Check out our most recent publications
Tawaquf / توقّف - Reflective Poems Book
Free sample · no sign-up

Tawaquf / توقّف - Reflective Poems Book

by Saeed ul Hassan

You are reading the first 22% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

22% of the book — free to read

 

 

توقّف

از قلم

سعیدالحسن

---

 

 

 داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ء

 

ISBN Digital : 978-969-696-410-0
ISBN Print : 978-969-696-409-4

 

مطبع:  پکسلز پرنٹنگ

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

٭٭٭

 

مدیرہ

نرمین سرھیو

_____

 

سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں۔

 

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مثلِ گلاب بیٹھا ہے اب تک وہ منتظر
شاید کہ راستے میں کوئی گل شناس ہو
سورج کے ڈوبنے پہ ہو سکتا ہے کہیں دور
اِک تازہ آفتاب نکلنے کی آس ہو


 

انتساب

 

نفی، اثبات کا ورد کرتی اور اسی کے گرد محو رقص زندگی نما ایک کیفیت کے نام۔۔۔ جسے میں ایک جگہ رک کے، سکوت میں، سمجھنے کی کوشش میں ہوں۔ جس میں کچھ ان کہی اور ان سنی باتیں زیادہ شدت سے سنائی دے رہی ہیں۔

سعیدالحسن

 

فہرست

پیش لفظ................................... 1

دیباچہ..................................... 3

تعارف..................................... 8

اکھیوں کے گُنجل......................... 12

چل دل کی باتیں کر ڈالیں.................. 14

غزل..................................... 16

لمحے.................................... 17

اِک خواہش............................... 19

غزل..................................... 21

خدا نخواستہ.............................. 24

ماں، تسبیح اور پردیس..................... 25

زینب کی مٹھی............................ 30

پھر کاہے کا ڈرنا ہے...................... 35

یہ تو طے ہے............................. 37

غزل...................................... 39

بستی...................................... 40

نظم....................................... 44

میں فرار چاہتا ہوں......................... 46

جیسے اِک بجھا دل ہو...................... 48

غزل...................................... 49

تمام موسم ہجر کے موسم................... 50

وقت اِک مرھم اور سوئی دھاگہ............. 52

غزل...................................... 54

تم کیا گئے................................ 55

ذرا سا شکوہ.............................. 56

دِلوں کے پھیر............................. 57

زِیست کے موسم........................... 59

اک سایہ سا ہے............................ 63

قصۂ غَم................................... 65

تمہارے بعد................................ 68

وقت وقت کی بات میں...................... 70

باتوں کے زخم کدے........................ 72

نظم........................................ 74

نظم........................................ 77

میرا یار وطن............................... 82

زندگی سفر ہے تو........................... 85

قصور میرا ہے.............................. 89

دوستوں کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں... 91

غزل........................................ 96

غزل........................................ 97

نئے سال کی آمد پر.......................... 98

یا رب...................................... 100

اِک دعا..................................... 102

مختصر نظم................................. 103

اَدھوری بات................................ 104

غزل....................................... 107

اِنتظار کی طویل نظم........................ 109

غزل....................................... 116

دکھ کی بات................................ 117

تنہا سا..................................... 119

ماں اور میں............................... 121

توقّف..................................... 129

 

پیش لفظ

 

’توقف‘ ایک منفرد نام ہے مگر ان دنوں ہر شخص انفرادی اور اجتماعی طور پر ایکpause  یا دوسرے لفظوں میں اپنی زندگی کے تھیٹر میں ایک طویل وقفے ’’intermission‘‘سے دو چار ہے۔ ہو سکتا ہے ہم سب کی زندگیوں میں یہ پڑاؤ، وقفہ، وقتی طور پہ رکنا بہت ضروری ہو گیا ہو۔۔۔ ہمیں خود سے ملنے یا ملانے کے لیے۔۔۔ ایک دوسرے سے، گرد و پیش سے۔۔۔ یا شاید جانے انجانے میں ہم اپنی ذات ہی سے انجان بن چکے ہوں۔۔۔ یہی خیال میری حال ہی میں لکھی گئی نظم سے جھلکتا ہے،

کس سے چھپ کے بیٹھے ہیں
اور کس سے بھاگ رہے ہیں ہم

جس کا مقطع یہ ہے۔

سمٹ کے اپنی ذات میں ہم تو
اور بھی رہ گئے ہیں کچھ کم

اب فیصلہ تو مجھے اور آپ کو کرنا ہے کے زندگی میں کیا بڑھانا ہے اور کسے کم کرنا ہے، پر ایک بات تو طے ہے۔ زیست کے خمیر میں تبدیلی اور مسلسل اِرتقا گوندھ دیا گیا ہے۔۔۔ ہر گزرتا لمحہ کچھ نہ کچھ بَدل رہا ہے، ہمارے اندر بھی اور باہر بھی۔ بس لمحے بھر کو ہی سہی، پر ایک توقف ضروری ہے۔۔۔ اپنی سوچ، خیال، فکر اور عمل کو ازسرِ نو پرکھنے کے لیے، نکھارنے کے لیے۔۔۔ اِس وقفے کے بَعد شروع کی گئی زندگی میں ذرا زیادہ آسانیاں، آسودگياں اور کشادگیاں سمیٹنے اور بانٹنے کے لیے۔۔۔

اللہ میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو!

 

سعید الحسن------

saeed.shah@gmail.com

       +923014425545

 

دیباچہ

 

ہم انسان تقریباً پانچ ہزار سال سے شعر  کہہ رہے ہیں جن کا ثبوت موجود ہے۔ میرا قیاس ہے کہ شعریت ہماری زُبان کے بہت ارتقائی مرحلوں پہ ہمارے اظہار کا حصہ بن کر ابھری ہو گی، لیکن ثبوت صرف تب سے ہے جب ہم نے لکھنا ایجاد کیا اور لکھے کو محفوظ کرنا سیکھ لیا۔ اس سے پہلے کی شاعری کہانیوں کی صورت  یا یوں کہئے کہ اس سے پہلے کی کہانیاں شاعری کی صورت سینہ بہ سینہ، نسل در نسل چلتی رہیں۔ اِس طرح شاعری انسانی احساس، تجربے، مشاہدے، خواب، خوف، خواہش اور خیال کو یادداشت میں محفوظ کرنے کا ایک بہتر طریقہ بن گئی۔

شعر کہنے والوں کو تاریخ میں کئی نام دیے گئے۔ شعر کہنے کے، لکھنے کے کئی رنگ، کئی روپ اور بےشمار انداز رہے ہیں، جن کے ہر زبان میں کئی نام ہیں۔ ان میں سے گیت، غزل، نظم زیادہ عام فہم ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے شعر کہنا اور شاعری کرنا ایک مشغلہ رہا ہے، جو ہر مشغلے کی طرح باقی زندگی کے کاموں کے علاوہ، ایک اضافی چیز رہا ہے۔ شروع میں تو شعریت تقریباً ہر تخلیقی اظہار میں استعمال کی جاتی رہی، جب نثر اور شاعری ایک دوسرے میں گندھے ہوئے رہے۔ یعنی ڈرامہ بھی اور کہانی بھی شاعری کی صورت بیان کی جاتی رہی۔

اِن سب تاریخی، ارتقائی، اور علمی باتوں کی تمہید کا مقصد ایک سوال کا جواب ڈھونڈنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم شعر کیوں اور کب کہتے ہیں۔۔۔ اِس کا انداز اور رنگ ڈھنگ چاہے کوئی بھی ہو! اِس کا ایک جواب تو غالباً یہ ہے کہ جب ہم نے اپنے دِل کی بات کسی دوسرے کے دِل میں بہت ہی پیار سے، جذبے سے ، شوق سے اور مؤثر طریقے سے اتارنی ہو! یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اِس اہم سوال کا فقط یہی جواب ہو!

یہ سوال اور یہ جواب میرے ذہن میں ایک نئے سرے سے، اک نئی طرح سے آیا جب میں نے سعید کی ’توقّف‘ کو دیکھا، پڑھا، محسوس کیا، اور ان نظموں سے محظوظ ہوا۔

سعید کی شاعری اور شعریت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ، اور اُس کا دِل، ایک حالتِ سفر میں ہیں، جس کے نہ آغاز کا علم ہے نہ اِس کے اختتام کا پتا ہے، نہ اِس سفر کی سمت واضح ہے۔ جس کی وجہ سے  وہ اپنی نظم میں ایک جگہ لکھتا ہے

منزل اور مسافت میں
میری ذات جو بھی ہے
مستقل پریشان ہے

اس سفر میں اس کی زادِ راہ ’محبت، ہجر اور ملال‘ ہیں جو اس سے کبھی انتظار کی طویل نظم لکھواتے ہیں، کبھی اعتراف کرواتے ہیں کہ "تمام موسم ہجر کے موسم"، کبھی احساس دلواتے ہیں کہ

اتنا رکتے رہے رستے میں، کھو گئی منزل
پِھر اس کو ڈھونڈتے رہنے میں بہت چلنا پڑا

اور پھر ایک مسلسل سفر، جو مسلسل فرار جیسا ہے۔"میں فرار چاہتا ہوں" کہلوا کر مزید ’فرار‘  كے راستے تلاشتے ہیں۔

نظم ”ماں، تسبیح اور پردیس“ میں یہ احساس کہ "فیصلوں کی قیمت تو فاصلے چکاتے ہیں" ہم میں سے ہر شخص کی کہانی کا حاصل لگتا ہے جس نے اپنے گھر سے قدم نکالا اور پِھر یا تو واپسی نہ ہوئی، یا ہوئی تو وہ گھر اجنبی سا لگا۔ ایسی ہی کیفیت میں وہ دن بھر لوگوں میں رہ كے بھی تنہا رہتا ہے، اور پِھر خود ہی حیرت سے پوچھتا ہے۔

کس سے چھپ کے بیٹھے ہیں اور
کس سے بھاگ رہے ہیں ہم

سعید کی ’توقّف‘ پڑھ کے یہ مصرعہ بہت معنی خیز لگا۔

That’s the end of the free sample

You have read 22% of Tawaquf / توقّف - Reflective Poems Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Saeed ul Hassan earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 450

See all editions, reviews and details

Tawaquf / توقّف - Reflective Poems Book Buy — Rs 450