12% of the book — free to read

قیدِ حیات
از قلم
وجاہت علی

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ء
ISBN Digital: 978-969-696-481-0
ISBN Print: 978-969-696-480-3
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
کمپوزنگ
آفتاب احمد چنا
فریال زہرا
مدیران
قدسیہ حذیفہ جمالیؔ
نرمین سرھیو
نظرِ ثانی
نرمین سرھیو
مرتّب کنندہ
قدسیہ حذیفہ جمالیؔ
---
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں
فرمانِ الٰہی
”اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا،نہ انھیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا،اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار،ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انھوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔ “
(سورہ بنی اسرائیل- آیت ۲۳،۲۴)
"اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرےماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مومنوں کو بھی جس دن حساب ہونے لگے۔“
(سورہ ابراہیم- آیت ۴۱)
٭٭٭
فہرست:
پیش لفظ------------------------------------------ 7
وصیت نامہ (امی کے خطوط سے اقتباس)---------------------- 10
عرضِ مدیرہ--------------------------------------- 17
انتساب:---------------------------------------- 18
(باب اوّل)
(بابِ دوم)
(بابِ سوم)
(بابِ چہارم)
(آخری باب)
مصنّف کا تعارف----------------------------------- 78
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسول الکریم نبینا محمد و علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
مارچ ۲۰۲۰ء میں جب دنیا بھرمیں کورونا (COVID-19) کی وبا پھوٹی اور ہم سب حکومتِ وقت کی طرف سے ہنگامی صورتحال کے نفاذ،حفظان ِصحت اور سماجی فاصلوں کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے گھروں کی چار دیواری میں قید ہوگئے،تو ایسا محسوس ہوا جیسے زندگی کے منہ زور گھوڑے کو کسی نے لگام ڈال دی۔ زندگی کا بھاگتا پہیّہ اچانک رُک سا گیا۔ گھر سے باہر کی آمد و رفت صرف ضروری سامان کی خریداری تک محدود ہو گئی تو ہم سب ہی رشتے داروں اور دوست و احباب سے تعلق قائم رکھنے اور ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کرنے کے لیے سماجی اور مواصلاتی رابطوں کے مختلف ذرائع استعمال کرنے لگے۔ دفتر کا کام بھی گھر سے ہی ہونے لگا تو اپنے لیے کچھ وقت مل گیا۔ فرصت کے ان لمحات میں اپنی بچپن کی لکھی ہوئی ڈائری اور امی کے لکھے ہوئے خطوط پڑھنے کا موقعہ ملا۔
امی کے تحریر کیے ہوئے وہ سارے خطوط جو انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دو سالوں میں مجھے ارسال کیے میں وہ خطوط خود بھی پڑھتا اور اپنے بھائیوں کو بھی پڑھ کر سُناتا۔ ہم چاروں بھائی گھنٹوں ان خطوط کو پڑھ کر امی کی بے مثال زندگی،جدوجہد اور قربانیوں کو یاد کرتے اور ان کی مغفرت کی دعا کرتے۔ میں نے اپنے بچپن کی یاد داشتوں اور مشاہدات کو قلم بند کرنے کا آغاز بھی انھی دنوں اپنے بھائیوں کی فرمائش پر کیا۔
پیدائش سے پہلے کے جو حالات واقعات امی اور بابا کے ذریعے مجھ تک پہنچے میری حتی الامکان کوشش رہی کہ گردشِ ایام کے ان سچے واقعات کو مختصر تحریر کروں جس میں مبالغہ آرائی کا عنصر شامل نہ ہو۔
امی کی اس سوانحِ حیات میں مجھ پر گزرے ہوئے زمانے کے وہ حوادث بھی شامل ہیں جن کا بالواسطہ تعلق امی کی ایمان افروز نصیحتوں،مفید مشوروں اور فیصلہ کن ہدایات پر مبنی ہے۔ امی کی سوانح حیات لکھنے کا مقصد ان کی بے مثال زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور اپنے قریبی رشتے داروں اور دوست احباب سے ان کی جدوجہد اور قربانیوں کی تفصیلات کو مختصر بیان کرنا ہے۔ امی کو اسلام قبول کرنے کے بعد ہندوستان میں اپنے گھر والوں کی ناراضگی اور ہجرت کے بعد اپنے قریبی سسرالی رشتے داروں کے دلوں میں جگہ بنانے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جس طرح انھوں نے دنیاوی آزمائشوں پر صبر اور نامسائد حالات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا؛ میں ان کے جذبات اور احساسات کو لفظوں میں تحریر نہیں کر سکتا۔
میں ان تمام رشتے داروں اور دوست احباب کا احسان مند ہوں جنھوں نے امی کی زندگی کے کسی بھی مشکل وقت میں انسانیت کے ناطے ان کی مالی یا اخلاقی مدد کی۔ اللہ تعالی ان سب کو جزائے خیر دے اور ان پر رحم فرمائے۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی میری امی کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم چاروں بھائیوں،ہماری اولاد اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان کی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
وجاہت علی
syedwajahat@rogers.com
۳۱ اگست ۲۰۲۰ء
You have read 12% of قیدِ حیات / Qaid e Hayat. The full e-book picks up right where this stopped.