12% of the book — free to read

شہر کنارے
از قلم
نمرہ نورالصمد

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ء
ISBN Digital : 978-969-696-424-7
ISBN Print : 978-969-696-425-4
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
کمپوزنگ
فریال زہرا
مدیرہ
نرمین سرھیو
____
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں۔
__________
انتساب
مناہل اور زینیا کے نام!
فہرست
دیباچہ.............................. 9
باب اوّل: کراچی سے باکو.......... 10
خیالِ سفر.......................... 11
آغازِ سفر.......................... 14
حماد انٹرنیشنل ائیرپورٹ............ 17
سفر تمام ہوا....................... 21
باب دوّم: نئے شہر کی پہلی صبح... 24
سلام باکو ہوٹل..................... 25
بھول بھلیاں........................ 29
کارپیٹ میوزیم باکو بولیوارڈ......... 36
دگستو ہائی لینڈ پارک................ 42
باب سوّم: خاموش دیواریں........... 45
اچھری شہر......................... 46
قز قلاسی (میڈ اِن ٹاور).............. 49
شروانشاہ پیلس....................... 56
بی بی ہیبت مسجد.................... 68
باب چہارم : سنہری شام.............. 70
باکو بولیوارڈ......................... 71
مولکن گارڈن......................... 78
نظامی اسٹریٹ........................ 82
باب پنجم: سلگتے الاؤ................ 90
آتش گاہ.............................. 91
ینار داگ............................ 104
حیدر علی کلچرل سینٹر.............. 109
باب ششم: واپسی.................... 117
آغازِ روانگی........................ 118
فاؤنٹین اسکوائر..................... 123
باکو سے کراچی.................... 126
مصنفہ کا تعارف.................... 131
کتاب لکھنا میرے نزدیک اُس خوبصورت خواب کی مانند تھا، جس کا پورا ہونا ایک گمان تھا۔۔۔وجہ، کاروبارِ زندگی اور بے پناہ مصروفیت۔ مگر پھر ’کرونا‘ نام کی عالمی وبا نے بھاگتی دوڑتی زندگی کو ایسا بریک لگایا کہ ساری دنیا منہ کے بل زمین بوس ہوگئی۔ اِس وبا نے جہاں نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا، وہیں طویل مدت کا لاک ڈاؤن اِس کتاب کو وجود میں لانے کا باعث بنا۔
قدآور معیشتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں۔ سیاحتی انڈسٹری کو شدید خسارہ جھیلنا پڑا۔ بڑی بڑی ایئر لائنز اور ہوٹل چینز دیوالیہ ہونے کے نزدیک پہنچ گئیں، ایسے میں ٹوراِزم انڈسٹری سے جڑے روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے افراد مثلاً پورٹرز، ٹیکسی ڈرائیورز، ٹورآپریٹرز، گائیڈز، ویٹرز وغیرہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ یہ سفرنامہ رقم کرتے ہوئے بارہا اُن لوگوں کا خیال آیا۔
اللّٰہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے۔۔۔ آمین!
نمرہ نورالصمد
Numra.nus@gmail.com
تیرہ جولائی ٢٠١٩ء کی ڈھلتی شام، نظامی اسٹریٹ کے آراستہ بازاروں کے عقب میں بجھا بجھا سورج اپنی کرنیں سمیٹتا ہوا غروب ہونے کی تیاری میں مگن تھا۔ ہلکا نیلا آسمان دھیرے دھیرے گہرے سرمئی رنگ میں تبدیل ہو رہا تھا۔ ٹھیک اُسی لمحے، یوں ہی چلتے چلتے، نظریں بلاارادہ بھٹک کر اس حیرت کدے پر جا رکیں۔
مختصر سی دکان میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی جادوئی دنیا میں قدم رکھ دیا ہو۔ اِس نگار خانے میں گویا آذربائیجان کی پوری تاریخ، شوخ رنگ کے دستکاری کے نمونوں کی صورت میں موجود تھی۔ مختلف اشکال کے ميگنٹس، سوینیرز، کی چینز آرائشی لیمپ، مقامی برتن اور اسی انواع کی اشیاء کوديکھتے ديکھتے، نگاہيں بے اختیار ڈائری اور قلم والے شیلف پر جا رکیں۔ سرخ و سنہرے رنگ کے قالین کی جلد والی اِس ڈائری کو ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے لمحے، مجھے ذرا سا بھی اندازہ نہ تھا کہ کچھ عرصے بعد،آذربائیجان کے شہر باکو کے دل چسپ سفر کی روداد اِس ڈائری میں قلم بند کررہی ہوں گی۔
ایک ایسا سفر جس نے ہمیں انسانی تہذیب کے قدرے مختلف اور دل چسپ حصے کو بہت نزدیک سے محسوس کرنے کا موقع دیا۔ سو یہ قصہ ہے سفر سے کوئی چھ، آٹھ ماہ پہلے کا، کہ جب مناہل (بڑی بیٹی) نے بہت ہی جوش و خروش سے اپنے اسکول کا Facebook page دکھاتے ہوئے کہا کہ "ماما! اسکول کے بڑے بچوں کا ٹرپ باکو آذربائیجان گیا ہے، یہ دیکھیے وہاں کی تصویریں۔"
بیزاریت کے عالم میں موبائل تھاما،لیکن تصاویر دیکھتے ہی بے زاری کا احساس اُڑنچھو ہوگیا۔ ساتھ ہی یہ محسوس ہوا کہ ہم آج تک آذربائیجان کوunder estimate کرتے آئے ہیں۔ یہ جگہ، یہ شہر کوئی معمولی شہر نہیں بلکہ قدیم اور جدید تہذیب کا منفرد شاہکار ہے۔ ایشیا کے اختتام اور یورپ کے آغاز پر کیسپئن سمندر کے کنارے آباد "ہواؤں کا شہر" باکو۔۔۔ ملک آذربائیجان کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر اپنے بےمثال تاریخی ورثے اور قدرتی خوب صورتی کے باعث سیاحوں میں تیزی سے مقبولیت پا رہا ہے۔
غالباً اسکول انتظامیہ نے بھی اسکول ٹرپ کے لیے باکو کا انتخاب يہی سوچ کر کیا تھا،کہ یہاں کی سیاحت نہ صرف پُر لطف بلکہ سبق آموز تجربہ بھی ہوگی۔ بس پھر کیا تھا، یہ سب دیکھ کر ہمارے اندر کی طالب علم نے جوش مارا اور سفر سے متعلق درست معلومات کے حصول کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیا۔ ریسرچ مکمل کرنے کے بعد مسکراتے ہوئے نور الصمد صاحب کو یہ اطلاع دی کہ ہم نے متفقہ رائے سےholiday destination))، چھٹیاں گزارنے کا مقام طے کرلیا ہے۔ مگر یہ کیا جتنے جوش سے ہم نے اُنہیں آذربائیجان کے متعلق بتایا، اتنی ہی بیزاری سے انہوں نے ہمارے آئیڈیے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ انہیں کھنڈرات دیکھنے اور میوزیمز کی خاک چھاننے میں کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ Google پر تصاویر دکھا کر کچھ تسلی کروائی کہ یہ دیکھیے جناب، وہاں قدیم تاریخی عمارات کے علاوہ بھی دیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ کچھ تسلی ہوئی، مگر یہ سکون عارضی ثابت ہوا۔ اگلی پریشانی انہیں زبان کی تھی۔ نور صاحب ہمیشہ ایسی جگہ جانے سے کتراتے ہیں جہاں کے باسی انگریزی سے نابلد ہوں (غالباً جرمنی کے دورے کا تجربہ کچھ خاص خوش گوار نہ تھا)۔ خیر یہ قصہ پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھا اور موجودہ مسئلے پر توجہ دی، جس کا حل مناہل نے یوں نکالا کہ فون پر "آذری سے انگریزی" اور "انگریزی سے آذری "ترجمے والی app ڈاؤن لوڈ کردی (یہ app واقعی بہت مدد گار ثابت ہوئی)۔ مگر نور صاحب پھر بھی باز نہ آئے۔ فلائٹ سے پہلے تک کسی نہ کسی مسئلے کو لے کر خود بھی پریشان ہوتے رہے اور ہمیں بھی ہولاتے رہے۔
ویزے کا حصول باقی یورپی ممالک کی نسبت کافی آسان ثابت ہوا۔ تین سے پانچ دن میں E-visa بذریعے E-mail ہمیں گھر بیٹھے موصول ہوگیا۔ کراچی سے فی الحال کوئی فلائٹ ڈائریکٹ باکو نہیں پہنچتی، لہذا ہم نے براستہ دوحہ باکو پہنچنے کے لیے قطرایئرويز کا انتخاب کیا۔ سفر سے پہلے اس ساری ہنگامی صورتحال کے دوران گھر کا ایک فرد ایسا بھی تھا، جسے اِس سارے معاملے سے گویا کوئی سروکار ہی نہ تھا۔ زینیا (چھوٹی بیٹی) کے لیے صرف یہی کافی تھا کہ چھٹیوں کے دوران معمول سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے کو ملے گا۔ بالآخر ساری تیاری مکمل ہونے کے بعد، دس جولائی کی حبس بھری صبح ہم چار لوگوں کا مختصر سا قافلہ،مع دو ٹرائی بیگز، آغازِ سفر کے لیے کراچی کے "جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ" جاپہنچا۔
دس جولائی ٢٠١٩ء کی صبح آٹھ بجے، سفر کا باقاعدہ آغاز جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی سے ہوا۔ ایئرپورٹ پر معمول سے زیادہ رش تھا،معلوم ہوا کہ حج فلائٹس کے سبب یہ گہماگہمی ہے۔ بورڈنگ پاسز کے حصول اور پاس کو احتیاط سے بیگ کے اندرونی جیب میں رکھنے کے بعد، immigration کی قطارمیں آ کھڑے ہوئے۔ اکثریت عازمینِ حج کی تھی۔ ہر رنگ اور عمر کے لوگ،جن کے چہرے ایک عظیم روحانی اور مقدس سفر پر جانے کے احساس سے جگمگا رہے تھے۔ بزرگوار کثیر تعداد میں نظر آئے۔
You have read 12% of Shehr Kinaray / شہر کنارے - Baku Travelogue Book. The full e-book picks up right where this stopped.