Check out our most recent publications
مذہب ، سائنس اور الحاد / Mazhab, Science aur Alhad - Book on Atheism
Free sample · no sign-up

مذہب ، سائنس اور الحاد / Mazhab, Science aur Alhad - Book on Atheism

by Irfan Mehmud

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

 

مذہب، سائنس اور الحاد

 

عرفان محمود

 




داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ ء

ناشر: داستان پبلشرز

پاکستان

www.daastan.com

 

ـــــــــــــــ

سرورق کے جملہ حقوق عرفان محمود کے نام محفوظ ہیں

 

فہرست 

پیش لفظ.. 7

باب اوّل : مذہبی عقائد اور الحاد. 9

رچرڈ ڈاکنز اورایک یہودی ربی کامکالمہ. 9

خداکے بغیراخلاقیات... 23

رچرڈڈاکنزکا  اعتراف... 25

زندگی بعد موت اوراسٹیفن ہاکنگ.... 27

جنت اور انسانی خواہشات... 29

بچپن اور جنت کی زندگی.. 30

پیدائش سے پہلے اورموت کے بعد. 32

باب دوم : سائنس اور الحاد. 34

مسلکِ سائنس (Scientism). 34

کیا کائنات میں انسان کی کوئی اہمیت نہیں؟. 37

کیا خداجدید دنیا سے غیر متعلق ہوچکا؟. 41

کیا اب خدا کی ضرورت نہیں رہی؟. 44

بارش کی خدائی تصویر.. 46

بارش کی سائنسی تصویر.. 46

بارش کی مکمل تصویر.. 47

باب سوّم : جدید الحاد کی نفسیات... 49

الحاداورخداکی تلاش... 50

الحاد ایک تحریک کب بنتاہے؟. 52

کیا ملحدین اچھے انسان ہوتے ہیں؟. 55

ملحدین اور کائنات کی حقیقت کا سوال.. 57

ملحدین اور حیوانات ۔۔۔ایک پیج پر.. 61

ملحدین اور خدا کاثبوت... 63

الحاد اور بوریت... 65

باب چہارم :نظریۂ ارتقا اور الحاد. 68

بائیولوجی اور الحاد. 68

کیا انسان اور بندر کزن ہیں؟. 70

آنکھ کی غیرمعمولی بناوٹ اورنظریۂ ارتقا 73

اندھا اوربے سمت ارتقاء؟. 77

نظریۂ ارتقاء اور مسلم علماء. 80

نظریۂ ارتقا: اکیسویں صدی میں.. 82

باب پنجم:  الحاد کی تردید اور وجودِ خدا کےدلائل.. 97

مذہب کااصل مقصد۔۔۔تعلیم. 98

ایمان اور الحاد ۔۔۔ عقل کی عدالت میں.. 100

ملحدین (Atheists)کا مؤقف... 102

متشککین(Agnostics) کامؤقف... 102

انبیاء (Prophets) کامؤقف... 102

عقل ۔۔۔بطور چیف جسٹس... 103

عقل کا فیصلہ. 104

خدا کےوجود پرکلامی دلیل.. 106

خدا کے وجود پر پیغمبری دلیل.. 111

الحاد اورحددرجے نفاست سے مربوط کائنات... 113

زندگی بعد ازچگی!(ماخوذ). 117

کائنات کاناظم. 121

خدااورماڈرن فزکس... 123

 

پیش لفظ

 

          مذاہب کے عروج کے زمانوں میں بھی الحاد(Atheism) ایک متبادل نقطۂ نظر کے طورپر ہمیشہ سے انسان کی فکری تاریخ کا حصہ رہا ہے، تاہم عہدِ حاضر میں سائنسی انکشافات اور سماجی و ثقافتی تبدیلیوں کے تحت الحاد ایک نئی قوت اور اثر انگیزی کےساتھ ظاہر ہواہے۔ اکیسویں صدی میں اٹھنے والی مذہبی انتہاپسندی کی لہر کے ردِ عمل کے طور پر الحادِ جدید (New Atheism) کے مظہر نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے۔

         ماضی کا دانشور قسم کا ملحد خدا کے وجود کو نہیں مانتاتھا مگر اس کے ساتھ ہی لوگوں کے مذہبی عقائد کےلیے بالعموم ایک احترام کارویہ  رکھتاتھا۔ لیکن آج کاملحد مذہب کو ایک جہالت اور فریب خوردگی قرار دے کر خداکی قبر کھودنے کا اعلان کرچکا ہے۔موجودہ دور کے ملحد کے نزدیک مذہب انسان کے دورِ طفولیت کی پیداوار ہے  ،لہٰذااسے اٹھاکر اسی طرح سٹورروم میں پھینک دینا چاہیئے جس طرح بچپن کے پنگھوڑے اور کھلونوں کو پھینکا جاتاہے۔

          زیرِنظر کتاب میں جدید الحاد کے بیانیے اورخدا کے تصور پر اس کے اعتراضات کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ ملحدین کامؤقف  ان سوشل میڈیا سائٹس سے لیا گیا ہے جہاں سے یہ نوجوان نسل پر اثر انداز ہورہا ہے۔ جدید الحاد اپنا مقدمہ سائنس کے کندھوں پر کھڑا ہوکر پیش کرتاہے، اس لیے کتاب کے دوسرے باب میں الحاد کے حوالے سے سائنس کی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا ہے۔الحاد کو سمجھنے کیلئے چونکہ اس کے نفسیاتی پس منظر کو جاننا ضروری ہے ، اس لیے باب سوم رکھا گیا ہے۔جدید الحاد چونکہ ڈارون کے نظریۂ ارتقا پر بہت زیا دہ انحصار کرتاہے ، اس لیے اس پر الگ سے باب باندھا  گیا ہے۔ کتاب کے آخری باب میں الحاد کے رد کیلئے دلائل اکٹھے  کیے گئے ہیں۔

امید ہے کہ یہ کتاب تشکیک اور تذبذب کے شکار افراد کیلئے فکری یقین اور قلبی اطمینان کا باعث بنے گی۔ 

عرفان محمود

 

باب اوّل : مذہبی عقائد اور الحاد

 

رچرڈ ڈاکنز اورایک یہودی ربی کامکالمہ

 

           مشہورملحد ماہرِ حیاتیات پروفیسر رچرڈ ڈاکنز(Prof. Richard Dawkins) نے زندگی کے مختلف میدانوں سے مذہبی رہنماؤں، روحانیت کے علمبرداروں، نجومیوں، قیافہ شناسوں اوراکلسٹس وغیرہ کے انٹرویوز کاایک سلسلہ یوٹیوب پر شروع کررکھاہے جس میں وہ ان لوگوں سے ان کے عقائد کے حوالے سے تنقیدی سوالات کرکے انھیں سائنس اورعقل کےخلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ اس سلسلے میں اس نے ایک یہودی ربی کے گھرجاکر اس انٹرویوریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اس حوالے سے دلچسپی کاحامل ہے کہ یہ سیدھا سادہ سایہودی عالم جس کی گفتگو بھی بے ربط سی ہے، آخر تک ڈاکنز کے ملحدانہ واروں کا ڈٹ کرمقابلہ کرتاہے اورپوری استقامت کے ساتھ اپنے عقائد کادفاع کرتا رہتاہے۔

           یہ یہودی ربی ان مسلمان اہلِ علم کیلئے ایک مثال ہے جو جدید علوم سے فوراً متاثرہوکر اپنی دینی روایات میں تبدیلی کیلئے تیار ہوجاتے ہیں، اورڈارون  کے ارتقائی نظریے کے رعب میں آکر اسے قرآن کے اندر گھسیڑنے بیٹھ جاتےہیں۔یہ بوڑھا یہودی انھیں سبق دے رہا ہے کہ جب ایک کتاب کوخداکاکلام مانا ہے تو پھر کسی سائنسی نظریے کے نتائج پر ایمان لاکر خدا کے الفاظ میں ہیرپھیر کرناایمانی حمیت کے خلاف ہے!

           اس وڈیو کالنک دیا جارہاہے ، قارئین اصل وڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں اوراس انٹرویو کے کچھ حصے ترجمہ کرکے بھی دیے جارہے ہیں:

 

https://www.youtube.com/watch?v=vJaqZJyVDq4&t=350s

 

رچرڈڈاکنز:--- ”۔۔۔ ایک یہودی بچہ کس عمر میں سکول جاتاہے؟“

 یہودی ربی: ---”عام طورپر ہمارے بچے دوتین سال کی عمر میں کنڈرگارٹن اورپلے گروپ میں جاتےہیں اورپانچ سال کی عمر میں سکول جاتے ہیں۔۔۔“

ڈاکنز:--- ”۔۔ اوریہودی بچے آپ کے سکولوں میں کیا سیکھتے ہیں؟“

ربی: ---”۔۔۔وہ پڑھنا اورلکھنا سیکھتےہیں۔۔۔ یہودی مدرسے دراصل ہزاروں سال پرانی روایت رکھتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے والدین کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیں۔ تاہم بعض سماجی مسائل کی بنا پر کچھ بچے ایسے بھی ہوتےہیں جن کے والدین نہیں ہوتے ، تو اس مسئلے کے حل کیلئے تعلیمی ادارے بنائے گئے جہاں سب ہی بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کاموقع ملتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہودیوں میں دوہزار سال پہلے سے ہی یونیورسل ایجوکیشن کاتصور موجود تھا۔۔۔“

ڈاکنز:--- ”ٹھیک۔۔ اوکے۔۔ کیا آپ کو یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ آپ محض ایک اتفاق سے ایک یہودی گھرانے میں پیداہوئے اورمیں ایک مسیحی گھرانے میں پیداہوا اوراسی طرح کوئی اورمسلمان گھرانے میں پیداہوجاتاہے۔۔۔توبچوں کی حثیت سے ہم اسی سماج کی روایات پر یقین کرنے لگتےہیں جس میں ہم پیدا ہوتے ہیں ، حالانکہ کچھ دوسری مختلف روایات وعقائد کے حامل معاشرے بھی ہوتےہیں۔ کیا ضروری ہے کہ  پیدائش جیسی حادثاتی چیز سچائی کی بھی حامل ہو؟“

ربی:--- ”میرے خیال میں  یہ بات  صرف اتنی نہیں۔۔۔موروثی روایت کی ایک شعوری قبولیت بھی ہوتی ہے۔۔اس کے بعد ہم اپنے اردگرد کے ماحول سے بھی غیر شعوری طورپر بہت کچھ سیکھتےہیں۔۔اس میں یہ بھی اہم ہے کہ آپ ایک اکثریتی ثقافت میں پیداہوتےہیں یا اقلیتی ثقافت میں ؟۔۔۔ایک اکثریتی ثقافت میں ہرچیز کو محض روایت کی بنیا دپر صحیح مان لیا جاتاہے۔ ایک اقلیتی ثقافت میں چونکہ آپ مختلف ہوتےہیں تو آپ کو سوچنا پڑتاہے کہ آپ کیوں مختلف ہیں؟ آپ جیسے پیداہوئے ہیں، ایسے کیوں ہیں؟ ۔۔۔“

ڈاکنز: ---” ہاں ، یہ میں سمجھ رہا ہوں۔۔ مگر چونکہ یہ مختلف ثقافتی روایات مختلف باتوں پر یقین رکھتی ہیں، ایسی باتیں  جو بہت اہم ہیں مثلاً کائنات کے حوالے سے  اوراخلاقیات کے حوالے سے۔۔توکیا بہتر نہیں ہوگا کہ ایک بچے کو باشعور ہونے کے بعد ہی ان ساری روایات کاجائزہ لے کر اپنانے کاموقع دیا جائے؟ بجائے اس کے  کہ یہ فرض کرلیا جائے  کہ ان کے بچے کو بھی وہی بننا ہے جو اس کے آباؤاجداد تھے؟“

ربی:--- ”میرے خیال سے یہ مفروٖضہ کہ بچے کو آباؤ اجداد جیسا ہی بننا چاہیئے، زیادہ درست ہے۔ مثلاًمغربی ثقافت کو ہی لیں جوکہ ایک غالب ثقافت ہے، اس میں بھی پہلے سے فرض کرلیا جاتاہے کہ یہ ایک نارمل انسانی رہن سہن ہے اورسب لوگ اسی پر عمل کرتےہیں اورجولوگ اس کے خلاف کرتے ہیں انھیں ایک عجوبے کی طرح دیکھا جاتاہے۔۔۔اس لیے میرے خیال میں اس ثقافتی غلبے کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک اقلیتی گروہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے لیے ایک لوگ دنیا  بنائے جہاں وہ اپنا اظہار کرسکے ، خود اپنے بارے میں جان سکے اور اس کے بعد جب وہ باہر کی دنیا میں جائے ، جو کہ سب کو جانا پڑتاہے، میں خود اپنے لب ولہجے کے برعکس لندن کاباسی ہوں اور میرے کردار کے بعض پہلوؤں  کے سبب لوگ مجھے کہتے ہیں  کہ تم بالکل انگریز ہو۔۔تو میرے خیال میں ایک اقلیت کیلئے ایسی الگ دنیا کا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنا ثقافتی وجود باقی رکھ سکے ۔۔۔۔“

ڈاکنز: ---”مجھے آپ کے خیال سے ہمدردی ہے اورمیں سمجھ سکتاہوں کہ ایک ہزاروں سال پرانی روایت اتنی قیمتی اورنایاب ہوسکتی ہے کہ اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے اوریہ کہ اس کا گم ہوجانا بہت افسوس ناک ہوگا۔ ۔۔۔تاہم کائنات کے حوالے سے کچھ حقائق ہیں جو یا تو درست ہوسکتےہیں یا غلط اورہمیں بچوں کو اس قابل بنا نا چاہیئے کہ وہ ان حقائق کے شواہد کاجائزہ  لے سکیں مثلاًکائنا ت کی عمر کیا ہے؟ زندگی کیسے وجود میں آئی؟ وغیرہ۔۔۔ لیکن انھیں  اس دوراہے پر لاکھڑا کرنا جہاں ایک طرف شواہد پر مبنی سائنس ہو اوردوسری طرف بزرگوں کی روایت ہو۔ میرا مطلب  ہےکہ کیا آپ کچھ ایسا نہیں کر سکتے جس میں آپ اپنی روایات اور تاریخ کا تحفظ کریں بغیر اس کے کہ اپنے بچوں  پرکائنات  کے حوالے سے ایسی باتیں مسلط کریں جنھیں ماڈرن سائنس محض غلط قرار دیتی ہے؟“

ربی : ---”میں کہوں گا کہ ایک یہودی پر باہر سے کچھ مسلط کرنا ممکن ہی نہیں، بلکہ یہ سائنسی طورپر ممکن نہیں ہوگا۔ کئی وجوہات کی بنا پر یہودی اپنی فطرت میں بہت آزاد لوگ ہیں۔۔ میں کہنا چاہوں گا کہ یہودی جین ایسا جین ہے جوبہاؤ کے خلاف تیرنا پسند کرتاہے۔۔۔“

ڈاکنز: ---”(ہنستے ہوئے )۔۔ہاں ، میں بھی یہی سمجھتاہوں ۔۔مگر پھر بھی۔۔۔“

ربی: ---”۔۔۔اور اور جہاں تک مطالعۂ کائنا ت کا تعلق ہے میرے خیال میں ایک یہودی بچہ ارتقا کے سوال پر اس سے کہیں زیادہ وقت سوچتاہے جتنا کہ آپ کاایک اوسط انگریز بچہ۔ کیونکہ اسے یہ مسئلہ  درپیش ہے۔ ہم یہودی مانتے ہیں کہ خدا نے کائنات کو پیدا کیا چھ دنوں میں۔ہم ارتقا کے بارے میں جانتے ہیں، یہودیوں کاہر بچہ ارتقا کے بارے میں جانتاہے، اس کے بارے میں سوچتا ہے ، پڑھتاہے اورجاننے کی کوشش کرتاہے کہ یہ تضاد آخر ہے کیا ۔۔۔اس لیے میرے خیال  میں یہ  ایک صحتمند اور مثبت صورتحال ہے جو آپ کا ذہن کھولتی ہے اورآپ کو ان امور سے نمٹنے پر مجبور کرتی ہے۔۔۔“

ڈاکنز:---”ٹھیک ہے۔ یہ بہت اچھی باتیں ہیں اورمیری خواہش ہے کہ یہ درست ہوں۔۔لیکن ایسے بچے کتنے ہوتے ہیں جو آپ کے مدارس سے پڑھ کر نکلتےہیں اور پھر ارتقا پر بھی یقین رکھتےہوں؟“

ربی:--- ”(کچھ سکوت کے بعد)۔۔۔میرے خیال میں ہمارے بچوں کی اکثریت ارتقا پر یقین نہیں رکھتی اوراس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ ارتقا کے بارے میں کچھ جانتے نہیں ہوتے۔ وہ نظریۂ ارتقا کو سمجھتے ہیں۔ پھر بھی وہی بات مانتےہیں جس پر ہم  یہودی عمومی طورپر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ہم اس حوالے سے کھلے مباحث کراتےہیں، ہم نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ مجھے یاد ہےکہ میں خود دس گیارہ سال کی عمر کا تھا، ارتقا کے حوالے سے سوچتا تھا اورمیں یہ نہیں کہتا کہ میں اس حوالے سے کوئی منفرد تھا۔یہ بالکل نارمل بات ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی کسی بلبلے کے اندر نہیں رہتا۔ ہم کوئی کنوئیں کے مینڈک نہیں، ہم اس جدید دنیا کاحصہ ہیں۔ لہٰذا ہم ان باتوں پر بالکل غور کرتے ہیں جن کاآج کی دنیا میں بہت چرچاہے۔۔“

ڈاکنز: ---”میں پھر کہوں گا کہ آپ کی یہ باتیں قابلِ تحسین ہیں لیکن معاف کیجیے گا مجھے نہیں لگتا کہ ان پر کوئی عمل بھی ہوتا ہو۔۔۔یہ چھ دن جن کاآپ نے ذکر کیا،آپ کے خیال میں یہ چھ دن گزرے کتنا عرصہ ہوچکا ہے؟“

That’s the end of the free sample

You have read 12% of مذہب ، سائنس اور الحاد / Mazhab, Science aur Alhad - Book on Atheism. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Irfan Mehmud earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 150

See all editions, reviews and details

مذہب ، سائنس اور الحاد / Mazhab, Science aur Alhad - Book on Atheism Buy — Rs 150