12% of the book — free to read

بائیسویں صدی میں مسلم دنیا کا عروج
مدثر مجید

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۰ ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ۲۰۲۰ ء
ISBN Digital: 978-969-696-464-3
ISBN Print: 978-969-696-465-0
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
www.daastan.com
٭
مدیرہ
فریال زہرا
نظرِ ثانی
نرمین سرھیو
مرتّب کنندہ
قدسیہ حذیفہ جمالی
نرمین سرھیو
__
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں
انتساب:
میری کتاب ان عظیم لوگوں کے نام ہے جو اسلام کو ہر مرحلے میں ایک حقیقت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور علم و حکمت اور عمل کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے مقام کی تلاش میں ہیں۔
فہرست
دیباچہ...................................................................................... 7
ابتدائیہ...................................................................................... 9
اسلام..................................................................................... 22
پرورش................................................................................... 27
قرآنی علوم................................................................................ 33
علم کے قوانین............................................................................. 48
خوش خبریاں.............................................................................. 63
مسلم دنیا کے عروج کی نشانیاں............................................................. 69
محبت کو قائم کرنے کے اصول............................................................. 71
ادب و احترام کو قائم کرنےکے اصول....................................................... 74
سچائی کو قائم کرنے کے اصول............................................................ 79
عدل و انصاف کو قائم کرنے کے اصول..................................................... 82
امن کو قائم کرنے کے اصول............................................................... 85
علم کو قائم کرنے کے اصول............................................................... 92
عمل کو قائم کرنے کے اصول.............................................................. 98
ترقی و خوشحالی کو قائم کرنے کے اصول................................................ 101
تسخیر کائنات کو قائم کرنے کے اصول.................................................... 106
اشرف المخلوقات کو قائم کرنے کے اصول................................................. 110
اختتامیہ.................................................................................. 115
مصنف کا تعارف......................................................................... 120
میں سب سے زیادہ مشکور ہو اللہ تعالی کی ذات کا جس نے قرآن پاک کی صرف ایک مثال کو سمجھنے کا موقع عطا فرمایا۔
میں اپنے والدین، بھائی، بہن اور اپنی بیوی کا شکرگزار ہوں جن کی دعاؤں سے میں اپنے زندگی کے مقصد کو ڈھونڈنے میں نکلا ہوا ہوں۔
میں کوئی کتاب لکھنے والا انسان نہیں ہوں یہ سب کچھ ایک حادثاتی طور پر ہوا ہے۔ ایک روز نماز پڑھنے کے بعد میری خاموش دنیا سے مجھے کچھ سنائی دیا کہ اللہ تعالی کی قرآن مجید میں نیان نشانیاں آنے والے وقت کی نوید ہیں، ان نشانیوں کو چھوٹی سوچ سے مت دیکھو۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ، ’’کشتیاں اُس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہیں تاکہ وہ تمیں اپنی کچھ اپنی نشانیاں دِکھا سکے‘‘ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کتنے ہی اور براعظم دنیا میں دریافت ہوئے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ، ’’بجلی میں دِکھاتا ہوں، اس میں بھی نشانیاں ہیں‘‘ اور آج چودہ سال بعد ہمیں اس کی اہمیت کا پتا چلا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کسی مسلمان نے اِن نشانیوں کو نہ سمجھا اور نہ جاننے کی کوشش کی۔
اب قرآن مجید کے کئی راز ابھی تک راز ہی ہیں جیسے ہم کسی مادی چیز کو پلک جھپکتے ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں۔ زمین اور آسمانوں کو ہمارے لیے مسخر کر دیا گیا ہے۔ زمین کو تو شاید غیر مسلموں کی بدولت مسخر کر چکے ہیں لیکن آسمانوں کی بلندی کے راز ابھی بھی باقی ہیں۔ آج کے جدید دور میں ایک بات ثابت ہو چکی ہے کہ کوئی بھی چیز چاہے وہ جان دار ہو یا بےجان، اس کی اپنی زبان ہے، اس کا اپنا علم ہے اور آج کی مصنوعی ذہانت اس بات کی گواہ ہے کہ آسمانوں کو تسخیر کرنے کا علم موجود ہے۔ اِس مرتبہ بھی مسلم دنیا اپنی غفلت میں گم ہے اور حقیقت کو جاننے کی بجائے کتابوں کے وزن کو تھاما ہوا ہے۔ انسان کی زندگی کے حالات اس کی حقیقت کے گواہ ہوتے ہیں اور آج ہم اپنے حالات کو دیکھ کر اپنے مقام کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
مدثر مجید
فرانس کے ایک مشہور ترین ہوٹل میں زور و شور سے تیاریاں جاری تھیں۔ وہاں ایک عالمی کانفرنس ہونے والی تھی، جس کا مقصد اس عظیم شخصیت کی کوششوں کا اعتراف تھا۔ اس شخص نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا تھا۔اس وقت دنیا میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ اسی کے مضبوط ارادوں کا نتیجہ تھا۔کون کہہ سکتا تھا کہ ان سب چیزوں کے پیچھے اس شخص کا ہاتھ تھا،اس کی حکمتِ عملی تھی،اور اسی کے شاگرد اس سب کے ذمہ دار تھے۔آج پوری دنیا اس کے ہاتھ میں تھی۔
ابتداء میں لوگ سمجھتے تھے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ سب قدرتی طور پر ہے، اور حالات خودبخود تبدیل ہورہے ہیں۔پھر لوگوں کو اس کے ایک شاگرد کے ذریعے سے پتا چلا کہ ان حالات کے پیچھے اس کے استاد کا ہاتھ ہے،تو کسی نے یقین نہ کیا بلکہ چند ایک نے تو اس کا مذاق بھی اُڑایا۔لیکن جب پے درپے اس کے مختلف شاگردوں نے اس بات کی تصدیق کی اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تو لوگ دنگ رہ گئے۔ وہ ایک عام سا نظر آنےوالا بزنس مین تھا،لیکن وہ اتنے بڑے انقلاب کا پیش رو ہوسکتا ہے، یہ ان سب کے لیے حیرت کی بات تھی۔اب جب کہ ہر خاص و عام اس کی ذہانت کا قائل ہوچکا تھا تو اس کے اظہار کے لیےپیرس میں اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔
٭٭٭
وہ دماغی طور پر بے اثر ہوتا جا رہا تھا اس کا دماغ غلامی کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ دنیا کی طاقتوں نے اس پر اپنا اثر کرنا شروع کر دیا تھا وہ دنیا کی جدّت اور مذہب کی تعلیم کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔وہ دنیا میں بھی کامیاب ہونا چاہتا تھااور اپنی مذہبی زندگی کو بھی کامیاب دیکھنا چاہتا تھا لیکن وہ تو دونوں ہی چیزوں میں دن بہ دن خود کو نا کام دیکھ رہا تھا۔
بچپن سے وہ ایسی باتیں سنتا اور پڑھتا آ رہا تھا جسے اس نے اپنے معاشرے میں ہوتا ہوا نہیں دیکھا تھا۔اس کے والدین،استاد، امام ؛ سب کے سب عمل کی دولت سے خالی تھے۔اسے بتایا گیا تھا کہ اسلام ہی رب کا آخری دین ہے اور اللہ پاک نے مسلم دنیا کی سر بلندی کا وعدہ فرمایا ہے، لیکن یہ وعدہ تو وفا نہ ہو رہا تھا۔ہر طرف مایوسی اور جہالت نے ڈیرے ڈال رکھے تھےاور وہ خودبھی جہالت اور مایوسی میں گھِرتا جا رہا تھا۔اسے لگنے لگا تھا کہ وہ ایک ایسی قوم کا فرد ہے جس پر کسی نے اپنا عذاب نازل کر رکھا ہے اور اس کیفیت نے اسے ذہنی غلام بنانا شروع کر دیا تھا۔اس کی صلاحیتوں نے دم توڑنا شروع کر دیا تھا اور یہ صرف اس کی حالت نہ تھی بلکہ ہر نوجوان اس آزمائش سے گزر رہا تھا۔
اسلام بس نام کو ہی معاشرے میں موجود تھا۔ہر کام کی نیت میں بگاڑ آ چکا تھا اورصبر معاشرے سے ختم ہو چکا تھا۔بھوک اور خوف نے معاشرے کو پوری طرح اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔برائی کے کاموں کو معاشرے میں خوب بڑھایا جا رہا تھا، علم کو حاصل کرنا مشکل اور تجارت بنتا جارہا تھا، غرور اور تکبر نے معاشرے میں تباہی مچائی ہوئی تھی اورانصاف کو بیچا اور خریدا جا رہا تھا۔اقلیتوں کا مسلم معاشرے میں جینا مشکل کر دیا گیا تھااور عورتوں کو غلام اور وراثت سمجھا جا رہا تھا۔جھوٹی خبروں نے لوگوں کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔دولت کو صرف امیروں کا حق سمجھا جا رہا تھا، نااہل حکمرانی نے لوگوں سے جینے کا حق چھین لیا تھا اورنیک لوگوں کو مار دیاجاتا تھا۔تجارت لوگوں کو لوٹنے کا ذريعہ تھی۔بچوں کو بدی کی طرف موڑا جارہا تھااورغیر مسلموں کے اثر نے ذہن کو غلامی کی زنجیرمیں جکڑا ہوا تھا۔ہر کام میں جھوٹ کو اپنایا جا تا تھا۔انسانی قتل کو ایک کھیل سمجھا جاتاتھا۔ مایوسی نے لوگوں کو خودکشيوں پر مجبور کیا ہوا تھااورمحبت کو معاشرے کا گناہ بنا دیا گیا تھا۔قرآن پاک صرف پڑھنے تک ہی محدود تھا۔مذہب کو اپنے مقاصد کےلیے استعمال کیا جا رہا تھا اورجاہلوں کو معاشرے کا سردار بنا دیا گیا تھا۔ حسد اور منافقت نے معاشرے کو کمزور کر دیا تھا اورشیطانی جادو ٹونوں نے لوگوں کو گمراہ کر رکھا تھا۔معاشرے میں جس کی لاٹھی اس کی بھينس کا اصول چل رہا تھا اورانسان جانوروں سے بھی بد تر حال میں تھا۔
وہ ان سب برائیوں کو دیکھ رہا تھا، ان کے درمیان زندگی گزار رہا تھا لیکن وہ ان سب سےدور بھاگنا چاہتا تھا۔ وہ ایک گہرا انسان تھا اوراس کے اندرصبر کی خوبی نے گھر کیا ہوا تھا اس وجہ سے وہ دوسروں سے الگ تھا اور ان سب چیزوں کو گہرائی سے دیکھ رہا تھا۔اس کے دماغ میں ہر وقت سوال جنم لیتے رہتے تھے جن کے جواب وہ ہر پل ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔
مسلمان ہرمیدان میں دنیا سے پیچھے کیوں تھے؟ ترقی اور خوش حالی صرف غیر مسلموں میں ہی کیوں تھی؟ مصیبتوں کا گڑھ صرف مسلم دنیا ہی کیوں تھی؟مسلم دنیا اسلام سے دور کیوں چلی گئی تھی؟مسلم دنیا تعلیم کے میدان میں کیوں پیچھے رہ گئی تھی؟کون سے کام مسلم معاشرے کو برباد کر رہے تھے؟اسلام کو معاشرے میں کيسے دیکھا اور سمجھا جا رہا تھا؟
ان سب سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کےلیے وہ تڑپ رہا تھا۔اسے دنیا اور لوگوں کے رہن سہن سے نفرت ہو گئی تھی۔ وہ ایک دیہات میں پیدا ہوا تھا اورایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ایسے ماحول اور وقت میں پلا بڑھا تھا جہاں تعلیم کم اور جہالت زیادہ تھی لیکن اسے شروع ہی سے دنیا اور اسلام، دونوں میں گہری دل چسپی تھی۔
وقت گزرتا گیا اور دنیاومذہب کی تعلیم نے اسے مصروف کیے رکھا۔ وہ اپنی تعلیم کو سمجھ نہیں پا رہا تھااور بے حدپریشان تھا۔کبھی وہ مذہبی تعلیم کے جنون میں گرفتار رہتا تو کبھی دنیاوی تعلیم اسے جکڑ لیتی۔ایسے میں وہ گمراہ ہو رہا تھا، کیوں کہ جو تعلیم وہ حاصل کر رہا تھا معاشرے میں اس کے عین خلاف عمل ہوتا تھا اور ہر طرف برائی اور جہالت کادور دورہ تھا۔صرف پیسے کمانے کو ہی دین اور دنیا سمجھا جا تا تھا۔ وہ کون تھا؟اور کیوں اس دنیا میں آیا تھا؟ یہ ایسے سوالات تھے جو ہر دم اسے پریشان کرتے تھے، لیکن اب تک وہ ان کا جواب ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا۔ وہ تمام مصنوعی چیزوں سے آزاد ہونا چاہتا تھا؛ لوگوں کی فضول باتوں سے، بناوٹی رویوں سےاور جھوٹی اناؤں سے۔ نہ اسے دولت چاہیے تھی نہ شہرت۔وہ تو بس ایک آزاد پرندے جیسا بننا چاہتا تھا، جس کی پرواز میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں ڈال سکتی تھی۔ وہ لوگوں سے دور جا کر زندگی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ روزی بھی اتنی ہی محنت سے، حلال کی کما رہا تھا جتنی محنت سے زندگی کے مقصد کو سمجھنے کےلیے کوشاں تھا۔وہ یہ جان گیا تھا کہ اللہ پاک نے اس کےدل میں کوشش کرنے کی چاہ اور نیک نیت رکھی تھی اور وہ انھی کے ساتھ سچائی کا راستہ ڈھونڈنے نکلا ہوا تھا۔وہ صبح کی نماز کو ہر روز اپنی پہلی کامیابی سمجھتاتھااور ماضی اور مستقبل کی دنیا سے آزاد ہو کر ہر گزرتے لمحے کو خوبصورت بنا رہا تھا۔اس کا ہر روز امید کے دامن سے وابستہ ہوتاتھا۔اس پر ہر لمحے اپنے مقصد کو پانے کا جنون سوار تھا۔وہ محبت کے راستے کا مسافر بن گیا تھا اور محبت کی چھپی ہوئی دنیا کو تلاش کرنے لگا تھا۔اس کی سوچ اب دنیا سے آگےبڑھ کر کائنات کو دیکھنے لگی تھی۔وہ ہر وقت اچھی سوچ رکھتااور اسے لکھ کر اس پرغور کرنے لگا تھا۔وہ دنیا کے تمام عظیم لوگوں کی زندگیوں کو پڑھ کر ان کی اچھی عادات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس طرح اس کا اللہ پاک پر یقین روز بہ روز بڑھ کر یقین کامل کا رتبہ پاتا جا رہا تھا۔
وہ لوگوں پر تنقید کرنے کی بجائے ان سے سبق سیکھنے لگا تھا۔وہ اللہ کی ہر مخلوق سے پیار کرنے لگا تھااور لوگوں کی تکالیف اور مصیبتوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا اور ہر چیز کو خوف سے آگے بڑھ کر پرکھتا تھا۔اب وہ ہر تکلیف کو سہنے کے قابل ہو گیا تھا کیوں کہ وہ تکلیفوں میں حکمت کو ڈھونڈنے لگا تھا۔اب اس پر زندگی کا مقصد واضح ہوتا جارہا تھااور نماز اس کے لیے اللہ سے ملاقات کا موقع بن گئی تھی۔وہ شیطان کی طاقت کو جان گیا تھا کہ وہ صرف بُرے خیالات کا نام ہے۔ اب جب بھی اسے کوئی بُرا خیال آتا تو وہ اسے خاموشی سے جانے دیتا اور شیطان کا کام وہیں تمام ہو جاتا۔اس کی زندگی عمل کی دولت سے مالامال ہو رہی تھی اوروہ اپنی خود کی گہرائی کو دیکھنے اور سمجھنے لگا تھا۔وہ ہر حالت میں اللہ پاک کا شکر بجا لاتا تھا۔ پہلی دفعہ دماغ کی بجائے دل کے نور سے علم حاصل کرنے لگا تھااور توحید کے سمندر میں ڈوب کر حکمت کی بلندیوں کو چھونے لگا تھا۔وہ روزانہ قرآن پاک کو سمجھنے اور خاموش گہرائیوں کو محسوس کرنے لگا تھا۔وہ ایک ایسے علم کا درخت بنتا جا رہا تھا جس کی خوشبو چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ دنیا کی ہر نشانی اس کے عشق کی آگ کو بڑھاتی جا رہی تھی اور وہ اللہ پاک کی ہر تخلیق کی خوبصورتی اور مقصد کو پہچاننے لگا تھا۔
عمرہ کرنے تو وہ ہر سال آتا تھا لیکن وہ تو ویسے ہی کام کرتا رہا تھا جو وہ عمرے سے پہلے کیا کرتاتھا، اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آ رہی تھی۔ بلکہ وہ تو اسے دنیا میں رتبہ اور عزت بڑھانے کا ذریعہ سمجھ رہا تھا۔وہ اکثر سوچا کرتاتھا کہ دنیا والوں کے مطابق تو جو بھی انسان حرم سے ہو کر لوٹتاہے وہ پاک صاف ہو جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ تو ایساکچھ نہیں ہوا تھا۔ آج بھی وہ حرم میں موجود تھا،اور جب سے یہاں آیا تھا زاروقطار رو رہا تھا، اور ابھی بھی آنسو رکنے سے انکاری تھے۔ اسے ايسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے مستقل مقام پر پہنچ چکا ہو۔ وہ ایک حسین نظارے کو دیکھ رہا تھا اور اک نئی دنیا کا مسافر بن چکا تھا۔ آج اس کے آنسوخوشی اور سکون کے آنسو تھے اور وہ خود کو ایک نیا انسان محسوس کررہا تھا۔اس کے بعد وہ عشقِ حقیقی میں گم سا ہو گیا، اب اس کی نمازیں لمبی ہو گئی تھیں اور وہ غلام بن کر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے میں فخر محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کی زندگی نے پانی کی طرح اپنا راستہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ اس کے دوست حیران تھے کہ وہ بہت تبدیل ہو گیا تھا لیکن وہ اس کے اندر آنے والی تبدیلی کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ وہ نہ تو دوستوں کے ساتھ گھومنے جا رہا تھا نہ ہی فلمیں دیکھ رہا تھا۔ حتیٰ کہ اب لڑکیوں کی صحبت سے بھی دور ہو گیا تھا اورفضول خرچی کے ساتھ ساتھ فضول گفتگو سے بھی پرہیز کرنے لگا تھا۔
اس کی گفتگو گہری ہو گئی تھی، اور وہ اپنے دوستوں کو ایک بور انسان لگنے لگا تھا۔ وہ اسے پاگل سمجھتے تھے اور ایک ایک کر کے اس سے دور بھاگنے لگے تھے۔کوئی سمجھ رہا تھا کہ وہ کسی لڑکی کے عشق میں پاگل ہو گیاہے تو کوئی اسے بیماری سے تعبیر کر رہا تھا۔لیکن یہ سب دنیا کے لوگ تھے، وہ حقیقت کو پہچان ہی نہیں پا رہے تھے۔وہ عشقِ حقیقی کا مسافر تھا اور اس کی روح اور دل سکون کی دولت پا گئے تھے اور وہ وہ دنیا کی زندگی سے نکل کر ایک نئی دنیامیں آ گیا تھا۔ اب اس میں عاجزی تھی، سننے اور برداشت کرنے کی طاقت تھی، ہر چیز کےلیے بے پناہ محبت تھی اور زندگی کو سمجھنے کا جذبہ تھا۔اب اس کی صحبت بدل چکی تھی اور وہ درختوں کے نیچے بیٹھنے لگا تھا، پرندوں کی آوازوں کو سن کر خوش ہو تاتھا۔ دریا کے کنارے بیٹھنا،سورج کی کرنوں کو دیکھنا اور چاندنی رات میں تاروں کی خوبصورتی کو دیکھنا اب اس کے پسندیدہ مشغلے تھے۔ وہ ان چیزوں کو اللہ کی نشانیاں سمجھ کر ان سے گفتگو کیاکرتا تھا۔
وہ دنیا میں تنہا سا ہو گیا تھا۔ اس کی عقل کو شیطان دلیلیں دینے لگا تھاکہ وہ اس مقابلے کی دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے، ناکام ہو رہا ہے اورپرانے دور میں جا رہا ہے جبکہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔ یہ اور ایسی ہزاروں ہی سوچیں اسے تنگ کررہی تھیں لیکن وہ اپنے سکون کی دولت کو دنیا کے لیے نہیں کھونا چاہتا تھا۔ جب بھی شیطان اسے بہکانے کی کوشش کرتا تو وہ دعا مانگتا، ’’یا اللہ پاک میری مدد فرمائیے، میرے علم اور عمل میں اضافہ فرما دیجیے اور مجھے سیدھے راستہ پرچلنے والا بنا دیجیے۔“ وقت گزرتا گیا اور اسے ایک جیون ساتھی بھی مل گیا۔ان دونوں کی شادی سادگی سے ہوئی تھی اور اب وہ ایک دوسرے کو سمجھ کر چلنے لگے تھے۔ اس کی ہم سفر ایک پڑھی لکھی خاتون تھی اور دونوں کو بہت جلدایسا لگنے لگا تھا جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے ہی بنےہیں۔
ایک عورت کا مقام کیا ہوتا ہے اب اسے دِکھائی دینے لگا تھا۔ وہ سنتا آیا تھا کہ ہم سفر اچھا ہو تو دنیا جنت بن جاتی ہے لیکن اب وہ یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اللہ پاک کا دل ہی دل میں شکر ادا کر تا تھا۔اب یہ دونوں ہی عشقِ حقیقی کے مسافر بن گئے تھے اوردنیا کی باتوں سے زیادہ اللہ کی محبت حاصل کرنے کی باتیں کرنے لگے تھے۔وہ اپنے احساسات اور جذبات ایک دوسرے کو بتانے لگے تھے اور دو جسم ایک روح کے مصداق بن گئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو ان منزلوں پر لے جا رہے تھے جہاں دنیا کے تمام راز کھل جاتے ہیں۔
ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک مضبوط عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ یہ الفاظ پہلے بھی کئی مرتبہ سن چکا تھا لیکن اسے عملی طور پر اب دیکھ رہا تھا۔وہ تو عورت کو اللہ کی روشنی کی کرن سمجھنے لگا تھا۔ ایک عورت کیسے اس دنیا کی زندگی کو پرسکون اور خوب صورت بنا سکتی ہےوہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔عورت تو اس دنیا کی تخلیق کے رازوں میں سے ایک راز تھی، وہ تو عشقِ حقیقی کو پانے کا ایک خوبصورت راستہ تھی،اس کے احساسات اور جذبات میں خلوص تھااوردل کو چھو لینے والی ادائیں تھيں۔ وہ اچھائی کی ہر حد کو چھو سکتی تھی لیکن اسے صرف پیار اور بھروسہ چاہیے تھا، پھر وہ اپنے مقصد کو پانے کے لیے جان تک کو قربان کر سکتی تھی۔ یہ وہ جذبہ تھا جو کسی کو بھی کامیاب بنا سکتا تھا۔وہ بیوی تھی، ماں تھی، بہن اور بیٹی تھی۔ وہ ہر رشتے میں کمال تھی وہ قدرت کی طاقتور ترین تخلیقات میں سے ایک تھی۔اب یہ ہنر اس کے ہاتھ میں تھا کہ وہ عورت کو کون سا مقام دیتا، یہ تو اس کے لیےرب کا خزانہ تھا، وہ اسے جتنا حاصل کرنا چاہتا تھا کر سکتا تھا۔وہ اپنی بیوی کو رب سے ملنے کا ذریعہ ماننے لگا تھااور اس کے جذبات کو محسوس کرنے لگا تھا۔وہ اس کی گفتگو کو غور سے سنتا اور اسے اپنے رب تک پہنچنے کا نیا راستہ سمجھتا۔ اس کی بیوی اسے سنوار رہی تھی اور وہ عشق میں ادب کے اصولوں سے واقف ہو رہا تھا۔
ایک دن وہ اپنی بیوی کےساتھ دریا کے کنارے پانی کے چلنے کی آوازیں سن رہا تھا تو وہ اچانک کہنے لگی۔
’’میرےسرتاج! انسان کی زندگی بھی پانی کی طرح ہے جسے ہر وقت چلتے رہنا چاہیے،ہر روکاوٹ کو دور کر کے آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ انسان بھی پانی کی طرح مشقت والا بنایا گیا ہے۔ جب تک انسانی خون میں گرمی رہے گی تب تک وہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہے گا۔ اس منزل میں اچھے دن بھی آئیں گے اور مقابلے والے دن بھی۔ زندگی کا توازن قائم رکھنے کے لیے ان دونوں کا آنا لازم ہے۔ہماری زندگی ایک پرندے کی مانند ہے جسے اڑنےکے لیے دو پر چاہیے ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی کے اچھے اور برے دن ہی ہمارے دو پر ہیں جو ہمیں اڑنے کے قابل بناتے ہیں اور اگر طوفان آ جائے تو یہی پرہمیں شاہین بنا دیتے ہیں اور اونچا اڑنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔“ وہ اپنی بیوی کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی،’’میں بھی آپ کو ایسا پرندہ بنانا چاہتی ہوں، اور میں اس سفر میں آپ ہمیشہ مجھے اپنےساتھ پائیں گے۔“ جب سے اس کی ہم سفر اس کے ساتھ تھی تب سے واقعی وہ اڑنے لگا تھا اوراس کی صبح و شام خوب صورت بن گئيں تھیں۔
You have read 12% of بائیسویں صدی میں مسلم دنیا کا عروج / The Rise of Muslim World in 22nd Century. The full e-book picks up right where this stopped.