12% of the book — free to read

پیار کا تیسرا شہر
از قلم
مائرہ انوار راجپوت

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ء
ISBN Digital : 978-969-696-435-3
ISBN Print : 978-969-696-434-6
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭
مدیرہ
نرمین سرھیو
___
سرورق کے جملہ حقوق محمد خاں آکاش اور انعم امیر کے نام محفوظ ہیں۔
________
انتساب
ماما
(دنیا کی صابر اور عظیم ترین عورتوں میں سے ایک)
بابا
(سردیوں کی شاموں اور گرمیوں کی دوپہروں میں رزق حلال کمانے والے)
بطور تحفہ
مستنصر حسین تارڑ
(پرندوں، پہاڑوں، آبشاروں سے ہم کلام ہونے والا شخص)
فاصلہ
یہاں فاصلہ ہے، جو شہروں کے نہیں، ملکوں کے بھی نہیں۔۔۔ فاصلہ جو براعظموں کے بیچ ہے۔ یہ فاصلہ جو کچھ محبت کرنے والوں کے درمیان حائل ہے ’’مکانی‘‘ فاصلہ ہے۔ ایسا ہی ایک فاصلہ محبت کی دو کہانیوں کے درمیان حائل ہے، مگر یہ فاصلہ ’’مکانی‘‘ نہیں بلکہ ’’زمانی‘‘ ہے۔
کوئی بیس برس ادھر کی بات ہے جب میں نے "پیار کا پہلا شہر" پڑھا تھا۔تب میں سال اوّل کی طالبہ تھی اور اب بیس برس بعد میں نے ’پیار کا تیسرا شہر‘پڑھا ہے۔ پیار کے ان دو شہروں کے درمیان ایک دوسرا شہر بھی پڑتا ہے، مگر میں چونکہ فضائی سفر کررہی ہوں اس لیے اس شہر کے اندر سے نہیں گھومی بلکہ اوپر اوپر سے گزر گئی ہوں۔
موت۔۔۔ وقت۔۔۔ اور محبت۔۔۔!
کائنات کے تین آ فاقی موضوع ہیں۔
موت جو ہر موجود چیز کو آنی ہے۔جو ایک ازلی سچ ہے۔جو طے شدہ امر ہے۔انسانی تاریخ میں ابتدا سے لے کر آج تک انسان سب سے زیادہ ’موت‘ کے بارے میں سوچتا آیا ہے،لیکن یہ راز ہنوز راز ہے۔
وقت جو سیال ہے، مدور ہے، مستدیر ہے۔ چلتا ہے، کبھی بھاگتا ہے۔ چابک لگاتا ہے، کبھی مرہم لگاتا ہے۔ وقت جو موجود ہے، مگر محسوس نہیں ہوتا۔ سونگھا اور چکھا بھی نہیں جاسکتا۔
تین شہروں کی تین داستانوں کی طرح کائنات کی آ فاقی مثلث کا تیسرا کونا ’’پیار‘‘ ہے۔
پیار جو موت کی طرح ازلی سچ ہے، مگر ہر ایک پہ نہیں آتا۔
پیار جو وقت کی طرح بے وجود ہے، مگر دکھائی دیتا ہے، سونگھا اور چکھا جاسکتا ہے۔
پیار دو انتہاؤں کے درمیان کا پل ہے جو زندگی کو جوڑتا ہے۔
مائرہ انوار راجپوت نے اسی پل کی تعمیر کا جوکھم اٹھایا ہے۔میں نے ناول کے مسودے کو بڑی گہرائی سے پڑھا۔ کئی جگہوں نے میرا راستہ روکا، کئی مقامات پہ میں سوچ کی دلدل میں اتری، میشان کی محبت کا اتھلا اور سطحی انداز، مصطفیٰ کی محبت کی گہرائی اور قربانی کہ اس نے بے وفائی کاالزام اپنے سر لے لیا اور میشان کو آ زاد کردیا تاکہ وہ دوبارہ شادی کرکے اپنے ماں بننے کا خواب پورا کرسکے، کیونکہ مصطفیٰ باپ بننے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ یہاں مائرہ نے کمال مہارت سے اشاروں میں اپنی بات ابلاغ کی ہے۔ تاجور کی محبت کے ابتدائی تجربے کی تڑپ جسے مائرہ نے کمال مہارت سے قرطاس کے حوالے کیا ہے کہ مجھے حیرت ہوئی ہے، اور جالب کی محبت کی نزاکت کا بیانیہ، تاجور اپنے چچازاد فیصل سے منسوب ہے اور جالب کی کوئی دھرتی کوئی پہچان ہی نہیں، جالب ایک ہندوستانی باپ اور تھائی ماں کا بیٹا ہے جو اپنی زندگی کے شدید ترین شناختی بحران سے گزر رہا ہے۔
ہر کردار اپنی جگہ گلوبند میں جڑے نگینے کی طرح چست بیٹھا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بینکاک کی سیر بھی انہوں نے اچھی کروائی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک باریک بیں سیاح بھی ہیں۔جو گھومتے وقت چھوٹی چھوٹی جزئیات کو نظر میں رکھتی ہیں۔
مجھے خوشی ہوئی کہ مائرہ نے زیادہ فلسفے کا سہارا نہیں لیا اور جذباتی بیانیے کو بھی کم ہی جگہ دی۔ بہت سی رومانوی کہانیاں لکھنے والی خواتین کے برعکس کردار اور حالات و واقعات کو بڑی حقیقت پسندی سے پیش کیا۔
اور آ خر میں مثلث کے تیسرے کونے کا ظہور ہوا۔
موت جو اچانک وارد ہوئی۔
جہاز نہ جانے کس خطے کی کون سی فضا سے گزر رہا تھا کہ حادثے کا شکار ہوگیا، اور پیار کے تیسرے شہر کی آ خری ستم گزیدہ شہزادی موت کے ساتھ رخصت ہوگئی۔
ہر انجام ایک نئے آ غاز کا اعلامیہ ہوتا ہے۔
مائرہ انوار راجپوت کو بہت اچھا لکھنے پر مبارکباد!
منزہ احتشام گوندل
monazzagcw@gmail.com
عرضِ مدیرہ
پيار کے پہلے شہر میں دکھ درج تھا۔۔۔ دوسرے میں حادثہ۔۔۔ اور تیسرے میں انجام لکھا جا چکا ہے!
’پيار کا تیسرا شہر ‘ مائرہ انوار راجپوت کا وہ قلمی شاہکار ہے جس کی ہر سطر نے مجھے کئی لمحوں تک مبہوت رکھا۔ اس کے عنوان سے محبت کا جذبہ چھلکتا رہا اور ہر منظر نے مجھے محبت کی گرمائش سے روشناس کروایا۔
اس کہانی کو پڑھتے ہوئے میں خود کو ان کرداروں کو محسوس کرنے سے روک نہ پائی۔ اتنے سالوں کے مطالعے سے میں ایک چیز کہہ سکتی ہوں کہ یہ کتاب محبت کے جذبات کی بہترین عکاس ہے۔
”جو ادھوری رہ جاتی ہے وہ محبت کی کہانی ہوتی ہے، اس میں سارے کردار بےبس ہوتے ہیں۔“
دکھ چاہے تاجور کی يتيمی اور رشتوں کی بےحسی کا ہو، چاہے تو وہ جالب کی ذات کا طعنہ بن جائے، میں نے دل سے محسوس کیا۔ محبت چاہے میشان کی ذات کی طرح قوس و قزح کے رنگوں میں ڈوب کر بھی سنہری سی ہو یا مصطفی کے دل کے کسی تہَ خانے میں پوشیدہ رہے، میں نے اسے مکمل محسوس کیا۔ کسی چمکتی چاندنی رات میں وہ سمورن کا حالِ دل ہو یا تاجور کی ماں کا اندیشوں بھرا خط۔۔۔ ذات پر گزرنے کا منظر۔۔۔ ہر انداز سے میرے دل میں اترا۔
ان احساسات کو محسوس کروانے کا کمال لکھنے والے کو جاتا ہے۔ مائرہ سے اس ناول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مجھے لگا کہ یہ کہانی میرے دل کے بہت قریب ہے۔
جب مائرہ میرے پاس آئی تو اس کے لفظوں کے چناؤ نے مجھے مبہوت کیا۔ بات کرنے اور حالِ دل بتانے کا سلیقہ الفاظ کے ذریعے نہایت دلچسپ لگا۔ مسودہ پر کہانی کا عنوان مجھے چونکا گیا اور خود کہانی نہایت دِل کش لگی۔ ہم دونوں نے مل کر اسے بھرپور طریقے سے پرکھا اور کرداروں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ مائرہ کا سلیقے سے میری باتوں کا سمجھنا اور چیزوں کو اس مناسبت سے لے کر چلنا۔۔۔متاثر کن تھا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ بطور مصنفہ خود کہانی کو آگے لے کر چلے، اوراس نے اس ذمہ داری کو سمجھتے اور نبھاتے ہوئے یہ کام کیا جس نے حقيقتاً مجھے بہت خوشی دی۔
بہت سی داد، اس قدر بہترین لکھنے پر!
نرمین سرھیو
اردو مدیرہ، داستان
بات چھوٹے سے دل سے شروع ہوتی ہے۔
چھوٹا سا دل۔۔۔ جو ضد پر آ کر دماغ کو قابو کرتا ہے، اور کبھی پگھل کر خود بھی بے قابو ہو جاتا ہے۔
اس دل کو قابو کرنے والا، احساسات اور جذبات کا ترجمان لفظ ’’محبت‘‘ ہے۔
خالق نے کائنات کی بنیاد’’محبت‘‘ کے مقدس جذبے پر رکھی۔
جھرنوں، آبشاروں، سردیوں کی دھوپ اور گرمیوں کی چھاؤں میں اس کے گیت سرسراتے ہیں۔
یہ دھمال ڈالتی، رقص کرتی، افسانوی کرداروں کے بھید کھولتی، ساون کی رم جھم میں آنکھیں بھگوتی، پیڑوں کی چھدری چھاؤں تلے سستاتی ہے۔
کبھی یہ سسی پنوں بن کر صحرا کی خاک چھانتی ہے۔
کبھی یہ سوہنی مہینوال بن کر دریا کی گہرائی ناپتی ہے۔
تو کبھی یہ ہیر رانجھا بن کر کھیت کھلیان میں گیت گاتی ہے۔
کبھی شیریں فرہاد بن کر پتھروں کو موم بناتی ہے۔
کبھی یوسف خان اور شہر بانو بنتی ہے۔
تو کبھی سیف الملوک بن کر پونم کی رات کو نیلے پانی پر رقص کرتی ہے۔
پیار کے پہلے شہر میں پہنچ کر اس نے منوایا کہ
’’بدصورت لوگوں کو بھی تو محبت جیسے جذبے کی چاہت ہوتی ہے مگران کا دل اس بات کو نہیں مانتا کہ وہ صرف اس وجہ سے محبت سے محروم کر دیئے جائیں۔‘‘
(پیار کا پہلا شہر از مستنصر حسین تارڑ)
پھر ظاہری حسن کی بیڑیاں توڑ کر یہ کسی کو مجنوں بناتی ہے۔
پیارے کے دوسرے شہر میں اس عظیم الشان جذبے کا نور اترا تو اس نے تصویر کو نیا رنگ دے کر بتایا کہ
’’جو فقیر کر دیتی ہے وہی محبت ہوتی ہے۔ مل جائے تو ٹھیک۔۔ نہ ملے تو بھی ٹھیک۔‘‘
(پیار کا دوسرا شہر ازفرزانہ کھرل)
اور پھر یہ وصل کی خواہش سے بے نیاز ہو کر درویش بناتی ہے۔
وقت کے ساتھ کردار بدلتے ہیں، نام بدلتے ہیں، انجام بدلتے ہیں مگر ’’محبت کی کہانی‘‘وہی رہتی ہے۔
دیس دیس، شہر شہر یہ اپنے نور سے دلوں کو منور کرتی ہے اور ہجر کی سختی سے دلوں کو نرمی کی مشق کرواتی ہے۔
آئیں ایک بار پھر سے آپ اور پیار کا شہر۔۔۔!
وقتِ رخصت چار سو سناٹا تھا۔ سٹرکوں پر ٹریفک کا زور ٹوٹ چکا تھا، گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔ وقفے وقفے سے کوئی ایک ادھ گاڑی ان کے قریب سے گزرتی، ان کی گاڑی لمبے فیتے جیسی سڑک کو تیزی سے پار کرتے ہوئے ائیرپورٹ کی جانب گامزن تھی۔ اس لمبی سڑک کے کنارے پر کہیں کہیں کوئی ٹھیلا لگائے اس وقت بھی منتظر تھا، ٹھیلا لگانے والے گرمیوں کی تپتی دوپہر میں سورج کی سختی سہتے اور جاڑے کی شاموں کی یخ ٹھنڈی ہوا کو جھیلتے ہیں۔ وہ ہمیشہ یہ سوچ کر الجھتی تھی کہ کون۔۔۔ کیوں اور کس کے لیے جل رہا ہے؟ کوئی۔۔۔ کیوں اور کس کی خاطر نثار ہو رہا ہے؟ ٹھیلا لگانے والے یہ ہانپتے کانپتے وجود۔۔۔انسان کم اور باپ زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ جن کا جسم گرمیوں کی تپتی دوپہر سے جلتا تھا نہ ہی سردیوں کی شاموں میں ٹھٹھرتا ہے۔
وہ ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے۔ تاجور کو سب غیر معمولی اور دلفریب لگ رہا تھا جیسے کوئی انہونی بات ہو گئی ہو، اور یہ اس کے لیے انہونی بات ہی تو تھی کہ وہ بنکاک کے مقامی ہوٹل میں بطور انگریزی استاد جارہی تھی۔ رخصتی لاؤنج سے باہر کھڑے ہو کر اس نے دستی سامان ہاتھ میں لیا اور اندر چلی گئی۔ اندر جاتے ہی اسے احساس ہوا کے دلفریب خوشی میں وہ الوداعی رسمیں نبھانا بھول گئی ہے۔ اس سوچ کے آتے ہی وہ واپس دروازے کی طرف بھاگی لیکن تب تک فیصل جا چکا تھا۔ اس کا آنابے سود ٹھہرا۔۔۔ اسے افسوس نےآ گھیرا۔
فیصل اسے کس دل سے ائیرپورٹ چھوڑنے آیا تھا یہ وہی جانتی تھی۔ کیسا ہنگامہ ہوا تھا جب اس نے بنکاک جا کر نوکری کرنے کی خبر سنائی تھی، حالانکہ صرف چھ ماہ کی بات تھی پھر بھی چاروں بھائیوں نے غضب کا شور مچایا تھا۔امی خاموش رہی تھیں کہ ابا کی وفات کے بعد وہ بیٹوں کے سامنے ذرا کم بولتی تھیں۔ وہ تو تایا ابا کی حمایت نے کچھ سہارا دیا جو وہ اس وقت جہاز میں بنکاک جانے کے لیے بیٹھی تھی۔ تایا ابا اس کا سہارا تو بنے لیکن ان کا نک چڑھا بیٹا خوب تپا ہوا تھا۔ نک چڑھا! وہ اپنی سوچ پر مسکرائی اور ساتھ ہی گھبرائی کہ وہ نک چڑھا اس کا موجودہ منگیتر اور مستقبل کا شوہر تھا۔
پہلا مسئلہ اس کا بنکاک جانا اور دوسرا رہائش کا تھا۔ ہوٹل والے اسے رہائش دے رہے تھے لیکن کوئی بھی اس کے اکیلے رہنے پر مطمئن نہیں تھا۔ سو یہ مسئلہ خالہ کی بیٹی نے حل کیا جو پچھلے تین سال سے بنکاک میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ طے پایا کہ وہ بھی خالہ کی بیٹی میشان کے پاس رہے گی۔
مسکراتی ہوئی صبح میں ائیرہوسٹس کی مترنم آواز نے بنکاک کا مثردہ سنایا۔ کسٹم لاؤنج سے سامان وصول کر کے وہ جیسے ہی باہر نکلی سامنے ہی میشان اس کا انتظار کر رہی تھی۔
’’ویلکم ٹو بنکاک!“ میشان آگے بڑھ کر گرم جوشی سے ملی۔
’’اوہ تھینکس“ تاجور خوشی سے دمک رہی تھی۔ بنکاک کی سرزمین پر پڑتے اس کے قدم اور پھر میشان سے ملاقات اس کی خوشی کو دوگنا کر گئی۔ میشان جس پر وہ ہمیشہ سے رشک کرتی تھی، اور وہ تھی بھی تو قابلِ رشک۔
’’کیسا رہا سفر؟“ میشان اسے لے کر گاڑی کی طرف بڑھی۔
’’ایکسائیٹڈ!“ اس کے چہرے کے تاثرات اس کے الفاظ کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے۔
’’گریٹ۔“ میشان نے اس کا سامان گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھا۔
’’یہاں کسٹم لاؤنج میں انتظار کی کوفت سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔“ اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتی میشان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تھائی لینڈ نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، انتظار کا لفظ ان کی ڈکشنری سے نکل گیا ہے۔‘‘ میشان نے اس کے پُرجوش انداز پر غور کیا عموماً وہ اس طرح پُرجوش نہیں ہوتی تھی۔ اس میں تاثرات کی کمی تھی شاید اسی لیے وہ میشان کو الگ لگ رہی تھی۔
’’آپ نے گاڑی چلانا سیکھ لی؟“ تاجور نے سلسلئہ کلام جاری رکھا۔
’’سیکھی نہیں، مصطفیٰ نے سِکھا دی۔ یہاں ملازمین نہیں ہوتے سو اپنے کام خود کرنے پڑتے ہیں۔“ میشان نے بڑی نفاست سے یوٹرن لیا۔
’’ارے اتنے ترقی یافتہ ملک میں ملازمین نہیں ملتے؟“ تاجور حیران ہوئی۔
’’ترقی یافتہ ہونے کا بھلا ملازمین سے کیا تعلق؟‘‘
’’نہیں میرا مطلب تھا کہ تھائی لینڈ کاشمار رِچ ممالک میں ہوتا ہے۔‘‘
’’مائی ڈئیر صرف پاکستان میں ہی یہ ٹنٹونا ہے کہ امیر کے ہاں ملازمین ہوتے ہیں۔ یہاں سب برابر مانے جاتے ہیں اور کسی دوسرے کو حق نہیں کسی پر حکم چلائے، کچھ دن رہو گی تو سمجھ جاؤ گئی۔‘‘ میشان مسکراتے ہوئے بولی۔
گاڑی ایک بڑی بلڈنگ کے سامنے رکی۔
You have read 12% of پیار کا تیسرا شہر / Pyar ka teesra Shehr - An Intense Love Story. The full e-book picks up right where this stopped.