12% of the book — free to read

احمق پارے
از قلم
عرفان محمود
______

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ء
ISBN Digital : 978-969-696-439-1
ISBN Print : 978-969-696-440-7
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭
مدیران
نرمین سرھیو
فریال زہرا
___
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیرکے نام محفوظ ہیں
_________
انتساب
ان تمام پالتو جانوروں کے نام جو زندگی کے مختلف حصوں میں اپنی معصومانہ حرکتوں سے مجھے ہنساتے رہے!
فہرست
دیباچہ___________________________________ 1
ماہرِ نفسیات________________________________ 2
میں کوّا ہوں_______________________________ 12
ایک ریڈیو مذاکرہ____________________________ 22
کمپوزنگ_________________________________ 32
ایک محبت نامہ______________________________ 38
ایک انٹرویو________________________________ 43
تربیتِ اطفال________________________________ 51
قصہ الٰہ دین اور اس کے جنّ کا_____________________ 59
حکیم علی بابا اور چالیس عطائی_____________________ 79
داستانِ شیریں فرہاد____________________________ 96
مصنف کے بارے میں:_________________________ 109
عام طورپر ہم جس ہنسی سے زیادہ آشنا ہیں اور جس ہنسی سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں، وہ دوسرے انسانوں اوران کی باتوں پر آنے والی ہنسی ہے۔۔۔ مگر ایک ہنسی وہ بھی ہوتی ہے جو کبھی کبھی حالات کی ستم ظریفی کے تحت انسان کوخود اپنے اوپر اور خود اپنی باتوں پر بھی آجاتی ہے۔اس کتاب کی بیشتر تحریریں ایسی ہی ہیں جن کا محرک مصنف کی خود اپنے حال پر ہنسی بنی۔
کتاب میں شامل بیشتر تحریریں ماہنامہ ”حکایت“ لاہور، میں شائع ہوچکی ہیں اور اب انھیں کتابی شکل میں قارئین کے لیے پیش کیا جارہاہے۔
نفسیاتی مریض نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔
”جناب! میں اندر آسکتا ہوں؟“
یہ سن کر کرسی پر بیٹھ کر اونگھتاہوا ماہرِ نفسیات دھڑام سے نیچے گرا۔
”کک۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ یہ کیسی آواز تھی؟ میں کہاں ہوں؟“ ماہر نفسیات بوکھلاکر چاروں طرف دیکھنے لگا۔
”جناب، میں اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہوں۔“ نفسیاتی مریض دوبارہ گویا ہوا۔
”اوہ، اچھا اچھا۔۔۔ آجاؤ۔معاف کرنابھئی، دراصل کچھ وقت کے لیے میرا شعور دنیا ومافیہا سے ڈِس کنیکٹ ہوکر آف لائن ہوگیا تھا۔“ماہر نفسیات دوبارہ کرسی بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔ مریض بھی اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔
”ہاں تو اب اس سے پہلے کہ تمھارا لاشعور تمھارے شعور کا چالان کردے، جلدی سے اپنا مسئلہ بیان کرو۔“ ماہر نفسیات نے کہا۔
”وہ۔۔۔ وہ جی میں نےرات کو ایک خواب دیکھا۔“ نفسیاتی مریض نے کہنا شروع کیا۔
”صرف ایک خواب!“ماہرِ نفسیات نےاس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، ”اس مہنگائی کے دور میں ایک خواب سے کہاں گزارا ہوتاہے۔کم از کم ایک درجن خواب تو دیکھے ہوتے۔ میں روزانہ گن کر پچیس خواب دیکھتا ہوں۔ ابھی تمھارے آنے سے پہلے بھی میں ایک خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔ واہ کیا سماں تھا۔ چاند کی پندرہ تاریخ تھی۔ گدھوں نے اپنا راگ چھیڑ کر موسم کو دوآتشہ بنا رکھا تھا۔ نہایت رومانوی ماحول تھا۔ وہ میرے بالکل قریب آکر کھڑی ہوگئی تھی۔“ یہ کہہ کر ماہر نفسیات اوپر خلاؤں میں تکنے لگا اور اپنے خیالوں میں کھو گیا۔
”جناب کیا آپ پھر سو گئے ہیں؟“ مریض کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد زور سے پوچھا۔
”اوہ، ہاں۔۔۔نہیں۔“ ماہرنفسیات نےآنکھیں ملتے ہوئے کہا: ” مجھے عجیب وغریب شکلیں دکھائی دے رہی تھیں۔ لگتا ہے مجھے جلد ہی مالیخولیا ہونے والا ہے۔ یہ میری بچپن کی خواہش تھی جو اب پوری ہوجائے گی۔ بہرحال چھوڑو، تم اپنی بات کرو۔“
”میں نے خواب میں دیکھا کہ۔۔۔“ نفسیاتی مریض کہتے کہتے رک گیا۔
”ہاں ہاں جلدی بتاؤ۔ تم نے خواب میں کیا دیکھا؟“ ماہرِ نفسیات نےبے چینی سے پہلو بدلتے ہوئےکہا۔
”میں نے دیکھا۔۔۔ میں نے دیکھا کہ۔۔۔ بانو مرگئی۔۔۔“
”اچھا!“ ماہرِ نفسیات اچھل کر کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
” بانو یعنی تمھاری بیوی مر گئی۔۔۔ ونڈر فل! نہایت ونڈرفل! بلکہ شدیدونڈر فل! اس کا مطلب ہے کہ تمھارے لاشعور میں پہلے سے یہ خواہش موجود تھی کہ تمھاری بیوی مرجائے۔ چنانچہ یہی خواہش خواب میں لاشعور سے نکل تحت الشعور کو اوور ٹیک کرتی ہوئی شعور میں آ پہنچی۔“ اس نےنہایت جوش سے مٹھیاں بھینچتا ہوئے کہا۔
”نہیں جی، آپ کو غلط فہمی ہوگئی ہے۔۔۔“ نفسیاتی مریض نے کہنا چاہا۔
”اچھا! مجھے غلط فہمی ہوگئی ہے۔“ ماہر نفسیات خوش ہوتے ہوئے کہا۔” میں تو آج صبح سے
اپنا فہم غلط کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ شکر ہے کہ کامیابی ہوئی اور مجھے غلط فہمی ہوگئی۔“
”جناب! فہم غلط نہیں کیا جاتابلکہ غم غلط کیا جاتاہے۔“ نفسیاتی مریض ہنسنے لگا۔
”شٹ اپ۔۔۔ تمھیں دانت نکالنے کی اجازت کس نے دی ہے اور پھر یہ دانت نکالنے کی تمھاری کون سی عمر ہے۔ کیا اب تک تم اپنے بچپن سے نہیں نکلے۔اوہ اوہ۔۔۔“ ماہر نفسیات ایک دم چونک پڑا۔” ویری گڈ۔۔۔ میں نے تمھارا مرض جان لیا ہے۔“ وہ ایک بار پھر کرسی سے اٹھ کھڑ اہوا۔
”اچھا جی!“
”ہاں! تمھیں ایک بیماری ہوگئی ہے جسے نفسیات کی زبان میں Hestaphyloparaphobia کہا جاتاہے۔“
”وہ کیا ہوتی ہے جناب؟“ نفسیا تی مریض نے پوچھا۔
”اس بیماری میں انسان اپنے بچپن کی طرف واپس لوٹ جانا چاہتاہے۔ تم بھی دوبارہ بچے بن جانا چاہتے ہو اور چونکہ بچپن میں تمھاری کوئی بیوی نہیں تھی،اس لیے خواب میں تم نے اپنی بیوی مار ڈالی۔“ یہ کہہ کر ماہرنفسیات داد طلب نگاہوں سے مریض کی طرف دیکھنے لگا۔
”اوہ نہیں جناب! آپ سمجھے نہیں ہیں۔“ نفسیاتی مریض نے کہنا چاہا۔
”خاموش رہو۔“ماہر نفسیات نے ڈانٹ کر کہا: ” میں نے بڑے بڑے پیچیدہ کیس حل کر رکھے ہیں۔ دور دور تک میری شہرت پھیلی ہوئی ہے۔بہت جلد میں ایک بین الصوبائی شخصیت بننے والا ہوں اور تم احمق آدمی کہہ رہے ہو کہ میں سمجھا نہیں۔“ ماہر نفسیات غصے سے تھرتھر کانپنے لگا۔
”او جی۔ آپ تو خوامخواہ ہی غصے میں آگئے ہیں۔ ٹھیک ہے میں چلا جاتاہوں۔“ نفسیاتی مریض اٹھ کر جانے لگا۔
”ارے نہیں نہیں۔ پلیز بیٹھو۔“ ماہر نفسیات نے اسے پکڑ کرکرسی پر بٹھایا۔ پھر گھنٹی بجاکر ملازم کو بلایا اور اسے چائے لانے کا کہا۔تھوڑی دیر بعد نوکر چائے لے کر آگیا۔
”ہاں۔ اب بتاؤ۔ تم کیا کہہ رہے تھے؟“ ماہر نفسیات اس بار نہایت شفقت سے مخاطب ہوا۔
”جناب، بانو میری بیوی کانام نہیں ہے۔ میری تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی۔ بانو
تومیری۔۔۔“
”اچھا تو بانو تمھاری محبوبہ کا نام ہے۔“ ماہر نفسیات نے فوراً اس کی بات کاٹی۔
”ٹھیک ہے۔ میں سمجھ گیا۔دراصل تم اپنی محبوبہ کی آئے روز کی فرمائشوں سے تنگ آچکے ہو اور تمھارے لاشعور اور تحت الشعور دونوں میں۔۔۔ ویسے ایک بات توبتاؤ۔ تمھارے کتنے شعور ہیں؟“ماہر نفسیات نے بات کرتے کرتے اچانک سوال داغ دیا۔
”پتہ نہیں جناب، جب میری شادی ہی نہیں ہوئی تو میں اپنے بچوں کی تعداد کیسے بتا سکتا ہوں!“
”اوہو۔ میں تمھارے بچوں کی تعداد نہیں پوچھ رہا۔ میں شعوروں کی بات کر رہا ہوں۔ دیکھو نفسیات کے علم میں اب تک کئی شعور دریافت ہوچکے ہیں مثلاً لاشعور، تحت الشعور، باشعور، بے شعور۔۔۔ کھدائی جاری ہے، ماہرین کو یقین ہےکہ ابھی اور بھی شعور دریافت ہوں گے۔ ویسے میں نے جو اپنے ذہن کاتجزیہ کیا ہے اس سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لاشعور کا بھی اپنا ایک شعور ہوتاہے جو کہ بے شعور ہوتاہے۔ سمجھے ہو میری بات؟“
”پتہ نہیں جی۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ نفسیاتی مریض نے جمائی لی۔
”خیر تم کیسے سمجھ سکو گے۔ چھوڑو۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ تمھارے لاشعور میں اپنی محبوبہ سے جان چھڑانے کی خواہش جنم لے چکی ہے۔ اسی خواہش کے تحت تم نے خواب میں اپنی محبوبہ یعنی بانو کو مرا ہوا دیکھا۔ بس یہ ہے تمھارا مسئلہ۔“ ماہر نفسیات اطمینان سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہواکہنے لگا۔
”نہیں نہیں جناب، آپ ابھی بھی نہیں سمجھے۔۔۔“
”تو تمھارا مطلب ہے کہ مجھ میں سمجھ نہیں ہے۔۔۔ نان سنس۔۔۔ دیکھو میں ایک بڑا قابل آدمی ہوں۔ میرا آئی کیو بہت ہائی ہے۔ دو دفعہ پاگل خانے میں رہ چکا ہوں۔ لہٰذا تم بار بار یہ کہہ کر میری انسلٹ نہ کرو کہ میں سمجھا نہیں۔“ ماہر نفسیات نے اس بار بڑی مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا۔
”نہیں جی۔ آپ۔۔۔“
”بس بس۔ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تم یہ بتاؤ کہ تحت الشعور کے بارے میں جانتے ہو؟“
”تحت الشعور کو تو نہیں البتہ عبدالشکور کو جانتاہوں جناب۔ وہ ہمارے محلے میں سبزیوں کی ریڑھی لگاتا ہے۔“ نفسیاتی مریض نے اطمینان سے جواب دیا۔
”احمق، جا ہل، بیوقوف!“ ماہر نفسیات نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا۔
”ہاں جی، وہ عبدالشکور ایسا ہی ہے۔۔۔ ایک پاؤ کی سبزی کلو والے باٹ سے تول دیتاہے۔“ نفسیاتی مریض نے سر ہلاتے ہوئے بتایا۔
”اوہ۔۔۔ تم۔۔۔“ ماہر نفسیات غصے سے اپنے بال نوچنے لگا۔” تم باقاعدہ احمق ہو۔ میں تمھیں گولی مار کر خودکشی کرلوں گا۔ سمجھے تم۔۔۔مگر نہیں۔۔۔ اس طرح تو تم مجھ سے پہلےمروگے۔ میں تم جیسے احمق کی برتری برداشت نہیں کرسکتا۔لہٰذا پہلے میں خودکشی کروں گا، اس کے بعد تمھیں گولی ماروں گا۔“
”یہ تم کیوں باربار چلا رہے ہو۔ کیا ہوا ہے تمھیں؟“ اچانک ماہر نفسیات کے کلینک سے ملحقہ رہائشی حصے سے ایک کرخت نسوانی آواز سنائی دی۔
”بب۔۔۔ بیگم۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔کچھ بھی تو نہیں۔“ ماہر نفسیات نے گھگھیاتے ہوئےجواب دیا۔ اس کے بعد بیگم کے اونچا اونچا بڑبڑانے کی آواز سنائی دینے لگی جو آہستہ آہستہ مدھم پڑتی گئی۔ اس پر ماہرِ نفسیات نے اطمینان کاایک طویل سانس لیا۔
”دیکھو تم ایسی بات نہ کرو جس سے مجھے غصہ آجائے۔ میری بیگم بہت نازک طبع واقع ہوئی ہیں۔“ ماہر نفسیات نے مریض سے سرگوشی کی۔
”جی بہتر!“ نفسیاتی مریض نے یوں سر ہلایا جیسے وہ مسئلے کو بحوبی سمجھ گیا ہو۔
اس کے چہرے پر ہمدردی کے تاثرات تھے۔
”ہاں، اب بتاؤ تم کیا کہہ رہے تھے؟“
You have read 12% of احمق پارے / Ahmaq Paray - Urdu Comedy Book. The full e-book picks up right where this stopped.