Check out our most recent publications
لَو، لکھنؤ اور لاہور / Love, Lucknow Aur Lahore
Free sample · no sign-up

لَو، لکھنؤ اور لاہور / Love, Lucknow Aur Lahore

by Rawish Ali Tirmizy

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

Love
لکھنؤ

Aur
لاہور

از قلم

روش علی ترمذی
________

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ء

 

ISBN Digital : 978-969-696-035-5
ISBN Print : 978-969-696-032-4

 

ناشر: داستان پبلشرز

پاکستان

Wwww.daastan.comm

 

٭

مدیرہ

نرمین سرھیو

____

 

سرورق کے جملہ حقوق شان علی اور خرم عباس کے نام محفوظ ہیں۔

__________

 

انتساب

 

’’ میری پہلی کاوِش بابا اور ماما کے نام!‘‘

 

فہرست

پیش لفظ................................................................ 1

باب اوّل................................................................ 4

باب دوّم............................................................... 25

باب سوّم.............................................................. 91

باب چہارم........................................................... 147

باب پنجم............................................................. 198

باب ششم............................................................. 258

باب ہفتم.............................................................. 294

باب ہشتم............................................................. 353

باب نہم.............................................................. 406

باب دہم.............................................................. 456

باب یازدہم........................................................... 489

باب دوازدہم......................................................... 517

باب سیزدہم.......................................................... 558

باب چہاردہم......................................................... 611

باب پانزدہم.......................................................... 668

بابِ شانزدہم......................................................... 685

باب ہفدہم........................................................... 695

باب ہیجدہم........................................................... 732

باب نوزدہم.......................................................... 749

باب بیستم............................................................ 760

تعارف.............................................................. 767

 

پیش لفظ

کہا جاتا ہے، آپ جتنا حقیقت سے دور۔۔۔ تخیلات میں رہیں گے۔۔۔خوش رہیں گے۔۔۔!

کبھی کبھی کچھ جگہوں کی سیر کیے بغیر ہی اُن سے اُلفت ہو جاتی ہے۔ چاہے لاہور ہو یا لکھنؤ۔۔۔ ہر شہر لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کی وجہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ لکھنؤ بیٹھے بیٹھے لاہور کا سفر تو کبھی لاہور بیٹھےلکھنؤ کا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حقیقت میں رہ کر تخیلات میں رہنا ایک عجیب فن ہے۔ ایسے لوگوں کو میں نے خود سے اچھی زندگے بسر کرتے دیکھا ہے۔ محبت نہ ہو کر بھی ایک کہانی میں خود کو سجائے رکھنا، کسی فرضی ریاست میں اپنی ذات پر حکمرانی کرنا۔۔۔ سب ہو جاتا ہے۔

اِسی کی چھوٹی کاوِش ہے یہ کہانی جسے تحریر کرنے کا مجھےکبھی موقع نہیں ملا۔ یہ کسی معاشرتی مسئلے پر مبنی ہے نہ کسی نازک فکر پر۔ اِسے لکھنے کا مقصد اِنٹرٹینمنٹ کے سوا کچھ نہیں۔

چونکہ دُنیا میں ہر جگہ تنقید، کدورتیں اور نفسا نفسی چھائی ہے۔۔۔ جہاں لوگ اب خوش رہنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور معاشرے کی بے جا تنقید سے چھپتے پھرتے ہیں۔۔۔وہاں یہ کہانی شاید انھیں زندگی کی اُلجھنوں سے کچھ دیر آنکھیں چرانے کا موقع دے گی۔ اِسی فکر کی بدولت یہ کہانی میرے ذہن کی کھڑکیوں سے نکل کر قلم کی سیاہی بن پائی۔ اُمید ہے آپ کو پسند آئے گی!

جانثار زینب، آئشم اور زینب اکبر اِس کہانی کو سب سے پہلے پڑھنے اورمیری حوصلہ افزائی کرنے کا شکریہ۔

ماموں، ممانی جان اور میرے گھر والوں کے بےحد سپورٹ اور تعاون کی ہمیشہ مشکور!

روِش علی ترمذی-----

Rawishali50@gmail.com

 

باب اوّل

اس نے چپکے سے ماہ ِنو کی گود میں پڑی لال ڈائری کو دیکھا جو وہ یوں چھپائے ہوئے تھی جیسے ماں اپنے بچے کو ہر خطرے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے سیاہ بالوں سے نکلنے والی زلف مسلسل ہادی کو زچ کر رہی تھی جو اُسے اس کے چہرے پر نظر پڑنے سے روکے ہوئے تھی۔ ہادی نے اپنے نارمل اسٹائل میں چہرے کے تاثرات بدلتے ہوئے آستین موڑے اور ماہِ نو کی زلف ہٹا کر چلتا بنا۔

’’بدتمیز!‘‘اس نے سر جھٹک کر غصے میں کہا تو ہادی وہیں رک گیا۔

’’تمیز۔۔۔ تم یہ کیا لکھتی رہتی ہو؟ پڑھاؤ ذرا۔‘‘ وہ کمر پر ہاتھ رکھے کہنے لگا تو ماہِ نو نےنفی میں سر ہلاتے ہوئےجواب دیا۔

’’نہیں۔۔۔پرسنل ہے۔‘‘اُن دونوں میں کچھ پرسنل تھا؟ وہ اپنی سوچ پر خود بھی مُسکرائی۔

زندگی کی رفتار کے مطابق خود کو ڈھالتے ڈھالتے کہیں نہ کہیں وہ یہ بھول گئی تھی کہ دل کا کسی پر بھی آنا ممکن تھا مگر ہادی پر آنا صرف نا ممکن ہی نہیں بلکہ قابلِ حیرت بھی تھا۔ اس کا دل اس پر کب آیا تھا وہ یہ ضرور جانتی تھی مگر کیوں آیا تھا اِس سے واقف ہونے میں اس نےآٹھ سال لگا دیے تھے۔ کیا وہ محبت فقط ظاہری شخصیت کے دم پر تھی یا حقیقی زندگی میں بھی اس کی کوئی حیثیت تھی؟

لاہور کالج سے ا یف۔ایس۔سی کرنے کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی سے انجینیئرنگ کر رہی تھی جس کا وہ قطعاً شوق نہیں رکھتی تھی۔ اپنےوالد محمد حمزہ کی اِس خواہش پوری کرنے کے لیے وہ جی جان لگا کر پڑھتی رہی مگر کون جانتا تھا کہ اس کےپیچھے بھی اس کی اپنی ہی خواہش چھپی ہوئی تھی۔ باپ کی ضرورت سے زیادہ شفقت اور ماں کے بے جا لاڈ میں پلنے والی اِس بیس سالہ لڑکی کی صرف ایک ہی خواہش تھی۔۔۔علی ہادی! مگر اس تک رسائی کہاں ممکن تھی۔ دو ممالک کی دشمنی سے جدا ہونے والے وہ دونوں اکیلے نہیں تھے، کئی پرندے بے گھر ہو گئے، صحراؤں کا سفر کرنے والے تیراکی کا ہنر سیکھ گئے، ہزاروں پرندے اپنی پرواز بھول گئے اور انسان اپنے سلجھےہوئے خوبصورت رشتوں میں الجھنیں ڈال کر الوداعی لاک لگا آئے تھے۔ نفرت اور محبت کی اس جنگ میں انسانیت اپنی بازی پہلے ہی ہار چکی تھی جس کا اندازہ لگانا بے حد مشکل تھا۔

علی ہادی ہندستان کے شہر لکھنؤ کا رہنے والا تھا اور ذاتی طور پر بھی نوابی مزاج رکھتا تھا۔ بزنِس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اب ایک نجی کمپنی میں نوکری کر رہا تھا۔ اس کی ماہانہ تنخواہ کتنی تھی یہ اس کی والدہ اور چھوٹی بہن زونی کو بھی معلوم نہ تھا اوراگر وہ غلطی سےکبھی پوچھ ہی لیتیں تو وہ اِس قدر کم بتاتا کہ وہ خود شرمندہ ہو جاتیں۔

یہ گھر لکھنؤ کا عام گھر نہیں بلکہ خان گروپ آف انڈسٹریز کے مالک کا گھر تھا۔’خان محل‘کے نام سے جانے مانے اِس گھر میں تقریباً تیس افراد رہتے تھے جہاں ہر وقت عمدہ لباس میں ملبوس اِس گھر کی خواتین اپنے کردار اور شائستہ گفتگوسے اِس محل کو روشن رکھنے والا خوبصورت چراغ تھیں۔ نہ صرف رحمان ُپر کی وہ گلیاں بلکہ ان کے باہر کی دُنیا آج بھی اِس گھر کے مردوں سے حیف کھاتی تھی۔

محمد حمزہ کے دادا کی شہادت برِ صغیر کے اُس خوش اخلاق ماحول میں ہوئی جب خون ریزی اور قدورتوں کا جنم نہیں ہوا تھا۔ بغیر کسی عہدےكے شہادت کے اس درجے پر فائض ہونا جہاں صرف ایک نڈر سپاہی ہی کو تصور کیا جائے انتہائی باعثِ فخر تھا۔ گھر کے ذمہ دار بیٹے کی موت جیسے باپ پر پہاڑ بن کر گری جِسے احساس ِمرتبہ ِشہادت نے ختم تو نہیں مگر کم ضرور کردیا تھا۔

 باپ کی موت پندرہ سالہ محمد اکبر اور سترہ سالہ محمد علی کی زندگی میں وہ موڑ لائی جس نے دونوں بھائیوں کے بیچ آزادی کے نام پر ایک ظاہری دیوار کھڑی کردی۔ محمد اکبر اپنے تايا کے ہاتھ مجبور ایسے بیج کی مانند ہو گئے جس میں پودا اُگانے کی صلاحیت تو تھی پر اسے دھوپ اور مٹی کی نمی حاصل کرنے کی خاطر شہر سے دور جانا تھا۔ بڑے بھائی سے جدائی کے بعد اکبر کو اپنے تایا کے ساتھ کاروبار کے سلسلے میں اپنا عزیز شہرلکھنؤ چھوڑ کر لاہور منتقل ہونا پڑا۔ اس وقت یہ ہجرت ایک ملک سے دوسرے ملک تک نہیں تھی مگر اہل و احباب سے جدائی اور اپنے شہر سے رخصتی کسے گوارا تھی؟

’’آپی ہمارے دادا ابّو پاکستان کیسے آئے تھے؟ اور ان کےبڑے بھائی انڈیا میں ہی رہ گئے؟ اسٹرینج!‘‘عاقب نے ماہِ نو سے تجسس کے عالم میں پوچھا۔

’’ہمارے دادا ابو کو اپنے تایا ابّو كے ساتھ لاہور جانا پڑا۔ کبھی کبھار جاتے تھے اپنےبڑے بھائی سے ملنے مگر کاروبار کی وجہ سے پاکستان میں ہی رہ گئے۔‘‘ماہِ نو نے اس کے ماتھے پر اُمڈنے والے بل کو دور کرتے ہوئے کہا تو عاقب نے پلٹ کر ایک اور سوال کیا۔

’’پِھر دادا ابّو کی شادی دادی سے کیسے ہوئی؟‘‘

’’بس یہیں ایک اچھی سی فیملی دیکھی اور شادی کرلی۔ ہاں انھیں خیال آیا تھا واپس انڈیا جانے کا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور پِھر ابو کی پیدائش کے بعد وہ دوبارہ ہجرت کا سوچ بھی نہ سكے۔ اسی لیے ہم انڈیا جاتے ہیں ابو کے تایازاد بھائیوں سے ملنے۔‘‘اُس نے اِس بار تفصیلاً جواب دیا۔

’’اچھا اب سمجھ آئی۔۔۔علی ہادی بھائی کے دادا ابّو اور ہمارے دادا ابو بھائی تھے مگر وہ وہاں اور ہم یہاں رہ گئے! واہ!‘‘عاقب نے پلکیں اچکاتےہوئے نہایت دلچسپ انداز میں کہا تووہ ہنس پڑی۔ وہ ماہِ نو سے پانچ سال چھوٹا تھا مگر باتوں کے لحاظ سےکئی سال آگے تھا۔ وہ اکثر ایسے سوال کرتا جس پر ماہِ نو کو بر ِصغیر کی کہانی شروع سے بتانی پڑتی تب جا کر اسے بات کا اصل کانٹیکسٹ سمجھ میں آتا تھا۔

✧✧

’’میں سوچ رہا تھا کہ ماہِ نو کو سمَر بریک میں اس کی بہن کی طرف بھیج دوں۔‘‘حمزہ نے کھانے کے ٹیبل پر چکن پلاؤ کی ڈش پکڑتے ہوئے کہا تو برابر میں بیٹھی ماہِ نو کے ہاتھ کب اور کیوں کانپنے لگے یہ وہ خودبھی نہ سمجھ پائی۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پرنمودار ہوئی جسے وہ چھپانے میں ہمیشہ کی طرح کامیاب رہی۔ وہ مسکراہٹ یقینً انڈیا جانے، لکھنؤ گھومنے یا ہماء سے ملنے کے سبب نہیں تھی، اُس کے پیچھے بھی علی ہادی کو ایک بار ملنے یا دور سے بس ایک نظر دیکھنے کی خواہش چھپی تھی۔ آٹھ سال پروان چڑھنے والی اِس محبت کو وہ کہاں تک طول دے سکتی تھی اس کا اندازہ لگانا اس کے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

’’ہاں بہتر ہے۔ تین مہینے گھر میں کرے گی بھی کیا۔۔۔بہن سے مل آئے بہتر ہے۔ ویسے بھی ہم لاسٹ ٹائم ہماءکی شادی پر ہی گئے تھے۔وہ بھی پانچ سال پہلے، جب بھی آئی ہماءہی آئی۔۔۔آپ کی مصروفیات نے تو ہمیں بیٹی سے دور ہی کردیا ہے۔‘‘سمیرہ نے نہایت سنجیدگی سے شکوہ کیا۔

’’ہاں بھائی۔۔۔اب اس کی وجہ بھی ہم ہی ہیں۔ گھر میں کوئی شے ختم جائے تو وجہ ہم، آپ کے پاس ہر نئے فنکشن کے لیے نیا ڈریس نہیں تو وجہ ہم، شادی میں جا کر گفٹس آپ بھول جائیں تو وجہ ہم۔ اب آپ بتائیں ہم کیا کریں؟‘‘حمزہ نے مزاحیہ انداز میں کندھے اچکائے کہا جب کہ وہ اِس بات سے باخوبی واقف تھے کہ ہماءکے ہزاروںشِکووں اوراِتنے برس ماں کا بیٹی کے گھر نہ جانے کی اصل وجہ وہ خودتھے۔

’’اب اتنی پرانی بات بھی مت گھسیٹیں آپ۔۔۔اور ماہِ نو! ابو کی سائڈ لینا چھوڑدو۔‘‘انھوں نے برابر میں بیٹھی ماہِ نو کو چُپ کروایا جو غیر محسوس انداز میں مسکرا رہی تھی۔

’’امی میں نے ان کی سائڈ کب لی؟ بس ایک جوک یاد آگیا تھا جو آج یونی میں حسن نے سنایا تھا۔‘‘اس نے کھانے کی پلیٹ اٹھاتے ہوئے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔

’’ہاں ہاں جانتی ہوں میں سب۔ تم بس پیکنگ کرو اور کل کی ٹرین سے انڈیا جاؤ۔ میں دیکھ لوں گی انھیں۔‘‘سمیرہ نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے کہا تو حمزہ نے جیسے نظر انداز کردیا مگر ماہِ نوکے اگلے جواب نے دونوں کو شرمسار سا کردیا۔

’’امی! عاقب کے ہوتے ہوئے؟‘‘وہ سر جھکائے مسخرے انداز میں ہنسی اور اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔

’’ہماءکی شادی پر میں کتنی بیمار تھی تم جانتی ہو۔ بس یونہی سمجھو کہ آٹھ سال بعد میں ہادی سے ملوں گی۔‘‘ماہِ نو پلنگ پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگی تو مریم فون کی دوسری جانب نیل پالش لگاتے ہوئے ہنس پڑی۔

’’یور سویٹ لَو اسٹوری! میڈم! لاسٹ ٹائم جہاں تک مجھے یاد ہے آپ کی طبیعت یہی بات سن کے خراب ہوئی تھی کہ علی ہادی شادی پر نہیں آئے گا، وہ ملک سے باہر ہے!‘‘مریم نے اُسے درست کرتے ہوئے کہا۔

’’ہاں تو میں تین سال سے انتظار کر رہی تھی مریم! سوچا اب ہماء کی شادی پر دیکھوں گی مگر وہ امریکہ گیا ہوا تھا۔ مجھے بخار نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ آپ کو کبھی محبت ہوئی ہے مس مریم؟‘‘

’’نہیں ایسا تو واقعی کبھی نہیں ہوا جس میں لڑکے کو بس ایک بار وہ بھی آٹھ سال پہلے دیکھا ہو اور وہ یہ بھی نہ جانتا ہو کہ ماہِ نو نام کی اس کی کوئی کزن بھی ہے! کم آن یار!‘‘

’’میڈم ایک نہیں۔۔۔ دو گھنٹے کی بات ہے۔۔۔ اور جتنے دن بھی رہی بہانہ مِل ہی جاتا تھا۔‘‘

’’خیر! اب جاؤ تو اُسے شو مت کروانا ورنہ وہ چوڑا ہو جائے گا۔ویسے بھی نواب کا بیٹا ہے!‘‘مریم نے اسےسمجھایا مگر وہ بھی ماہِ نو تھی۔

’’تو میں بھی نواب ہی کی بیٹی ہوں۔ لکھنؤ کی نہیں تو کیا؟ لاہور کی تو ہوں!‘‘اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا۔

’’ویسے وہ جانتا ہے تمھارے بارے میں؟‘‘ مریم نے اتنا مشکل سوال پہلے کبھی نہیں پوچھا تھا۔

’’ہاں۔۔۔شاید۔۔۔ویسے ہماء تو بتاتی رہتی ہے اُسے میرے بارے میں۔۔۔ اور لاسٹ ٹائم جو مجھ سے غلطی ہوئی تھی اس کی وجہ سے تو شاید نہ ہی بھولا ہو۔‘‘اُس نے مریم کو آٹھ سال پرانا قصہ یاد دلایا جس نے یقیناً علی ہادی کو بھی اُسے بھلانے کا موقع نہیں دیا تھا۔

آج سے آٹھ سال پہلے جب ماہِ نو پہلی بار ہندوستان اپنے امی ابو كے ساتھ گئی تھی تو عاقب صرف سات سال کا تھا۔ اپنے ملک سے پہلی بار باہر نکلنے کی خواہش مند ماہِ نو کو بے حد مایوسی ہوئی جب اس نے کچھ بھی انڈیا میں پاکستان سے منفرد نہ پایا۔ہماء پہلے بھی انڈیا جا چکی تھی مگر تب وہ خاصی چھوٹی تھی۔ وہاں سب کچھ اُن کے گھر جیسا تھا سوائے تیس افراد کا ایک چھت تلے رہنے کے جس نے بچوں کو خاصا حیران کر دیا تھا۔ لاہور میں اس کی کئی سہیلیاں اتنی ہی بڑی جوائنٹ فیملیز میں رہتی تھیں مگر وہ اِس سب سے محروم تھی۔

’’ابو یہ محلے کے سب لوگ اِدھر ہی رہتے ہیں؟‘‘ماہِ نو نے حیرت سے پوچھا تو حمزہ ہنس کرکہنے لگے۔

’’بیٹا میرےتایا جو انڈیا ہی رہ گئے تھے ان کے چار بیٹے تھے اور یہاں صرف ان کی فیملیز ہی نہیں بلکہ ان کی بہنوں کی فیمیلیز بھی رہتی ہیں۔ اسی لیے آپ کو لوگ زیادہ لگ رہے ہیں۔‘‘

’’اُن کے ٹوٹل کتنے بچے ہیں؟‘‘ماہِ نونے اپنے خیالات پر پڑنے والی دھند کو ہٹانے کے لیے ایک اور سوال پوچھا۔

’’چار بیٹے اور تین بیٹیاں۔ اب صرف تین بیٹے رہ گئے ہیں۔ حیدر اور ہادی بھائی کے ابّو کی ڈیتھ ہو گئی تھی جب آپ بہت چھوٹی تھیں۔‘‘

’’اور آپ اکلوتے؟ یہ کیا بات ہوئی؟‘‘اس نے ناراضگی میں بازو کمر پر رکھتے ہوئے شکایت کی۔

’’یہ تو اللہ کی مرضی ہے۔ خیر میں پِھر بھی بہت خوش ہوں۔ یہ سب میرے فرسٹ کزنز نہیں بلکہ بھائی ہیں۔ میں اِن سے دور ہوں جس کی وجہ سے یہ میری زیادہ عزت کرتے ہیں اور اسی لیے حیدر، ہادی، زونی، عنایہ، عادل سب مجھے بڑےپاپا سمجھتے ہیں۔‘‘حمزہ نے بات سمیٹنے کی کوشش کی۔

’’اچھا۔ تو آپ ہماء کی شادی حیدر بھائی سے کرنےلگے ہیں؟‘‘

’’جی! تین سال بعد آپ کو اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔‘‘سوالوں کے انبار سے تنگ آ کر انھوں نے ماہِ نو کو گھر کے باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے کو کہا تو وہ منہ بنا کر کھیلنے چلی گئی۔

خان محل کے کوری ڈورز اور عقبی حصے میں کھیل کر تھک جانے کے بعد بچوں کو بھوک کا احساس ہوا تو ماہ ِنو نے منہ پھلائے حمزہ سے سب کے لیے لالی پاپس منگوانے کی فرمائش کی۔بچپن میں شدید بھوک کا ہر حَل ایک لالی پاپ ہی کیوں ہوتا تھا یہ اُسے اب بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔

حمزہ کے کزن مُراد خان نے ماہِ نواور عاقب کو اپنی بانھوں میں اٹھا کر اٹھکیلیاں کرتےہوئے ملازم کو آواز دی پر پہلی دو آوازیں رائیگاں گئیں۔

’’ہمارے خیال میں سب کہیں نہ کہیں بزی ہیں۔‘‘مُراد خان نے بچوں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرتےہوئے کہا جس پر حمزہ شرمندگی سے ماہِ نو کو گھور نے لگے۔ ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا تھا اور بچوں نے منہ پھاڑ کر فرمائشیں شروع کر دی تھیں۔

’’ہادی! اِدھر آؤ بیٹا! بڑے پاپا سے تو مِل ہی چکے ہو تم۔۔۔یہ تینوں ان کے بچے ہیں۔ ہماء، ماہِ نو اور عاقب۔‘‘مراد خان نے سب کا تعارف کرواتے ہوئے کہا تو اکیس سالہ علی ہادی نے مسکرا کر سب سے ہاتھ ملایا اور عاقب کو پیار سے اٹھا لیا۔ وہ ہما٫ کو بچپن میں ہی دوست بنا چکا تھا۔ آج سے چند برس پہلے جب حمزہ اپنی تائی کے اِصرار پر ہندوستان گئے تھے تو ماہِ نو گود میں تھی۔ حیدر اپنے چھوٹے بھائی ہادی اور ہما٫ کے ساتھ خوب کھیلتا اور جب بھی ان کی واپس پاکستان رخصتی کا وقت آتا تو بھیگے گوشے لیے دادی جان کے گلے لگ کر رونے لگ جاتا۔ وہ اُس چھوٹی عمر میں کہاں جانتے تھے کہ ایک دن یہ دوستی رِشتے کا خوبصورت رنگ لےلے گی۔

’’بچوں! یہ علی ہادی بھائی ہیں ہمارے سب سے بڑے بھائی کے بیٹے۔ آپ کو جو چاہیے آپ انھیں کہہ دیں یہ آپ کو لا دیں گے۔‘‘مُراد نے آنکھوں سے ہادی کو اشارہ کرتے ہوئے سمجھایا کہ یہ کام اُسے ہی کرنا ہوگا۔ گھر واپسی پر تمام بچے خوشی سے ان تنگ گلیوں میں’ہادی بھائی، ہادی بھائی‘کے نعارے لگاتے ہوئے لوٹے مگر ایک آواز تھی جو’ہادی‘کے آگے کچھ کہہ ہی نہ پاتی تھی۔ اُسے لفظ’بھائی‘ناگوار گزر رہا تھا۔ ہادی نے بھی غیر محسوس نظریں خود پر محسوس کیں مگر ماہِ نو اس کی بہن زونی سے بھی چھوٹی تھی جس خیال نے اُسے تمام دیگر خیالات رد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ماہِ نو نادان تھی پر وہ توسمجھدار تھا!

گھر کے صحن میں پہنچتے ہی ہادی نے بچوں میں اٹھنے والے شور کی آواز سنی تو مڑ کر ماہ ِنو اور عاقب کو حیرت سے دیکھنے لگا جو آپس میں وحشیانہ طریقے سے لڑ رہے تھے۔

’’کیا ہوا تم دونوں کو؟‘‘ہادی نے انھیں دور کرتے ہوئے غصے میں پوچھا۔

’’عاقب کے بچے نے میرا جوس لے لیا۔‘‘ماہِ نو جو جنگلی بلی کی طرح حملہ کرنے کو تیار تھی طیش میں کہنے لگی۔

’’نہیں۔۔۔ اِس نے لیا۔ جھوٹی۔۔۔ وہ میرا تھا۔‘‘عاقب نے معصوم شکل بنائےکہا توہادی فوراً سمجھ گیا کہ یہ حرکت عاقب کی ہی تھی۔ آخر وہ لڑکوں کو نہیں جانتا تھا؟ ابھی ذہن میں مسئلے کا حَل سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک زناٹے دار تھپڑ کی آواز پر وہ چونک اُٹھا۔وہ واقعی گھبرا گیا تھا کہ آخر یہ بچے تھے یا افلاطون۔یہ پہلا تھپڑ نہیں تھا جو ماہ ِنوکی طرف سے عاقب کو رسید ہوا تھا اور یہ پہلی بار نہیں تھا کہ بچے اِس عمل پر پیٹ پھاڑ پھاڑ کے ہنسے تھے۔ لاہورمیں بھی ان دونوں کی لڑائی چیزوں کو لے کر ہی ہوتی تھی اور اسکول کے بچے ایسے ہی دونوں پر ہنسا کرتے تھے۔ وہ بچپن تھا۔۔۔ کیسا تھا۔۔۔یہ سوچ کر اب اسےبھی ہنسی آتی تھی۔

’’ماہِ نو! آپ کتنی بڑی ہیں اِس سے! آپ کو اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ آپ اندر جائیں ورنہ ہم آپ دونوں کے ابّو کو بتا دیں گے۔‘‘اس نے ماہِ نو کو جھنجھوڑتے ہوئے نہایت غصے میں کہاتو وہ کاندھے اچکاتے ہوئے حمزہ کے پاس چلی گئی۔ اُس نے ایک ترِچھی نگاہ عاقب پر ڈالی جو منہ پھاڑے ہنس رہا تھا۔ وہ خاموش ہوا تو نفی میں سر ہلاتے ہوئے ہادی نے بھی چین کا سانس لیا اور باقی بچوں کو لیے گھر میں داخل ہو گیا۔

پہلا پُورا دن یونہی رونے کے بعد جب اس کا غصہ ختم ہوا تو وہ اپنی امی کے پاس صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔ وہ اب تک وہاں کی کئی چیزوں پر حیران ہو چکی تھی۔ اس نے پاکستان اور انڈیا کو ثقافت اور روایات کے مطابق ایک جیسا سمجھا تھا۔ وہ ایک جیسے ہی تھے مگر ہادی کی ڈانٹ اور گھر کی بھول بھلیوں نے اس تیرہ سالہ بچی کو سوچنے پر مجبور کردیا تھا کہ یہ دو ملک کبھی ایک تھے ہی نہیں۔

خان محل کو محل اس کے رقبے کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ کاریگروں کے نفیس کام کی وجہ سے بھی کہا جاتا تھا اور قدیم عمارتوں میں سے ایک ہونے نے اس کی شان و شوکت کو اور بھی بڑھا دیا تھا۔ لکھنؤ میں مسلمانوں کی اکثریت اور ہندوؤں کی اقلیت معنی نہیں رکھتی تھی۔ بڑے سے لے کر چھوٹے محلے میں بھی خان محل کی شہرت اور اسٹیٹس بہت مضبوط تھا۔ گزرتے گزرتے ہر بڑے چھوٹے کا سلام کرنا اِس لیے بھی تعجب خیز نہیں تھا کہ خان خاندان ہر بڑی چھوٹی تقریبات اور کسی بھی قسِم کے نئے انفراسڑکچر میں دل اور جیب کھول کر حصہ لیتا تھا۔

گھر میں داخل ہوتے ہی ایک کنال کا صحن سفید ماربل کے عمدہ فرش سے سجا ہوا تھا جس کے درمیان میں خوبصورت فوارہ شاہی انداز میں نصب تھا۔ گھر کی چھت ظاہری طور پر فرنٹ پر کھڑے دو سفید ستونوں پر کھڑی تھی جن کے درمیان سے لکڑی کا ایک پختہ دروازہ اندر کی طرف نصب تھا۔ گھر کی عمارت چورس تھی جس پر بیچ کا حصہ چھت سے محروم تھا۔پانچ فلورز پر مبنی اِس محل کے ہر فلور پر دو فیمیلیز رہتی تھیں جن کے حصے تین تین کمرے اور الگ الگ باورچی خانے تھے۔ درمیان کا حصہ خالی ہونے کے باعث سب با آسانی اپنےاپنے فلور کے منڈیرپرکھڑے سب سے سلام دعا کر لیا کرتے تھے۔ دادی جان بھی صحن کے وسط میں چارپائی پر حقہ لگائے بیٹھیں گھر میں ہونے والی تمام چہل پہل سے آشنا رہتی تھیں۔

حمزہ اور اس کی فیملی کو گراؤنڈ فلور پر حمزہ کی تائی یعنی دادی جان ہی کے برابر والا کمرہ دیا گیا تھا۔ حمزہ کو دادی جان سے صرف اِس لیے محبت نہ تھی کہ وہ اس کے خاندان کا واحد بزرگ تھیں بلکہ اسی لیے بھی تھی کہ وہ ہر بڑے چھوٹے تہوار اور خوشی غمی کے موقع پرانھیں ایک خط ضرور لکھتی تھیں۔پھر عمر رسیدہ ہونے کے بعد وہ سلسلہ جیسے ختم ہی ہو گیا۔ اب بھی اگر اپنے بیٹے مراد سے کہتیں تو وہ فوراً کال ملا دیتے پر پانچ منٹ سے زیادہ فون پر بات کرنا بھی مشکل سا ہو گیا تھا۔

ابھی گھر کے کئی افراد حمزہ کی فیملی سے ملنے نہیں آئے تھے۔ سب سے اوپر والا فلور ہادی کی فیملی اور اس کی سب سے چھوٹی چچی کو دیا گیا تھا جن سے سب کی کم ہی بنتی تھی۔

اپنی خوشی کے مطابق ہر فیملی نے حمزہ اور اس کی فیملی کی دعوت کی جسے حمزہ کے دودن کے ٹور کو پانچ دن کا بنا دیا تھا۔ اپنی حرکت سے شرمندہ ماہِ نو علی ہادی کے گھر نہیں جانا چاہتی تھی مگر وہ انکار تب کرتی جب اس کے پاس اختیار ہوتا۔

یہ محسوس کیے بغیر کہ علی ہادی کا وجود کمرے میں کہیں بھی نہیں تھا وہ دسترخواں پر بیٹھے سراٹھائے بغیر چپ چاپ كھانا کھاتی رہی۔ اس کے کھانا ختم کرتے ہی ہادی کمرے میں داخل ہوا جس سے ماہِ نو کی شرمندگی ختم اور نئے احساسات کا جنم ہونے لگا۔ وہ جو دیکھ رہی تھی وہ شاید حقیقت تھی مگر کہیں نہ کہیں گمان نے اس کی آنکھوں اور سوچنے کی صلاحیت کو جکڑضرورلیا تھا۔ وہ تیرہ سال کی ٹین ایجر مکمل احساسات کی مالک تھی جس کا اندازہ اسے سامنے سفید شلوار کُرتے میں کھڑے ہادی نے اچھے سے کروا دیا تھا۔ ماتھے پر گرتے ہوئے چند گھنے سیدھے بال اس کے فیئر رنگ پر خوب جچ رہے تھے۔ اس نے چمکتی ہوئی روشن آنکھوں سے سب کو دیکھا اور ایک پُر کشش مسکراہٹ سے سب کو سلام کرنے لگا۔ اس نے سب پر ایک سرسری سی نظر ڈالی تو ماہ ِنو نے شرما کر اپنا سر جُھکا لیا۔ اس کی نظر اس پر پڑی تو ہنس کے سر ہلانے لگا۔ اسے شرمندگی سی ہوئی کہ آخر اسے اس چھوٹی بچی کو ڈانٹنے کی کیا ضرورت تھی جو اس سے ڈر کر سر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ ڈری ہوئی تھی یا معاملہ کچھ اور تھا۔۔۔وہ سمجھنے سے بس کچھ ہی دور تھا۔

’’عید مبارک!‘‘ہادی نے سلام کے بعد روایتاً سب کو عید کی مبارکباد دی مگر یہ بھی ماہِ نو کی پلکیں جھپکانے میں ناكام رہا۔ ہادی کو گِریٹ کرنے کے بعد زونی نے كھانا لا کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ گھنٹہ۔۔۔ دو گھنٹہ۔۔۔ کھانے کی پلیٹ سے لے کر سیاسی گفتگو اور پھر سویٹ ڈش تک وہ اس کے سامنے بیٹھی کیا دیکھتی رہی یہ وہ خود بھی نہ سمجھ پائی۔ ہادی نے اسے نوٹ کیا یا اِگنور یہ وہ اب بھی نہیں بتا سکتی تھی مگر ان دو گھنٹوں میں ہونے والی تمام باتیں، اُس کا کھانے کے انداز اور منہ سے نکلے تمام الفاظ اُسے آٹھ سال بعد بھی یاد تھے۔ وہ جب دسترخوان سے اٹھی تو ہادی نامہ مکمل حفظ کر چکی تھی۔

✧✧

سمیرہ کی گرم بری کی شال اوڑھتے ہوئے اس نے آخری مرتبہ سب کی طرف الوداعی ہاتھ ہلایا اور اپنے کیبن میں جا کر بیٹھ گئی۔ یہ ٹرین میں اس کا پہلا تنہا سفر نہیں تھا۔ وہ اِس سے پہلے بھی کئی دفعہ کراچی اور دیگر شہروں میں اپنے کزنز کے گھر اکیلے جا کر رہ چکی تھی۔ حمزہ نے ہماء اور ماہِ نو کی ابتدائ تعلیم میں’ڈِپینڈینسی‘کے امور کو ہٹانے میں بھرپور کوشش کی تھی اور یہی وجہ تھی کہ یہ دونوں خود مختار اور مکمل آزاد رائے کی مالک تھیں۔ باوجود اتنے آزاد خیالات ہونے کے، حمزہ نے ہماءکی شادی کو ایجوکیشن پر زیادہ ترجیح دی۔ وہ دین اور دُنیا کو ایک ساتھ چلانے پر یقین رکھتے تھے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کی شاید یہی شرط تھی کہ شادی کے بعد ہما٫کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کھلی اجازت دی جائے گی۔ خواہ وہ اپنی تعلیم انڈیا میں مکمل کرتی یا پاکستان میں مگر بڑی بیٹی کے فرض سے آزادی ہی ان کا پہلا آفٹر میرج گول تھا۔

وہ اپنی ہتھیلی پر سجی لکیروں کو بڑے پُر اصرار انداز میں دیکھتے ہوئے چونکی۔

’’اللہ! میری زندگی کی لکیر تو بہت ہی چھوٹی ہے۔ یہ نہ ہو ٹرین اُلٹ جائے اور میں لکھنؤ پہنچنے سے پہلے ہی مرجاؤں!‘‘ اس نے سیٹ پر ٹانگیں سمیٹتےہوا سوچا۔ وہ بے بس تھی یا پاگل، یہ کون بتا سکتا تھا؟ ٹرین کی کھڑکی سے باہر سیاہ رات میں چاند کی روشنی کے سوا اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔ اور جس کی کھوج میں وہ تھی۔۔۔ وہ صرف اسے گپ اندھیرے میں نظر آتا تھا۔۔۔ جب وہ آنکھیں بند کر لیتی تھی۔

عجیب کشمکش کی کیفیت سے دو چار ماہِ نو اب ان جوابوں کے سوالات سوچنے لگی جو اسے وہاں پہنچ کر دینے تھے۔ حتٰی کہ یہ اس کا پہلا تنہا سفر نہیں تھا مگر حمزہ اور سمیرہ کے بغیر وہ پہلے کبھی انڈیا اکیلی نہیں گئی تھی۔ ہونٹوں کو دبائے، سر جھکائے، وہ اپنی سوچوں کی گہری کھائی میں گری جا رہی تھی جہاں نہ جانے دنیا کے کس کس کونے سے گھومتے ہوئے سوالات کا ہجوم اس کے دماغ کی نازک سطح پرپچھلے ایک دن سے منڈلا رہا تھا۔وہ کبھی اپنے ذہن کا دروازہ کھولتی تو کبھی خود اپنی بچگانہ سوچ سے تھک کر بند کر دیتی۔ وہ انجان راستہ پر بغیر نفع نقصان کی پروا کیے چل پڑی تھی جس پر اُسے چلنا اچھا لگ رہا تھا۔ منزل کا نشان تھا یا نہیں، کوئی ڈگر بھی تھا یا نہیں، وہ ان سب باتوں سے بےفکر تھی۔کچی عمر میں کی جانے والی پکی محبت جو یقیناً یک طرفہ تھی، جس کا احساس اسے ہر دن ہر پل ہونے لگا تھا مگر گمان کے دھاگوں میں لپٹے ہوئے کل پر اُسے اٹُوٹ بھروسہ تھا۔

’’ایسی کیا چیز ہے اُس میں جو مجھے اٹریکٹ کرتی ہے؟‘‘اس نے سیٹ پر پُرسکون انداز میں بیٹھتے ہوئے سوچا۔

’’بہت کچھ! اس کے بات کرنے کا انداز، پرسنیلیٹی، مسکراہٹ۔۔۔اور بہت کچھ۔‘‘اس کے لیے ایک نتیجے پر پہنچنا مشکل ہورہا تھا۔

’’اور ایسی کیا چیز ہے مجھ میں جس سے وہ اٹریکٹ ہو سکتا ہے؟‘‘اس نے بالوں کو چہرے سے پیچھے کرتےہوئے سوچا۔ تھوڑی دیر غور و فکر کرنےکے بعد وہ جس نتیجے پرپہنچی اس نے اسے پریشان ہی کر دیا۔اسے لگا اُس میں تو ایسی کوئی خوبی تھی ہی نہیں جس سے ہادی کو متاثر کیا جا سکے۔ اس نے مایوسی سے کمبل اوڑھا اور اپنے انوکھے خوابوں کو امید کی تھپکی دے کر سو گئی۔ آخر وہ ان تمام سوالات کا جواب خود کیسے دے سکتی تھی؟

✧✧

’’تم ایک بدمعاش انسان ہو۔ دن بہ دن تمھاری عادتیں بگڑتی جا رہی ہیں۔ انتیس سالہ لڑکا بھی بھلا ایسی حرکتیں کرتا ہے؟ وہ تو اختر آپا نے بتا دیا کہ تم عباس صاحب کی بیٹی کو گُھور رہے تھے۔ وہ نہ بتاتیں تو تم کل تک کوئی تماشا کھڑا کر دیتے۔ خود تو تمھارا باپ چلا گیا اب ہمیں تو محلے میں چین سے رہنے دو!‘‘مراد نے عالمِ طیش میں ہادی سے کہا جو پچھلے دس منٹ سے سر جھکائے ان کے کمرے میں کھڑا تھا۔

’’ایک کے بعد ایک شکایت! کبھی چھوٹی چچی سے تو کبھی بڑی پھپھو سے۔دیکھو! اَذکار بھائی کے جانے کے بعد ہم نے ہر بات کا خیال رکھا کہ تمھیں یا شبنم بھابھی کو کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو مگر تم نے بھی تو اِس گھر کے بڑے بیٹے ہونے کا فرض نہیں نبھایا۔ نہ جانے عادتاً تم کس پر چلے گئے ہو۔ ہمیں تو معافی ہی دو!‘‘وہ زور سے اس کے کاندھے کو جھٹکتے ہوئے کہنے لگے۔

یہ ہدایت نامہ اس کی زندگی کا پہلا یا آخری ہدایت نامہ نہیں تھا۔ اذکار کی موت کے بعد سے اب تک وہ کئی بار مار کھا چکا تھا۔ اس کی غلطی ہوتی یا کسی اور کی، وہ لا شعوری طور پر ہر وقت ڈانٹ کھانے کے لیے تیار رہتا تھا۔

گزشتہ چند سالوں میں جب ڈانٹ کا سلسلہ بڑھنےلگا تو وہ نہ جانے اپنی گاڑی کی برق رفتاری سے شہر کے کس کونے پہنچ جایا کرتا۔ معمول کے مطابق اس نے اپنے کُرتے کی آستینیں غصے میں چڑھائیں اور گھر کے پچھلے دروازے کی طرف کھڑی اپنی گاڑی اسٹارٹ کر کے باہر نکل گیا۔

’’ہر دفعہ فون پر کہتے ہو کہ امی ہم اب کبھی گھر نہیں آئیں گے، ہر دفعہ آجاتے ہو۔ آخر یہ احسان کیوں کرتے ہو ہم پر؟‘‘شبنم نے ہادی کو اپنے ہاتھوں سے كھانا کھلاتے ہوئے کہا جو غصے میں فرش کے کسی مخصوص حصے کو دیکھ رہا تھا۔آنکھوں میں درد، غبار اور نمی کے ساتھ ساتھ سب تلخ طعنوں کی ریل بھی چل رہی تھی۔ وہ رونا چاہتا تھا۔ ہمیشہ کی طرح وہ دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا مگر وہ ایسا کرتا تو انھیں کامیاب اور خود کو شکستہ پاتا۔ شبنم کے نوالہ آگے کرنے پر وہ منہ کھولتا اور بغیر مکمل چبائے نگل لیتا۔

’’آپ کو اتنی دیر تک جاگنے کی ضرورت نہیں امی!‘‘شبنم جب بول کر تھك گئیں تو خاصی خاموشی کے بعد ہادی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ گھر سے باہر چلے جانا اور رات دیر دیر تک نہ آنا اس کا معمول بن گیا تھا جس کی عادت اب شبنم کو بھی ہو گئی تھی۔۔۔مگر پِھر بھی ماں ہونے کے ناتے وہ ہر دفعہ پریشانی میں اسے کال کرتیں جس پر ہادی ہمیشہ ایک ہی بات کہہ کر فون بند کر دیتا کہ وہ کبھی نہیں آئے گا۔

’’ہاں ٹھیک کہتے ہو۔ اب کوئی بہو بھی تو نہیں لاتے جو تمھارے لیے جاگ سکے۔ سارے کام تمھاری بوڑھی ماں کو کرنے پڑتے ہیں آخر۔‘‘شبنم نے آنکھوں سے نمودار ہونے والے آنسوؤں کو ہاتھ کے پچھلے حصے سے ہٹاتے ہوئے شکوہ کیا۔ ہادی مسکرایا، شاید اسے بھی اِس ردِ عمل کی عادت ہو گئی تھی۔

’’بہو بھی لا دیں گے امی! فکر کیوں کرتی ہیں۔‘‘اس نے شبنم کو تسلی دی اور نئی صبح کے اِنتظار میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کیاکل کا دن بھی یونہی گزرنے والا تھا؟ وہ اکثر یہی سوچتے سوچتے سو جایا کرتا تھا۔

’’انکل آپ کلر بورڈ لے آئیے گا ہم چاچو سے پوچھ کر بتا دیں گے کہ کس کلر کا پینٹ کروانا ہے۔ بس کام اچھے سے ہو جائے۔ ہم بھی آپ کو زحمت دے دیتے ہیں اِس عمر میں۔‘‘ہادی نے پریم چند کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ کتنا شرمندہ تھا، اس کے لہجے سے صاف ظاہر تھا۔

’’ارے بیٹا۔ جب تمھارے ابو زندہ تھے تب سے اِس گھر کو مینٹین رکھنے کی ذمہ داری ہماری ہی ہے۔ زحمت کیسی؟ نہ جانے کون فرشتہ راہگیر مزدور کو گھر لا کر اسے اُجْرَت دیتا ہے۔ تمھارے والد بہت عظیم تھے۔ آپ لوگوں نے اِس سال بھی ہمیں یاد کیا ہم اسے خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ ورنہ ہمارے جیسا غریب انسان کیا کھائے اور کیا کام کرے۔‘‘ہادی نے فوراً اپنی جانب بڑھنے والے ضعیف ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا جو احسانو ں تلے دبتے چلے جا رہے تھے۔

’’انکل آپ شرمندہ نہ کریں۔ ابو کے جانے کے بعد بھی آپ کی حیثیت ہمارے لیے چچا کی ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ اگلے ہفتے ہی کام شروع کروا دیں تاکہ ہم فرنیچر کی پولش کے لیے بھی مزدور بُلوا سکیں۔‘‘

’’ہاں بیٹا جیسا تم کہو۔دادی جان اور اپنی امی کو سلام دینا، اب ہم چلتے ہیں۔‘‘پریم چند جو خان محل کے صحن میں کھڑے ہادی سے بات کر رہے تھے اب چلتے بنے۔ ہادی نے گھر کی دہلیز پر ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ کسی لڑکی کی بلند آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی جو صحن کے مرکزی دروازے سے داخل ہورہی تھی۔

’’السلام و علیکم!‘‘ماہِ نو نےصحن میں کھڑےسب کوسلام کیا تو مُراد نے مُلازمین کو اس کا سامان کمرے میں پہنچانے کا حکم دیا۔ فوارہے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ماہِ نوکی نظر ہادی پر پڑی جس کا ایک قدم دہلیز کے اندر اور ایک باہر تھا۔ ہادی عموماً کسی مہمان کو دیکھ کر واپس کمرے میں چلا جاتا تھا مگر کچھ تو ایسا تھا جس نے اس کی نظروں کو ایک ہی سِمت اور وجود پر جما دیا تھا۔ یہ ردِ عمل یک طرفہ نہیں تھا۔۔۔ اس کا اثر ماہِ نو پر بھی ہوا تھا جو بغیر کچھ محسوس کیے ایک ہی جگہ ساکت کھڑی تھی۔ اس پر اس کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات نے اِس بات کی مکمل تصدیق کردی تھی کہ اس کادل آج بھی وہیں تھا۔ سالوں بعد بھی اس کی محبت میں کمی نہیں آئی تھی۔ یہ وہی احساسات تھے جو اسے آٹھ سال پہلے محسوس ہوئے تھے۔۔۔ جنھوں نے اسےیقین دلایا تھا کہ محبت جیسا ناسور اس کے دل پر ڈیرا جما چکا ہے۔وہ سانس لینا۔۔۔ پلکیں جھپکنا سب بھول گئی تھی۔ کیا وہ انڈیا مکمل سے مختصر ہونے آئی تھی؟ یا پھر سے نارمل زندگی کا قاعدہ پڑھنے آئی تھی؟

’’چلیں بیٹا اندر آجائیں۔ ہادی راستہ دو۔ ہماء! بیٹا آپ کی بہن آئی ہیں۔ نیچے آئیں۔‘‘مراد نے یکے بعد دیگرے سب کو ہدایت دیتےہوئے کہا تو اُس نے گردن اُٹھائی اور نزاکت سے پلکیں جھکاتے ہوئے گھر کے اندرونی صحن میں داخل ہو گئی جہاں دادی جان چارپائی پر حُقہ لگائے بیٹھی تھیں۔ انھوں نے اپنی جانب بڑھتی ہوئی ماہِ نو کوبے حد خوشی سے گلے لگایا اور ماتھا چومتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’ارے ہماری بِٹيا آگئی۔ کہاں ہو سب؟ پانی وانی لاؤ ہماری بِٹيا کے لیے۔ دیکھو دور سے آئی ہے کوئی کسر نہ رہے کھانے میں۔۔۔سن رہے ہو سب؟‘‘ سگی دادی جان کے پیار سے محروم ماہ ِنو اور ہماء کو ہادی کی دادی جان سے الگ ہی لگاؤ تھا۔ وہ بھی نہ صرف حمزہ کی بیٹیا ں ہونے کے ناطے ان سے پیار کرتیں بلکہ ان کا اخلاق، گفتگو اور تہذیب بھی ان سے محبت کی وجہ تھی۔

دادی جان کی ایک آواز پر گھر کے آدھے افراد اکٹھے ہو گئے اور ماہِ نو سے ملنےلگے۔ ہماء، بڑی اور چھوٹی چچی، شبنم، زونی اور گھر کے سب مرد اپنے سارے کام چھوڑ ماہ ِ نو کی آؤ بھگت میں لگ گئے۔ درمیان میں بیٹھی ماہِ نو گھر کے سبھی افراد سے اچھی طرح سے واقف تھی پر اب جس شخص کو جاننے کی تمنا رکھتی تھی وہ کہیں نہیں تھا۔ روشن آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اس نے سب کے ہاں دعوت قبول کی اور ہماءکے کمرے میں چلی گئی۔

’’میں تھک گئی ہوں ہماء یار۔۔۔سونا ہے مجھے۔‘‘ماہِ نو نے اس کے بستر پرلیٹتے ہوئے کہا۔

’’دیکھا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اتنا آسان نہیں ہوتا میرے لیے ہر دو مہینے بعد پاکستان جانا۔‘‘ہماء نے اس کے بیگز اٹھاتے ہوئے کہا۔

’’تم مہان ہو ہماء۔۔۔ آسکتی ہو!‘‘ماہِ نو نے کروٹ لی اور کچھ دیرہماء کے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔

’’یہ بات نہیں۔ بچوں کے ساتھ جانا مشکل ہے اور ویسےبھی میں نے کب کہا تھا میری اتنی دور شادی کر دیں۔‘‘ہماء نے اپنے بستر سے بچوں کے کھلونےاٹھاتے ہوئے اس کے جواب کا انتظار کیا مگر تب تک ماہِ نو سو چکی تھی۔مُسکراکراُس نے الماری سے چادر نکالی اور اُس پر اوڑھ کر کمرے سے باہر آگئی۔

✧✧✧

باب دوّم

’’عجیب خوشی ہے تمھیں آنے کی، میرے لیے تو یقیناً نہیں ہوگی۔ پاکستان سے تمھیں ویسے ہی انوکھی محبت ہے کہ یہاں آنے پر خوش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ماجرا کیا ہے؟‘‘ہماء نے ماہِ نو سے پرُ اصرار لہجے میں سوال کیا۔ کمرے كے بیڈ پر بیٹھے،سوٹ کیس سے کپڑے نکالتے ہوئے ماہِ نونے برابر میں بیٹھی ہماء کے مسکراتے چہرے کوغور سےدیکھتے ہوئے کہا۔

’’ہے کوئی۔ تم اچھی دوست ہو اس کی۔‘‘

’’اِس گھر میں؟‘‘ہماء نے حیرت سے اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ماہِ نو فی الحال اسے کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی مگر وہ بھی ہماء تھی۔ آج نہیں تو کل اسے پتا چل ہی جاتا کہ اس کا اچھا دوست کوئی اور نہیں ہادی ہی ہے۔

’’اب بولو بھی!‘‘ہماء نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا مگر ماہِ نوکو اُسے ہینڈل کرنےکی عادت تھی۔

’’میں اتنی دور سے تمھاری موٹی آنکھیں دیکھنے نہیں آئی۔ بتا دوں گی۔ ڈر کیوں رہی ہو؟‘‘

’’تم ڈرا رہی ہو! پورے گھر میں میرے چند ہی دوست ہیں۔ زونی سے تمھاری کبھی بات نہیں ہوئی پتا ہے مجھے۔ نایاب اور عنایہ؟ کبھی نہیں۔ وہ تمھارے ٹائپ کی نہیں۔۔۔ بہت اچھی ہیں۔۔ اورجورہ گیا ہے میں اس کا رِسک نہیں لے سکتی اور اب مجھے یقین ہے کہ امی نے تمھیں یقیناً کسی محلے کے کچرے سے اٹھایا تھا۔ بتاؤ! وہی ہےنا؟‘‘وہ ایک ہی سانس میں پوچھتی چلی گئی پرماہِ نو اب بھی اس کی باتوں پر مسکرا رہی تھی۔

’’!You have got me baby‘‘ اُس نے کمرے سے باہر جاتے ہوئے تیزی میں کہا جس نے ہماءکو واقعی پریشان کردیا۔

ماہِ نو کا قیام کم اَز کم تین ہفتے کا تھا جس میں اسے امید تھی کہ وہ ہادی سے مزید متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اُسے بھی متاثر کر دے گی۔ہو سکتا ہے ہم دونوں دوست بن جائیں۔۔۔پھر دوست بننے کے بعد وہ میرا ہاتھ مانگ لے۔۔۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے، اس نے کھانے کی میز پر پڑی چکن بریانی کو دیکھتے ہوئے سوچا جو یقیناً اس کی اِس خواہش کے سامنے بالکل پھیکی تھی۔

’’چاول لو نا بیٹااور امی ابو کیسے ہیں؟ اطلاع دے دی انھیں خیریت کی؟‘‘

دادی جان نے اُسے بریانی کی ڈش پکراتے ہوئے پوچھا تو اپنی سوچوں میں گم ماہِ نو نے ایسے ہی پلٹ کر جواب دیا جیسے اس نے ان کی کہی ہوئی ہر بات سنی ہو۔ امّی ابّو کی خیریت کے سوا دو اور باتیں کیا تھیں اُس نے سِرے سے نظر انداز کردیاتھا۔

’’جی وہ ٹھیک ہیں۔ بس امی کی کمر میں درد رہتا ہے۔ ابو تو فِٹ ہیں۔‘‘بریانی کا چمچہ منہ میں ڈالتے ہوئے اُس نے مطمئن ہوکرجواب دیا۔

’’اور اطلاع دے دی؟‘‘

’’جی؟‘‘وہ اب بھی کہیں گم تھی۔ اسے یوں لگا جیسے کوئی اسے طلسماتی دنیا سے لوٹ آنے کی دہائی دے رہا ہو۔

’’اطلاع!۔۔۔ دے دی؟

’’اطلاع؟۔۔۔ جی دے دی۔‘‘اس نے سنجیدگی سے میز پر بیٹھے لوگوں کی نظروں پر غور کیا جو اسی کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ شاید اِسے تھکاوٹ کے اثرات سمجھ رہے تھے مگر ہماء اس کے خیالات سے واقف تھی۔ ماہِ نو کب کون سی خواہش کو اپنی ضد میں بَدَل لیتی تھی یہ ثابت کرنے میں شاید اُسے ایک منٹ بھی نہ لگتا مگر یہ عادت کتنی نقصان دہ ہو سکتی تھی یہ ثابت کرنے میں وہ ہر بار ناكام ہو جاتی تھی۔ ماہِ نو اس کی رائے پر مشکل سے ہی کان دھرتی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کئی بار پریشان کن نتیجوں پر شرمساربھی ہو چکی تھی۔

✧✧

’’نایاب اور احمد کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی ہے۔‘‘ہماء نے سمیرہ سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا۔

’’اچھا چلو اچھی بات ہے۔ ویسے کب کی تاریخ ہے؟ ابھی تو اکتوبر کا پہلا ہفتہ چل رہا ہے۔ دسمبر میں ہی ہوگی نا؟‘‘سمیرہ فون کی دوسری جانب تفصیل پوچھنے لگیں۔ وہ انڈیا پانچ سال پہلے ہماء کی شادی کے لیے ہی گئے تھے۔ حمزہ کے ٹائیٹ شیڈول کی وجہ سے ہر بار ہماء کو ہی اپنے بچوں سمیت پاکستان آنا پڑتا مگر اِس بار حمزہ بھی ایک لانگ لیو پر جانے کا اِرادَہ کر رہے تھے۔

’’نہیں امی! نومبرکے آخری ہفتے میں ہے۔ آپ لوگ زیادہ عرصے کے لیے آجائیے گا۔ بہت عرصے بعد گھر میں کوئی شادی آئی ہے۔۔۔ وہ بھی دو دو شادیاں۔‘‘

نایاب اور احمد ہماء کے پھوپھی ساس اور چچی ساس کے بچے تھے جن کی شادی کے لیے گھر کا ہر فرد پُر جوش تھا۔ بہت دِنوں بعد کسی خوشی نے خان محل کے دروازے پر دستک دی تھی جسے مدِ نظر رکھتے ہوئے مُراد نے ہادی سے پہلے ہی پریم چند کو گھر کی مینٹیننس کے لیے کہہ دیاتھا۔

’’ہاں کہوں گی کہ کسی بھی طرح تین ہفتے کا لانگ بریک لےلیں۔ ان کے سب کولیگز فیملی کے ساتھ چھٹیوں پر جاتے ہیں مگر یہ ہیں کہ جو باس نے کہا بس وہی کرتے ہیں۔‘‘انھوں نے ماتھے پر بل ڈالتے پہوئے کہا۔

’’جی امی۔۔صحیح کہا آپ نے۔۔۔چلیں میں فون رکھتی ہوں۔ سب کو سلام دیجیےگا!‘‘

’’اچھا صحیح۔۔۔اوربیٹا! ماہِ نو کا بھی خیال رکھنا۔۔۔اگر پاس ہے تو بات کروا دو تم۔‘‘

’’نہیں وہ باقی سب کے ساتھ باہر گئی ہے۔اُسے جلیبیاں کھانی تھیں امّی!‘‘ ہماء نے قدرے اُکتائے کہا تو دوسری جانب سمیرہ قہقہے لگانے لگیں۔ وہ سنجیدہ تھی مگر سمیرہ بھی اس کے مزاج سے واقف تھیں۔ ہماء ایک سلجھی ہوئی بے وقوف لڑکی تھی۔ نہ صرف گھر کی بڑی بیٹی ہونے کے ناطے بلکہ ہر بار اپنا من مار کر دوسروں کو خوش کرنے نے بھی اُسے اپنے والدین کی نظر میں ذمہ دار بنا دیا تھا۔اور سسرال والے؟ وہ اس کی کم سنی میں گھریلو سمجھ بوجھ کو جہاں سراہتے تھے وہیں اس کی نادانیوں پر ہنستے بھی تھے۔

’’چھوٹی ہے وہ اور ویسے بھی۔۔۔ وہ وہاں انجوائے کرنے گئی ہے تو کرنے دو نا۔ سب کو سلام دینا۔ اللہ حافظ!‘‘سمیرہ نے معمول کے مطابق ہماءکو بڑے ہونے کا احساس دلایا۔ آخر اس کا فرض تھا کہ وہ چھوٹے بہن بھائی پر شفقت کا ہاتھ رکھ کران کی بگڑی ہوئی عادات کو نظر انداز کرتی مگر جس بات نے اسے پریشان کر رکھا تھا وہ ماہِ نوکا ضدی مزاج تھا۔ وہ بچپن میں بھی اگر کسی چیز پر ہاتھ رکھ دیتی تو حمزہ اسے فوراً دلا دیتےتھے۔ چاہے وہ گڑیا ہوتی یا اس کا ڈال ہاؤس۔ اب تو وہ بالغ تھی اور بات کسی کھلونے یا کھانے کی شے کی نہیں بلکہ ایک زندہ وجود کی تھی جسے وہ جنون بنا بیٹھی تھی۔

✧✧

تھڑڈ فلور پر موجود چچی فرحت کا باورچی خانہ ایک قدیم باورچی خانے کی طرح سجایا گیا تھا جو ماہِ نو کو بے حد خوبصورت اور نفیس معلوم ہوتا تھا۔ وہ اُس کےقدیمی سنگِ مر مر کے فرش پر بیٹھے فرحت اور ان کی بیٹیوں سے باتوں میں مشغول تھی جو دونوں ہاتھوں سے لڈوُ بنانے میں مصروف تھیں۔ فرحت زاہد کی بیوی تھیں جو گھر میں تیسرے نمبر پر تھے۔ یہ ماہِ نو کے قیام کا پانچواں دن تھا جو اُسے آنٹی فرحت کے زیرِ میزبانی گزارنا تھا۔ اب اُس کے دل کا پیمانہ اِس پروٹوکول اور محبت سے بھرنے لگا تھا پر اگر نہیں بھرا تھا تو لذیذ کھانوں سے جو لاہور میں بھی اُس کے لیے ’اینٹی سٹریس پِل‘ کا کام کرتے تھے۔

اُسے نہ ہی صرف لکھنؤ کی بلکہ لاہور کے بھی کچھ علاقوں کی جلیبیاں پسند تھیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ لکھنؤ آتے ہی اس نے پہلی فرمائش جلیبیاں کھانے کی کی تھی۔ اگر وہ آدھے منہ بھی فرمائش کرتی تو مراد اُسے جلیبیاں گھر منگوا دیتے مگر اس کی خواہش باہر جا کر کھانے کی تھی کہ شاید وہ سب کی مصروفیت کے باعِث ایک بار پھر اُسے ہادی کے ساتھ بھیج دیں مگر ایسا ہونا شاید ہی ممکن تھا۔ اُسے مراد خان کی پوری فیملی کے ساتھ ہی باہرجانا پڑا جسے لے کر وہ خاصا مایوس تھی۔

’’کیا سوچ رہی ہیں باجی؟‘‘عنایہ نے لڈوُکو ہاتھوں سے گول کرتے ہوئے پوچھا۔

’’کچھ خاص نہیں۔ بس یہی کہ یہاں آئے ہوئے مجھے پانچ دن ہو گئے اور پتا بھی نہیں چلا۔‘‘اس نے خاصی سنجیدگی سے کہا۔ مایوسی اور وصالِ محبوب کی آرزو اس کی آنکھوں سے صاف جھلک رہی تھی۔اس نے فطرتاً زیِرِ لب رنجیدہ مسکراہٹ کھینچی جسے عنایہ سمجھ نہیں پائی۔

’’ہاں ہم بھی یہی سوچ رہے تھے۔ آپ کو تھوڑا اپنا شہر گھماتے۔ یہاں کے بازاردکھاتے۔‘‘عنایہ نے پر جوش انداز میں ماہِ نو کے چہرے سے اُداسی ہٹانے کے لیے کہا جسے ماہِ نو نے سر ہلا كر ہوا میں اڑا دیا۔

’’چچی آپ کو کچھ چاہیے؟ ہم باہر جا رہے ہیں آتے ہوئے لے آئیں گے۔‘‘ہادی نے باورچی خانے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ فرش پر بیٹھی ماہِ نو پر اُس کی نظر نہیں پڑی مگر اس کی آواز نے ماہِ نو کے دل کے تار ہلا دیے تھے۔ اس نے سر اٹھایا تو اپنی نظروں کو چھ فوٹ لمبےوجود پر پایا جو بے حد عاجزی سے فرحت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ فرحت نے ہادی کو ایک لمبی لسٹ تیار کر کے دی جس دوران ہادی کو گمان نہیں بلکہ یقین ہو گیا کہ ماہِ نواُسےعادتاً نہیں بلکہ شوقیہ گھورتی تھی۔ یہ کوئی پہلی لڑکی نہیں تھی۔۔۔ تعجب خیز بات یہ تھی کہ آٹھ سال پہلے ہونے والی ملاقات اور اِس ملاقات میں وہ وہیں کی وہیں تھی۔

اِدھر ماہِ نو کے چہرے کی کھوئی ہوئی رنگت ایک بار پھر بحال ہو گئی تھی۔ ہونٹ تھے جو نہ جانے کس ضد میں کانوں کی طرف کھچےجا رہے تھے اور آنکھیں اس وجود سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں جو کبھی تعجب میں اس کی جانب دیکھتا تو کبھی اپنی چچی کو۔اس کی مشکل حل ہوئی جب فرحت نے آخر کار اسے لسٹ تھما کر جانے کو کہا۔ فرحت کی طرح اِس گھر کی سب عورتیں اپنی بچیوں کو ہادی سے دور ہی رکھتی تھیں جس کا اندازہ ہادی اور اس کے گھر والوں کو بھی تھا۔ اسےگھر کی ہر لڑکی اپنی چھوٹی بہن زونی کی طرح لگتی تھی جسے گھر والوں کو سمجھانا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔ سب کی نظر میں وہ ایک غنڈا، فحاش اورنکِماّ لڑکا تھا جو بہانے بہانے سے کام کے ذریعے گھر کی لڑکیوں پر ڈورے ڈالتا تھا۔پر وہ ایسا تھا یا نہیں۔۔۔ یہ ثابت کرنا وہ ضروری نہیں سمجھتا تھا۔

’’امی اِسے کہا کریں کہ باہر ہی رہ کر بات کیا کرے۔‘‘عنایہ نے غصے سے آنکھیں پھیرتےہوئے کہا۔

’’اور کیا ضرورت تھی اُسے لسٹ دینے کی۔ اتنے لڑکے ہیں گھر میں۔ فضول میں دل جیتنا چاہتا ہے۔ پتا نہیں اب کسے چھیڑنے کا اِرادَہ رکھتا ہے!‘‘عنایہ کے چُپ ہوتے ہی نایاب نے غصے سے کہا جو پچھلے آدھے گھنٹے سے خاموش بیٹھی تھی۔

’’اُفوہ! کام کردیتا ہے کافی نہیں؟ کوئی ایسی حرکت کرے گا تو ہم تمھارے ابو کو بتادیں گے۔‘‘فرحت نے اپنی بیٹیوں کو خاموش رہنے کا کہا توماہِ نو جو وہاں بیٹھی تمام باتیں سن رہی تھی اُٹھ کرہماءکے کمرے میں چلی آئی۔ جو رنگت اور بہار اس کے چہرے پر پہلے آئی تھی وہ اسی تیزی سے غائب ہونے لگی تھی۔ ان کی باتوں میں کتنی سچائی تھی وہ کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی۔ نہ کبھی اس سے بات کی نہ کبھی اس کا ذکر۔۔۔پھر اِتنی بے خبری تو جائزتھی۔ اگروہ اس کی خوبیاں نہیں جانتی تھی تو خامیاں؟ بھلا وہ کیسے بتاتی؟ اس کے لیے ہادی کا کسی کو چھیڑنا اِنتہائی نا قابلِ یقین تھا مگر۔۔۔ اپنے قدم تیزی سے ہماء کے کمرے کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے نیچے صحن میں بیٹھے ہادی کو دیکھا جو دادی سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ اسےپانچ دن بعد دیکھ رہی تھی اور شاید زندگی میں پہلی بار مسکراتا ہوا بھی۔ ہادی کی نظریں ماہِ نو پر پڑیں جو طیش میں ہماء کے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔ دونوں نے نظریں چرائیں اور ایک بار پھر منہ موڑ لیا۔اِس بات سے انجان کہ کچھ دیر پہلے بلا وجہ اُسے دیکھ کر مسکرانے والی لڑکی اچانک اُسے گھورنے کیوں لگی تھی وہ کندھے اچکائے دادی جان کو دن بھر کی مصروفیت سے آگاہ کرنے لگا۔ شکایت پھر وہی تھی۔۔۔وہ کہاں تھا جو پچھلے پانچ دن سے دادی سے ملنے نہیں آیا تھا؟

’’جیسا سب کہتے ہیں ہادی ویسا لڑکا ہے؟‘‘اس نے بازو کمر پر رکھتے ہوئے عالمِ تذبذب میں پوچھا تو ہماء اُسے چھیڑتےہوئے کہنے لگی۔

’’کیوں۔۔۔پسند ہے؟‘‘

’’طنز مت کرو۔ میں جانتی ہوں وہ برا نہیں ہے لیکن کسی سے سننا چاہتی تھی۔ وہ لڑکیوں کو چھیڑتا ہے؟ بولو!‘‘

’’ہاں اگر کسی لڑکی کو روک کر یہ کہنا کہ اپنا دوپٹہ سنبھال لیں ورنہ ٹائر میں پھنس جائے گا تو ہو گا بُرا۔‘‘اس نے شانے اچکاتے ہوئے سر جھٹکا۔

’’مطلب؟‘‘

’’مطلب یہ کہ جناب نے ایک دفعہ عباس صاحب کی بیٹی کو آواز دی کہ اپنا دوپٹہ اٹھائیں۔۔۔ ابھی پوری بات کہی بھی نہیں تھی کہ آنٹی اختر جو ہماری ہمسائی ہیں۔۔۔ انھوں نے گلی میں تماشا لگا دیا کہ ہادی چھت پر چڑھ کر محلےکی بیٹیوں کو چھیڑتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ ہادی اوپر والے کمرے میں رہتا ہے۔ اب اگر اس نے آپ کی بیٹی کو گھاس نہیں ڈالی تو یہ الزام لگانا کیا صحیح ہے کہ وہ باقیوں کو چھیڑتا ہے؟ اوپر سے انکل مرُاد۔ اچھے خاصے عقل مند ہیں لیکن جو باہر کے لوگ آ کر کہتے ہیں مان لیتے ہیں۔ بے چارہ ہادی۔ مجھے رہ رہ کر افسوس ہوتا ہے اُس پر۔‘‘ہماء نے کھل کر ماہِ نو کو وضاحت دی جو بگڑے ہوئے تاثرات لیے بیڈ کے کونے پر کھڑی تھی۔

’’خدایا! اسی لیے وہ اتنا رُوڈ اور الگ الگ رہتا ہے سب سے۔‘‘حیرانی اور اُداسی کے ملے جلے جذبات اس کے لہجے میں اُمڈنے لگے تھے۔

’’جب بھی انکل یا کوئی ڈانٹتا ہے وہ گھر سے فرار ہو جاتا ہے۔آدھی آدھی رات تک گھر نہیں آتا جس پر آنٹی پریشان رہتی ہیں۔ اب تو یہ بات بھی چل رہی ہے کہ وہ راتیں کسی براتھل پر گزرتا ہے۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے۔‘‘

’’اُف اللہ! کوئی میرے سامنے کہے تو سہی۔۔۔ جان نکال لوں گی اس کی۔‘‘اس نے دانتوں کو دباتے ہوئے عالمِ طیش میں کہا تو ہماء افسردہ ہو کر کہنے لگی۔

’’ہادی سے اِس گھر میں بہت کم لوگ محبت کرتے ہیں۔ لاسٹ ٹائم جب اُسے ڈانٹ پڑی تھی تو حیدر گھر پر تھے۔ انھوں نے معاملہ کافی ہینڈل کرلیا تھا۔ وہ حیدر کو اپنے ابوّ کے بعد اپنا سب کچھ مانتا ہے۔ وہ امریکہ سے آئیں گے تو پھر ہی ہنسے گا شاید!‘‘وہ اب اپنے آنسوؤں کو روک رہی تھی جو باہر آنے کو بےتاب تھے۔

’’اور تم بھی تب ہی ہنسو گی جب حیدربھائی آئیں گے۔۔۔جانتی ہوں۔ پریشان کیوں ہوتی ہو۔ فی الحال تم میرے غم کو دور کرو۔‘‘ وہ بے نیازی سے بولتے ہوئے پلنگ کا سہارا چھوڑ کرہماء کے برابر میں جا بیٹھی تھی۔

’’ویسے کسی نے سچ ہی کہا ہے۔‘‘جب ہماء اپنی بہن کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو ماہِ نو نےبھی مسکراتے ہوئے پوچھا۔

’’کیا؟‘‘

’’یہی کہ چھوٹی بہنیں سب سے دو ہاتھ آگے ہوتی ہیں۔‘‘یہ کہتے ہی وہ اپنی جگہ سے اُٹھی تاکہ پیچھے بلیّ کی طرح حملہ کرتی ہوئی ماہِ نو سے بچ کر بھاگ سکے۔ ماہِ نواس کی بات پر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر آئی تو ہادی کو صحن میں نہ پا کر دادی جان سے ملنے چلی آئی۔ اُسے تسلّی ہوئی۔۔۔ہماء کی باتوں نے دل میں جنم لینے والے تمام خدشات مٹا ڈالے تھے۔ اُسے خود پر ہنسی آرہی تھی۔۔۔بغیر جانے وہ محبت تو کر بیٹھی تھی۔۔۔اب اُسےجانتی کیسے یہ سب سے مشکل مرحلہ تھا۔

✧✧

’’یہ لو پچاس ہزار روپے۔باقی حیدر بھائی ایک دو دن تک بھیج دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تمھیں بتا دیں۔‘‘ہاتھوں میں لفافہ لیے ہادی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا تو اس کی نظر ماہِ نو پڑی جو ہڑبڑاہٹ میں دوپٹہ ڈھونڈ رہی تھی۔ نظریں جھکاتے ہی وہ معذرت کر کےایک قدم پیچھے ہو گیا کہ شاید تمام بے بُنیاد اِلزامات ایک لمحے میں سچے نہ ہو جائیں۔ وہ کتنی ہی دیر آنکھیں بند کیے اُس ایک جھلک کو ذہن سے ہٹانے کی سعی کرنے لگا جو نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے ماہِ نو کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔ کالی شلوار قمیض پرکھُلے سیاہ بال اُسےکبھی اتنےحَسِین معلوم نہیں ہوئے تھے۔ وہ اسے مزید دیکھنا چاہتا تھا مگر حد صرف یہیں تک کی تھی۔ کالی موٹی بادامی آنکھیں، خوبصورت باریک ناک اور سرخ ہونٹوں کا نقشہ حفظ کیےوہ چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔ نہ سر اٹھانے کی ہمت تھی نہ کمرے سے باہر جانے کی۔ ہادی کچھ دیروہیں ساکت کھڑے وہ سب دیکھنا چاہتا تھا جو وہ نہ دیکھ کر بھی محسوس کر رہا تھا۔

’’ہماء باتھ روم میں ہے۔۔۔ آپ۔۔۔آپ مجھے دے دیں میں اسے دے دوں گی۔‘‘ماہِ نو نے کانپتی آواز میں جواب دیا تو ہادی دھیمی آواز میں سر ہلاتے ہوئے بڑبڑایا۔‘‘دوپٹہ تو سنبھلتا نہیں!‘‘وہ یہ ہرگز نہیں کہنا چاہتا تھا۔۔۔اور جو کہنا چاہتا تھا وہ کہہ نہیں سکتا تھا۔

’’جی؟‘‘تنگ آ کر اُس نے بیڈ پر پڑے سرہانے کا سہارا لیتے ہوئے پوچھا۔دوپٹہ اب بھی نہیں مل رہا تھا جس پر دونوں کوشدید غصہ آرہا تھا۔

’’جی کچھ نہیں۔ ہم یہ ٹیبل پر رکھ رہے ہیں۔۔۔ اُمید ہے آپ اِس دفعہ احتیاط کریں گی۔‘‘اس نے لفافہ ٹیبل پر رکھا اور آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھ کر واپس چلا گیا۔ اُس کا مطلب کیا تھا وہ اچھے سےسمجھ گئی تھی۔ وہ خوش تھی۔۔۔ پریشان تھی یا حیران۔۔۔ سب کیفیات آپس میں ملنے لگی تھیں۔

اس کے باہر نکلتے ہی ماہِ نو نے ہوا میں جیسے اُچَھلْنا شروع کردیا۔ وہ آٹھ سال یہی سوچتی رہی کہ اُن میں پہلی بات کیا، کیسے اور کب ہوگی۔ بات جیسے بھی ہوئی وہ سب بھلا بیٹھی تھی۔۔۔ اس کی خوشی اس کے غصے پر سبقت جولے گئی تھی۔ ہادی کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ شاید بدتمیزی کربیٹھتی۔ بھلا دوپٹہ نہ ملنے میں اس کی کیا غلطی تھی مگر وہ اُس سے بدتمیزی کیسے کر سکتی تھی۔ اسے لگا منزل خود اس کے قریب آرہی تھی پر ملاقات اب یہاں اور ایسے ہونی تھی۔۔۔ اُس نے سوچا بھی نہیں تھا۔

’’میں ٹھیک ہوں امی! آپ سنائیں۔۔۔سب ٹھیک ہیں؟‘‘اس نے ناخن چباتے ہوئے سمیرہ کا حَال دریافت کیا اور ہادی سے ہونے والی انوکھی ملاقات پر سر ہلانے لگی۔ کاش وہ سمیرہ کو سچ بتا سکتی کہ وہ بالکل بھی ٹھیک نہیں تھی۔

’’سب ٹھیك ہیں۔ ہفتے میں پہلا فون ہےتمھارا۔ کیا اتنا دل لگا ہے وہاں؟‘‘سمیرہ شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’نہیں امی ایسی بات نہیں۔ مصروفیات ہی کچھ ایسی ہیں۔ صبح لیٹ اٹھتی ہوں پِھر دادی جان سے ملنے چلی جاتی ہوں۔ پچھلے دو دن سے یہ سب مجھے لکھنؤ گھمانے کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ آج بازار جانے کا پلان ہے۔ سوچا کچھ کپڑے میں بھی لے لوں۔‘‘

’’چلو یہ تو اچھی بات ہے۔ ہم نایاب کی شادی پر آئیں گے لانگ بریک لے کر۔ تم شاید تب تک اُدھر ہی رہو۔‘‘

’’مجھے تو رُکنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔اِن فیکٹ میں تو یہیں رہنا چاہتی ہوں۔ یہاں تو سب تیاریوں میں مصروف ہیں۔ حیدر بھائی بھی شادی پر آئیں گے۔‘‘

’’ہاں وہ تو معلوم ہے مجھے۔چلو اچھا ہے۔ وہ بھی کافی مہینوں سے گیا ہوا تھا۔ اچھا میں تمھارے ابوّ کو چائے دے دوں۔ خیال رکھنا۔‘‘

’’خدا حافظ!‘‘اس نے فون رکھا اور ہماءکے کمرے میں چلی گئی جہاں زونی اور عنایہ پہلے سے موجود تھیں۔

’’شکر ہے تم آگئی۔ تیار ہو جاؤ۔۔۔ ابھی چلتے ہیں تاکہ مغرب سے پہلے واپس آجائیں۔‘‘ہماء نےچادر اوڑھتے ہوئے کہا تو ماہِ نو پلٹ کر کہنے لگی۔

’’او ر نایاب؟ وہ نہیں جا رہی؟‘‘

’’نہیں اُسےبخار ہو گیا تھا رات کو۔ معذرت کر رہی تھی۔ ہم چاروں چلتے ہیں نا۔‘‘

’’ہاں ٹھیک ہے۔ تم لوگ نکلو میں چادر لے کر آتی ہوں۔‘‘یہ کہتے ہی ماہِ نو نے الماری سے چادر نکالی اور اوڑھ کر نیچے چلی آئی۔ صحن کے دروازے پر پہنچتے ہی ان کا سامنا مُراد خان سے ہوا جنھوں نے انھیں اکیلے جانے سے منع کردیا۔وہ اُنھیں کسی ملازم کے ساتھ جانے کی تلقین کرنے کے بعد ہادی کو کال کرنے لگے جس سے ماہِ نو کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تو پھیل گئی مگر ہادی کو لے کران کا رویہ دیکھ اُسے شدید افسوس ہوا۔ اس نے ِترچھی نظر سے ہماءکو دیکھا جو سر جھکائے بے بس کھڑی تھی۔

’’ہادی! فوراً نیچے آؤ۔ ہماءاور باقی بہنوں کو بازار لے جاؤ۔ اِس دفعہ ہمارا بھروسہ ٹوٹنے نہ دینا۔‘‘مُراد نے ہادی کو فون پر تلقین کی تو عنایہ کے سِوا باقی تینوں لڑکیاں خود کو ہادی کی اِس خوامخواہ تذلیل کا سبب سمجھ کرشرمندہ ہو گئیں۔ پانچ منٹ بعد ہادی سادہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس نیچے آکر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تو ہماء اِشاروں میں معذرت کرنے کے بعد سب کو لے کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔

لکھنؤ کی عبدل مارکیٹ اور لاہور کی لبرٹی مارکیٹ میں صرف یہی فرق تھا کہ لبرٹی مارکیٹ میں ویرائٹی اور صاف ستھرائی کا خاصا خیال رکھا جاتا تھا۔ عبدل مارکیٹ میں نہ تو خاص ویرائٹی تھی اور صفائی بھی اِچھرہ بازار کی صفائی کی یاد دلاتی تھی۔ بازار میں داخل ہوتے ہی ماہِ نونے ہماءکو حیرانی سے دیکھا جس نے ہنس کر اسے بتایا کہ وہ خود بھی پہلی دفعہ یہاں آکر بہت حیران ہوئی تھی۔ وہاں اِس قدر بھیڑ تھی جیسے لاہور کے سب مشہور اور بڑے بازاروں کا رش وہیں آگیا ہو۔

’’کیا لکھنؤ میں کوئی اور بازار نہیں؟‘‘ شاید وہ پہلا سوال تھا جو ہادی نے ماہِ نو کے چہرے پر محسوس کیا تھا۔ آستین موڑے وہ چُپ چاپ ان کے پیچھے چلتا رہا۔ اتنی بھیڑ ہونے کے باوجود بھی وہ ہر دوسری دکان پر رُکتیں۔ ہر شے پر نفی میں سر ہلائے وہ اگلی دکان پر چلی جاتیں جس پروہ بھی نفی میں سر ہلاتااور سائے کی طرح اُن کے پیچھے پیچھے چلتا جاتا۔ اسےلڑکیوں کی شاپنگ سے کس قدر نفرت تھی یہ زونی اور ہماءبہتر سمجھتی تھیں۔ اس کی زندگی کی ایک بڑی غلطی اپنی امی اور زونی کے ساتھ بازار جانے کی تھی۔ گھنٹہ گھنٹہ ایک ہی چیز کے لیے بحث کرنا اور پانچ پانچ گھنٹے گھوم کر بھی گھر خالی ہاتھ واپس لوٹنا اس کا بدترین تجربہ تھا۔وہ دو سال بعد دوبارہ اسی بازار میں کھڑا تھا جہاں مردوں کی عجیب بھیڑ اور مشکوک نگاہیں عورتوں پر جمی رہتی تھیں۔ اپنی بُری ریپوٹیشن کے بر عکس وہ انتہائی غیرت مند تھا جو اپنی گھر کی عورتوں کے دُوپٹے کا سر سے سِرکنا اُسی شدت سے نا پسند کرتا تھا جس طرح کسی غیر مرد کا ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا۔

ماہ ِنو کو بچپن سے ہی غرارہ پہننے کا بے حد شوق تھا۔ وہ بازار میں بھی اسی حسرت سے آئی تھی مگر اس کی نظروں نے کسی بھی خوبصورت شے پر پڑنے کی زحمت نہ کی۔ ذہن تھا جو اصل مقصد سے ہٹ کر کسی اور کو سوار کیے ہوئے تھا۔ آنکھیں تو سمندر کی گہرائی میں ڈوب کر اسی شخص کی تلاش میں مصروف تھیں اور دل؟ وہ تو آٹھ سال پہلے ہی کنارے لگا تھا۔ اب ایسے میں وہ کیا بھی پسند کرتی سمجھ سے باہر تھا پرسفید چادر میں لپٹی ماہِ نو کو کسی بھی دکان سے اپنے غرارے کے لیے کپڑا پسند نہ آیا۔ کبھی کپڑے میں نقص نکل آتا تو کبھی اس کے پرنٹ میں، کبھی میچنگ میں تو کبھی دل کے موسم میں۔

’’مجھے کہیں بیٹھنا ہے۔ میں تھک گئی ہوں پلیز۔یہ کیسا بازار ہے؟ اتنا رش!‘‘اس نے منہ ٹیڑھا کرتے ہوئے کہا توہادی نےپلٹ کر کہا۔

’’اِس بھیڑ میں آپ آرام سے کھڑی بھی ہو جائیں تو بڑا ہے اور یہ آپ کا لاہور تو ہے نہیں۔۔۔ ویسے بھی شام ہونے والی ہے۔۔۔ہمیں کچھ ہی دیر میں واپس گھر بھی جانا ہے۔‘‘

’’لاہور نہیں مطلب؟‘‘اس نے تجسس میں بھویں اچکاتےہوئے پوچھا۔ وہ اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

’’مطلب یہ کہ وہاں جیسی آزادی آپ کو یہاں نہیں ملے گی۔ جیسی آزادی آپ چاہتی ہیں۔‘‘اس نے آزادی پر زور دیتے ہوئے سر جھٹکا توماہِ نو نے بازو کمر پر رکھتے ہوئے حیرانی سے پوچھا جیسے ابھی محلے کی عورتوں کی مانند گلے پڑ جائے گی۔

’’کیا مطلب ہے آپ کا اِس بات سے؟‘‘میزبانی کے آخر کیسے تقاضے تھے؟وہ اس سے جنگ کرنے تو نہیں آئی تھی۔

’’مطلب یہ کہ آپ کے نخرے اٹھانے کے لیے آپ کے ابو نے کوئی ملازم تو بھیجا نہیں ساتھ۔ لہذا بہتر ہو گا اگر آپ بغیر کوئی نقص نکالے باقی وقت بھی نکال لیں۔‘‘ایک ہاتھ سر پر پھیرتے ہوئے اس نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا۔ اس میں ایٹیٹیوڈ تھا یا بے مُروتی۔۔۔ یہ ماہِ نو اب تک نہیں سمجھتی تھی۔ سڑک کے بیچ کھڑے وہ دونوں اِس بات سے بالکل انجان تھے کہ ہماءاور زونی اب کافی آگے نکل چکی تھیں۔لوگوں کی بھیڑ سے دھکے کھاتے ہوئے بھی انھیں احساس نہیں ہوا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے سڑک کے درمیان کھڑے بحث کر رہے تھے۔

’’ارے کمبختو! شہرمیں کوئی اور جگہ نہیں ملی تھی باتیں کرنے کو؟‘‘ایک اُونچے ڈیل ڈول کی عورت نے انھیں دھکا دیتے ہوئے کہا جس سے انھیں اپنی بچگانہ حرکت پر شرمندگی کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آئی۔ ماہِ نو اپنی مسکراہٹ دبانے کی سعی کر رہی تھی مگر ہادی بے سا ختہ مسکرانے لگا۔کچھ پل تو ماہِ نو کو بھی اپنی حرکت پر ہنسی آئی پر آج سوال اس کی عزت کا تھا جس پر وہ چاہ کر بھی سمجھوتا نہیں کر سکتی تھی۔ اس کا دل چاہا کچھ دیر اسے ہنستا دیکھتی رہے جو شاید زندگی میں پہلی بار یوں مسکرا رہا تھاپر اس نے اپنی آنکھیں پھیریں اور سرَ جھٹک کر غصے سے آگے چلی گئی۔ اگر اس کی جگہ زونی یا ہماء ہوتیں تو شاید وہ اب تک لاوے کی طرح پھٹ چکا ہوتا مگر وہ کسی بھی حق سے ماہِ نو پر غصہ نکلنا نہیں چاہتا تھا۔

’’یہ دیکھو ہماء۔۔۔ کتنی خوبصورت ہیں!‘‘چاندی کی نازک سی پائل ماہِ نو کے خوبصورت پیروں پر خوب جچ رہی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے شلوار کو ہلکا سا اٹھائے وہ ایک ایک کر کے سب کو پائل دکھانے لگی۔

’’واقعی بہت اچھی لگ رہی ہے۔‘‘ زونی نے بشاشت سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں نہ! لے لو پلیز۔ ایسا لگ رہا ہے تمھارے ہی پیروں کے لیے بنی ہے۔‘‘برابر میں کھڑی عنایہ بھی سراہتی نظروں سے مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

’’تمھیں معلوم ہے نا ابوّ کو یہ چیز نہیں پسند اور انکل مُراد کو بھی اس کی آواز سے نفرت ہے۔ ایک دفعہ میں نے پہنی تھیں تو مریم کے ہاتھ پیغام بھیجوایا کہ پائل اُتَار کے مہمانوں کے سامنے آئیں۔‘‘ہماءنے اس کے ہاتھ سے پائل لے کر واپس رکھ دی جس پر وہ سر جھکائے چُپ چاپ ایک طرف کھڑی ہو گئی۔ اُس کے چہرے پر مایوسی شاید دکان دَار نے بھی محسوس کی۔

’’یہ بھلا کوئی چیز ہے جس سے مسئلہ ہو؟‘‘ماہِ نو نے منہ بناتے ہوئے کہا اور آگےچلنے لگی۔ ہماءنے پیچھے آتے ہوئے اسے کچھ اور پسند کرنے کو کہا مگر اُس نے بھی ضد میں آ کر کچھ نہیں لیا۔ اس کے پیروں نے پائل کی خوبصورتی اور بڑھا دی تھی۔۔۔ وہ چاہتی تو بند کمرے میں بھی انھیں پہن کر گھوم سکتی تھی مگر وہ دولت کو اپنے نفس کے آگے ضائع کرنے کی بات تھی۔

’’تم لوگ گاڑی میں بیٹھو ہم ابھی آئے۔‘‘ مزید ایک گھنٹہ گھومنے کے بعد ہادی نے ان سب کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا تو ہماء نےگاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئےپوچھا۔

’’تم کہاں جا رہے؟‘‘

’’وہ دوست کا ایک کام یاد آگیا۔ بس دو منٹ۔‘‘اس نے سب کو گاڑی میں بٹھایا اور کچھ ہی دیر میں واپس آ کر گاڑی اسٹارٹ کردی۔

’’آئس کریم کھاؤ گی؟‘‘وہ بازار میں ہونے والی چند لمحات کی اس تلخ گفتگو کو اب بھلا چکا تھا۔ اس نے فرنٹ مِرر سے پیچھے بیٹھی ماہِ نو کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو منہ پھلائے ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔

’’ماہِ نو ہم تم سے پوچھ رہے ہیں۔‘‘ہادی نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا جس پر اس نے اپنا سر موڑ کر شیشے سے ہادی کو دیکھا۔اس نے نفی میں سر ہلایا اور دوبارہ ونڈ اسکرین کے پار دیکھنے لگی۔ افسردگی کے اِس عالم میں اس نے یہ بھی غور نہ کیا کہ جو لفظ سننے کے لیے وہ آٹھ سال سے منتظرتھی ہادی کتنی آسانی اور خوبصورتی سے کہہ گیا تھا۔

’’صرف وہ ہی کیوں؟ ہم بھی ہیں بھائی!‘‘زونی نے احتجاجاً کہا تو ہماءبھی حیرانی کے عالم میں ہادی کو دیکھنے لگی جو اب بھی ماہِ نو کو فرنٹ مِرر سے دیکھ رہا تھا۔

’’تم سب نے کچھ نہ کچھ لیا ہے۔ اسی لیے اس سے پوچھا ہم نے۔‘‘ہادی نے بات کا پہلو بدلنے کی سعی کی۔

’’نہیں کھائے گی وہ۔ موڈ پتا نہیں کب ٹھیک ہو گا اس کا۔ چھوڑو تم اسے۔ گھر چلو میرے بچے رو رہے ہوں گے۔‘‘ہماءنے بات کو فوراً بدلتے ہوئے کہا۔ وہ اگر یہ نہ کہتی تو شاید ہادی فرنٹ مِرر سے نظریں ہٹاتاہی نہیں۔ اُسےمعاملے کے بگڑنے کی عجیب سی بو آرہی تھی پر افسوس کہ نتیجے پر پہنچنے کے لیے عقل کی ضرورت تھی جس کا ہماء سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔

’’تم اور تمھارے بچے!پیدا ہی کیوں کیے جب پالنے نہیں آتے۔‘‘ماہِ نو سے نظریں ہٹائے اُس نے غصے سے ہماء کو دیکھا اور گاڑی گھر کی طرف موڑ لی۔ وہ آج پہلی بار اپنی جسارت پر حیران ہوا تھا۔ اِس سے پہلے تو اُس نے کبھی کسی لڑکی سے آئس کریم کا نہیں پوچھا تھا۔۔۔یا شاید۔۔۔کسی سے پوچھا تھا پر۔۔۔

اچانک اُسے اپنی بے جا مروتی پر افسوس ہوا۔ اُس نے نفی میں سر ہلایا اور دل میں اُبھرنے والے احساسات کو بھگانے لگا۔ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا مگر محبت نہیں۔ اگر محبت کر بیٹھتا تو اپنے مقصد میں ناکام ہو جاتا جو وہ بالکل بھی افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ آٹھ سال کی محنت پر پانی پھیرتا ہوا آئس کریم کا یہ سوال۔۔۔اُسے اپنے کیے پر بے حد افسوس ہوا۔ خیالوں کی ٹرین کی چین کھینچے وہ واپس اُسی سٹاپ پر کھڑا ہو گیا جہاں آٹھ سال پہلے کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے سب کی نظروں سے دور ہو گیا تھا۔ وہ کہاں جانتا تھا کہ جس سٹیشن پر اُترنا چاہتا تھا اُس سے پہل کسی سٹیشن پر کھڑا کوئی بےتابی سے دو ٹکٹیں لیے اُس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔اُس نے تاسف میں فرنٹ مِرر ہماء کی طرف موڑا اور اپنی نظروں کواُس حسین چہرے پر پڑنے سے روک لیا۔

✧✧

’’کس بات پر منہ پھلائے بیٹھی ہو؟‘‘ہماء نے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے ماہِ نو سے پوچھا جو پچھلے پانچ گھنٹے سے سر پر بازو رکھے لیٹی ہوئی تھی۔

’’میں نہیں جانتی۔۔۔سونے دو مجھے۔‘‘اُس نے کروٹ لے کر منہ دوسری جانب پھیر لیا۔

’’جب سے واپس آئے ہیں تم لیٹی ہی ہوئی ہو۔۔۔ رات کے نو بج گئے ہیں۔ کبھی اتنی جلدی نہیں سوئی تم۔۔۔اور اگر سو بھی گئی تو رات کو پھر آنکھ کھل جائے گی۔‘‘ہماء اسے ہلاتے ہوئے کہنے لگی پر اُس نے بھی کوئی جواب نہ دیا۔

’’ہادی نے کچھ کہا؟‘‘

’’وہ؟ وہ تو کچھ کہتا ہی نہیں مجھ سے!‘‘لہجے میں عجیب سی مایوسی تھی جیسے اس نے خواہش کے پورا ہونے کی امید گنوا دی ہو۔

’’پوچھا تو تھا اُس نے تم سے آئس کریم کا۔ جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ جواب ہی نہیں دیا تم نے۔‘‘ہماء نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور پلنگ پر پڑے کپڑوں کو سمیٹنے لگی۔کچھ دیر نہیں گزری کہ ماہِ نو اٹھی اور اپنی چپل ڈھونڈنے لگی۔

’’کیا ہوا؟ کہاں جا رہی ہو؟‘‘وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ اچانک اسے کیا ہو گیا تھا جووہ بوکھلائے ہوئے انداز میں کرسی سے دوپٹہ اٹھا کر اوڑھنے لگی تھی۔

’’ارے خیریت ہے نا؟ بیٹھے بٹھائے کیا ہوا؟‘‘

اُس نے فوراً باتھ رُوم میں جا کر منہ پر پانی کی دو چھینٹے ماریں اور شیشے کے سامنے کھڑی الجھے سیاہ بالوں کو سلجھانے لگی۔ وہ آخر ایسا کیا کرنے کا سوچ رہی تھی جس نے اُس کے ساکت وجود میں روح پھونک دی تھی؟ وہ چند ہی لمحوں میں تمام تھکاوٹ اور مایوسی بستر پر چھوڑ کہیں جانے لگی تھی۔ زلفوں کو ترتیب دینے کے بعد اس نے چپل پہنی اور دروازے کی جانب چل دی۔

’’میں تم سے پوچھ رہی ہوں۔ کہاں جا رہی ہو؟‘‘ہماء نے اس دفعہ خاصا غصے سے پوچھا۔ وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار کون سا محاذ لڑنے جا رہی تھی جو ہماء کے ایک سوال کا جواب دینا بھی مشکل ہو گیا تھا؟

پرماہِ نو کا دل چاہا ہماء کو گلے لگا کر اس کا شکر ادا کرے کہ غصے میں ہی سہی، اس کی تھپکی ماہ ِنو کو واپس حقیقت میں تو لائی تھی ورنہ وہ اب بھی دور سمندر پار کسی تصوراتی دُنیا میں پہنچی ہوتی جہاں وہ اور اس کی مایوسی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اگر آج ہماء اُسےاِس بات کا احساس نہ دلاتی تو نہ جانے وہ کب خود کو ہادی کے منہ سے مخاطب ہوتا سن پاتی۔ ابھی دیر نہیں ہوئی تھی۔ پُرانے سوالوں کے جواب دیے جا سکتے تھے۔ سِپی کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو اُس میں اُگے موتی کی چمک ہمیشہ زندہ رہتی تھی۔ اُسے لگا وہ چمک تو محفوظ تھی ہی پر کہیں وہ سِپی سمندر کی تیز لہروں میں گم ہو گئی تھی۔ یہی وقت تھا۔۔۔ آخر کبھی نہ کبھی تو اُسے وہ موتی تلاش کرنا ہی تھا۔

’’ارے کچھ تو بولو۔۔۔کہاں چلی؟‘‘

’’آئس کریم کے سوال کا جواب دینے۔‘‘کمرے کی دہلیز پر کھڑی وہ اب رُکی اور انتہائی اطمینان سے مسکراتے ہوئے جواب دے کر بھاگ گئی۔ وہ پہلے لاؤنج میں گئی پر وہاں سب کو غیر حاضر پا کر لان میں چلی گئی۔ اچانک اُسے اپنی بے وقوفی پر ہنسی آئی۔ بھلا جسے سب نا پسند کرتے ہوں وہ سب کے درمیان کیسے ہو سکتا تھا؟ وہ واپس شبنم کے پورشن میں بھاگی اور باورچی کھانے میں داخل ہو کر کہنے لگی۔

’’آنٹی ہادی کہاں ہے؟‘‘

’’اُوپر اپنے کمرے میں ہوگا۔۔۔خیریت؟‘‘شبنم نے معمول سے ہٹ کر اضافی سوال کیا جو وہ اگرنہ بھی کرتیں تو شاید انھیں فرق نہ پڑتا کہ آخر کوئی تو اُن کے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ جس لڑکی نے نہ کبھی ہادی سے کوئی بات کی اور نہ ہی رسمی علیک سلیک۔۔۔ وہ اچانک کیوں اس کا پوچھنے چلی آئی تھی۔کیا اُس نے کوئی بدتمیزی کی تھی جو وہ شکایت کرنے آئی تھی؟

’’جی ہاں۔۔۔اس سے کچھ کام تھا۔‘‘اُس نے مہارت سے جذبات پر پردہ ڈالتے ہوئے جھوٹ بولا اور ہادی کے کمرے کی جانب بڑھنے لگی۔ اسے کس بات کی جلدی تھی شبنم اگر چاہتیں تو اسے روک کر پوچھ سکتی تھیں مگر یہ خیال کہ ہماء کے علاوہ کوئی اور بھی اُسے پسند کرنے لگا تھا انھیں من ہی من تسکین پہنچارہا تھا۔ وہ بھلے ہی اپنے جذبات پر پردہ ڈال گئی تھی پر اس کی آنکھوں کی چمک نے شبنم کو سب بتا دیا تھا۔

پٹیالا شلوار پر نیلے رنگ کا کرتا پہنے اُس نے پھرتی سے سیڑھیاں چڑھنا شروع کردیں۔ وہ پہلی بات کیا کرتی۔۔۔کس طرح باتوں کو عطر لگا کر پھولوں کی طرح نکھارتی کچھ معلوم نہیں تھا۔عرصے سےسینے کی سلاخوں میں بند احساسات وہ آخر کب تک روکے رکھتی؟ اس نے فوراً بالوں سے کلپ نکال کر اُنھیں جھٹکے سے گردن کے ایک طرف پھیلا لیا اور گالوں پر ٹھنڈے ہاتھ پھیرتے ہوئے دھیرے سے دروازے پر دستک دے کر دو قدم پیچھے کھڑی ہو گئی۔۔۔پر کوئی جواب نہ آیا۔ اللہ اللہ کرتے ہوئے اُس نے ایک بار پھر دستک دی تو کچھ قدم دروازے کی جانب بڑھنے لگے۔ اُس نے دروازے پر موجود پیپ ہول پر غور نہیں کیا پر کوئی آنکھ تھی جو مسلسل اس کے بدلتے تاثرات دیکھ مسکرائے جا رہی تھی۔ قدم جب وہیں ساکت ہو گئے تو وہ بھی اضطرابی میں کبھی کمر پر ہاتھ رکھتی تو کبھی گردن پر۔ کبھی گرد لپٹے دوپٹے کو صحیح کرنے لگتی تو کبھی کندھے پر سجے بالوں میں انگلیاں پھیر کر سلجھانے لگ جاتی۔ وہ بے چین ہو رہی تھی۔۔۔ دروازے کے پار کھڑا ہادی کبھی اس کے ہونٹوں کو دیکھتا تو کبھی اس کی بے قرار آنکھوں کو جو پریشان حال آسمان سے لے کر زمین تک کا سفر کر رہی تھیں۔ وہ ایک ایک کر کے اس کے چہرے کے نقوش پرکھتا پھر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرانے لگ جاتا۔ ماہِ نو کس قدر خوبصورت تھی وہ جائزہ لے رہا تھا۔

جب کوئی بھی جواب نہ آیا تو وہ اپنی غلطی پر مُسکرائی اورنفی میں سر ہلاتے ہوئے چلتی بنی۔ شاید وہ غلط شخص سے اُمید لگا بیٹھی تھی۔ پراگر آج وہ چلی جاتی تو ہادی کبھی بھی خود کو عزت کے لائق نہ سمجھتا۔ اُس نے فوراً دروازہ کھولا اور اسے روکنے کی خاطر کہا۔

’’کون؟‘‘

’’میں!‘‘اس نے سانس روکے کہا چونکہ دروازہ آدھ کھلا تھا تو اسے ہادی کا وجود نظر نہیں آیا۔

’’میں کون؟ بکری؟‘‘وہ زیرِ لب مسکرایا اور باہر آ کر دروازے کا سہارے لیےکھڑا ہو گیا۔ بلیک انڈر شرٹ جو اس کی جسم پر دوسری جلد کی مانند تھی اس کے فریش ورک آؤٹ سے تھوڑی بھیگ چکی تھی۔ کندھوں پر رکھا سفید تولیہ بھی اس کی ٹف ایکسرسائز کی وضاحت کر رہا تھا۔ اِس حالت میں بھی جب وہ پسینے سے شرابور تھا وہ دوبارہ اسے دیوانہ بنانے میں کامیاب رہا۔

’’مجھے آئس کریم کھانی ہے۔‘‘اس نے بلا جھجک کہا کہ ہادی بھی ششدر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سات گھنٹے پہلے پوچھے جانے والے سوال کا جواب اُسے اب اور ایسے ملنا تھا۔ اِس بار وہ اُس کی معصومیت پر مسکرایا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے واپس کمرے میں چلا گیا۔

کچھ دیرتو ماہِ نوہ وہیں اس کے غیر متوقع روّیے پر ہکّا بکا کھڑی رہی۔ ابھی واپس جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ہادی نے نہایت پیار سے بلند آواز میں کہا۔

’’اچھا اندر تو آؤ!‘‘ کمرے کی لائیٹ آن کرتے ہی اُس نے فوراً کرسی سے شرٹ اٹھا کر پہنی اور بستر پر پڑے کپڑوں کے ڈھیر کو سمیٹنے لگا۔

’’اب اِنویٹیشن دیں گے تو آؤگی؟ ہمیں بار بار کہنے کی عادت نہیں!‘‘پلنگ پر اس کے بیٹھنے کی جگہ بناتے ہی وہ پاس موجود ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ پہلا قدم اندر رکھتے ہی وہ حیرت سے کمرے کو دیکھنے لگی جہاں بیڈ، ایک عدد ٹیبل اور چھوٹی سی الماری کے سوا صرف ایکسرسائز کا سامان پڑا تھا۔ یہی وہ واحد جگہ تھی جو ہادی کو کئی نظروں سے کوسوں دور رکھتی تھی۔ فرش پر بچھے براؤن کارپٹ کے علاوہ باقی ہر شے بے رنگ تھی۔ وہ یہاں کیسے اور کیوں رہتا تھا وہ اندازہ لگا رہی تھی۔

’’آج ہی گندا ہوا ہے، ورنہ ہم صاف رکھتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے اَن کہے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے شرمندگی سے بتانے لگا جن کا جواب اب ضروری ہو گیا تھا۔ ماہِ نو کچھ دیر اس پلنگ پر بیٹھی اپنی کانپتی انگلیوں کو دیکھنے لگی جو خوامخواہ آپس میں ملنے لگی تھیں۔ اُس نے دلیری سے ایک بار پھر سر اٹھایا پر اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی دوبارہ جھکا لیا۔

’’جب ہم نے پہلے پوچھا تھا تب انکار کیوں کیا تھا؟‘‘ہادی نے یک دم سخت لہجے میں پوچھا تو ماہِ نو سر جھکائے معافی مانگنے لگی۔

’’سوری۔‘‘

ہادی قہقہہ لگا کر ہنسنا چاہتا تھا۔ وہ سمجھنے سے قاصِر تھی کہ آخر اِس شخص کا اصل رنگ کیا تھا؟ کبھی بالکل انجان تو کبھی پیار سے کمرے میں آنے کی دعوت دے کر یوں اچانک تذلیل کرنا کیا اس کی عادت تھی؟ کیا یہ اس کا نارمل روّیہ تھا؟

’’ارے نہیں۔ یہ بات نہیں۔ ہم ایک بار ہی کچھ پوچھتے ہیں جب موڈ ہوتا ہے۔اب ہمارا موڈ نہیں۔‘‘ وہ اِس بات سے واقف تھا کہ اس کے بعد وہ ایک تھپڑ کا حقدار ضرورہو گیا تھا۔ اس نے ماہِ نو کے چہرے پر مختلف نوعیت کے طوفانوں کو گزرتا دیکھا۔ وہ اب سر اٹھائے اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔ ہادی اِس قدر بے حس تھا۔۔۔ یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

’’اوکے۔‘‘اس نے سر ہلایا اور ایک بار پِھر چُپ کا گھونٹ پی کر کمرے سے نکل آئی۔

اس طرف ہادی اپنی حرکت سے ذرا بھی شرمندہ نہیں تھا۔۔۔پر اگر یہ بہنے والے آنسو اس کی وجہ سے ہوتے تو وہ خود کو کبھی بھی معاف نہ کر پاتا۔ اسے اُمید تھی کہ وہ کچھ دیر اسے گالیاں دے کر دل ہلکا کر لے گی مگر یوں سیدھا ’اوکے‘ کہہ کر چلے جانے نے اسے خاصا پریشان کردیا تھا۔وہ اُس کے احساسات کو نفرت میں بدلنا چاہتا تھا پر نہ جانے کیوں اپنے کیے پر ایک بار پھر پچھتاوے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔ اب اسے وہی کرنا تھا جو اُسے مناسب لگ رہا تھا۔

✧✧

واپس کمرے میں داخل ہوتے ہی ماہِ نونے طیش میں چپل اُتاری اور دوپٹہ کرسی پر پھینک کرپلنگ پر لیٹ گئی۔ وہ ہادی کے رویے پر ہرگز شرمندہ نہیں تھی بلکہ اسے اِس بات پر ندامت تھی کہ اس نے کس دلیری سے آئس کریم کی بات کر لی تھی۔ وہ جو اتنے دن سے ایک اچھی امیج بنانے کی کوشش میں تھی آج اپنی ایک احمقانہ حرکت کی وجہ سے شاید کھو بیٹھی تھی۔ تکیے میں منہ دبائے اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہماءکب سے اس کے سر پر کھڑی اسے چُپ کروا رہی تھی۔

’’کیا ہوا؟ کیا کہا اس نے؟‘‘ہماء نے اپنا ہاتھ اس کے بالوں پر پھیرتے ہوئے پوچھا۔ ماہِ نو جب بھی روتی تھی تو سمیرہ ٹھیک اسی طرح اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتیں اور گود میں سر رکھ کر بہلایا کرتی تھیں۔

’’کیا ہوا میرے بچے کو۔ کیا کہا ہادی نے؟‘‘ہماء نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے پوچھا۔

’’کچھ نہیں ہوا۔ کچھ نہیں کہا اس نے۔ میں ہی پاگل تھی۔ میں بھوکی تو نہیں آئس کریم کی۔ جاہل انسان۔۔۔ پھر کمرے میں اتنی تمیز سے بلا کر ذلیل بھی کیا۔ اب نہیں جاؤں گی میں۔‘‘ وہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہماء کے گلے لگ کر رونے لگی تو ہماء بھی منہ کھولے ہادی کی حرکت پر سر ہلانے لگی۔

یہ ماہِ نو کے منہ سے نکلی ہوئی آج دوسری بات تھی جس نے خان محل کے کسی فرد کو حیران کیا تھا۔ ہماءنے جو سنا تھا وہ پھر سے سننا چاہتی تھی۔ اُسے اپنی سماعت پر شک ہوا تو دوبارہ ماہِ نو سے پوچھنے لگی جس کا جواب ماہِ نو نے اِس بار تفصیل سے دیا۔

’’کیا کہا تم نے؟ وہ تمھیں اپنے کمرے میں لے کر گیا؟ بٹھایا؟ کیا؟!‘‘ہماء نے اپنی بڑی آنکھوں کو مزید بڑا کرتے ہوئے پوچھا۔

’’فارسی نہیں آتی مجھے ہماء۔۔۔کیا سنناچاہتی ہو یار!‘‘ماہِ نو نے جھنجھلاتے ہوئے بالوں کو کانوں کے پیچھےکرتے ہوئے پوچھا۔ وہ اب اپنے آنسو صاف کر رہی تھی جو بغیر کسی رکاوٹ کےبہے جا رہے تھے۔

’’میں کبھی اس کے کمرے میں نہیں گئی یار۔‘‘ ہماءنے’میں‘پر زور دیتے ہوئے بتایا۔ اس کی اَبرو حیرانی سے اوپر کی طرف کھینچی چلی جا رہی تھیں۔

’’زونی اور آنٹی بھی کبھی اس کے کمرے میں نہیں گئیں۔اُف اللہ! تم سچ کہہ رہی ہو؟‘‘

’’ہاں۔۔۔ام۔۔۔کیا کہہ رہی ہو؟‘‘وہ بھی جزبز کے عجیب عالم میں برابرششدر ہوئے کہنے لگی۔

’’سٹوپڈ۔ میں، آنٹی اور زونی کبھی بھی اس کے کمرے میں نہیں گئے۔اتنی دفعہ کوشش کی مگر اس بدتمیز نے اندر نہیں آنے دیا۔ تم واحد ہو پاگل!خیر۔۔۔ یہ بتاؤ کیا ہے اس کے کمرے میں؟‘‘ہماءنے اسے جھنجھوڑتے ہوئے بشاشت سے پوچھا۔ بھلا ہماء کو کوئی سمجھاتا کہ ایسے موقعوں پر ایسے سوالات نہیں کرتے تھے۔

’’بیڈ اور ٹیبل اور کچھ ایکسرسائز کا سامان۔۔۔ بس۔‘‘ماہِ نو نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

’’تم واقعی سچ کہہ رہی ہو؟ مطلب۔۔۔اس نے صرف مجھے آنے دیا؟ مگر کیوں؟‘‘

’’وہ چھوڑو۔ جو تم چاہتی تھی وہ ہو گیا نا۔ آئس کریم کے جواب میں اس نے جو بھی کہا بھول جاؤ۔ وہ ایسا ہی ہے۔اب اِس سے بڑا اور کیا سگنل ہو کہ اس نے پوری دنیا میں صرف آپ کو اپنے کمرے میں قدم مبارک رکھنے کا شرف بخشا؟‘‘ہماء آخری دو جُملے نوابی انداز میں کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔

’’سوچو مت۔میں كھانا لاتی ہوں کھا لو۔‘‘اس نے ماہِ نو کے گالوں کو دباتے ہوئے کہا تو وہ اُلجھن میں اُس کا ہاتھ ہٹانے لگی۔ آج کا دن اُس کے حق میں اچھا تھا بُرا بتانا کافی مشکل ہو گیا تھا۔

رات کے ایک بجے دروازے پرمسلسل ہونے والی دستک اب ہماء اور ماہِ نو کے کانوں کو پریشان کر رہی تھی۔ عموماً گھر کا کوئی بھی فرد ایک بجے سے پہلے نہیں سوتا تھا مگر بچوں کو دس بجے ہی بستر پر پہنچا دیا جاتا تھا۔دن بھر ہونے والی مصروفیات کے باعث آج ہماءاور ماہِ نو بھی بارہ بجے ہی سو گئی تھیں جنھیں رات کے ڈھائی ڈھائی بجے تک باتیں کرنے کی عادت تھی۔بے چینی میں کروٹ بدلتے ہوئے ہماء کی سماعت سے دروازے پر ہونے والی دستک کی بلند آواز ٹکرائی جو ایوریسٹ کی چوٹی تک کوئی پیغام پہنچانا چاہتی تھی۔

’’کون ہے بھئی!‘‘ہماء نے آنکھوں کو ملتے ہوئے سائڈ ٹیبل سےدوپٹہ لیا اورچھوٹے بیٹے کی کروٹ بدلتے ہوئے فوراً اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔

کوئی نیلی شرٹ اور کالے شارٹس میں ملبوس ہاتھ میں آئس کریم کی بڑی باسکٹ لیے کھڑا نہ جانے کب سے دروازہ کھلنے کا بےصبری سے انتظار کر رہا تھا۔ ہماء کے دروازہ کھولتے ہی اب ہادی کا ہاتھ دروازے پر جانے سے رک گیا۔ اس نے سامنے کھڑی ہماء کو دیکھ کر آنکھیں پھیریں اور کمرے میں جھانکنے لگا۔

’’پاگل ہو؟ اِس وقت کیا ہوا؟ خیریت ہے؟ میرے بچے جاگ جاتے تو؟‘‘ہماء دھیمے لہجے میں چیختے ہوئے کہنے لگی۔

’’اگر کوئی ہمیں یہاں دیکھ لیتا اور یہ آئس کریم پگھل جاتی تو پتا ہے کیا ہوتا؟۔۔۔ ماہِ نو سو گئی؟‘‘ہادی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا اور انتہائی بے مروت انداز میں پردہ اٹھا کے بیڈ پر سوئی ماہِ نو کو دیکھنے لگا۔

’’ہاں سو گئی۔ بے مطلب نہیں تمھارا یہاں آنا؟‘‘ہماء کمر پر بازوُ رکھے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے کہنے لگی۔

’’وہ اٹھ جائے گی تو بے مطلب نہیں ہوگا۔ اٹھاؤ اُسے۔‘‘ہادی نے آئس کریم سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔بلکہ۔۔۔ انتہائی عاجزی سے حکم دیا۔

’’اٹھاؤ ورنہ آئس کریم میلٹ ہو جائے گی یار!‘‘

’’اچھا! ماہِ نو؟۔۔۔اٹھو!‘‘ہماء نے اسے ہلاتے ہوئے کہا۔

’’کیا مصیبت ہے ہماء۔ تمھارے بچے سونے نہیں دیتے یا تم۔۔۔ سو جاؤ!‘‘اس نے اب جو کروٹ لی تو سامنےہادی کو کرسی پر بیٹھا پایا جو اسےدیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ مسکراتے ہوئے ماہِ نو نے آنکھیں بند کر لیں جس پر ہماء نے اسے دوبارہ ہلایا اور یقین دلایا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ سنہرے خواب کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے وہ ہربڑا کر اُٹھی اور اپنے تمام خوابوں کی تعبیر کو اپنے سامنے موجود پایا۔ وہ واقعی ہادی تھا۔ چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے قمیض سیدھی کی اور کمبل جو پہلے سے ہی اس کے اوپر تھا اسے صحیح کرنے لگی۔

اسے جیسے چُپ لگی تھی۔ وہ کیا بولتی کیا کہتی سب بھول چکی تھی۔ دُوپٹے کا خیال کیے بغیر اس نے اپنے بالوں کو کاندھے کے ایک طرف کیا ٹھیک جس طرح اس نے ہادی سے ملنے سے پہلے کیے تھے۔ ہماء نےباؤلز اور چمچ سے بھری ٹرےپلنگ پر رکھی جو وہ سیدھا شوکیس سے ہی صاف کر کے لے آئی تھی۔

آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بغیر وہ چُپ چاپ آئس کریم کھانے لگ گئے۔ بیڈ پر بیٹھی ہماءکبھی ماہِ نو کو دیکھتی تو کبھی ہادی کو۔ وہ دونوں مسلسل سر جھکائے نیچے دیکھ رہے تھے۔ وہ کیا سوچ رہے تھے، ہماء یہی سوچ رہی تھی۔

’’تم پہلے لے آتے تو میرے بچے بھی کھا لیتے۔‘‘ہماء نے عادتاً شکوہ کرتےہوئے کہا تو ہادی بھی اسے تنگ کرنے کی خاطر کہنے لگا۔

’’ان کے لیے نہیں تھی۔‘‘اس کا مطلب تو بیو قوف ہماء بھی سمجھ گئی تھی تو آخر وہ جسے سمجھانا چاہتا تھا خاموش کیوں تھی؟ وہ آج ایک بار نہیں کئی بار اس کا دل دُکھا چکا تھا جس کا ازالہ وہ اس سے بہتر کیا کرتا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

چند لمحوں کے لیے ہادی اور ہماء باتوں میں مصروف رہے اور چور نظر سے ماہِ نو کو دیکھتے رہے جو کافی دیرسے مادام تساؤ کا پُتلا بنے بیٹھی تھی۔ اس کی آئس کریم اب ختم ہو چکی تھی اور وہ مزید لینے کی خواہشمند بھی نہیں تھی۔ ہادی کی نظریں کبھی ہماء کو دیکھتیں اور ہماء کی ماہِ نوکو۔ وہ کب سے ہماءسے ماہِ نو کے حوالے سے بات کر رہا تھا اور باتوں ہی باتوں میں معذرت بھی کر رہا تھا جو اس نے شاید ہی کبھی کسی سے کی تھی مگر ماہِ نو کا ذہن کسی اور ہی دنیا میں سیر کر رہا تھا۔ ہادی نے آئس کریم کا باؤل ری فِل کیا اور اب چُپ چاپ کھانے میں مصروف ہوگیا۔ اسےاب خاموشی چبھنے لگی تھی۔ آخر وہ ایسی کیا بھی بات کرتا جس پر ماہِ نو اپنا کوئی ردِ عمل ظاہر کرتی۔ وہ ڈائریکٹ بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔کرتا تو خود کو جھکا ہوا محسوس کرتا۔ اس نے اب پُھرتی سے آئس کریم کا باؤل ٹرےمیں رکھا اور ایک نظر ماہِ نو کو دیکھ کرچلا گیا۔

پوری رات ماہِ نو رات کے اُس پہر ہونے والے واقعےکے بارے میں سوچتی رہی۔وہ کیوں آیا تھا؟ کیا صرف معافی مانگنے آیا تھا؟ یا کچھ جتانے آیا تھا؟ ایک سے بڑھ کر ایک مشکل سوال اس کے دماغ کے بند دروازے پر دستک دیتا رہا۔

میں نے ری ایکٹ کیوں نہیں کیا؟، اتنے سال انتظار میں رہی میں اور اب بات خود ہاتھ سے گنوا دی، وہ اب کروٹ بدلتے ہوئے سوچنے لگی۔ سوالوں کے بھنور میں ڈوبے اُسنے آنکھیں بند کیں اور جوابات ڈھونڈتے ڈھونڈتے سو گئی۔

✧✧

اگلے دن وہ سو کر اُٹھی تو شبنم سے ملنے کچن میں چلی گئی جو توقع کے عین مطابق چولہے پر کھڑی كھانا بنا رہی تھی۔ وہ رات کے مقابلے میں کافی فریش لگ رہی تھیں۔ خوبصورت گرے رنگ کا جوڑا پہنے وہ آگے بڑھی ااور اُن سے پیار لے کر زونی کے کمرے کی طرف چلی گئی۔ اُسےلگا ہماء وہیں موجود ہوگی پر ساتھ اور کون موجود تھا اُسے ذرا بھی اندازہ نہ تھا۔ وہ اب بھی رات والی بات پر غصہ تھی جس پر رات کی آئس کریم نے بھی کوئی ٹھنڈک نہیں ڈالی تھی۔ ہماء اور زونی کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ وہ بے دھڑک کمرے میں داخل ہوئی تو نظر ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھے علی ہادی پر پڑی۔ قدم وہیں رک گئے جسے ہادی کے سوا کسی نے محسوس نہیں کیا۔۔۔ شاید اسی لیے کہ زونی اور ہماء کا رُخ دوسری جانب تھا جس سے وہ اس کی آمد کا اندازہ نہ لگا پائیں۔ ہادی کے بدلتے تاثرات پر مڑ کر انھوں نے اس کی آنکھوں کا تعاقب کیا تو دروازے پر ماہِ نو کو کھڑا پایا۔

’’شکر ہے تُم آگئی۔۔۔ پلیز کوئی شعر بتاؤ ورنہ ہادی جیت جائے گا!‘‘اُس کے آتے ہی ہماءاُچھل کر کہنے لگی۔ اچانک اسے اپنے رجسٹر کے پیچھے لکھے تمام اشعار یاد آگئے جو وہ اِنٹر کی رومانوی اور غمگین غزلوں کے لیے یاد کرتی تھی۔ وہاں مشاعرہ ہو رہا تھا اور شعر کہنا صرف انھی کو زیب دیتا تھا جو یا تو عشق میں ڈوبے ہوئے تھے یا زندگی سے بے حد رسوا۔ وہ تو کہیں بیچ کی مسافِر تھی جس پر نہ کبھی محبت پر شعر کہنے کی نوبت آئی نہ رسوائی پر۔ وہ مسکرا کر آگے بڑھی اور ان دونوں کےساتھ جا کر بیٹھ گئی۔ شعر’ن‘سے کہنا تھا۔ دماغ پر زور ڈالے وہ کچھ دیر سوچتی رہی۔ آخر وہ غالب کے شہریوں سے کیسے جیت سکتی تھی؟ پھر اچانک اُسے ذہن کے کسی کونے میں چھُپا اِنٹر کا شعر یاد آیا جس نے اِنٹر کے امتحانات میں تو کبھی اس کی مدد نہیں کی پر اِس امتحان میں کرنے چلا آیا تھا۔ گلا صاف کر کے اس نے سب پر ایک نظر ڈالی پھر کچھ دیرحوصلہ اکٹھا کرنے کے بعد لبوں کو جنبش دے کر کہا۔

’’عرض کیا ہے!‘‘سب نے بلند آواز میں ارشاد کہا تو اُسے مزید حوصلہ ہوا۔

نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں

وہ کچھ وقفے کے لیے رُکی پھر سانس لے کر ان مِصروں کو دہرایا جس پر ہادی نے لمبی مسکان کھینچی۔ وہ جان گیا تھا کہ اس کا ہدف کون ہے۔ اگلا شعر بہت بھاری پڑنے والا تھا۔

نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں

ہادی سر جھکائے اب قالین کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی چَسْپاں مسکراہٹ کو طول دے کر اَبرو اچکائے جس سے اس کے ڈِممپلز ظاہرہو گئے۔ اُسے لگا وہ اگلا شعر پہلے سے جانتا ہے۔

یہ نازِ حُسْن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر
نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

اُس کے الفاظ جیسے ہادی کو بجلی کے چھوٹےجھٹکے کی مانند لگے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ حرف بہ حرف کیا کہنے والی ہے وہ سر اٹھائے اُسےاچنبھے میں دیکھنے لگا۔ اُسےسمجھ آنے لگی تھی۔۔۔اندازِ بیاں نے اُس کے ذہن میں بسے لفظوں کے خزانے کھول ڈالےتھے۔

’’واہ بہت خوب! کیا خوب کہا!‘‘اس نے جگر مُراد آبادی کی غزل کے کچھ اشعار پڑھے تو زونی اور ہماءاپنی نئی ساتھی کے اشعار پر بھرپور داد دینے لگیں جس سے وہ مسکرا کر دونوں کو دیکھنے لگی۔ اب بھی ہمت نہیں جُتا پائی کہ سر اٹھا كر ہادی کے تاثرات دیکھ سکے۔ وہ اپنے شعر پر من ہی من ہنسی۔ جن محبت بھرے اشعار کو وہ تب باتیں کہا کرتی تھی آج کس بے فکری میں منہ سے نکل گئے تھے۔ مقابلےکی سنگینی سے وہ ہرگز واقف نہیں تھی مگر زونی کی اُچھل کود اور ہماء کے ہادی کو انگوٹھا دکھا کر منہ چڑانے سے اُسے باخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ جنگ کافی برسوں سے ان کے معمول کا حصہ تھی۔ کیا کھیل ختم ہو گیا تھا؟

اس نے اِس بار بہادری سے نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا کہ شاید وہ نظریں ہٹا چکا ہوگا مگر نہیں۔ اُس کے شعر کہتے ہی وہ نظریں اُس کے وجود پر ساکت ہو گئی تھیں جیسے شعر میں کہی جانے والی بات کا جواب دے رہی ہوں۔ ایسا بھی کیا تھا اُس شعر میں جو وہ اتنی آسانی سے کہہ گئی تھی اور وہ تمام آٹھ سال کی کہانی سمجھ گیا تھا۔ ہاتھ کو بالوں میں پھیرے وہ وہیں بیٹھا رہا اور ان دونوں کے خاموش ہونے کے بعد کہنے لگا۔

’’اِتنا اُچھلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹائی ہوا ہے اور ویسےبھی وہ ابھی آئی ہے تو اس کا شعر کاؤنٹ نہیں ہوگا مگر خیر۔۔۔لڑکیاں چیٹنگ نہ کریں تو لڑکیاں کیسے کہلائیں؟‘‘

’’ہو گیا؟‘‘ہماء نےمنہ ٹیڑھا کر کے کہاتو وہ بھی سیدھا ہو ا۔

’’نہیں ابھی رہتا ہے۔ ماہِ نو گیم میں بعد میں شامل ہوئی ہے تو مقابلہ اب بھی ہمارے ہی بیچ ہے۔ ہاں۔۔۔ اِس سے پرچیوں پر کوئی سے بھی دو حروف لکھوا لو۔ جو اِس سے کم وقت میں شعر کہے گا وہ جیت جائے گا۔‘‘ اِس ساری بات کے دوران ہادی نے ایک دفعہ بھی ماہِ نو کی طرف نہیں دیکھا۔ عجیب شخص تھا۔۔۔جس کا تذکرہ کر رہا تھا اُسے دیکھنے میں کیا حرج؟

’’لو جی۔۔۔ بھیا ہم جیتے ہیں بات ختم!‘‘زونی جو پلنگ پر چوکڑی مارے بیٹھی تھی اب گُھٹنوں کے بل کھڑی ہو کر احتجاجاً کہنے لگی پر اس کا بولنا بالکل بیکار گیا۔ دونوں میں کھٹ پٹ ہونے لگی تو ماہِ نو نے بھی تنگ آ کرکہا۔

’’نہیں وہ صحیح کہہ رہا ہے۔ میں بعد میں آئی تھی تو یہ غلط ہوگا۔ ویسے بھی مردوں سے بحث میں جیتنا نا ممکن ہے۔ خیر میں لکھ دیتی ہوں۔‘‘

 ہادی ایک بار پھر مسکرایا۔۔۔ وہ احسان کر رہی تھی یا حقیقتاً اس کی تائید؟

ماہِ نو کے کہتے ہی زونی روندُو منہ بناتے ہوئے قلم کاغذ لے آئی۔ حروف لکھ کر اُس نےدونوں پرچیاں ملائیں پھر خودہی سیلیکٹ کر کے کھولنے لگی چونکہ اب ہادی اُسے دیکھ رہا تھا تو وہ اسے کیوں دیکھتی؟ اب وہ بھی پرچی پر نظر جمائے کھڑی رہی۔ وہ نتیجے کو لے کر بالکل بھی پُرجوش نہیں تھا۔ ہادی اس کی چُراتی نظروں کے تعاقب میں کبھی مسکراتا تو کبھی نفی میں سر ہلا دیتا۔

’’پ۔۔۔پ سے شعر کہنا ہے۔‘‘

ماہِ نو نے ایک سرسری سی نظر اُس پر ڈالی جو اسٹول پر بیٹھے مسکرائے جا رہا تھا۔ ایک بار پھر بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ اٹھ کھڑا ہوا جیسے اسے یہ چیلنج منظور ہو۔ ہماءاور زونی نے مایوسی میں ایک دوسرے کو دیکھا اور پہلے ہی جوتیوں کا ہار اپنے گلے میں پہنے میدان میں اُتر آئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ حرف آسان تھا پر ساری غلطی ماہِ نو کی بچی کی تھی۔ نہ وہ آتی اور نہ وہ اُسے مدد کا کہتیں۔ ماہِ نو نے پہلے گھڑی کو دیکھا پھر ان تِین حریفوں کو۔

’’اور۔۔۔وقت شروع ہوتا ہے۔۔۔ اب!‘‘اس نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو ہماءاور زونی چلتے پِھرتے شعر سوچنے لگیں۔ پانچ منٹ کا وقت تھا جو ماہِ نو کے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ہادی کو یقیناً شعرآتا تھا۔ اُسے آتاتھا تبھی ٹکِٹکی باندھے گھڑی کی بجائے ماہِ نو کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

کیا میں ٹھیک لگ رہی ہوں؟ میرے چہرے پر کچھ لگا تو نہیں؟ سب ٹھیک تو ہے پھر وہ کیوں دیکھ رہا ہے؟ مسکرا کیوں رہا ہے؟ یوں زِچ کرنے کا مقصد؟ اُسےہارنے کا کوئی ڈر نہیں؟ دانتوں تلے انگلی دبائے وہ کہاوت کے بالکل برعکس جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد جب ہادی نے نظریں ہٹا لیں تو افسردگی میں سوچنے لگی۔

’’وہ دیکھ کیوں نہیں رہا؟ کتنا عجیب انسان ہے!‘‘ماتھے پر بل نمودار ہو نے لگےجیسے وہ کسی مشکل سے دو چار ہوگئی ہو۔ پوری دُنیا کے تنقید نگاروں کے اِس فلسفے پر ہی تو تحقیق تھی کہ آخر عورت ذات کا مسئلہ تھا کیا؟ تعریف کرو نہ کرو۔۔۔آخر میں مرد ہی قصور وار ٹھہرتا۔

گھڑی نے پانچ منٹ پورے کیے تو وہ بھی اپنے خیالوں سے باہر آگئی۔ اگر یہ پانچ منٹ پورے نہ ہوتے تو وہ شاید اپنے سوالوں کے بھنور میں ہمیشہ پھنستی رہتی۔ تینوں کے وسط میں کھڑے اس نے بلند آواز میں’سٹاپ‘کہا جس پر ہماءاور زونی شور مچا کر افسردگی ظاہر کرنے لگیں۔

’’عرض کیا ہے۔‘‘اچانک ہادی کی آواز سب کی سماعت سے ٹکرائی تو زونی چیخی۔

’’شِٹ!‘‘

اسے اپنی ہار کا پہلے ہی اندازہ ہو چکا تھا۔ اچانک ایک غیر متوقع آواز’ارشاد ارشاد‘کہتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تو سب کی گردنیں دروازے کی جانب مُڑ گئیں۔ شبنم نہ جانے کب سے کچن میں ان کی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ جب آخری مرحلہ آیا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ پائیں اور سیدھا کمرے میں دوڑی چلی آئیں۔ ان کے کہتے ہی اب سب نے بے بسی میں اِرْشاد کا نعرہ بلند کیا جس پر ہادی اِجازت لے کر ماہِ نو کی طرف مُڑا اور اپنی خوبصورت مُسکان لیے کہا۔

’’ماہِ نو؟‘‘

’’جی؟‘‘وہ ششدر سی سَر اٹھائے کہنے لگی۔

’’اجازت ہے؟‘‘بس یہ سننے کی دیر تھی کہ وہ ڈھیر ہو گئی۔ اس کا لہجہ اور آنکھوں کی چمک۔۔۔سب الگ تھا۔ کیا اسے اِس بات کی پروا نہیں تھی کہ سب کمرے میں موجود تھے؟

’’ہاں۔‘‘اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔ وہ نفی میں سر ہلانا چاہتی تھی۔۔۔’ناں‘کی جگہ’ہاں‘کب منہ سے نکلا پتا ہی نہ چلا۔

’’تو عرض کیا ہے

؏ پھر نہ کیجیے میری گستاخ نگاہوں کا گِلہ

کیا وہ بدلے میں اسے بھی بجلی کا چھوٹا جھٹکا پہنچانے والا تھا؟

’’واہ واہ۔۔۔‘‘کمرے میں کھڑی باقی خواتین نے خوب ستائش کی پر وہ وہیں ساکت کھڑی رہی۔ خاموش۔۔۔ جیسے اب بھی پانچ سیکنڈ پہلے پوچھے جانے والے سوال پر اٹکی ہوئی ہو۔

’’اجازت ہے؟۔۔۔ماہِ نو؟ اجازت ہے؟۔۔۔اجازت ہے؟‘‘وہ اب جواب دے رہا تھا۔۔۔ پر کیا؟ یہ سننے کے لیے اس کا سکتے سے باہر آنا ضروری تھا۔ ایک دم پھر وہی خوبصورت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

؏ پھر نہ کیجیے میری گستاخ نگاہوں کا گِلہ

وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔

پھر نہ کیجیے اِن گستاخ نگاہوں کا گلہ
دیکھیے پھر پیار سے آپ نے دیکھا ہم کو

اچانک اُسے لگا وہ بُرے طریقے سے پکڑی گئی تھی۔ سفید قمیض کے کالر کو صحیح کرتے ہوئے ہادی نے اب نظریں اسی پر جمائی رکھیں تو ماہِ نو نے بھی ہٹانے کی جرات نہ کی۔ شعر ختم ہوتے ہی ہادی نے فاتحانہ مسکراہٹ کھینچی پھر اپنی طرف بڑھنےوالے زونی کے ہاتھ پر ہاتھ مار کے داد وصول کرنےلگا۔

’’کیا بات ہے بھیا۔ آپ سے کون جیت سکتا ہے!‘‘البتہ اِن لفظوں نے ہماء کے کلیجے میں آگ لگا دی تھی پر وہ بھی خوش تھی۔ ہادی کبھی کبھی تو کسی سے جیتتا تھا۔

’’شکریہ شکریہ۔۔۔‘‘ وہ سب کی ستائش پر بھرپور مشکور ہوئے کہنے لگا تو وہ سر جھکا کرشرم سے مسکرانے لگی۔ جس بات کا اُسے ڈر تھا ہادی اِتنی آسانی سے کہہ گیا تھا۔ پر اب بھی بات ادھوری تھی۔۔۔وہ اپنے شعر میں شاید کچھ کہہ گیا تھا۔۔۔ کیا؟۔۔۔ اس کا مقطع ابھی باقی تھا۔

✧✧

’’دادی جان میں نے کبھی پہلے اچار نہیں ڈالا۔ آج دیکھوں گی آپ سب کو تو شاید آجائے۔‘‘ماہِ نو نےدادی جان کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے کہا۔ خان محل کی سب بہوؤیں دادی جان کے زیرِ نگرانی الگ الگ دائروں میں اچار لگانے میں مصروف تھیں جبکہ ہماء اپنا چھوٹا بیٹا اٹھائے چھت کے چکر لگا رہی تھی۔ ہر اتوار کو گھر کی تمام خواتین مل کر کبھی اچار کے دائرےبناتیں توکبھی لال مرچوں کے۔ ان کے بقول باہر سے لی ہوئی مرچیں نہ خالص ہوتی ہیں نہ ذائقے دار۔

گاڑھی نیلی شلوار قمیض پر کچے ہرے رنگ کے نیٹ کا دوپٹہ لیے وہ بڑی توجہ سے سب کو دیکھ رہی تھی۔کھلے بال اور کانوں میں خوبصورت سلور جھمکیاں پہنے وہ جب بھی مسکرا کر کسی بات پر اثبات میں سر ہلاتی تو کسی اور کے چہرے پر بھی تبسم اُمڈ آتا۔ کیا کوئی تھا جو اُسے دیکھ رہا تھا؟

چھوٹی چچی اور دادی جان اب ماہِ نو کو اپنی شادی کے قصے اور بچپن کے واقعات سنانے لگیں۔ وہ ان کی چہر مزاحیہ بات پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستی اور بدلے میں کوئی اپنے بچپن کا قصہ سنا دیتی۔ باتوں سے فارغ ہو کر جب وہ تھک کر اٹھی تو سامنے والی چھت پر موجود علی ہادی کو دیکھ کر چونک گئی جس کے ایک ہاتھ میں کافی کا مگ اور دوسرے میں کوئی انگریزی ناول تھا۔ جس جگہ وہ بیٹھی تھی وہاں سے کوئی چاہتا بھی تو ہادی کو نہ دیکھ پاتا مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ہادی اس کی خوبصورت آنکھوں کو پچھلے آدھے گھنٹے سے دیکھ رہا تھا۔ بار بار بالوں کو کانوں کے پیچھے کرنا اور گرتے ہوئے آنچل کو سیدھا کرنا اسے خوب لبھا رہا تھا۔ وہ کئی دیر تک اُسے نظر انداز کرتی رہی پر جب اس کی نظروں کو خود پر محسوس کیا تو غصے میں بھنویں اچکا کر سر جھٹکنے لگی۔ اُس نے ایک بار پھر نظریں چرائیں اوریہ جانتے ہوئے کہ وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا سب سے باتیں کرنے لگی۔ وہ ہنستی تو ہادی کی آنکھوں میں بھی چمک اُمڈ آتی۔وہ اِس ہونے والے جادو سے دھیرے دھیرے واقف ہو رہا تھا جس کا اب اگر کوئی اعلاج بھی ہوتا تو وہ شاید دوا نہ لیتا۔یونہی کچھ دیر آنکھ مچولی کھیلنے کے بعد جب اُسے ہادی نظر نہ آیا تو ایک بار پھر سر جھٹک کر نیچے چلی گئی۔

✧✧

نایاب اور اَحمد کی شادی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ گھر کی سفیدی سے لے کر فرنیچر کی پالش اور شادی کے جوڑوں تک سب کی تیاریا ں ہو چکی تھیں۔ٹھیک ڈیڑھ ہفتے بعد نایاب کا مایوں تھا اور پھر ایک ہفتے بعد شادی۔ حمزہ اور سمیرہ کا ارادہ نایاب کے مایوں پر آ کر شادی کے مزید دو ہفتے بعد روانگی کا تھا۔ اِس تین ہفتے کے ٹور میں وہ پانچ سال کی کسر نکالنا چاہتے تھے۔

تمام تیاریاں مدِ نظر رکھتے ہوئے مرُاد خان نے ساڑیاں، غرارے اور دیگر کپڑوں کے تھان گھر ہی منگوا لیے تھے۔ دکان دار دن بدل بدل کر گھر آتے اور اپنی گھٹریوں سے ہر قسم کے خوبصورت اور مہنگے کپڑوں کے تھان لا کر صحن میں رکھتے جاتے جس پر خان محل کی خواتین دوپہر کے سب کام چھوڑکر اپنے کپڑے پسند کرنےمیں مصروف ہو جاتیں۔

’’میاں! اچھے کپڑے نہ دکھائے تو پچھلی بار کی طرح تمھاری ہانڈی میں نمک زیادہ کر دیویں گے۔‘‘دادی جان نے پُنو میاں سے کہا جو رشتے میں ان کے بھانجے معلوم ہوتے تھے۔ برسو ں سے دادی جان کے گھر کپڑے لا کر دِکھانے کا کام ان کے ذمے تھا اور کیوں نہ ہوتا، لکھنؤ کے سب سے بڑے پلازے کی سب سے بڑی دکان کے وہ واحد مالک جوتھے۔

’’جی جی خالہ جان! اِس دفعہ بھی اچھے ہی لائے ہیں۔ آپ کو کسی بھی باجی سے شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔آخر لکھنؤ کے سب سے بڑے پلازے میں ہماری سب سے بڑی دکان ہے۔‘‘پُنو میاں اپنے مخصوص انداز میں’ہماری‘پر زور دیتے ہوئے بولے جس پر دادی جان نےپان کی پیک پھینکتے ہوئے سر جھٹکا۔

’’میاں تم ایک تو ایماندار ہو دوسرا ہمارے بھانجے۔۔۔ اسی لیے ہمارے بیٹے تم پر بہت یقین رکھتے ہیں کہ نہیں رکھتے؟ اب بہو بیٹیاں ہر چیز کے لیے بازار جاتی بھلی لاگے ہیں؟‘‘دادی جان نے پاندان سے پان نکال کر میاں کو دیا جو سفید مایا کی قمیض دھوتی پہنے اب اٹھنے کی تیاری کر رہے تھے۔

’’ارے کہاں؟ كھانا لگوایا ہے۔ کھا کے ہی جاؤ گے نا میاں!‘‘

’’صفائی بھی تو نصف ایمان ہے خالہ! ہاتھ دھو کے آئے بس!‘‘میاں نے صحن سے اٹھ کر غسل خانے کا رخ کیا تو دادی نے برابر میں بیٹھی شبنم سے کہا۔‘‘کلموہا۔۔۔ پہلے انھی گندے ہاتھوں سے پان ہڑپ گیا تھا۔‘‘

’’ہم آپ دونوں کے لیے كھانا لگاتے ہیں امی!‘‘

’’نہیں تو بیٹھ ذرا۔۔۔میرے پاس بیٹھ۔۔۔ کلموہےہیں سب گھر والے۔ نہ جانے میری پھول سی بچی کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جو ہنستی نہ ہے۔‘‘تخت پوش پر ٹانگیں پھیلائے دادی نے شبنم کو گلے لگاتے ہوئے کہا تو وہ بھی آنکھوں میں گھر کیے آنسو پیتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’کچھ بھی نہیں کہتے۔ کیوں آپ دل میں وہم پالتی ہیں۔ٹھیک ہیں ہم۔‘‘

’’ہادی آئے تو کہنا پہلے مارے سے ملے۔‘‘دادی نے میاں صاحب کی آمد پر بات کا موضوع بدلتے ہوئے کہا۔

’’جی امی!‘‘شبنم نے اثبات میں سر ہلایا اور دوپٹہ صحیح کرتے ہوئے باورچی کھانے میں چلی گئیں۔

’’ہاں جی خالہ! کہاں ہے كھانا؟‘‘میاں نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے پوچھا۔

’’میاں ابھی تو بہت وقت ہے۔ ایسا کرو جاؤ۔ آج کا كھانا بھی کل کھا لینا۔‘‘دادی نے آنکھیں ترچھی کرتےہوئے میاںصاحب کو چھیڑا جو بڑی حیرت سے ان کا چہرہ دیکھنے لگے۔

’’ہا ہا! مذاق کی عادت نہیں گئی آپ کی۔‘‘میاں نے دادی کے پاؤں دباتے ہوئے کہا اور جزُبز ہو کر ہاتھوں کو سر پر پھیرنے لگےجہاں بالوں کے اُگنے کی امید بھی برسوں پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔

✧✧

’’ماہِ نو آج کہیں جانے کا ارادَہ نہیں ہے؟ نیشنل ہولی ڈے ہے۔‘‘مُراد خان نے چائے کا کپ واپس پرچ پر رکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ مین کوری ڈور سے جڑے بڑے ہال کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ٹی وی پر تازہ نشریات چل رہی تھیں۔ سامنے صوفے پر بیٹھی ماہِ نو اور ہماء اب ایک دوسرے کو ترچھی نظروں سے دیکھنے لگیں۔وہ مراد خان سے اسی سلسلے میں بات کرنے آئی تھیں۔

’’جی انکل۔۔۔ ہے۔‘‘ماہِ نو بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتےہوئے کہنے لگی۔

’’تو اب تک کیا کیا دیکھ لیا ہے؟‘‘انھوں نے نظریں اٹھا کر دونوں کو دیکھا اور دوبارہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہو گئے۔

’’امبیدکر پارک، رُومی دروازہ، چھوٹا اِمام باڑہ اور حضرت گنج مارکیٹ دیکھ چکی ہوں۔ بڑا اِمام باڑہ نہیں دیکھا۔ ہماء بتا رہی تھی بہت اچھی جگہ ہے۔‘‘

’’ہاں اچھی تو بہت ہے۔ بس اس کی بھول بھلیاں میں گم نہ ہو جانا۔ بھئی حمزہ کو ان کی بیٹی صحیح سلامت دینی ہے نا۔۔۔ہاہا ہا۔'' مراد خان اپنے ہی لطیفے پر قہقہہ لگائے ہنسے جو ماہِ نو اور ہماء کو ذرا بھی مزاحیہ نہیں لگا۔ دونوں سر جھکا کر اب اِس بات پر ہنسی روکنے لگیں کہ آخر کس بات پر ہنسا جائے۔ مراد خان ایک سخت مزاج آدمی تھے جو اکثر تھوڑی بات چیت کے بعد خاصے نرم دل معلوم ہوتے تھے۔ ایک بے وجہ سا تناؤ ان کے گرد گردش کرتا تھا جو ہر شخص کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا تھا۔

’’عادل کو کہتے ہیں تم دونوں کو لے جائے۔ باقی سب مصروف ہوں گے۔‘‘مراد نے جیب سے فون نکالتے ہوئے کہا تو ہماء نے بھی مراد سے بے جھجھک کہا۔

’’انکل ہادی کو ساتھ بھیج دیں۔‘‘

’’اس کا بھروسہ نہیں۔ اس دن بھی پتا نہیں ہم نے کیسے بھیج دیا تھا تم سب کے ساتھ۔‘‘اِس بات کو مراد کے منہ سے نکلتے وقت اتنی ہی دیر لگی تھی جتنی ہماء اور ماہِ نو کو پلک جھپکنے میں۔ وہ حیران تھیں کہ کوئی اپنے ہی خون کو لے کر اِتنا بدگُمان کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر مراد کی جگہ کوئی کم عمر ہوتا تو رشتے کا لحاظ کیے بغیر ماہِ نو اب تک ایک تھپڑ رسید کر چکی ہوتی۔۔۔ مگر اسے اپنے ہوش میں رہنا آتا تھا۔ ہوش اور جوش کے فلسفے کو کہاں، کب اور کیسے استعمال کرنا تھا، اسے سب آتا تھا۔ ہاں اگر وہ زندہ ہوتے ہوئے پلکیں جھپکنا بھول جاتی تھی تو صرف ایک ہی شخص کی موجودگی میں۔ ہماءنے ماہِ نو کے ہاتھ کو زور سے دبایا اور آنکھ کے اشارے سے غصہ تھوکنے کی تلقین کی۔گھر میں ہادی کے بارے میں کون کیا سوچتا تھا ہماءاس سب سے واقف تھی۔

’’جی انکل!‘‘ہماءنے سر ہلاتے ہوئے ماہِ نو کا ہاتھ پکڑا اور ہال کمرے سے باہر لے آئی۔

’’قسم سے اگر انکل میرے انکل نہ ہوتے تو بتاتی۔‘‘ماہِ نو غصے سے نظریں پھیرتے ہوئے بڑبڑائی اور ہماءکے ساتھ اس کے کمرے میں چلی گئی۔ نہ وہ عادل کو جانتی تھی نہ ہادی کو۔۔۔مگر جو اُمید وہ ہادی سے لگا بیٹھی تھی اُس کے آگے کوئی پرستان کا شہزادہ بھی آجاتا تو وہ صاف انکار کر دیتی۔ وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی کہ یہ ٹرپ اُسے کس طرف لے جا رہا ہے۔ دن میں منزل قریب نظر آتی تھی اور شام ڈھلتے ہی دور ہونے لگتی تھی۔ ڈور اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھی پر پتنگ کو فی الحال اُدھر ہی موڑنا مناسب تھا جہاں ہوا کا رُخ تھا۔

’’ابو آپ کی بہت یاد آتی ہے۔‘‘ماہِ نو آج کئی دنوں بعد حمز ہ کی آواز سن رہی تھی۔

’’مجھے بھی تم دونوں بہت یاد آتی ہو۔ ایسا لگتا ہے شادی کر کے تمھیں بھی رخصت کردیا ہے۔ گھر ویران ہو گیا ہے۔‘‘حمزہ نے آفس میں بیٹھے اپنے سامنے پڑی فائل کو کھولتے ہوئے کہا۔

’’ہاں پر میرا ابھی آنے کا کوئی موڈ نہیں۔ میرا خوب دل لگا ہے یہاں۔ ابھی تو میں آدھا لکھنؤبھی نہیں گھومی۔ ابھی بس کچھ ہی دیر میں مرُاد انکل مجھے بڑا اِمام باڑہ دکھانے کے لیےعادل کے ساتھ بھیج رہے ہیں۔ میں نے تو صاف انکار کردیا کہ بھلا میں اُس کے ساتھ جاتی اچھی لگتی ہوں؟ میں تو اُسے ٹھیک سے جانتی تک نہیں۔ ہیلو ابو۔۔۔ آپ سن رہے ہیں نا؟‘‘ وہ دِل ہی دِل میں دعا کر رہی تھی کہ بس کسی طرح وہ مراد كو کال کر کےسمجھائیں پر دوسری جانب سے کوئی جواب نہ آیا۔

’’ابوّ؟‘‘نا امیدی پہلے ہی اس کے لہجے میں اُمڈنے لگی تھی۔

’’ہاں ہاں بیٹا۔سن رہا ہوں۔ بڑا اِمام باڑہ بہت ہی اچھی جگہ ہے۔ میں اور تمھاری امی وہاں اکثر جایا کرتے تھے۔ جاؤ جاؤ۔‘‘

وہ اپنے سامنے کھلی فائل میں اِس قدر مصروف تھے کہ ماہِ نو کی تمام گفتگو میں لفظ اِمام باڑہ کے علاوہ کچھ نہ سن سکے۔ ان کا جواب اُس کے کاندھوں سے بوجھ کم کرنے کی بجائے مزید دَباؤ ڈال گیا تھا۔ اُسے سمجھ نہیں آئی کہ آخرایسا کیا کرے کہ بس عادل کے ہمراہ جانے سے بچ جائے۔

’’ہوں۔۔۔ آپ اگلے ہفتے آئیں گے؟‘‘

’’ہوں۔۔۔!‘‘

’’آفس میں ہیں؟‘‘

’’ہوں۔۔۔!‘‘

’’مصروف ہیں؟‘‘

’’ہوں۔۔۔!‘‘

’’چلیں فری ہو کے کال کیجیے گا۔ اللہ حافظ۔‘‘

’’ہوں۔۔۔!‘‘حمزہ اب تیزی میں کرسی سے اٹھتے ہوئے کہنے لگے تو دوسری جانب ماہِ نو نےبھی مسکراتے ہوئے فون بند کردیا۔ وہ اُنھیں غلط وقت پر حالِ دل سنانے لگی تھی۔ وہ آخر اُنھیں کیسے بتاتی کہ اُن کے کزن بالکل بھی اُن جیسے نرم مزاج نہیں تھےپر بھول گئی تھی کہ یوں ہر وقت کام میں مصروف رہنا دونوں کا محبوب اورمُماثل مشغلہ تھا۔ یہ باتیں سن کر اس کا موڈ ایساخراب ہوا کہ اب اس کا دل ہادی کے ساتھ بھی جانے كو نہ کیا۔

’’میری طبعیت بالکل ٹھیك نہیں۔ تم جاؤ!‘‘ہماءنے بیڈ شیٹ بچھاتے ہوئے کہا جس پر ماہِ نو نے اپنی گردن ایک سو اسی کی پَرْکار پر گھوما کر اُسےدیکھا۔ وہ جوکب سے کھڑکی کے اُس پار دیکھ رہی تھی اچانک بجلی کا کرنٹ کھا کر مڑی۔ ہماءکی اِس بات نے اسے کچھ وقت کے لیے سن کردیا تھا۔

’’تم پاگل ہو؟ میں اکیلے جاؤں؟ عادل سے بس میری تین چار دفعہ ہی بات ہوئی ہے وہ بھی اتنی خاص نہیں۔ انسان بنو ورنہ میں ابو کو بتادوں گی۔‘‘ماہِ نو عالمِ طیش میں بھڑکی تو پیشانی پر شکن اُبھرآئی۔ وہ پہلے ہی ہادی کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے افسردہ تھی اور اب ہماءکے بہانے۔

’’واقعی بہت خراب ہے۔‘‘ہماء نے انتہائی معصومانہ شکل بناتے ہوئے کہا۔

’’پھر میں بھی نہیں جا رہی۔‘‘ وہ منہ پھلائے اپنی جگہ سے اٹھی اور ناراض ہو کر کمرے کے چکر لگانے لگی۔

’’ارے نہیں۔ تم بھی نہ گئی تو انکل سوچیں گے کہ شاید عادل کی وجہ سے نہیں جا رہیں۔‘‘ وہ ماہِ نو کو دوسرا رُخ دکھاتے ہوئے کہنے لگی تو وہ بھی بازوؤں کو کمر پر رکھ کر کہنے لگی۔

’’تو اب؟ کیا چاہتی ہو؟‘‘

’’یہی کہ پلیز جاؤ! ایسے منہ نہ بناؤ۔ وہ بُرا لڑکا بالکل نہیں۔ پلیز!‘‘ہماءکو غصے سے دیکھتے ہوئے ماہِ نو نے سر جھٹکا پھر کمرے سے باہر چلی گئی۔ آگے کہاں جانا تھا۔۔۔ اُسے کچھ معلوم نہ تھا۔

’’آل رائٹ!‘‘ماتھے پر پڑنے والی سلوٹیں اب بڑھ چکی تھیں اور اب وہ مزید جھنجھلانے لگی تھی۔

ماہِ نو نے لال رنگ کی سادہ شلوار قمیض پہنی جس کے گھیرے اور بازوؤں پر ہلکی سی لال رنگ کی کڑھائی کا کام نہایت خوبصورت لگ رہا تھا۔ چنرُی کا کالا دوپٹہ لیے وہ اب کمرے سے باہر نکلی، دادی جان کو سلام کیا اور گھر کے بڑے دروازے تک پہنچ گئی۔ عادل کالے رنگ کی پینٹ شرٹ پہنے پہلے سے ہی گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ کہاں جانتی تھی کہ عادل اور ہادی میں ہونے والی گزشتہ ان بن نے ہی ہادی کی ذات کی دھجیاں اُڑائیں تھیں۔ دورانِ سفر وہ پریشان، خاموش اور اسی کشمکش میں مبتلا رہی کہ پہلے شروعات کون کرے گا۔ آخر کار عادل کو ہی پہل کرنی پڑی۔

’’اپنے انٹرسٹس بتاؤ۔۔۔ ماہِ نو!‘‘عادل نے بلا جھجھک اس سے سوال کیا۔ بات کی شروعات علیک سلیک یا کسی مناسب سوال سے بھی ہوتی تو ماہِ نو ایک دم چو کنّا نہ ہوتی۔ یہ آخر کیسا سوال تھا؟

’’اَم۔۔۔ کسی میں انٹرسٹ نہیں۔‘‘

’’ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ کسی میں انٹرسٹڈ ہو یا نہیں۔ ہا ہا۔ تمھارے انٹرسٹس۔ وہ کیا ہیں؟‘‘عادل خوبصورتی سے ہنسا۔

’’میں نے بھی وہی بتایا! کسی چیز میں نہیں۔۔۔‘‘

’’تمھارے؟‘‘وہ اپنے فوراً سوال کرنے پرذرا حیران ہوئی۔

’’اسٹیڈز۔۔۔ہمیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔‘‘عادل نے اسٹیرینگ گھماتے ہوئے جواب دیا۔

وہ شاید ماہِ نو کی زندگی میں پہلا شخص تھا جسے پڑھائی میں اتنا انٹرسٹ تھا۔ وہ اگر اس کے حلیے سے اندازہ لگاتی تو اس کا انٹرسٹ فیشن، آوارہ گردی اور لڑکیوں میں دیکھتی مگر وہ اپنے ظاہر سے بالکل الٹ نکلا جس نے ماہِ نو کو حیران کر دیا تھا۔ باتوں کا سلسلہ چلتا رہا جس سے اب ان دونوں میں بچی کچی جھجھک بھی اترنے لگی۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ شاید عادل کا ایسے سوال کرنا ہی مناسب تھا۔

’’آپ لکھنؤ پہلی دفعہ گھومنے جا رہی ہیں؟‘‘اس نے اگلے سوال کی طرف جاتے ہوئے کہا جو ہر اِبْتِدائی گفتگو کا حصہ تھا۔

’’نہیں۔ پرسوں بازار گئی تھی۔۔۔ راستے میں جتنا آیا دیکھ لیا۔‘‘اس نے مذاق میں بات اُڑاتے ہوئے کہا۔ کتنا بے وقوف شخص تھا۔۔۔اگر دیکھا ہوتا تو آج کیا اِس کے ساتھ اپنی جان پھنساتی؟

’’ہاہا۔ اچھا۔ تو کیسا لگا آپ کو لکھنؤ؟‘‘وہ بھی اس کے مذاق پر ہنستے ہوئے کہنے لگا۔

’’پاکستان جیسا ہے۔‘‘اس نے قدرے دلچسپی لیتے ہوئے جواب دیا۔

’’ظاہر ہے۔۔۔کبھی انڈیا کا حصہ تھا۔۔۔اب ہمسایہ بن گیا ہے۔‘‘عادل کے لہجے میں عجیب سی کڑواہٹ تھی۔۔۔جیسے متنجن کھاتے کھاتے منہ میں لونگ آگیا ہو۔

’’جی۔‘‘اس نے بھی بد دِلی سے جواب دیا۔الگ ہی کوئی حسد ہے انھیں ہماری آزادی سے۔۔۔وہ سر جھکائے نہ جانے کیا کیا سوچتی رہی۔

’’تو لاہور کی سب سے اچھی چیز کیا لگتی ہے آپ کو؟‘‘یہ بھی بھلا کوئی سوال تھا؟

’’لاہور کا سب کچھ اچھا ہے۔ کوئی ایک ایسی چیز نہیں جو اچھی ہو۔‘‘ خیر۔۔۔یہ سچ بھی تھا۔

’’ہم نے سنا ہے وہاں کے کھانے بہت زبردست ہوتے ہیں۔‘‘ماہِ نو اس کی کم علمی پر مسکرائی۔ وہ کتنا کم جانتا تھا۔

’’وہاں کا سب کچھ اچھا ہے مسٹرعادِل! آپ کبھی آئیے گااور جانتے ہیں وہاں کا سب سے اچھا کیا ہے؟‘‘اِس بار ٹانگ کھینچنے کی باری اس کی تھی۔

’’کیا؟‘‘

’’لوگوں کا مہمان نواز ہونا جو لکھنو ؤ کے لوگ بالکل بھی نہیں ہیں!‘‘اِس جواب کے بعد وہ کئی دیر خاموش رہا۔ اسے لگا اس نے ٹانگ کے بجائے زبان کھینچ لی ہے۔

’’اب ایسی بھی بات نہیں۔ آپ کا پالا اچھے لوگوں سے نہیں پڑا ہو گا۔‘‘کیا یہ اپنے ہی گھر والوں پر تنقیدکر رہا تھا؟ وہ سوچتے ہوئے مسکرائی۔

’’ہاہا۔ جی وہ تو ہے!‘‘ہاں اگر ہادی ہوتا تو یہ سب ہونے کی کوئی گنجائش نہ ہوتی۔ ہادی جیسا بھی تھا۔۔۔کم گو تھا۔۔۔مِزاج کا ٹیڑھا تھا مگر یوں کبھی کسی کے ملک پر تنقید کرنا؟کبھی نہیں۔ اِن چند دِنوں میں وہ اس کی اِس عادت سے تو واقف ہو ہی گئی تھی۔

بڑا اِمام باڑہ صرف نام کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے بڑا تھا۔ چار سو ستونوں پر مشتمل یہ اِمام باڑہ حقیقی طور پر بھول بھلایاں تھا۔ مرکزی دروازہ کافی چھوٹا تھا اور امام بارگاہ کے آگے ایک بڑا سا لان تھا جہاں کافی بینچ اور لیمپ لگا کر اسےسجایا گیا تھا۔ وہ پہلے تو مسلمانوں کی عزاداری کا مرکز رہا مگر اب کچھ ہی سالوں سے تمام مذاہب اور سیاحوں کی تفریح کا اہم حصہ بن چکا تھا۔ جو کوئی بھی باہر سے آتا اس کی تعمیر اور کاریگری دیکھ کر دنگ رہ جاتا۔

ماہِ نو عادل کی باتوں سے اکتا کر اب تھوڑا تیز چلنے لگی جس سے عادل دو قدم پیچھے رہ گیا۔

’’اتنی تیزی سے جاؤ گی تو بہت آگے نکل جاؤ گی۔‘‘

’’آگے نکلنا نہیں چاہتی۔۔۔تم سے بچنا چاہتی ہوں سٹوپڈ۔‘‘ وہ سوچ کر مسکرائی۔ کیا اب یہی مصنوعی مُسکان اسے پُورا دن چَسْپاں رکھنی تھی؟

’’خیر۔۔۔اِس امامباڑاہ میں بہت بھول بھلیاں ہے۔۔۔ایسی ہی گئی تو ان میں کھو جاؤ گی۔‘‘

’’کھونا بہتر ہے بجائے اس کے کہ میں تمھاری بکواس سنوں۔‘‘ وہ قدم بڑھاتے ہوئے سوچتی رہی۔ کاش وہ اسی وقت مراد چچا کو منع کر کے کل آجاتی اور سارا وقت ہادی کے ساتھ بتاتی۔ وہ یہی سوچتی ہوئی خود کو کوسنے لگی۔

’’کیا ہوا؟‘‘وہ اب سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔

’’کچھ بھی نہیں۔‘‘

’’لگتا تو نہیں۔خیر اندر چلتے ہیں۔۔۔پھر ہم آپ کو کسی اچھی جگہ كھانا کھلائیں گے اور اس کے بعد واپس گھر۔‘‘ وہ حقیقتاً شرافت ظاہر کر رہا تھا جو اس کے دل کے کونے میں کہیں نہ کہیں تو موجود تھی۔ اگر ہادی سے پوچھتے تو اس کے خیال میں عادل نہایت کم ظرف انسان تھا۔

’’کھانا کیاضروری ہے؟‘‘بے آرامی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی۔

’’انسان اگر نہ کھائے تو مر سکتا ہے اور ہمیں مرنے کا فی الحال کوئی شوق نہیں۔‘‘اب وہ مذاق میں کہنے لگا جس سے ماہِ نو کے چہرے کی بےزاری دور ہو گئی۔

’’ہاہا۔۔۔ پر مجھے بھوک نہیں۔‘‘اس نے دو ٹوک جواب دیا۔

’’تو خیر ہے۔۔۔تم بیٹھنا ہم کھائیں گےمگر پہلے امامباڑاہ دیکھ لیں؟‘‘اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو ماہِ نو نے بھی شانے اچکاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں ضرور۔۔۔کیوں نہیں۔‘‘

اِمام باڑہ کے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے انھوں نے جوتے اُتار کر باہر رکھیں پھر ماہِ نو نے سر پر دوپٹہ لیے اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اِمام باڑہ کا اندرونی حصہ اِس قدر وسیع تھا کہ ایک شخص کچھ کہتا تو بیس اشخاص جتنی دوگنی آواز سماعت سے ٹکراتی۔ اس نے سوچا وہ کیوں نہ عادل سے ہادی کے بارے میں کچھ پوچھے۔ ضروری تو نہیں سب مراد چچا جیسی ہی سوچ کے مالک ہوں۔

’’عادل ایک بات پوچھوں؟‘‘وہ چونکہ پیچھے چل رہی تھی تو اس نے مڑ کر کہا۔

’’ہاں پوچھو!‘‘

’’ہادی کی کسی سے گھر میں دوستی نہیں کیا؟‘‘بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آیا اس نے بول دیا اور کیا بھی پوچھتی؟ ہادی سنگل ہے؟ میرے لیے ٹھیک رہے گا؟ جب اسے یقین تھا کہ وہ کیسا ہے پھر اس نے یہ احمقانہ سوال کیوں کیا۔

’’نہیں۔ نہ وہ رکھتا ہے نہ ہم اس سے رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘اس نے بھی دو ٹوک جواب دیا جس نے ماہِ نو کو تھوڑا پریشان کردیا۔

’’اچھا۔‘‘ وہ اس کی کم علمی پر ایک بار پھر منہ چڑھائے کہنے لگی۔

’’کیوں؟‘‘اپنی پینٹ کے پانچے اوپر کرتے ہوئے وہ تجسس بھری نگاہوں اُسے دیکھنے لگا۔وہ اچانک گھر کے تمام لڑکوں کو چھوڑکر آخر ہادی کا ہی کیوں پوچھ رہی تھی؟

’’ویسے ہی پوچھا۔‘‘اس نے نظریں چراتے ہوئے عادل کا شبہُ دور کرنے کی سعی کی۔ہر قدم دیکھ کر چلنا ہوتا ہے، وہ سیکھ کر بھی آئی تھی پر۔۔۔

’’ماہِ نو۔۔۔وہ دیکھو کتنا خوبصورت بچہ ہے۔‘‘اس نے کونے میں کہیں اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اس نے اس کی انگلی کا تعاقب کرتے ہوئے کہا۔

’’کہاں؟‘‘

اُسی پل نہ جانے کب بڑی چالاکی سے عادل اس کا بیگ لے کر بھاگنے لگا جس پر وہ ہکا بکا وہیں کھڑی اسےدیکھتی رہی۔ پہلے تو وہ سمجھ ہی نہ سکی کہ عادل کا اِرادَہ کیا تھا۔وہ چور تھا؟ نہیں وہ تو صرف شرارت کر رہا تھا تاکہ اس کا موڈ ٹھیک کر سکے۔۔۔تبھی وہ چلتے چلتے بلاوجہ رک گیا تھا۔

’’عادل۔۔۔میرا بیگ!‘‘وہ چلاتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگنے لگی۔کبھی دائیں جانب سے تو کبھی بائیں جانب سے’عادل۔۔۔ میرا بیگ!‘ کی گتھم گتھا صدائیں اس کے کانوں سے ٹکرانے لگیں۔

’’تمھیں بھول بھلیاں گھماتے ہیں میڈم۔‘‘اس نے بھاگتے ہوئےکہا اور تیزی سے بھول بھلیوں کی جانب بڑھ گیا۔ کچھ دیر بھول بھلیوں میں اس کا پیچھے کرنے کے بعد آخر کار وہ وہیں آ کر رکی جہاں سے بھاگنا شروع کیا تھا۔ سانس پھلائے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے ہوئے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گئے۔ عادل نے اسےاس کا بیگ واپس کیا اور ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل کو منہ سے لگا لیا۔

’’تھکا دیا تم نے۔۔۔ یہ۔۔۔اتناسارا راستہ کیسے معلوم ہے تمھیں؟‘‘وہ سانس بَحال کرتے ہوئے کہنے لگی تو وہ بھی سانس بَحال کیے فخریہ انداز میں کہنے لگا۔

’’بچپن گزرا ہے ادھر ہمارا۔۔۔کوئی چھوٹی بات تو نہیں۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ بات تو ہے۔‘‘ وہ یہی سب ہادی کے ساتھ کرنا چاہتی تھی مگر ایسا ممکن ہی کہاں تھا۔ خیر۔۔۔وہ بھر پور لطف اندوز ہوئی تھی۔

’’ایک بات پوچھیں؟‘‘وہ دونوں اُٹھ کر اِمام باڑہ کے عقبی حصے میں جا کر بیٹھ گئے جہاں لوگوں کا ہجوم قدرے کم تھا۔ ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں بیٹھے وہ کتنی دیر گارڈن میں ہونے والی چہل پہل دیکھ کر جب بور ہوتے رہے۔ عادل نے ماحول کو بہتر کرنے کا سوچا۔

’’ہاں۔۔پوچھو!‘‘

’’کتابیں پڑھتیں ہیں آپ؟‘‘

’’کیسی کتابیں؟‘‘

’’مطلب آپ کو دیکھ کر لگتا ہے آپ ناولز پڑھنے کی شوقین ہیں۔۔۔‘‘اُس نے ایک ابرو اُٹھا کر اُسے تعجب سے دیکھا جیسے سامنے بیٹھا شخص نہ جانے اور کیا کیا جانتا ہو۔

’’واہ۔۔۔کیسے پتا چلا؟‘‘

’’بس۔۔۔پتا لگا۔۔۔خیر۔۔۔آپ کا کوئی پسندیدہ ناول؟‘‘

’’ویسے تو بہت سارے ہیں پر۔۔۔خالد حسینی کافی زبردست رائٹر ہے۔۔۔اُس کے علاوہ منٹو کی شارٹ سٹوریز اور کلاسیکل لٹریچر بھی پسند ہے۔۔۔‘‘ وہ آج پہلی بار مریم کے علاوہ کسی سے اپنے اِنٹرسٹس شئیر کر رہی تھی۔۔۔وہ بھی اُس شخص سے جس کے ساتھ کچھ دیر پہلے اُسے وقت بتانے میں مسئلہ ہو رہا تھا۔

’’یعنی آپ اَدب پڑھ رہی ہیں۔۔۔‘‘

’’نہیں۔۔۔اِنجینئرنگ کر رہی ہوں۔۔۔بد قسمتی سے۔‘‘اِس بار وہ اس کی نہیں اپنی جسارت پر حیران ہوئی۔ کیا اُس کے ہر سوال کا سچا جواب دینا ضروری تھا؟ اچانک وہ اُس میں اِتنا اِنٹرسٹ کیوں لینے لگا تھا؟

’’ہوں۔۔۔افسوس ہوا سن کر۔۔۔اور پڑھنے کے علاوہ کوئی اِنٹرسٹ؟‘‘

’’ہے نا۔۔۔مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے۔ دل چاہتا ہے بہت کہانیاں لکھوں پر ڈرتی ہوں کہ وہ تو کبھی سچ نہیں ہوں گی۔۔۔اور جو سچ نہیں ہوں گی انھیں لکھنے کا فائدہ؟‘‘

’’کیا؟ یہ ہم پہلی بار سن رہے ہیں۔۔۔کوئی ایسا بھی ہوتا ہے؟‘‘وہ اُس کے انکشاف پر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگا تو ماہِ نو فوراً موضوع کا رُخ اُس کی طرف بدلتے ہوئے کہنے لگی۔

’’خیر۔۔۔مجھے چھوڑو۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔پڑھنے کے علاوہ کس میں اِنٹرسٹ ہے؟‘‘وہ آگے کیا کہنے والا تھا اُسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا۔ پر عادل کا بڑھتا ہوا اِنٹرسٹ اُسے اب زِچ کرنے لگا تھا۔

’’ہے کوئی۔۔۔بہت خوبصورت۔۔۔پر بتا نہیں سکتے۔‘‘یہ کہہ کر اُس نے ماہِ نو کو ایک پُر تجسس مُسکان پاس کی تو وہ بھی اُس کے جواب پر اُلجھے شانے اچکا کر کہنے لگی۔

’’جیسے تمھیں ایزی لگے۔‘‘

’’خیر۔۔۔اب بھوک لگی ہے؟ یا ہم اکیلے کھائیں؟‘‘بڑا ہی کوئی عجیب انسان تھا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آئی آخر ایک ہی پل میں بَدَل کیسے گیا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور کپڑوں کو جھاڑتےہوئے کہا۔

’’لگی ہے۔۔۔کیوں نہیں لگی۔‘‘

’’چلو پھر چلیں۔‘‘اِمام باڑہ میں تھوڑی دیر اور رہنے کے بعد وہ اسے اچھے سے ریسٹورانٹ لے گیا جہاں ایک بار پھرخوش مزاجی نے جگہ لے لی تھی۔ کتابوں سے ہوتے ہوئے وہ کب پاک و ہند کے نجی مسئلوں ہر تبصرہ کرنے لگے انھیں بھی پتا نہ چلا۔ ماہِ نو کو عادل کے نظریات جان کر اپنی سوچ پر پشیمانی ہونے لگی کہ جوشخص محبت اور امن کی اتنی دلائل دے رہا تھا وہ کیوں اُس کے ایک جملے کو لے کر پورا اِمیج خراب بنا بیٹھی تھی۔

✧✧

ہادی رات سات بجے گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے دادی جان کے پاس گیا اور سلام دعا کے بعد ہماءکے کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔ عادت سے مجبور اس نے دروازہ بغیر دستک کے کھولنا چاہا مگر اِس خیال سے کہ اب ہماءاکیلی نہیں رہتی اس نے دستک دینا مناسب سمجھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ہماءنے دروازہ کھول کر پوچھا۔

’’تمھیں کیا ہوا؟‘‘ہادی نے سامنے کھڑی ہماء سے پوچھا جو سر پر دوپٹہ باندھے ہوئی تھی۔

’’سر میں بےحد درد ہے۔۔۔ آجاؤ!‘‘اس نے راستہ چھوڑتے ہوئے کہا۔

’’نہیں بس ملنے آئے تھے۔‘‘ وہ اب کمرے کے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’وہ باہر گئی ہوئی ہے۔‘‘اسے بھی خوب اندازہ تھا کہ وہ اِس پہر کس سے ملنے آیا تھا۔

’’کہاں؟‘‘

’’عادل کے ساتھ۔ اُسےبڑا اِمام باڑہ دیکھنا تھا تو انکل نے عادل کو ساتھ بھیج دیا۔‘‘ہماءنے سر کو دباتے ہوئے کہا۔ اس نے شاید بڑھتے ہوئے طوفان کو محسوس نہیں کیا۔ اگر وہ کپکپاتے ہوئے پتوں کی سرسراہٹ سنتی تو شاید عادل کا نام کبھی نہ لیتی۔ اس نے سامنے کھڑے ہادی پر کیوں غور نہیں کیا تھا؟ طوفان بہت قریب آ چکا تھا مگر ہماءاس سب سے انجان تھی۔

وہ ماہِ نو سے محبت تو نہیں کرتا تھا۔۔۔پھرآخر کیوں اسے اِس بات نےغصہ دلا دیا تھا۔ کیا وہ اِس بات پر غصہ تھا کہ وہ عادل کے ساتھ گئی تھی یا اِس بات پر کہ وہ اسےچھوڑ کر عادل کے ساتھ گئی تھی؟

وہی عادل جو ہادی کا شاید جنم لیتے ہی سب سا بڑا دشمن بن چکا تھا۔ اسےعادل سے بازار میں ہونے والی تلخ گفتگو یاد آئی۔ اس نوک جھونک نے اسے صحیح معنوں میں احساس دلایا تھا کہ رشتے غصے میں ماں بہن کا بھی لحاظ نہیں رکھتے تھے۔ جو کام اس نے کیے بھی نہیں تھے ان کا ذِکر بھرے بازار میں سرِ عام کر کے اسے رسواءکرنا ہی عادل کا اصل مقصد تھا۔ ہادی اور عادل ہم عمر تھے مگر ہادی مہینوں کے لحاظ سے تھوڑا بڑا تھا۔ چھوٹا سمجھ کر وہ ہر بار اسے معاف کر دیتا مگر اب بات حد سے تَجاوُز کر چکی تھی۔

عادل اور اس کی امّی نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ خود تو دو ٹکیا میں گزاراہ کر لیں گے مگر انھیں بھی محل میں رہنے نہیں دیں گے۔ بحث لڑائی میں کب بدلی کوئی سمجھ نہ سکا۔ عادل اکیلا تھا، وہ ہادی کو چور کہہ کر اپنا کام پورا کر چکا تھا۔ اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا مگر ہادی؟ زونی اور شبنم کے ہمراہ کھڑا وہ خود کو بیڑیوں میں جکڑامحسوس کر رہا تھا۔

جب ہادی نے جواباً عادل کو تھپڑ مارا تو عادل نے اسے ماں کی گالی دے ڈالی۔ پھر وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔عادل کا چہرہ تھا اور ہادی کے تھپڑ جو پورے بازار میں چلتے پھرتے سب کو دکھائی دے رہے تھے۔ آخر کوئی کس طرح طیش میں آ کر اپنی ہی تائی جان کو گالی دے سکتا تھا؟ تب ہادی صرف بد لحاظ اورعورت باز ہی نہیں بلکہ بدمعاش بھی مشہور ہوا تھا۔

 ٹھیک دس بجے عادل نے گاڑی صحن میں کھڑی کی اور ماہِ نو کے ہمراہ گھر میں داخل ہو گیا۔ وہ دونوں کسی بات پر ہنستے ہنستے دادی جان سے ملنے لگےجو تخت پوش پر تکیہ لگائے لیٹی ہوئی تھیں۔

’’او کے۔ ابھی کے لیے اللہ حافظ۔ ہم چلتے ہیں۔‘‘عادل نے اُسے خوبصورت سی مسکان دے کر رخصت مانگی تو وہ بھی دل سے مشکور ہوتے ہوئے کہنے لگی۔

’’ہاں! اللہ حافظ۔‘‘

 کوری ڈور سے گزرتے ہوئے ماہِ نو نے ہادی کو دیکھا جو انتہائی غصے میں اس کی طرف چلا آرہا تھا۔آستینوں کو اوپر چڑھائے، ایک ہاتھ بالوں میں پھیرتے ہوئے ہادی نے اپنے قدموں کو زور زور سے زمین پررکھناشروع کیا۔ وہ ماہِ نو کی جانب یوں بڑھنے لگا جیسے کوئی شکاری اپنے ہدف کو دیکھ کر بڑھتا ہے۔ غصے کا اُبلتا ہوا لاوا اب اس کے اندر وہ تپش پیدا کر رہا تھا جس کی حرارت کوری ڈور کے آخر میں کھڑی ماہِ نو نے بھی محسوس کی۔ آخر ایسا کیا ہو گیا تھا جس پر بچپن کا علی ہادی جو ہر وقت غصہ اور انتہائی خفا رہتا تھا واپس اپنے روپ میں لوٹ آیا تھا مگر آج وہ اپنے چچا چچی یا کسی بھی گھر کے فرد پر غصہ نہیں تھا۔غصہ کس پر تھا۔۔۔ یہ اسے بھی سوچنے کا وقت نہیں ملا تھا۔ محبت کے ڈھانچے میں پڑنے والا یہ دیمک کا پہلا حملہ تھا۔اس نے فوراً ماہِ نو کا بازو پکڑا اورکھینچ کر برابر والے کمرے میں لے گیا۔اگر وہ پیار سے پکڑتا تو تب بھی ماہِ نو اتنا پریشان نہ ہوتی۔ یہ جبر تھا۔۔۔اور جبر کی اُسے ہر گزعادت نہیں تھی۔

’’کیا کر رہے ہو ہادی؟‘‘ماہِ نو نے اپنی آواز دھیمی رکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ اس کے اِس قدر قریب تھا کہ اگر وہ سر اُٹھاتی تو اپنی پیشانی پر اس کے ہونٹوں کو محسوس کرپاتی۔

’’بڑی ہنستی ہنستی آ رہی تھی۔ کیا بات تھی؟‘‘وہ ماہِ نو کو دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے نہایت عجیب انداز میں کہنے لگا۔ وہ اب اسے درد دے رہا تھا۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ماہِ نو اپنے دوسرے ہاتھ سے بدلہ لے چکی ہوتی۔ یہ ماہِ نو کے لیے چودہ طبق روشن کردینے والا سوال تھا۔

’’تم کیا کہہ رہے ہو؟ ٹھیک تو ہو؟‘‘وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی۔

’’ہمیں پیچھے کر کے کِسے آگے کرنا چاہتی ہو؟‘‘وہ اب حد سے بڑھ رہا تھا۔ اسےعادل سے مسئلہ نہیں تھا بس ماہِ نو کا اُسے کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ جانا گوارا نہیں تھا۔

’’بس کرو ہادی!‘‘اس نے احتجاجاً کہا۔ وہ اپنے بازو کو چھڑوانے کی سعی کر رہی تھی۔

’’دوپٹہ کہاں ہے تمھارا؟ سر پر کیوں نہیں لیا؟‘‘اس نے آتش زدہ لہجے میں سوال کیا۔وہ خود بھی اِس بات سے انجان تھا کہ آخر ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے وہ ماہِ نوپر برس رہا تھا۔ اس کے سوالات ایک ایک کر کے ماہِ نو کو اپنی طرف بڑھنے والے تیر کی مانند لگ رہے تھے جو اب چبھن کے ساتھ ساتھ زخم بھی دے رہے تھے۔ اس نے اِس سوال کی ہادی سے کبھی امید نہیں کی تھی۔

’’لاہور میں بھی یہی کرتی ہوگی؟ اُدھر بھی ایسے ہی پھرتی ہو؟ تم سارے پاکستانی ایسے ہی ہوتے ہو؟‘‘ماہِ نو کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ہادی نے سوالوں کی بارش کردی جس کی بوندیں کانٹے سے بھی زیادہ تند تھیں۔

اچانک ماہِ نو کو خود پر ہنسی آنے لگی۔۔۔اس کا انتخاب کتنا غلط تھا۔ اُسے یہ سوچتے ہوئے بھی شرم آرہی تھی کہ اس نے ہادی جیسے لڑکے سے اتنا عرصہ محبت کیسے کرلی تھی۔ جیسے بیچ تو بویا ہو، پانی اور سورج کی روشنی کےساتھ ساتھ محبت بھی دی ہو، سینچ سینچ کر جب وہ گلاب بن جائے تو اسی کا کانٹا آپ کو چُبھ جائے۔ ہادی اب اس کی محبت کے پھول کا وہ کانٹا بن چکا تھا۔

’’تم جانتے ہو ہادی مجھے تم سے کتنی محبت ہے۔ ہے نا؟‘‘ ماہِ نو نے عجیب سی مسکراہٹ کھینچی اور ہاتھ چُھڑاکر پشیمانی میں کہا پھراپنے دوسرے ہاتھ سے ہادی کا ہاتھ پیچھے کیا۔ اس کے گلے میں پھنسی ہوئی آواز نہ جانے کہیں کھو چکی تھی جو اگر ظاہر ہوتی تو صرف آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسوؤں کی شکل میں۔ حوصلہ اکٹھا کرتے ہی اس نے موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو لیے اپنی پلکیں اٹھا کر اپنے مُجرِم کو دیکھا۔ ماہِ نو نے کچھ کہنے کے لیے ہونٹ کھولے جس سے ہادی کی نگاہ اس کے گالوں سے ہونٹوں تک بہنے والے آنسوؤں پر پڑی۔ وہ جانتا تھا! وہ جانتا تھا کہ ماہِ نو کے منہ سے نکلنے والے اگلے جملے ہادی کو کئی حصوں میں تقسیم کر دینے والے تھے۔وہ اب اپنا دوپٹہ جو اس جلد بازی میں کاندھے سے اُتَر چکا تھا صحیح کرنےلگی۔

’’سب کہتے تھے تم محبت کے لائق نہیں ہو۔ جھوٹے ہو، شرابی ہو، لڑکیوں پر بُری نظر رکھتے ہو۔ میں نہیں جانتی وہ سب جھوٹ تھا یا سچ۔ میں نے ہمیشہ سب کے خیالات سے عداوت کی اور تمھیں صحیح سمجھا صرف اسی لیے کہ میرے وجود کے کسی بھی حصے کو تم ناگوار محسوس نہیں ہوئے تھے۔ میرا دل چاہتا تھا تمھیں! یونہی پاگل نہیں تھی میں جو دن رات اپنی نمازوں میں ایسےشخص کو مانگا جو نہ تو عزت کے لائق تھا نہ بھروسے کے۔ سب کہتے تھے ہادی ایسا ہے، ہادی ویسا ہے، میں کہتی تھی نہیں۔۔۔خبردار، جو ہادی کے خلاف کسی نے کوئی بات بھی کی۔ پر تم تو تنگ نظر بھی نکلے۔ تمھیں معلوم ہے؟ تمھاری زبان سے اپنا نام سننے کے لیے اور تمھارے وجود کو خود کے اِس قدر قریب محسوس کرنے کے لیے میں نے آٹھ سال ضائع کر دیے۔‘‘

 آنسو بے بسی میں بہے جا رہے تھے۔ اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ محبت کے اِتنےسال اُس نے اگلا جملہ کہنے کے لیے گزارے تھے۔

’’افسوس! آج لگتا ہے سب سچ کہتے تھے۔۔۔تم واقعی محبت کے لائق نہیں ہادی!‘‘اُس کا جواب سنے بغیرہی وہ مڑی اور آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔ ہادی کو ماہِ نو کےالفاظ پر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے اسے پہاڑی کی چوٹی سے دھکا دے دیا ہو۔ وہ اس کے آگے اور کیا کہتا۔ وہ سچ ہی تو کہہ گئی تھی۔ وہ واقعی نفرت کے قابل تھا۔ اگر قحطِ محبت میں اُسے ساری زندگی بھی پیار کی آبشار سے نم رکھا جاتا تو کافی نہ تھا۔ محبت تو کیا۔۔۔وہ خود کو اب عزت کے لائق بھی نہیں سمجھتا تھا۔

 وہ ماہِ نو کو آج لاکھ بُرا کہہ دیتا پر اُسے اِتنا بُرا نہ لگتا جتنا اپنے کردار اور اپنے ملک پر ہونے والی اِس تنقید کا لگا تھا۔ وہ پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتی تھی جتنی ہادی ہندوستان سے مگر شاید ہادی اپنےنفس کی آڑ میں یہ بھول بیٹھا تھا۔

 ہادی کی اِس بات نے صرف ماہِ نو کو ہی نہیں بلکہ خودکی ذات کو بھی بہت تکلیف پہنچائی تھی۔ساری رات گئے وہ ندامت کی کشتی میں سوار رہا۔ اُترتا تو شاید ڈوب جاتا۔۔۔ ذرا اورٹھہرتا تو مر جاتا۔ وہ ماہِ نو سے معافی مانگنا چاہتا تھا مگر ندامت کی بیڑیاں اسے جکڑے ہوئے تھیں۔ سب کی نفرت سے وہ باخوبی واقف تھا مگر ماہِ نو؟ اگر وہ بھی اس سے نفرت کرنےلگ جاتی تو اُس سے محبت کون کرتا؟ اس کا دل چاہا گھڑی توڑ کر اُس کی سوئیوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلا کر سورج طلوع کروا دے مگر اُس کی سب سے بڑی سزا ایک ایک لمحہ اِسی ندامت میں بتانے کی تھی۔ ہاتھوں کو ملتے ہوئےوہ کبھی پلنگ پر بیٹھ جاتا تو کبھی چھت کے چکر لگانے لگ جاتا۔ اُس نے ٹھان لی تھی۔۔۔صبح ہوتے ہی سب سے پہلے اُسے ہماء کے کمرے میں جا کر ماہِ نو سے معافی مانگنی تھی جس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

دن چڑھتےہی وہ اپنے کمرے سے نکلا اور بھاگتا ہوا ہماء کے کمرے کی دہلیز پ جا پہنچا۔ وہ شاید رو پڑتا، کچھ بھی کرتا مگر ماہِ نو کو خود سے نفرت کرنے کی اِجازت کبھی نہ دیتا۔ اس نے ہماء کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر ماہِ نو کو آواز دینا شروع کردی۔

’’کیا ہوا؟‘‘ہماءنے حیرانی سے ہادی سے پوچھا۔ بچوں کو سکول بھیج وہ ابھی بستر پر لیٹی ہی تھی کہ ہادی کی آواز پر گھبرا کر اُٹھ گئی۔

’’ماہِ نو کہاں ہے؟‘‘ہادی نے پھولی ہوئی سانس سے پوچھا۔ اس کا آج اُس سے مل کر معافی مانگنا بے حد ضروری تھا۔۔۔ ایسے ہی ضروری تھا جیسے فی الوقت سانس لینا۔ ماہِ نو اس کی آواز پر بھی نہیں آئی۔ شاید وہ کہیں نہیں تھی۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of لَو، لکھنؤ اور لاہور / Love, Lucknow Aur Lahore. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Rawish Ali Tirmizy earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

لَو، لکھنؤ اور لاہور / Love, Lucknow Aur Lahore Buy — Rs 500