چاہتے تھے۔

اگرچہ سید ہاؤس میں ایک طوفان مچ گیا تھا۔ سیدہ زہرا نے خوب واویلا کیا لیکن سید ابصار اس طوفان میں ایک پہاڑ ثابت ہوئے۔

سیدہ راحیلہ جو کہ تمام ماجرے سے لاعلم تھی گناہگار ٹھہری تھی۔

اس دن سے سیدہ راحیلہ کو علم ہو گیا کہ بظاہر نرم مزاج بھابھی دراصل اپنے دل میں عناد رکھنے والی عورت تھی۔

سید ابصار شاہ نے سیدہ راحیلہ کا نکاح روحیل خان سے کروا دیا تھا۔

روحیل خان اپنی روایات کے مطابق شان و شوکت سے برات لائے کہ سید برادری میں ان کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔

سید ابصار شاہ کی حق مہر کی شرط پر روحیل خان نے کہیں زیادہ حق مہر اور زمین زیورات راحیلہ کو دیئے تھے لیکن وہ اپنی ذات کو بدل نہیں سکے تھے۔

سیدہ زہرا، روحیل خان کو نیچ ذات سمجھتی اور بات بے بات جتاتی تھیں۔یہی وجہ تھی کہ راحیلہ نے شادی کے بعد سید ہاؤس آنا بالکل نہ ہونے کے برابر کر دیا تھا۔

ان کے دو بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔

احتشام خان اور صبیحہ روحیل۔احتشام خان نے پاک فضائیہ میں کمیشن لیا تھا جبکہ صبیحہ چھوٹی تھی اور ابھی کالج میں داخلہ لیا تھا۔وہ اورسائرہ ایک ہی جماعت میں تھیں۔ اپنی ماؤں کے برعکس ان میں گہری دوستی تھی۔

✧✧

شادی کی تقریبات ختم ہو چکی تھیں۔ اجمل شاہ کے دل و دماغ میں صبیحہ جگہ بنا چکی تھی۔وہ اس کی خوبصورتی سے متاثر تھا۔صبیحہ کو بھی اس بات کا اندازہ تھا۔

عورت کو اللہ نے ایک حس ایسی عطاء کی ہے جو اسے ہر نظر ہر سوچ کی آگہی عطاء کر دیتی ہے۔ اسے دور سے گھورتی ہوئی یا محبت و ستائش بھری نگاہوں کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

وہ شادی کی تقریب ختم ہونے کے بعد گھر پہنچے۔سیدہ زہرا اور سید ابصار اپنے کمروں میں، جبکہ اجمل شاہ سائرہ کے پیچھے اس کے کمرے میں چلا آیا۔

’’سائرہ۔۔صبیحہ کا فون نمبر ہے تمھارے پاس؟‘‘ سید اجمل شاہ نے پوچھا ۔

’’ہے تو۔۔۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہے؟‘‘ سائرہ نے حیرانی سے اجمل شاہ کی جانب دیکھا۔

’’تم اس کا فون نمبر مجھے دو۔‘‘ اجمل شاہ نے کہا ۔

’’کیوں۔۔۔ آپ کو۔۔۔‘‘سائرہ نے کچھ کہنا چاہا۔

’’تم دے رہی ہو فون نمبر یا نہیں؟‘‘ اجمل شاہ نے سختی سے کہا۔

’’لیکن بھائی۔ آپ کو اس کا فون نمبر چاہیے کیوں؟‘‘ سائرہ نے کیوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔

’’اس لیے کیونکہ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔‘‘ اجمل شاہ نے کہا۔

’’اگر امی کو پتا چل گیا تو۔‘‘ سائرہ کو علم تھا کہ سیدہ زہرا صبیحہ کو اور اس کے تمام خاندان کو سخت نا پسند کرتی ہیں۔

’’جب کی تب دیکھی جائے گی۔‘‘ اجمل شاہ نے کہا۔

چند منٹ کی بحث کے بعد اجمل شاہ کے پاس صبیحہ کا فون نمبر تھا۔ وہ جیسے ایک محاذ فتح کرکے اپنے کمرے میں پہنچا۔ بستر پر گرتے ہی صبیحہ کو میسج کیا۔

’’صبیحہ آج شادی میں تم بے انتہا پیاری لگ رہی تھیں۔‘‘اجمل شاہ نے ایک میسج ہی میں اس کی کافی سے زیادہ تعریف کر دی تھی۔

’’آپ کون۔‘‘میسج بتا رہا تھا کہ وہ حیران ضرور تھی۔

’’وہی جس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہیں۔‘‘ اجمل شاہ لفاظی میں ماہر تھا۔

’’ہیں۔۔۔کیوں۔۔۔‘‘ صبیحہ نے میسج کیا۔ اجمل شاہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اُدھر صبیحہ کے دل میں کدھ بدھ ہونے لگی کہ اسے میسج کس نے کیا ہے۔

’’آپ ہو کون؟ ‘‘کافی دیر گزر جانے بعد اس نے دوبارہ میسج کیا۔

’’وہی جو آپ کو اپنی ملکیت بنانا چاہتا ہے۔‘‘ اجمل شاہ نے لکھ بھیجا۔

’’اجمل شاہ۔‘‘صبیحہ نے درست اندازہ لگایا۔

کبھی کبھار الفاظ ایک ایسے پل کا کردار ادا کرتے ہیں کہ دو دلوں کو جوڑ دیتے ہیں تو کبھی کبھار یہی لفظ قینچی بن کر رشتوں کو کاٹ ڈالتے ہیں۔

الفاظ آہستہ آہستہ پل کی شکل اختیار کر رہے تھے۔ اجمل شاہ اور صبیحہ دونوں کے دل آہستہ آہستہ خوش کن احساس میں ڈوب رہے تھے۔

لفظوں کا پل دن بہ دن مضبوط ہو رہا تھا۔

یہاں تک کہ اجمل شاہ نے محسوس کیا کہ اسے سید ابصار سے بات کرنی چاہیے۔ گھر میں جب یہ بات کھلی تو سیدہ زہرا نے گویا کہرام برپا کر دیا۔

’’میں ایک غیر سید کو اس گھر کی بہو نہیں بنا سکتی۔‘‘ سیدہ نے اپنا اٹل فیصلہ سنایا۔

’’امی وہ پھوپھو کی بیٹی ہے۔‘‘ اجمل شاہ نے کہا۔

’’سیدہ ۔۔۔وہ میری بہن کی بیٹی ہے اور راحیلہ سید ہیں۔‘‘ سید ابصار نے کہا ۔

’’شاہ جی وہ صرف راحیلہ خاتون کی بیٹی نہیں اس کے باپ کا نام روحیل خان ہے۔ روحیل خان۔۔۔جو سید نہیں ہیں۔‘‘سیدہ زہرا نے خان پر زور دیتے ہوئے کہا۔

’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ سید ابصار شاہ نے کہا

’’فرق پڑتا ہے شاہ جی۔فرق پڑھتا ہے۔آپ نے اپنے بہن بھائیوں کے معاملے میں اپنا ہر فیصلہ کیا میں کبھی نہیں بولی۔ اب بات میری اولاد کی ہے۔‘‘ سیدہ زہرا نے پھٹ پڑنے کے سے انداز میں کہا۔

’’یہ تمھاری اولاد کی خوشی ہے۔‘‘ سید ابصار نے کہا ۔

’’لیکن میں اپنے بیٹے کی نسل میں دوسری نسل کا خون شامل ہونے نہیں دوں گی اور یہ بات اٹل ہے۔۔۔ سن رہے ہو اجمل شاہ۔‘‘ سیدہ زہرا نے انگلی نچاتے ہوئے کہا۔

کمرے میں اس قدر خاموشی ہو گئی گویا ایک سوئی بھی گرے تو اس کی آواز سنائی دے۔

سب خاموشی سے اپنے اپنے کمروں کی جانب چل دئیے۔ اجمل شاہ دکھ کو محسوس کر رہا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں کے فیصلے کس قدر اٹل ہوتے ہیں۔

انھی دنوں صبیحہ کا ہاتھ اس کے چاچانے اپنے بیٹے کے لیے مانگا۔

سیدہ راحیلہ خاتون شادی کے بعد راحیلہ خان اور اپنی بھابھی کے لیےاچھوت بن چکی تھیں۔ جانتی تھیں کہ ان کے بھائی کا بیٹا ان کی بیٹی کی محبت میں گرفتار ہے۔ وہ اپنے بھابھی کی نفرت پر بھائی کی محبت کو ترجیح دیتی تھیں۔

گھر میں صبیحہ کے رشتے کی بات چلی تو انھوں نے بھائی سے بات کرنے کی ٹھانی۔ اسی نیت سے وہ بھائی کے گھر چلی آئیں۔

’’آؤآؤ راحیلہ خاتون۔بیٹھو۔‘‘ سیدہ زہرا کا زہر خندہ لہجہ آج اور بھی تلخ ہو گیا تھا۔

راحیلہ خاتون ڈرائنگ روم میں صوفے پر ٹک گئیں۔

’’بھابھی۔ بھائی کدھر ہیں۔‘‘ راحیلہ خاتون نے سوکھا گلا تر کرتے ہوئے کہا۔

’’سنو راحیلہ۔۔۔اپنے بھائی سے بات کرنے سے پہلے اپنی بیٹی کو نکیل ڈالو۔ تمھیں علم ہے کہ وہ کیا گل چھرے اڑا رہی ہے؟‘‘ سیدہ زہرا نے کہا۔

’’میری بیٹی نے ایسا کیا کیا بھابھی۔‘‘ بات بیٹی کی ہو اور ماں کو تکلیف نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے۔

’’تمھاری بیٹی نے میرے بیٹے پر ڈورے ڈال کر اسے ماں کے آگے کھڑا کر دیا ہے۔‘‘سیدہ زہرا نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔

’’بھابھی۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔‘‘راحیلہ خاتون کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کے عالم میں کہنے لگیں۔

’’اجمل شاہ تمھاری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میں یہ ہونے نہیں دوں گی۔ اگر ہو گیا تو یہ گھر تمھاری بیٹی کے لیے جہنم ہو گا۔‘‘ سیدہ زہرا زہر راحیلہ کے کانوں میں انڈیل کر خود پاؤں پٹختی کمرے سے باہر نکل گئیں۔ راحیلہ خاتون پر گویا کوئی پہاڑ الٹ دیا گیا ہو۔

وہ چند لمحے اپنی جگہ سے ہل تک نہ سکیں۔ پھر آہستگی سے اٹھیں اور بنا کسی سے ملے اپنے بھائی کے گھر سے اٹھ کر آگئیں۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of خار/Khaar - Realistic Fiction Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Maemuna Sadaf earns a royalty on every copy
Buy the e-book

See all editions, reviews and details

خار/Khaar - Realistic Fiction Book Buy