Check out our most recent publications
زندانِ الم/Zindaan e Alam- Mystical Poetry Book
Free sample · no sign-up

زندانِ الم/Zindaan e Alam- Mystical Poetry Book

by Captain Saif Ullah

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

مجموعہ کلام
زندانِ الم

 


لیفٹیننٹ سیف اللہ


گفتگو پبلیکیشنز

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ

نام کتاب …………………………زندانِ الم
مصنف …………………………لیفٹیننٹ سیف اللہ
قلمی نام …………………………حقیر بسملؔ
اہتمام …………………………گفتگو پبلی کیشنز، اسلام آباد
اشاعت …………………………اوّل
صفحات …………………………203
تعداد …………………………1000
سن اشاعت …………………………جون 2019
قیمت …………………………450 روپے

 

گفتگو پبلیکیشنز
اسلام آباد، پاکستان۔
فون: +92-51-2231670 | ای میل: info@gufhtugu.com
ویب سائٹ:www.gufhtugu.com

ISBN: 978-969-7758-25-8

 


مردِکہستاں
فخرِکہوٹہ
صدارتی ایوارڈیافتہ
جناب برگیڈیر(ریٹائرڈ) جاوید احمد ستی
کے نام

 

ٌئ
خالص جذبوں کاشاعر

کہتے ہیں مومن وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آجائے۔ مجھے حقیر بسملؔ کو دیکھ کر اللہ یاد آیا ہے۔ خوبصورت شحصیت نرم لہجہ پاک آرمی کا یہ آفیسر جو خالص جذبوں کاشاعر بھی ہے اللہ نے اسے بہت عزتوں سے نوازا ہے مگر مجال ہے کہ کوئی غرور کی جھلک بھی نظر آئے۔ مجھے حقیر بسملؔمیں کہوٹہ کے جناب برگیڈیر جاوید احمد ستی کی جھلک نظر آتی ہے۔ عظیم پبلک سکول سے نکلے ہوئے اس نوجوان نے اپنی شاعری سے حیرت زدہ کر دیا ہے۔اتنی چھوٹی عمر میں اتنے گہرے اور پختہ خیالات کسی دعا کا نتیجہ ہیں جو اس نوجوان کو لگی ہے۔ عاجزی و سادگی خلوص و محبت بسمل ؔکا سرمایہ ہیں۔ وطن ہم سب کے لیے ماں کی گود کی طرح ہے وطن سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور وطن محافظوں کیساتھ محبت ایک فطری عمل ہے۔حقیر بسملؔ کی شاعری پڑھ کر خدا یاد آجاتا ہے۔ حقیر بسملؔ اپنی خوبصورت شخصیت اور شاعری کی وجہ سے میرے دل کے بہت قریب آ گیاہے۔ میں حقیر بسملؔ کی سلامتی کے لیے دعاگو ہوں اور اسکی دلوں کو چھو لینے والی شاعری جس میں ایک بڑا مقصد پوشیدہ ہے اسکی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔حقیر بسملؔ سے جو نہیں ملا مل کر دیکھ لے حقیر بسمل ؔجس سے ملتا ہے اسے اپنا بنا لیتا ہے۔
دوسری صدی عیسوی کے ایک لاطینی مصنف نے دو اصطلاحیں وضح کیں جو ایک دوسرے کی ضد تھیں یعنی ادبِ عالیہ اور عوامی ادب۔ پہلی اصطلاح سے مراد وہ شاعریاادیب ہے جو طبقہِ خواص کی محدود جماعت کی لیے لکھتا ہے۔ میں چونکہ خود اپنی شاعری کے معاملے میں کلاسکیت کے بندھے ٹکے اصول و قواعد کی تقلید کو پسند نہیں کرتالہذا حقیر بسمل ؔکی شاعری کو بھی کلاسکیت کی عینک لگا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ میرے خیال میں عوامی ادب کی رسائی چونکہ عام لوگوں تک ہوتی ہے لہذا وہ کسی انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے۔
روسو ؔ نے اپنے ایک خط میں تخیل یا آرزو کی بڑی اچھی تصویر کھینچی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میں اپنے خوابوں میں مگن رہنا چاہتا ہوں آزادی سے فارغ البالی سے۔ اس طرح مگن کہ میرا دل تخیل کے گلگشت میں بے روک ٹوک پھرے۔میری انتہائی خوشی اس میں ہے کہ میں بے غم پھرتا رہوں، تنہا، دور درختوں میں چٹانوں پرتاکہ میں آزادی سے جو چاہوں سوچوں یعنی ضابطے اور رسم کی ہر قید سے آزاد، بالکل آزاد۔ میں روسوؔ کے الفاظ کی نہ صرف پیروی کرتا ہوں بلکہ عزت بھی کرتا ہوں۔البتہ اخلاقی پہلو کو ضرور مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ باقی کلاسکی مصنفوں کے وضع کردہ قوانین اور اسلوب سے ہٹ کر لکھنا اگر جرم ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں ان اصولوں سے بغاوت تو شیکسپیئر نے بھی کی تھی۔
حقیر بسملؔ کی کتاب اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ اس میں شامل اثر انگیز شاعری جدید فکری حسّیت، عصری معنویت، لب و لہجے کی گہرائی اور فکر کی پائیداری کے ساتھ ساتھ اپنے اندر جاذبیت رکھتی ہے۔
حقیر بسمل ؔکی شاعری دلوں کے تار چھوتی ہے اگر کوئی ایک بار یہ کتاب ”زندانِ الم“ پڑھے گا تو بار بار پڑھنے کا دل کریگا۔یہی ایک شاعر کی کامیابی ہے کہ وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کر دے اور شاعری جیسے نرم و نازک ہتھیار سے اس کے دل و دماغ پر قبضہ کرے۔ حقیر بسمل ؔکی شاعری بلاشبہ اپنے اندر ایسی تمام خوبیوں سے مالا مال ہے۔ اللہ نے حقیر بسملؔ کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔وہ پاک آرمی کا ایک قابل آفیسر اور اس کے ساتھ دنیائے ادب کا چمکتا ستارہ ہے۔ زندانِ الم میں اس نے اپنے دکھ درد کے ساتھ دنیا کی ناہمواریوں پر بھی تبصرہ کیا ہے۔
حقیر بسمل ؔاور زندانِ الم ذرا غور کریں تو ایک تصویر بنتی ہے۔ ایک حساس دل رکھنے والا شاعر اپنے دکھ درد کے ساتھ اوروں کے دکھوں پر بھی تڑپ اٹھتا ہے۔حقیر بسملؔ کی شاعری میں اسلام، پاکستان اور دنیائے اسلام کا تذکرہ کثرت کے ساتھ ملتا ہے۔ حقیر بسملؔ کی شاعری اس کے ارادوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ نوجوان مستقبل میں عالم اسلام کا ایک بہادر مجاہد اور دنیائے ادب کا ایک عمدہ شاعر بنے گا۔حقیر بسملؔ اپنے ایک ہاتھ میں تلوار اور ایک ہاتھ میں قلم اٹھائے عالمِ اسلام اور پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور غریبوں اور مظلوموں کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔اللہ اسے اپنے ارادوں میں کامیابیاں عطا فرمائے۔آمین

احمد ستی(کہوٹہ)
۷۲ اگست ۸۱۰۲


حقیر بسملؔ کی شاعری

لیفٹیننٹ سیف اللہ (حقیر بسملؔ) سے شعر و سخن کے حوالے سے میرا تعارف ایک انسان دوست،ادب دوست شخصیت میرے ماموں جان کرنل ضیغم طیب (ملتان) کی وساطت سے ہوا۔بعد ازاں بذریعہ ڈاک مجھے ان کا مسودہ موصول ہوا۔مطالعہ کرتے وقت شدت سے احساس ہوا کہ موصوف کی شخصیت پر ان کے حقیقی وقلمی دونوں ناموں کے اثرات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ان کی شاعری میں باطل کی نبض کاٹنے والی سیف اللہ کی للکار بھی سنائی دیتی ہے اور انتہائی عاجز انسان کی انسانیت کی رشد و ہدایت کی تڑپ بھی دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے رنج و الم کے زندان میں قید دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ پس سلاسل مجبوراور نادار نہیں بلکہ آزادی کے لیے مسلسل سعی کرتے نظر آتے ہیں۔محرومیوں کے کلیجے سے امید اور ملال کے سینے سے ہمت کشید کرتے پائے جاتے ہیں اور یہ تمام مشاہدات و واردات ان کی شاعری میں ڈھل گئے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے زندگی کے ہر لمحے سے اور ہر پہلو سے حظ اٹھایا ہے۔
ہر رمز کو سمجھنے کی کوشش کی ہے زندگی کا ہر عقدہ وا کرنے کا جتن کیاہے۔ اپنے اندر کو ٹٹولتے ہوئے راز ہستی کو عیاں کرنے کی جد و جہد کی ہے۔ ان کی شاعری قدم قدم پر یہ باور کراتی دکھائی دیتی ہے کہ یہ ایک مہذب، نفیس، شفاف، معصوم، سنجیدہ، با ہمت اور پُروقا ردماغ کا رس ہے جو کئی پیاسوں کی تشنگی رفع کرنے کا ہنر جانتا ہے۔
اگرچہ ہیت کے اعتبار سے انہوں نے نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کی ہے لیکن غزل پر ان کی گرفت زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ان کی شخصیت میں موجود روحانیت کا اثر ہر جگہ برقرار رہا ہے اور کہیں پر بھی زائل نہیں ہوا۔وہ کچھ بھی کہنا چاہیں،کچھ بھی کہہ جائیں،تان عشق حقیقی پر ہی ٹوٹتی ہے۔
ان کا قلب سلیم،محبت کے لطیف جذبات سے لبریز نظر آتا ہے۔ اگرچہ خیالات کا تنوع ابھی وافر نہیں لیکن اپنے محدود دائرہ کار میں خوب جامعیت اور فصاحت و بلاغت رکھتا ہے۔ وہ جو کہنا چاہتے ہیں، خوش اسلوبی سے کہ گزرتے ہیں چاہے انہیں اس کے لیے روایتی مروجہ پابند قوانین کے بندھن سے آزاد ہی ہونا پڑے۔حقیر بسملؔ کے کلام میں جا بجا عشق مصطفی ؐکی خوشبو آتی ہے جو قاری کا سینہ منور کر دیتی ہے اور قاری کے ساتھ ایک مضبوط روحانی تعلق بھی استوار کرلیتی ہے۔
حقیر بسملؔ جانتے ہیں کہ یہ وہ عشق ہے جو اصل الاصول بھی ہے اور حاصلِ ایمان بھی۔ اس لحاظ سے حقیر بسمل بہت خوش بخت ہیں کہ انہیں قدرت کی طرف سے وہ پاکیزہ دل ودیعت ہوا ہے جو خاص الخاص بندوں کو عطا ہوتا ہے۔ان کی سوچ کا محور بتاتا ہے کہ ان کے شب و روز پاکیزہ جذبات و احساسات کی چھاؤں میں بسر ہوتے ہیں۔ ان کا قلب انوا ر تجلیات کی بارش میں نہاتا ہے جس سے دل کے تمام داغ دھل جاتے ہیں۔وہ اپنے شعور کے قلم میں وجدان کی سیاہی بھرتے ہیں اور پھر قرطاس پر موتی بکھیرتے جاتے ہیں۔
باقی شعرا کی طرح حقیر بسملؔ کی طبیعت میں بھی حساسیت اور رقیق القلبی موجود ہے۔ وہ بڑے ذکی الحس انس

ن ہیں۔ صلح جو طبیعت کے حامل حقیر بسملؔ کی شاعری عاجزی کا پیکر ہے،امن کی دعوت ہے،جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے، خلوص کا پیغام ہے، حقیقت کی آئینہ دار ہے،سچائی کا عکس ہے،تخیل کی فراوانی ہے،وجدان کی پرواز ہے،یا سیت و مبالغہ آرائی سے پاک ہے، بچپن کی یادیں ہیں،جوانی کا مقصد ہے،تاریک شب کے سینے سے پھوٹتی سحر کی سپیدی ہے، مایوسیت میں سے نکلتی ہوئی امید کی کرن ہے، معرفت کا خزینہ ہے، فکر آخرت سے مزین ہے اور سب سے بڑھ کر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہے۔
حقیر بسملؔ کی شاعری تصورات کے نئے جہاں میں داخل ہونے کیلئے کئی در مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے ندرت ِ ادا سے کئی پرانے خیلات کا لطف دوبالا کر دیا ہے۔کہیں تو وہ بزرگانہ خلعت اوڑھے ایک ناصح اور مصلح بن کر وعظ کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں دوست بن کر غم بانٹے نظر آتے ہیں۔ بلا شبہ آنے والے وقت میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ حقیر بسملؔ نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر بن کر صفحہ سخن پر ابھریں گے اور بھرپور طریقے سے آگہی کی اس امانت کو زمانے کے سپرد کرتے رہیں گے جو قدرت نے ان کو عطا کی ہے۔ ان کے زرخیز دل اور روشن دماغ کیلئے ڈھیروں دعائیں ہیں۔

پروفیسر اویس خالدؔ(چونڈہ، سیالکوٹ)

 


چراغِ نو

جس طرح خو شبو کو قید نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طر ح اچھی شاعری بھی اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔شا عری کی دنیا میں اُگنے والے اِس خو بصو رت پھول لیفٹیننٹ سیف اللہ کی پر ورش جناب برگیڈیر جاوید احمد ستی کے گلشن(عظیم پبلک سکول) میں ہوئی ہے۔یہ اِس سکول کا کمال ہے کہ اس میں تربیت پانے والا یہ بچہ نہ صرف آ رمی میں افیسر بنا بلکہ دنیا ئے ادب میں بھی اپنی روشنی بکھیرنے لگا ہے۔میں ابھی حقیر بسمل ؔ سے ملا نہیں مگر اس کی جاندار اور شاندار شاعری پڑھ چکا ہوں۔کم عمر ی میں ہی اس نوجوان شاعر کی شاعری میں جو سلجھاؤ صفائی اور دردپایا جاتاہے وہ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ حقیربسملؔ دنیائے ادب کا چمکتا ہوا ستارہ اور دمکتا ہوا چاند ہو گا۔
میں اس نوجوان شاعر کیلئے دعا گو ہوں کہ اللہ اسکے قلم کو اور طاقت بخشے۔ آمین۔

محمود الحسن ستی (اسلام آباد)
ڈپٹی ڈائریکٹر(ایف آئی اے)

 


بخشی وردِ سبحان اللہ نے تازگی میرے کلام کو
جیسے چیدہ کرے مے خالی و بے وقت جام کو

٭٭٭

 

حمد

میری جبیں میں سجدے رکھے، مجھ خاکی کو مسلماں کیا
کیا ہی عظیم ذات ہے وہ، پیدا جس نے مجھے انساں کیا

لب ہلانے کی سکت نہ تھی کہ بیاں کر سکوں طلب اپنی
تنِ نازک کو میرے صورتِ شباب تونے کوہستان کیا

بحرِ رسوائی میں جب بھی کودا کنارہ تو نے دیا
میری ذات پہ لگے صدہا داغوں کو تو نے بے نشاں کیا

ہر لذتِ گناہ چکھی پھر بھی ہوں پارسا نگاہِ دنیا میں
تیرا پردہ آن گرا جہاں میں نے اپنے لیے زادِ پشیماں کیا

نہ ظلمِ زمانہ مجھے ہرا پایا نہ آبِ میخانہ بہکا پایا
سہل تو نے میرے لیے دنیا کا ہر کڑی امتحاں کیا

 


تیری راز داری پہ، دنیا کی رازافشانی پہ ہے یقیں مجھ کو
اسی لیے تو ہر جرم تیرے ہاں دنیا سے نہاں کیا

یہ گماں اٹھتا ہے دل میں کہ روزِ حشر ہر بشر کو شاید بحش دے تو
تیری رحمت و بے نیازی نے مجھے کچھ اس قدر حیراں کیا

رزق تیرا گھر گھر،بستی بستی، کو بہ کو پہنچتا ہے بن مانگے
کتنا کریم ہے تو جس نے در پہ اپنے امیر و غریب کو مہماں کیا

٭٭٭

 

٭٭٭

ہم غریبوں کو نوازنے والے تیری بات ہی کیا ہے
تیرے کرم کے آگے میرے سجدوں کی اوقات ہی کیا ہے

جب سے تیرا دست تھاما چلنا کچھ سہل سا ہو گیا
میری نظروں کے سامنے اب یہ کائنات ہی کیا ہے

مسافت میں تجھے پکاریں رستے سمٹ جاتے ہیں
تیرے اسمِ منور کے آگے تیرگیِ رات ہی کیا ہے

٭٭٭

 

ایمان

نگاہ نے دیکھا گناہ کو نہ روکا نہ ٹوکا نہ برا منایا بسملؔ
اختتامِ درجاتِ ایماں ہوا، اب تم ہی بتاؤ میں کون ہوں
٭٭٭

 


حمد

بارانِ رحمت برس رہی ہے صبح شام یہاں
مگر حیف کہ سب اٹھائے کھڑے ہیں ٹوٹے جام یہاں

یہ رنگ و بو، یہ شمس و قمر اور ستارے
ابھرتا ہے ہر اِک شے سے تیری قدرت کا پیام یہاں

خاکِ سجدہ سے شاخِ شفا ابھرنے کو بیتاب ہے
ہم دربدر پھر رہے ہیں اٹھائے زخم و آلام یہاں

بس ہاتھ اٹھانے کی دیر تھی سب زخم بھر گئے
اور مسیحاؤں کے پاس میسر ایسے بام کہاں

نہ ذرا مجال کسی بشر کی کہ حدودِ عالم سے نکل جائے
مالکِ دو جہاں کس قدر منظم ہے تیرا نظام یہاں

 

وہ حاکمِ دو جہاں سلب کر لے اگر قوتِ دست و پا
حشرات سے بھی نہ لے سکیں ہم انتقام یہاں

پِیروں کے متلاشی آ تجھے علمِ پِیری سکھا دوں
فقط خدا کے پیش سر جھکانا بناتا ہے سب کام یہاں

یوں تو پل میں سینکڑوں سپردِ خاک ہو جاتے ہیں
مٹے جو راہِ حق میں پا گئے دوام یہاں
٭٭٭

اک گناہگار تیری بارگاہ میں سر جھکائے کھڑا ہے
تیری رحمتوں کے لیے جھولی اپنی پھیلائے کھڑا ہے

ابرِ کرم سے پاک کر دے اسے
گناہوں کا بار جو یہ اٹھائے کھڑا ہے

٭٭٭

دُعا

اے شافیِ کل، میں تجھ سے مرضِ دل کی شفا چاہتا ہوں
مانگوں فقط تجھے جس میں، ایسی دعا چاہتا ہوں

تیری صدائے رحمت کو بارہا ٹھکرایا میں نے اب تلک
اے قابضِ جانِ جہاں، میں تجھ سے معافیِ خطا چاہتا ہوں

ادھورے سجدوں میں میرے ہجر و وصال سا رنگ رکھ دے
تیرے عشق کی گلیوں میں کچھ ایسی فضا چاہتا ہوں

اے حسن آفریں میری رگ رگ نس نس میں بس جا
دو دن کے یہ باغ و بہار گل و گلزار بھلا چاہتا ہوں

آنکھوں کو میری حیا دے دل کو پیمانہِ صبر عطا کر
تیرے عشق میں قلب و جگر جسم و جاں تک لٹا چاہتا ہوں

 

تجھ سے نہاں کچھ نہیں قریہ قریہ، نگر نگر، کو بہ کو توُ ہے
اے رگِ جاں کے مکیں، تجھے ہی رازداں بنا چاہتا ہوں

اِک بار جلوہ دکھا، کہ قلب و نظر تیری جستجو میں نکل پڑیں
میں سگِ زمانہ، تجھ سے ناطہ جدا چاہتا ہوں

٭٭٭

گمراہ کرتی ہیں یہ بہاریں، خدایا ہمیں خزاں دے
ہوں جس میں گلِ فراق زیادہ، ہمیں وہ گلستاں دے

ہو کسی سے بھی ملن ہم تیرا بابِ کرم کھول بیٹھیں
اپنی ذات سے وہ ناطہ، وہ قوتِ ایماں دے

٭٭٭

 

حالِ دل

میں بے مروت و بے وفا، پھر بھی تو مہرباں رہتا ہے
باغیچہء دل میں سدا بہاروں سا سماں رہتا ہے

خاکِ پائے غریب ہوں حیثیت میری برگِ بے شاخ سی
نگاہِ دنیا سے مگر ہر داغ و عیب میرا نہاں رہتا ہے

میں نے صبح و شام، سرعام تیرے حکموں کا اڑایا مزاح
پھر بھی تیری رحمتوں کا نزول یہاں رہتا ہے

حالِ مسلم پہ رنجیدہ و افسردہ ہیں عرش و فرش
تیار پھٹنے کو زمیں، بیتاب برسنے کو آسماں رہتا ہے

میں ساجدِ نفس، ہیں ہزاروں خدا میرے
سر پہ میرے دنیا، زیرِ پا ایماں رہتا ہے

٭٭٭

حمد

خدا ہی ہے جو پتھروں سے چشمے نکالتا ہے
وہی بادشاہ کو، وہی بے دست و پا کو پالتا ہے

کہیں دن کو فروزاں کرے سورج کی کرنوں سے
تو کہیں ظلمتِ شب میں ستاروں سے فلک سنوارتا ہے

تُند موجوں کو چیرتی کشتیاں اسی کا کمال
وہی تو ہے جو بیج سے اشجار، اشجار سے اثمار نکالتا ہے

لالہ زاروں میں یہ پُر کیف مہک اُسی کے دم سے ہے
وہی بے رنگ و بوُ شگوفوں میں رنگِ گُل ڈالتا ہے

میں نے ہر سہارے میں اُس کا ہاتھ دیکھا ہے بسملؔ
وہی میرا درد مٹاتا ہے، وہی میری الجھنیں سنوارتا ہے

٭٭٭

 


٭٭٭


ہر ہر شے میں بسا ہے
وہ ایک ہے لا تعداد سا

That’s the end of the free sample

You have read 12% of زندانِ الم/Zindaan e Alam- Mystical Poetry Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Captain Saif Ullah earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 250

See all editions, reviews and details

زندانِ الم/Zindaan e Alam- Mystical Poetry Book Buy — Rs 250