12% of the book — free to read
زندگی
منیب مظہر
کاپی رائٹ
جملہ حقوق بحق مصنف کے نام محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
سمیر کی پیدائش اسلام آباد میں ہوئی اور وہ کچھ وقت پاکستان میں اپنے والدین کے ساتھ رہا اور پھر سب فرانس چلے گے۔ جب سمیر 6 سال کا تھا تو وہ واپس پاکستان آیا اور پھر سمیر اور اس کی امی پاکستان ہی رہے واپس نہیں گے۔
سمیر نے اسلام آباد میں ایک سکول میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم کا آغاز کر دیا۔
سمیر کی سکول میں کارکردگی بہت اچھی تھی اور سب خوش تھے۔
سمیر کے والد بھی سال میں کچھ ٹائم ہی پاکستان آتے تھے جب سمیر نویں کلاس میں تھا تو اس کے والد نے ان کو واپس فرانس آنے کا کہا لیکن سمیر اپنی والدہ کے ساتھ واپس نہیں گیا اور پاکستان ہی رہا۔
وقت ایسے ہی گزر گیا سمیر نے دسویں کلاس پاس کی اس کے کچھ دن بعد سمیر کی فیملی اس کے بڑے بھائی عدنان کی شادی کے لیے پاکستان آئی جو کہ پھوپھی کی بیٹی کہ ساتھ ہونے والی تھی۔
دونوں فیملیز آئی ہوئیں تھی شادی کی تیاری شروع ہو گئی اب سمیر بہت کم بولتا تھا کیونکہ وہ زیادہ پاکستان میں رہا اس لیے باقی فیملیز ممبرز کے ساتھ اس کی گپ شپ کم تھی۔
اب شادی کی وجہ سے سب رشتہ دار بھی آنا شروع ہو گے سمیر کے سارے کزن بھی آگےتھے تو سب ساتھ گپ شپ کرتے تھے شادی کی تاریخ عید کے بعد کی رکھی گئی۔ سمیر نے اپنی پھوپھی کی چھوٹی بیٹی کو دیکھا تو اس کو پسند کرنے لگا آہستہ آہستہ ان کی بات بھی ہونے لگی اور سمیر کو پہلا پیار پھوپھی کی چھوٹی بیٹی سارہ کے ساتھ ہو گیاسارہ بھی فرانس میں ہی رہتی تھی اب شادی کا دن بھی آ گیا اور دھوم دھام کے ساتھ شادی ہوگئی۔
اب شادی کہ بعد سب نے واپس جانا تھا تو سمیر نے اپنی بھابھی سے بات کی کہ وہ سارہ کو پسند کرتا ہے اب بات چلی تو سب کو بڑی خوشی ہوئی جب سارہ سے بات کی گئی تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ مجھے سمیر سے شادی نہیں کرنی۔
اب کیا ہو سکتا تھا سب چپ ہو گے واپسی کی تیاری شروع ہو گئی۔ سمیر نے منع کر دیا کہ وہ نہیں جائے گا۔
سمیر نے فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم کا آغاز کر دیا۔ سیکنڈ ائیر کا آغاز ہوا، اس سال سمیر کے ماموں کی بیٹی کی شادی تھی سب نے واپس پاکستان آنا تھا۔
سب آگئے شادی کی تقریبات شروع ہو گئیں اب سمیر کو دوسری بار اپنی کزن ثنا کے ساتھ پیار ہو گیااور دونوں میں محبت شروع ہو گئی باتیں ہوتی گئی پھر دونوں نے گھر بھی بتا دیا اب سمیر کی امی کی خواہش تھی کہ وہ سمیر کی شادی اپنے بھائی کی بیٹی انیسہ کہ ساتھ کر دے لیکن سمیر ان کی کزن کی بیٹی ثنا کہ ساتھ ہی شادی کرنا چاہتا تھا۔
کافی بات چیت کہ بعد سمیر کے گھر والے مان گے اور سمیر اور ثنا کی منگنی کر دی گئی۔
اب سمیر نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیااور ان کی منگنی کو 1 سال ہو گیا تھا آہستہ آہستہ ان کا رابطہ بھی کم ہو رہا تھا کیونکہ دونوں بڑے ہو رہے تھے اور ان کا آپس میں انٹرسٹ ختم ہو رہاتھا۔
سمیر کو یونیورسٹی میں کچھ دوست ملے جن کے ساتھ اس نے سگریٹ نوشی بھی شروع کر دی۔اب کیونکہ سمیر اکیلا رہتا تھا اس لیے اس کو ڈر بھی نہیں تھا اور پیسے بھی بہت تھے۔
ثنا بھی فرانس میں یونیورسٹی میں پڑھتی تھی تو دونوں کا رابطہ بہت کم ہوتا تھا۔
سمیراکیلا رہنے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا ایک دن سمیر نے ثنا کو کال کی لیکن ثنا نے بات نہیں کی اور اس کا میسج آیا کہ ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تو اج کے بعد مجھ سے رابطہ نہ کرنا یہ بات تو سمیر پہ پہاڑ کی طرح گری حالات اب پہلے کی طرح نہیں تھے سمیر کے لیے کافی کچھ بدل گیا تھا جس لڑکی کیلئے گھر والوں سے لڑا تھا و ہی چھوڑ کر چلی گئی۔
اب سمیر نے دوستوں کے ساتھ پارٹیز پہ جانا شروع کر دیا یہ سلسلہ چلنا شروع ہو گیا اور پارٹیز میں شراب ، چرس وغیرہ ہر چیز شامل ہوتی تھی اور آہستہ آہستہ سمیر نے چرس اور شراب بھی پینا شروع کر دیا۔سمیر ابھی نشے کا پوری طرح عادی نہیں ہوا تھا مگر پارٹیز میں دوستوں کے ساتھ سب چلتا تھا۔
سمیر نے یونیورسٹی جانا بھی بہت کم کر دیا جسکی وجہ سے اس کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اب اس کا اور کوئی کام نہیں تھا دن بھر دوستوں کہ ساتھ اور رات کو لیٹ آنا اور نیند کی دوائی کھا کر سو جانا معمول بن گیا تھا اور پھر ثنا نے اپنے گھر بتا دیا کہ اب اس نے سمیر کے ساتھ شادی نہیں کرنی بہت دفعہ وجہ پوچھی گئی لیکن اس نے کچھ نہیں بتایا بس پھر کیا تھا کچھ دن میں ویسے ہی سب پہلے کی طرح ہو گیا۔ اب سمیرپاکستان میں اکیلا ہوتا تھا اور وہ ہر کام میں اپنی مرضی کر رہا تھا ایک دن سمیر نے نیند کی بہت گولیاں کھا لی اور عادت کی وجہ سے اس کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ وہ نشے میں تھا اور گاڑی لے کر دوست کی طرف نکل گیا۔
راستے میں ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں گاڑی کافی ٹوٹ گئی اور سمیربالکل بچ گیا اب اس کے گھر والے بہت پریشان تھے لیکن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان شفٹ نہیں ہو سکتے تھے اس لیے سمیر کو بڑی مشکل سے واپس فرانس لے گے لیکن کچھ دن بعد ہی وہ واپس
پاکستان آ گیا۔
اب واپس آنے کے کچھ دن بعد دوستوں نے کال کی اور پارٹی کا بولا اور بتایا کہ آ جاﺅ اب جب اس بار سب شراب لینے گئے تو کسی نے پولیس کو خبر کردی اور یہ سب پکڑے گئے لیکن ہوا ایسے کہ جس کے پاس بوتلیں تھی اس نے پولیس کو دیکھ کر وہ پھینک دیں اور کافی دیر تلاش کہ بعد پولیس کو کچھ نہ ملا تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔
اب سمیر نے ایک اور یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا اور حالت یہاں بھی ویسے ہی تھی لیکن اب کی بار یونیورسٹی میں لڑکیوں کہ چکر میں لگ گیا اور کلاسز کا پتہ ہی نہیں بس اس کی زندگی اب ایسے ہی گزر رہی تھی کچھ دن ایک لڑکی کہ ساتھ تو کچھ دن دوسری لڑکی کے ساتھ، اب خاندان میں اس کی کسی کہ ساتھ کچھ خاص نہیں بنتی تھی تو کم ہی کسی سے بات یا ملاقات ہوتی تھی۔
یونیورسٹی میں سمیر کو کچھ اچھے دوست بھی مل گے جنکی وجہ سے اس نے آہستہ آہستہ نشہ کرنا بھی کم کر دیا اب کیونکہ اس نے کلاسز تو لی نہیں تھیں تو یہاں سے بھی نکال دیا گیا اب اور کچھ خاص تھا نہیں تو سمیر نے ایک دوست کے بزنس میں پیسے انویسٹ کر دیے اور اس کے آفس بھی جانے لگا اب بہت ٹائم بعد سمیر کی زندگی ٹھیک ہونے لگی تھی۔
ایک دن سمیر آفس کہ لئے گھر سے نکلا کچھ دور جا کر اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور ہوا بھی موٹر سائیکل کہ ساتھ اب سمیر ڈر گیا اور رکے بغیربھاگ گیا۔
وہاںسے بھاگ کر وہ تھوڑی دور جا کر چھپ گیا اور اپنے دوست کو بلا لیا کچھ ٹائم بعد وہ بھی سمیر کہ پاس آگئے اور اس سے سب پوچھنے لگے لیکن سمیربالکل چپ کھڑا تھا اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا بس پھر اس کے دوستوں نے اس کو سمجھایا اب سمیر کی گاڑی چلنے کی حالت میں نہیں تھی تو کسی طرح گاڑی کو چلنے کے قابل بنایا گیا کہ یہاں سے تو نکلےں اب سمیر تو گاڑی نہیں چلا پا رہا تھا تو اس کے دوست نے اس کی گاڑی خود لی اور اس کو دوسرے دوست کے ساتھ بھیج دیا۔
اس دن کہ بعد سمیر کافی بدل گیا گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا نہ گاڑی کی طرف جاتا تھا۔ اب اسلام آباد میں سمیر کو بے سکونی ہونے لگی بار بار وہی حادثہ والا دن یاد آنے لگتا اور جب بھی سوتا تو اچانک ڈر کر اٹھ جاتا۔
سمیر نے کوئی بھی بات اپنے گھر والوں کو نہیں بتائی ہوئی تھی اب جب بے سکونی زیادہ ہونے لگی تو سمیر نے پلان بنایا کہ وہ مری میں اپنے گھر کچھ وقت کے لئے جائے گا اور پھر وہ مری چلا گیا۔
مری میںسمیر ہر بری چیز سے دور ہو رہا تھا جو کہ اس کے لیے بہت اچھا تھا اب سمیر دن بدن اپنی تعلیم کا سوچ رہا تھا پھر اس نے ایک دوست سے بات کی اور بی اے میں داخلہ لے لیا اور پڑھائی شروع کر دی اب پہلے تو کچھ دن وہ آرام سے جاتا رہا لیکن پھر کچھ دن بعد جانا چھوڑ دیا پھر ایک دوست نے سمجھایا کہ پڑھائی نہ چھوڑو اور اپنی تعلیم جاری رکھو پھر سمیر نے کچھ سوچ کر واپس جانا شروع کر دیا اب یہاں سمیر کی کلاس میں بہت کم لوگ تھے ان میں سے ایک لڑکا جس کا نام علی تھا اس سے سمیر کی دوستی ہو گئی اور یہ ہر وقت ساتھ رہنے لگے اب علی ایک نہایت ہی شریف لڑکا تھا تو سمیر کو ہر وقت سمجھایا کرتا تھا اور بس ایسے ہی سمیر نے بھی سب بری عادتیں چھوڑ دیں اب کیونکہ سمیر کا زیادہ ٹائم علی کہ ساتھ ہی گزرتا تھا تو علی کی صحبت کا کافی اچھا اثر سمیر پر ہوا اور اس نے بری چیزیں چھوڑ دیں۔
اب علی کہ علاوہ مری میں سمیر کا کوئی خاص دوست تھا نہیں تو سمیر نے انٹرنیٹ کی مدد سے میوزک سیکھنا شروع کر دیا۔
سمیر کی آواز کافی اچھی تھی اور انٹرنیٹ پہ ویڈیوز دیکھ کر وہ کافی کچھ سیکھ گیا۔
ایسے ہی ایک دن سمیر بازار گیا اور ایک دکان میں اس نے گیٹار دیکھا اور وہ خریدلیا۔ اب سمیر کا کالج سے واپس آ کر کافی وقت میوزک سیکھنے میں گزر جاتا تھا۔
You have read 12% of زندگی / Zindagi - Novel About Loneliness and True Love. The full e-book picks up right where this stopped.