12% of the book — free to read

شخصیت کی تعمیر
عرفان محمود

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ ء
ناشر: داستان پبلشرز
پاکستان
ـــــــــــــــ
سرورق کے جملہ حقوق عرفان محمود کے نام محفوظ ہیں
فہرست
مقدمہ : زندگی کی ایک آرٹ ہے... 5
بیدارخوابی اورانسانی شخصیت........ 26
ذاتی آئین کی تدوین اور نفاذ کی طریقہ... 46
احساسِ کمتری ۔۔۔اسباب و تدارک... 60
ڈپریشن کا بغیر دوا کے علاج.. 64
اپنے غصے کو استعمال کیجیے.... 80
اپنی تخلیقی صلاحیت کوبیدار کیجیے.... 91
نوجوانوں کی جنسی الجھنیں....... 102
دُبلے پن سے نجات پائیے.... 115
قد چھوٹا رہ جانے کے اسباب... 137
چہرے کاحسن وجمال اوراس کے مسائل... 140
کالی یا گہری سانولی رنگت کامسئلہ..... 145
کیرئیر کاانتخاب اورروزگارکاحصول.. 151
اپنی دلچسپیوں کا اندازہ کیجئے.... 153
اپنی صلاحیتوں کو جانیے.... 155
پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کیجیے.... 158
شخصیت میں بہتری لانے کی دوتکنیکیں.. 171
دیکھا جائے تو زندگی میں ایسی باتیں بہت ہی کم ہیں جن پر انسان کو براہ راست اختیار ہو ۔ نسل وخاندان ، رشتے ناطے، شکل وصورت، سماجی ماحول وغیرہ، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ایسی نیں جس پر کسی ایک بھی فرد اختیار چلتاہو، جبکہ یہی وہ عوامل ہیں جو انسانی زندگی کو اچھی یا بری ، تلخ یا خوشگوار بنانے میں بہت زیادہ حصے دار ہوتے ہیں ۔ شعور کی منزل کو پہنچنے سے بہت پہلے انسان کو دی گئی تربیت اور بچپن کاماحول اس کے ذاتی کردار کو ایک خاص صورت دے چکے ہوتے ہیں۔مزید برآں زندگی میں رونما ہونے والے تقدیر کے نشیب وفراز اور ناگہانی تغیرات کسی بھی لمحے زندگی کو کو کچھ کاکچھ بنا دیتے ہیں اور اکثر صورتوں میں انسان ان طوفانوں کے مقابلے میں بالکل حقیر تنکا ثابت ہوتاہے۔ یوں انسانی زندگی کا ایک بڑ حصہ جبر پر مبنی دکھائی دیتاہے۔
تاہم ایک محدود دائرے میں اندرانسان کو زندگی پر کچھ اختیار بھی حاصل ہے ۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی درجے میں یہ صلاحیت حا صل ہے کہ وہ اپنی زندگی میں جاری بعض عوامل کو روک دے ، بعض کی رفتار تیز کردے اور کچھ عوامل کی اصلاح کردے ۔ ایسی حکمت عملی ممکن ہے ، جس سے زندگی کی تلخیوں کی شدت کم سے کم ہوجائے اور مسرتوں کارنگ زیادہ سے زیادہ نمایا ں ہوجائے ۔ اس پہلو سے زندگی ایک فن(آرٹ) ہے۔
آرٹ کی تعریف یہ ہے کہ ایک فطری عمل یا تقاضے کو اس طرح تراشا و نکھاراجائے اورا یسے اسلوب اختیار کیے جائیں جن سے اس عمل یا تقاضے کی تاثیر اور افادیت معمول سے بڑھ جائے۔ مثال کے طور پر زندہ رہنے کے لئے سانس سب ہی انسان لیتے ہیں اس لیے کہ سانس لینا جبلت ہے۔ لیکن اگر یہی عمل ایک خاص اسلوب اور قاعدے سے انجام دیا جائے تو آرٹ بن جاتاہے جسے یوگا کہتے ہیں۔اسی طرح گفتگو سب ہی لوگ کرتے ہیں ، لیکن یہی کام اگر دل نشین الفاظ کے انتخاب اور مناسب لب و لہجے کے ساتھ کیا جائے تو خطابت کاآرٹ بن جاتاہے۔بالکل اسی طرح ہر انسان زندگی گزارتاہے ۔ لیکن زندگی گزارنے کے اس جبلی عمل کو اگر ایک خاص ڈھنگ اور سلیقے سے انجام دیا جائے تو زندگی گزارنا بھی ایک آرٹ بن جاتاہے۔ تاہم جس طرح یوگا اور تقریر کا فن کسی کو خودبخود نہیں آجاتا، اسی طرح زندگی کاآرٹ بھی سیکھنا پڑتاہے۔
ایک شخص کی زندگی اچھی گزر رہی ہے یا بری ، اس کا انحصار دراصل اس کی اندرونی ذہنی یا جذباتی کیفیت پر ہے۔ اگر آپ اندر سے خوش اور مطمئن ہیں تو آپ کی زندگی بھی اس اعتبار سے خوش گوار کہی جائے گی۔ اگر ایک شخص اندر سے پریشان اور افسردہ ہے تو دولت، عزت، عالیشان رہائش ، خوبصورت جیون ساتھی اور دوسری مادی آسائشیں رکھنے کے باوجود اس شخص کی زندگی ناخوشگوار اور تلخ سمجھی جائے گی۔ داخلی کیفیت کو خوشگوار یا تلخ بنانے میں خارجی عوامل کابھی کردار ہوتاہے اور انسان کے خود اپنے سوچنے کے انداز کابھی۔اگر آپ کے اندر اشتعال، خوف ، حسد یا پریشانی کی کیفیت پائی جاتی ہے تو غالباً اس کا سبب آپ کی ذات سے باہر دوسرے افراد کاطرزعمل اور حالات کااتار چڑھاؤ ہوگا اور اگرآپ کے اندرونی احساسات پر بے چینی ، اضطراب، پشیمانی، دباؤ یا بوریت کاغلبہ ہے تو زیادہ امکان ہے کہ ان کا منبع آپ کی ذات کے اندر آپ کے طرزِ فکر میں ہو۔
جب آپ اپنے سوچنے کا اسلوب تبدیل کرلیں گے تو بہت جلد احساس ہوگا کہ زندگی کے معیار میں نمایاں بہتری آگئی ہے۔ اب آپ ان باتوں پر مضطرب نہیں ہوتے جو پہلے آپ کا سکون غارت کردیتی تھیں۔ اب آپ زندگی کی ہر مسرت سے آگے بڑھ کر ہم آغوش ہوتے ہیں اور اپنے کام سے لطف اٹھاتے ہیں۔ سوچنے کا انداز بہتر بناناے کے لئے آپ کو دیکھنا ہوگا کہ آپ کے موجودہ طرزِ فکر میں کیا خامیاں ہیں؟ آپ زندگی کو کس طرح لیتے ہیں؟ کیا آپ اسے ایک بوجھ، آزمائش، معمہ یا بے مقصد شغل سمجھتے ہیں ، کیا آپ ذہنی سکون کے لئے مادی آسائشوں کو ضروری خیال کرتے ہیں؟ کیا آپ بڑی خوشی کے انتظار میں زندگی کی چھوٹی چھوٹی مسرتوں کو ضائع کردیتے ہیں؟ آپ اپنے فیصلے دوررس حقائق کے مطابق کرتے ہیں یاوقتی جذبات اور فوری خواہشات کے ہاتھوں مغلوب ہوجاتے ہیں؟ کیا آپ کو مذہب سے دلچسپی ہے؟ زندگی میں پیش آنے والے حادثوں اور آفتوں پر آپ کا ذہنی ردعمل کیا ہوتاہے؟ کیا آپ قسمت پر یقین رکھتے ہیں؟ان سب باتوں پر غور کرنے کے بعد آپ کو اپنی ایک ذہنی رسائی(مینٹل اپروچ) تشکیل دینی چاہیئے۔
انسانی زندگی میں بیشتر مسائل اور پریشانیاں دوسرے افراد کے منفی طرزِ عمل سے جنم لیتی ہیں۔ایک انسان کے لئے سماجی میل جول کے بغیر چارا نہیں ۔ تاہم رشتے ناطے اور سماجی تعلقات دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں، ایک طرف یہ تحفظ ، اپنائیت اورخلوص کے نذرانے دیتے ہیں تو دوسری طرف احسان فراموشی ، منافقت، بے قدری اور خود غرضی کامظاہرہ کرکے انسان کو صدمے بھی پہنچاتے ہیں۔ اس ضمن میں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے اردگرد رہنے والے اکثر لوگ اوسط درجے کی ذہنیت اورواجبی اخلاقیات کے حامل ہوتے ہیں، مگر ہم غلط طور پر ان سے ایسی توقعات وابستہ کرلیتےہیں جو صرف اعلیٰ درجے کے افراد ہی پوری فکرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے حوالے شکایات رہتی ہیں ۔معاشرت کا دانش مندانہ طریقہ یہ ہےکہ آپ اپنے عزیزواقارب ، دوست احباب اور عام ملنے جلنے والوں کے ظرف و استعداد کاجائزہ لے کر ان کی درجہ بندی کریں اور پھر اسی درجہ بندی کے مطابق ان سے معامل کریں ۔ اعلیٰ درجے کے افراد کے لئے اپنا طرزِ عمل الگ رکھیں اور متوسط یا زیریں متوسط لوگوں کے لئے الگ۔ اگر آپ کوکسی ایسے شخص کے طرزِ عمل سے مایوسی اور دھچکا لگاہے جسے آپ بہت مقام دیتے تھے تویہ دراصل آپ کی پہچان کی غلطی تھی کہ آپ نے پتھر کو ہیرا سمجھ لیا ۔ اب مایوسی اورشکایت کا اظہار کرنے کے بجائے صرف اتنا کیجئے کہ اس شخص کوہیروں کے خانے سے نکال کر پتھروں کے خانے میں رکھ دیجیے اور آئندہ اس کے ساتھ اسی حثیت سے تعلق رکھیے۔
ذاتی سطح پر موزوں طرزِ فکر اور سماجی زندگی میں جوہر شناسی، زندگی کے آرٹ کے دواہم گُر ہیں۔ اسی طرح آپ تخلیقی سوچ اورتجربے کے ذریعے ایسے مزید گُر دریافت کرسکتے ہیں جن سے آپ کی زندگی میں مسرت اورکامیابی کاگراف بلند ہوتاچلاجائے اور آپ کو پریشانی اورپشیمانی سے کم سے کم سابقہ پیش آئے۔
٭٭٭
حصہ اوّل
جدید نفسیات کاعلم اب طفلانہ رویوں کے مطالعے سے ذہنی امراض کے علاج تک پھیل چکاہے۔ ہر شاخ انسانی نفسیات کے گوناں گوں پہلوؤں کے حوالے سے نظریات اور مشاہدات پیش کرتی ہے۔ نفسیات (سائیکولوجی) کی جو شاخ انسانی شخصیت (Personality) کے مطالعے کے لئے خاص ہے ، اسے علمِ شخصیت(Person-ology) کہا جاتاہے۔ انسان کی شخصیت کیسے بنتی ہے؟اس میں موروثی عوامل کاکتنا دخل ہوتاہےاورخارجی ماحول اس کی کیسی تراش خراش کرتاہے؟ دو انسانوں کی شخصیتیں مختلف کیوں ہوتی ہیں، بلکہ خود ایک فرد کی شخصیت عمر کے مختلف ادوار میں بدلتی کیوں رہتی ہے؟ شخصیت کن مسائل سے دوچار ہوتی ہے؟ جیسے موضوعات سے یہ علمِ شخصیت بحث کرتاہے۔
ہر انسان اس بات کو محسوس کرسکتاہےکہ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری عادات اوررویوں میں بہت تبدیلی آتی ہے ،مگر اس کے باوجود ہمارے کردار کاایک حصہ بچپن سے بڑھاپے تک غیرمتبدل رہتاہے اورماحول اورزمانے کے تغیرات کااثر قبول نہیں کرتا۔ یوں ہماری شخصیت بیک وقت جمود اورتغیر کی دوسطحوں پر نمو پذیر رہتی ہے۔
شخصیت کا جو حصہ مستقل اورمخفی رہتاہے، اسے نفس (Psyche) کہتے ہیں، جبکہ ظاہری اورتغیرپذیر حصے کو شخصا(Persona) کانام دیا گیا ہے۔ یہ آپ کا شخصا ہے جووقت کی گرداب میں الجھ کر اپنی صورتیں بدلتاجاتاہے۔ اس کے برعکس آپ کا نفس تمام عمر ایک جگہ ٹھہر ا رہتاہے۔ شخصا ، نفس اورماحول کے درمیان ایک واسطے کاکام دیتاہے۔
نفس اورشخصے کے علاوہ آپ کی شخصیت کاایک تیسرا مرکزی حصہ ذات(Self)، انا یا شعور (Consciousness) ہوتی ہے۔ شعور کے ذریعے آپ اپنے نفس اورشخصے سے آگاہ ہوتے ہیں اور اسی کے ذریعے آپ اپنی شخصیت کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ اس میں کیا اچھا ہے اورکون سا پہلو قابلِ اصلاح ہے ۔ شعور دراصل نفس اور شخصے کے باہمی تعامل سے نمودار ہوتاہے اوریہ دونوں کے مجموعی رجحانات کی آئینہ دار ہوتا ہے۔
اب شخصیت کے دو اہم حصوں یعنی نفس اور شخصے کاایک اجمالی جائزہ لیں گے:
1)نفس(ُPsyche): نفس ان صلاحیتوں پر مبنی ہوتاہے جو پیدائش کے وقت سے ہی ہم میں موجود ہوتی ہیں۔ اس کاایک حصہ ان جبلتوں پر مشتمل ہوتاہے جو تمام انسانوں میں مشترک ہیں مثلاً غذا کی طلب، جنس کاداعیہ ، والدینی جذبہ وغیرہ۔دوسرا حصہ ان رجحانات اوراوصاف سے مرکب ہوتاہے جو ہم اپنے والدین سے جینیاتی طورپر حاصل کرتے ہیں۔ تمام انسانوں میں یہ ساری صلاحیتیں ، جبلتیں اور اوصاف موجود ہوتے ہیں ، مگر ہر فرد کے نفس میں ان تناسب مختلف ہوتاہے ۔ مثال کے طورپر غصے کے جذبات سبھی لوگوں میں ہوتے ہیں ، لیکن بعض میں یہ بہت کم ، کچھ میں واجبی حد تک اور بعض میں اعتدال سے زیادہ پائے جاتے ہیں ۔رجحانات کی اسی کمی بیشی سے ہر انسان کاایک منفرد مزاج بنتاہے۔
ایک انفرادی نفس میں جنسی رجحان، تخلیق، غصہ، شفقت، خوف، بزدلی شجاعت، شرم، خودپسندی، غرور، احساسِ کمتری، ایثار ، احساسِ ملکیت، تنہائی پسندی، گروہ پسندی، حسد، تجسس، گھر سازی وغیرہ جیسے متنوع رجحانات اورصلاحیتیں ایک خاص تناسب میں موجود ہوتی ہیں۔ نفس ہماری شخصیت کاایک مخفی حصہ ہے اور کوئی دوسرا فرد نہیں جان سکتاکہ ہم کون کون سے اوصاف اورقابلیتیں پوشیدہ ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات ہم خود بھی اپنی داخلی صلاحیتوں سے اس وقت تک بے خبر رہتے ہیں جب تک زندگی میں کوئی آزمائشی مرحلہ آکران مخفی صلاحیتوں کو ایک واقعہ نہیں بنادیتا۔ آپ اپنے نفس کو ایک سمندر سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کی گہرائیوں اورتاریکیوں میں لاتعداد خزانے دفن ہیں۔
نفس کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ آپ اسے قوتِ ارادی اورتربیت کے ذریعے سے تبدیل نہیں کرسکتے۔ آپ اپنی شخصیت میں کسی بھی ذریعے سے ایسی کوئی خوبی پیدانہیں کرسکتے جس کی آپ کے نفس میں پہلے سے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ آپ اپنے منفی رجحانات اورخامیوں کی شدت میں کچھ کمی تو کرسکتے ہیں ، مگر انھیں یکسر اپنے اندر سے کھرچ نکالنا آپ کے بس میں نہیں ۔
2) شخصا(Persona): نفس کی خصوصیات خالصتاً تجریدی ہوتی ہیں اوراپنے اظہار کے لئے انھیں ایک قالب کی ضرورت ہوتی ہے۔ شخصادراصل نفس کے مخفی رجحانات کے لئے اظہار کی ایک عملی صورت ہے۔مثال کے طور پرایک شخص غیرمعمولی طورپر ذہین ہے اوروہ اس ذہانت کوشطرنج کے کھیل میں استعمال کرتاہے۔ اس شخص کی ذہانت اس کے نفس کا ایک وصف ہے اوراس کاشطرنج کاکھلاڑی ہونا اس کاشخصا ہےجو اس کے اندر موجود ذہانت کی مخفی استعداد کو ایک عملی کردار کی صورت میں متشکل
(Actualize) کرتاہے۔ اسی طرح ایک فرد کی صلاحیتِ گفتار اس کے نفس کاخاصہ ہے، جبکہ اس کامقرریا خطیب ہونا، اس کاشخصا ہے۔ نفس کے اندر موجود ہر صلاحیت کواپنی تکمیل کے لئے ایک شخصےکی ضرورت ہوتی ہے اوراس کے بغیر وہ صلاحیت نفس کی گہرائیوں میں دبی رہتی ہے۔ آپ کسی حد تک نفس کو شخصیت کاایک پوشیدہ اور شخصے کو ایک ظاہری حصہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔ یوں آپ کسی فرد کی صلاحیتِ گفتار کامشاہدہ نہیں کرسکتے ، لیکن اسے شعلہ بیانی سے تقریر کرتا دیکھ سکتے ہیں۔
کسی فرد کے نفس کی تمام ہی صلاحیتیں واقعہ نہیں بنتیں اورجو عملاًوقوع پذیر ہوجاتی ہیں ، وہ بھی اظہار کی بہت سی ممکن صورتوں میں سے کسی ایک ہی کے ذریعے سے اپنی نکاسی کرپاتی ہیں۔ مثال کے طورپر ذہانت کی صلاحیت ہی کو لیا جائے۔ یہ صلاحیت متعدد شخصوں کے ذریعے سے ظاہر ہوسکتی ہے مثلاً کاروبار اور تجارت میں ، سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں، فنونِ لطیفہ کے شعبے میں یا جرائم کی صورت میں۔ ان مختلف صورتوں میں کسی ایک کاانتخاب متعددخارجی عوامل کے تحت ہوتاہے۔ یہی عوامل انسان کے شخصے کی تشکیل کرتے ہیں یعنی ان عوامل سے یہ امر طے ہوتاہے کہ ایک فرد کی کونسی صلاحیت کس صورت میں ظاہر ہوگی ۔
ایک فرد کاشخصادرج ذیل عوامل ومحرکات کے زیرِ اثر پاتاہے:
1) والدینی اثرات (Parental Influences): یہ انسان کے شخصے کی تشکیل کے ضمن میں بڑاہی اہم اوربنیادی عامل ہے۔ والدین جس انداز سے بچے کی تربیت کرتے ہیں اور جن عادات واطوار کی آبیاری کرتے ہیں، اس سے اس بات کابڑی حد تک تعین ہوجاتاہے کہ آگے چل کر اس بچے کے کون سے رجحانات اورصلاحیتیں کن صورتوں میں عملاً وقوع پذیر ہوں گی۔ بچہ اگر تخلیقی رجحانات کاحامل ہو اور والدین ( یادونوں میں سے کوئی ایک)شاعر ہوں تو وہ بھی اپنے تخلیقی ذوق کی تسکین کے لئے شاعری کو ذریعہ بناسکتاہے۔ یہی بچہ اگر کاروباری ذہنیت رکھنے والے والدین کے ہاں پرورش پائے تو اپنی تخلیقی ذہانت کو کاروبارکی گتھیاں سلجھانے اورنت نئے کاروباری منصوبے بنانے میں استعمال کرسکتاہے۔
2) خاندانی تشخص (Family Status): یہ عامل بھی انسان کی صلاحیتوں کا ایک خاص شخصے میں ڈھالنے میں بہت اہم کردار ادا کرتاہے۔غریب گھرانوں کے افراد زیادہ تر معاشی دباؤ کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کوکسبِ معاش کے میدانوں میں استعمال کرتے ہیں ، جبکہ آسودہ حال کنبوں میں پرورش پانے والے افراد اپنی صلاحیتوں کااظہار اعلیٰ تعلیم ، سیاست، مہم جوئی جیسے شعبوں میں کرتے ہیں۔
3) پیدائشی ترتیب (Birth Order): ایک فرد کےشخصے کی نوعیت کاانحصار اس بات پر بھی ہےکہ ولادت کے اعتبار سےبہن بھائیوں میں اس کا نمبر کونسا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے پیداہونے والے بچے کا شخصا بے آمیز والدینی محبت (Undiluted parental love) ملنے کی وجہ سے درمیان میں یا آخر میں پیدا ہونے والے بچے کے شخصے سے مختلف ہوتاہے۔
4) جسمانی خدوخال (Physique): والدین سے جینیاتی طورپر حاصل ہونے والی جسامت ،قد، وزن، رنگ وروپ، عمومی صحت وغیرہ بھی انسان کےشخصے کی ایک خاص صورت گری کرتے ہیں۔ مثلاً یہی کوائف طے کرتے ہیں کہ آگے چل کر انسان کی برتری یا غرور کے رجحانات متشکل ہوں گے یا انسان کاشخصا احساسِ کمتری کے زیرِ اثر رہے گا۔
5) سماجی ماحول (Social Environment):سماجی ماحول (دوست احباب، عزیز واقارب، اساتذہ ،پڑوسی، محلہ، شہر، ملک وغیرہ) بعض اوقات انسان کے شخصے کی وضع میں بڑا فیصلہ کن کردار اداکرتاہے، حتیٰ کہ دومختلف ماحولوں میں رہنے والے جڑواں بچے (جن میں تقریباً یکساں جینیاتی خصوصیات ہوتی ہیں) بھی دو مختلف شخصوں (Personas) کے حامل ہوجاتے ہیں۔
6) تعلیم (Education): موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہوچکی ہے اور اس کاہونا یا نہ ہونا ، دوافراد کے شخصوں میں ایک بہت بڑی خلیج پیداکردیتاہے۔
7) واقعاتِ زندگی: شخصے کی تشکیل میں یہ عامل اتنا اہم ہے کہ بعض اوقات یہ مذکورہ بالا تمام عوامل کو بے اثر بنادیتاہے ۔ یہ وہی چیز ہے جسے عام زبان میں خوش بختی یا بد بختی سے تعبیر کیاجاتاہے۔یہ حقیقت ہے کہ خوش بختی بسااوقات ایک بے جوہر انسان کے قدموں میں دنیا بھر کی مسرتیں لاڈالتی ہے اوردوسری طرف حالات کی ناموافقت سے ایک باصلاحیت انسان کی قابلیتیں اندر ہی اندر ٹھٹر کررہ جاتی ہیں۔
مذکورہ بالا تشکیلی عوامل کے تحت انسان کاجو اچھا یا برا عمومی شخصا وجودمیں آجاتاہے ، اس پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا، کیونکہ ان تشکیلی عوامل کوکوئی فرد تبدیل نہیں کرسکتا۔تاہم اس ابتدائی شخصے (Primeval Persona) کے ساتھ جب ذات(سیلف) کاعنصر فعال ہوتاہےتو انسان اپنے ابتدائی شخصے پر تنقیدی نظر ڈالتاہے اوراس میں اصلاح وترقی کے لئے ارادی مساعی سے کام لینے لگتاہے۔ ان شعوری کاوشوں کے نتیجے میں انسان کے شخصے کی تین اقسام سامنے آتی ہیں:
1) عادتی شخصا(Habitual Persona): پختہ عادات اور رویوں پرمبنی یہ وہ شخصا ہے جس کاانسان بچپن سے لے کر موجودہ دور تک عادی ہوجاتاہے۔ یہ والدینی تربیت، ماحول اوردیگر تشکیلی عوامل کابراہ ِ راست شاہکار ہوتاہے اورانسان میں شعور کی روشنی ظاہر ہونے سے کافی پہلے اپنی بنیادیں استوار کرچکا ہوتاہے۔
You have read 12% of شخصیت کی تعمیر - Shaksiyat ki Tameer - Self Development Book. The full e-book picks up right where this stopped.